عید غدیر اطعام و افطار کی عید

0 0

اس عظیم دن کو لوگوں کو افطار دینے اور کھانا کھلانے کے بارے میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں۔ گو کہ محرم میں کھانا کھلانے کے بارے میں کوئی روایت وارد نہیں ہوئی ہے لیکن متعدد روایات ہیں کہ غدیر خم کی عید کے دن لوگوں کو کھانا کھلایا جائے اور اس دن کے روزہ داروں کو افطار کرایا جائے۔

بقلم زیدی

عید غدیر اطعام و افطار کی عید

حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام نے خود ضمانت دی ہے کہ جو بھی عید غدیر کے دن خدا کی خاطر کسی کو قرض دے خداوند متعال اس کے کئی گنا عطا فرمائے گا۔ اور عید غدیر کے دن اپنا بہترین لباس زیب تن کرو، عطر لگاؤ، اپنے بچوں کو تحفے دو اور سال کا بہترین کھانا کھاؤ اور امیر المؤمنین نے فرمایا ہے کہ عید غدیر کی شب کو ایک شخص کو کھانے کھلانا دس لاکھ انبیاء، صدیقین اور شہداء کو کھانا کھلانے کے مترادف ہے اور اتنا ثواب کسی بھی دوسرے موقع پر کھانا کھلانے کے لئے مقرر نہیں کیا گیا ہے۔
حتی اگر اس کھانا کھلانے کے لئے تمہیں قرض لینا پڑے تو قرض لو اور کھانا کھلاؤ اور اس کام کو ایک رسم میں تبدیل کرو تا کہ تم ہی اس نیک کام کے بانی مبانی بن سکو؛ کیونکہ کسی نیک کام میں سب سے پہلا شخص ہونا اور سابقین میں سے ہونا، اللہ تعالی کے نزدیک بہت زیادہ اہم ہے اور خداوند متعال سب سے پہلے افراد یا سابقین کو خصوصی لطف و مرحمت سے نوازتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہماری اس بات کی سند کیا ہے؟ جواب ملاحظہ ہو:
“إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكاً وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ”۔ (1)
“یقینا روئے زمین پر) سب سے پہلا گھر جو تمام لوگوں کے لیے مقرر ہوا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور سرمایہ ہدایت تمام جہانوں کے لیے”۔
“لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ”۔ (2)
“بے شک وہ مسجد جس کی شروع دن ہی سے بنیاد پرہیز گاری پر رکھی گئی ہے، اس کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں”۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے اصحاب میں بھی جو ایمان لانے، انفاق و خیرات کرنے اور ایثار و قربانی میں پیش پیش تھے ان کا حساب خدا نے دوسروں سے الگ کردیا اور فرمایا:
“السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ٭ أُوْلَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ ٭ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ”۔ (3)
“اور وہ جو سبقت کرنے والے پورے پورے سبقت کرنے والے ہیں ٭ یہ لوگ خاص مقرب افراد ہیں ٭ نعمت کے خاص باغوں میں”۔
“وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ”۔ (4)
“اور شروع شروع ہی میں پہلے اسلام لانے والے مہاجر اور انصار اور جو حسن عمل کے ساتھ ان کی پیروی کریں، اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش ہیں”۔
فتح مکہ سے قبل انفاق اور قربانی و ایثار کرنے والوں کا حساب ان لوگوں سے جدا ہے جنہوں نے فتح مکہ اور مسلمانوں کی آخری کامیابی کے بعد حمایت کی۔ ارشاد ہوتا ہے:
“لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُوْلَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا”۔ (5)
“برابر نہیں ہیں تم میں سے وہ جنہوں نے خیرات (اور جان و مال کی قربانی) دی ہو فتح سے پہلے اور جنگ کی ہو، یہ درجے میں زیادہ بڑے ہیں ان سے جنہوں نے اس کے بعد خیرات کی ہے اور جنگ کی ہے”۔
انبیاء علیہم السلام لوگوں سے فرمایا کرتے تھے:
“وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ”۔ (6)
“اور میں سے پہلے ایمان لانے والا ہوں”۔
“وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ”۔ (7)
“اور میں سرا طاعت جھکانے والوں میں سب سے پہلا ہوں”۔
جیسا کہ انحراف کی راہ پر بھی سب سے اول ہونا بہت برا ہے:
“وَلاَ تَكُونُواْ أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآيَاتِي ثَمَناً قَلِيلاً”۔ (8)
“اور اس (اللہ) کے سب سب سے پہلے کافر (و منکر) نہ بنو ہماری آیتوں کو کم قیمت پر نہ بیچو”۔
شیعہ اور سنی روایات کے مطابق سب سے پہلے مرد، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ پر ایمان لائے، امیرالمؤمنین علی علیہ السلام تھے اور آپ(ص) پر سب سے پہلے ایمان لانے والی خاتون ام المؤمنین خدیجۃالکبری سلام اللہ علیہا تھیں۔
تاریخ اسلام گواہ ہے کہ سلمان فارسی سلام اللہ علیہ نے مدینہ کے تحفظ کے لئے خندق کھودنے کی تجویز پیش کی تو سب سے پہلا کدال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے مارا جس کے بعد خندق کی کھدائی شروع ہوئی۔ یہ واقعہ جنگ خندق یا جنگ احزاب ہے گوکہ آج کل کے زمانے میں تمام احزاب نے متحد ہوکر اسلام اور قرآن کی بیخ کنی کا تہیہ کرلیا ہے جو تمام مسلمانان عالم کے لئے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ اس زمانے کے احزاب میں اسرائیل اور امریکہ کے کندھے سے کندھا لگانے والے مسلم ممالک کے سربراہان نہ صرف مسلمانوں کے نمائندے نہيں ہیں بلکہ وہ تو احزاب کی صورت میں امت کو تباہ کرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہیں۔
احادیث شریفہ میں حکم ہے کہ ہر کام کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرو اور جب بھی پہلی بار کسی بھی مہینے کے ہلال کو دیکھتے ہو تو دعا کیا کرو۔
چند حدیثیں روز غدیر کھانا کھلانے اور افطار دینے کے بارے میں:
روز غدیر مؤمنین کو کھانے کی اہمیت بہت زیادہ ہے؛ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
“واطعم اخوانك”۔ (9)
“عید غدیر کے دن اپنے دینی بھائیوں کو کھانا کھلاؤ”۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
“من اطعم مؤمنا كان كمن اطعم جميع الانبياء والصديقين”۔ (10)
“جو بھی اس دن ایک مؤمن کو کھانا کھلائے گا وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے تمام انبیاء اور صدیقین کو کھانا کھلایا ہو”۔
اس دن کھانا کھلانے کی عظمت اور ثواب اس قدر ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اس کو یوم الاطعام یا کھانے کھلانے کا دن قرار دیا ہے۔ (11)
عید غدیر کے اعمال میں مؤمن کو افطار کرانے کا ثواب بہت اعلی درجے کا عمل ہے۔ احادیث کے مطابق اس عمل میں بہت بڑی فضیلت مضمر ہے۔
“۔۔۔ ومن فطر مؤمنا في ليلته فكأنما فطر فئاما وفئاما يعدها بيده عشرة فنهض ناهض فقال: يا أمير المؤمنين وما الفئام ؟ قال: ” مائة ألف نبي وصديق وشهيد، فكيف بمن تكفل عددا من المؤمنين والمؤمنات، فأنا ضمينه على الله تعالى الامان من الكفر والفقر۔۔۔”۔ (12)
“جو کوئی کسی روزہ دار مؤمن کو روز غدیر کے روزے کا افطار کرائے وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے دس فئاموں کو ـ افطار کرایا ہو۔ پس ایک شخص اٹھا اور عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! فئام کیا ہے؟ فرمایا: ایک لاکھ انبیاء اور صدیقین و شہداء، پس اس شخص کی کیا فضیلت و عظمت ہوگی جو مؤمنین اور مؤمنات میں سے ایک جماعت کی کفالت کرے، پس میں اللہ کے ہاں اس کا ضامن ہوں کہ وہ فقر و ناداری اور کفر سے محفوظ رہے گا”۔
اسی طرح کی ایک روایت حضرت امام صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوئی ہے۔ (13) بعض روایات کے مطابق امام رضا علیہ السلام نے غدیر کے دن لوگوں کے ایک گروہ کو افطار کے لئے روک لیا۔ (14)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مآخذ:
1۔ سورہ آل عمران آیت 96۔
2۔ سورہ توبہ آیت 108۔
3۔ سورہ بقرہ آیت 10 تا 12۔
4۔ سورہ توبہ آیت 100۔
5۔ سورہ حدید آیت 10۔
6۔ سورہ اعراف آیت 143۔
7۔ سورہ انعام آیت 163۔
8۔ سورہ بقرہ آیت 41۔
9۔ المراقبات، ص 256۔
10۔ بحارالانوار، ج 95، ص .322۔
11۔ همان، ص 302۔
12۔ المراقبات، ميرزا جواد آقا تبريزى، ص 256۔ مصباح المتهجد للطوسي ص 752، مناقب آل أبي طالب لابن شهر آشوب ج 3 ص 43، مصباح الزائر للسيد ابن طاووس الفصل 7، بحار الانوار ج 94ص 118۔
13۔ التهذيب، شيخ طوسى، ج 3، ص 143۔
14۔ الغدير، علامه امينى، ج 1، ص 287۔

مزید  انقلاب اسلامی، بے مقصد دین کے مدمقابل

 

تبصرے
Loading...