عورت و میراث

0 0

بیٹی کی وراثت اگر مرنے والے کی اولاد صرف ایک بیٹی ہو تو نصف مال اس کاحق ہے اور دیگر عزیزوں کے نہ ہونے کی صورت میں باقی نصف بھی اسے مل جائے گا۔ ارشاد رب العزت : وَإِنْ کَانَتْ وَاحِدَةً فَلَہَا النِّصْفُ ۔ اور اگر صرف اس کی صرف ایک ہی لڑکی ہے تو نصف ترکہ اسکا حق ہے۔ ( سورہ نساء : ۱۱) 

ماں 

مرنے والے کی اولاد ہونے کی صورت میں ماں کا چھٹا حصہ ہے نہ ہونے کی صورت میں تیسرا حصہ ہے۔ ارشاد رب العزت ہے: وَلِأَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ إِنْ کَانَ لَہ وَلَدٌ فَإِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُ وَلَدٌ وَّوَرِثَہ أَبَوَاہُ فَلِأُمِّہِ الثُّلُثُ ۔ اور میت کی اولاد ہونے کی صورت میں والدین میں سے ہر ایک کو ترکہ کا چھٹا حصہ ملے گا اور اگر میت کی اولاد نہ ہو بلکہ صرف ماں باپ وارث ہوں تو اسکی ماں کو تیسرا حصہ ملے گا ۔( سورہ نسا ء :۱۱) 

بیوی

ارشاد رب العزت ہے : وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ إِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ م بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِہَا أَوْ دَیْنٍ ۔ اگر تمہاری اولاد نہ ہوتو انہیں( بیویوں کو) تمہارے ترکے میں سے چوتھائی ملے گی اور اگر تمہاری اولاد ہو تو انہیں تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ملے گا یہ تقسیم تمہاری وصیت پر عمل کرنے اور قرض اد اکرنے کے بعد ہوگی ۔( سورہ نساء:۱۲) 

بہن

ارشاد رب العزت ہے : وَإِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّورَثُ کَلَالَۃً أَوِ امْرَأَةٌ وَّلَہ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ فَإِنْ کَانُوْا أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَہُمْ شُرَکَاءُ فِی الثُّلُثِ مِنْم بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰی بِہَا أَوْ دَیْنٍ غَیْرَ مُضَارٍّ وَصِیَّةً مِّنَ اللہ وَاللہ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ اور اگر کوئی مرد یا عورت بے اولاد ہو اور والدین بھی زندہ نہ ہوں اور اسکا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو بھائی اور بہن میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ اگر اس کے بہن بھائی زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی حصہ میں شریک ہوں گے ۔یہ تقسیم وصیت پر عمل کرنے اور قرض ادا کرنے بعد ہوگی بشرطیکہ ضرررساں نہ ہو ۔ یہ نصیحت اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ بڑا دانا اور بردبارہے ۔ ( سورہ نساء :۱۲) ارشاد رب العزت ہے : یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللہ یُفْتِیْکُمْ فِیْ الْکَلَا لَةِ إِنِ امْرُؤٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہ وَلَدٌ وَّلَہ أُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ وَہُوَ یَرِثُہَا إِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہَا وَلَدٌ فَإِنْ کَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَہُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَکَ وَإِنْ کَانُوْا إِخْوَةً رِّجَالًا وَّنِسَاءً فَلِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَیَیْنِ یُبَیِّنُ اللہُ لَکُمْ أَنْ تَضِلُّوْا وَاللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۔ لوگ آپ سے کلالہ کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ان سے کہہ دیجے اللہ کلالہ کے بار ے میں تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ اگرکوئی مرد مرجائے اور اسکی اولاد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اسے بھائی کے ترکے سے نصف ملے گا اگر بہن مر جائے اور اسکی کوئی اولاد نہ ہو تو بھائی کو بہن کا پورا ترکہ ملے گا اگر بہنیں دو ہو ں تو دونوں کو بھائی کے ترکے سے دو تہائی ملے گااگر بہن بھائی دونوں ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہو گا۔ اللہ تمہارے لیے احکام بیاں فرماتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز کا پورا پوراعلم رکھتاہے ۔(سورہ نساء :۱۷۶) 

مزید  تشیع کی پیدائش اور اس کی نشو نما (۱)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.