عورت كي اهميت اسلامي انقلاب كے آئينہ ميں

سركار دوعالم جناب ختمي مرتبت ص كے بعد سے اسلامي تمدن كے كاروان نے ترقي كي راہ ميں مختلف نشيب و فراز كي منازل طے كئے ہيں ۔جس منزل پر بهي يہ كاروان پہونچتا رحمت خدا اس پر سايہ فگن رہي ۔قديم تاريخ اس كاروان كي بركتوں سے لبريزہے۔اورعصرحاضر ميں بہمن ۱۳۵۷ه ش كا دور مسلمانوں اور اسلام كي تازگي كا زمانہ ہے اسي زمانہ ميں پيغمبر اسلام{ص} كي ذريت ميں سے ايك مرد مجاهد نے ايراني قوم كواسلامي انقلاب كي صورت ميں آزادي كا تحفہ ديا ۔جس كي بركتوں اورعظمتوں كا پوري دنيا نے مشاہدہ كيا محروم اور كمزور قوموں نے سے اس سے استفادہ كيا ۔

عهد حاضر كي جہالت نے لوگوں پر بے انتہا ظلم و ستم كئے خاص طور پر خواتين اس دور ميں ظلم و ستم كا نشانہ بنتي رہيں ۔اوراسلامي انقلاب كے بعد خواتين كوچين كي سانس لينے كا موقع ملا۔

اس مقالہ ميں خواتين كے اسلامي انقلاب كے قبل اوربعد كے حالات اورا نقلاب كي كاميابي ميں ان كے كردار پر روشني ڈالنے كي كوشش كي گئي ہے ۔ نيز انقلاب كي كاميابي كے بعد ايراني خواتين كےسلسلہ ميں علمي، فكري اور ثقافتي تحولات پر بحث كي گئي ہے۔ چونكہ امام خميني رہ اور انقلاب كے درميان ايك اٹوٹ رشتہ ہے لهٰذا كوشش كي گئ ہے كہ اس مسائل پر امام خميني رہ كے اقوال كي روشني ميں بحث كي جائے ۔

اسلامي انقلاب ايران سے پہلے خواتين كے حالات

بيسويں صدي كي آخري چند دہائيوں ميں {جو اسلامي انقلاب كي كاميابي كا زمانہ ہے} ايراني خواتين كے حالات نے بہت بدلے ہيں ۔اسلامي انقلاب كي عظمت اوراس كي بركت سے ہونے والي تبديليوں كا اندا زہ اسي وقت ہو سكتا ہے جب اس زمانہ ميں خواتين كے علمي اور فكري حالات كا مكمل طور پر جائزہ ليا جائے ۔ ۱۹۷۰ كي دہائي انساني تمدن كے تيسرے دور كے اوج كازمانہ ہے۔اس زمانہ ميں روايت پرستوں اور ترقي پسندوں كا تقابل زوروں پر تها۔

روايت پرست افراد قديم رسوم و روايات كے پابند تهے اس بات سے قطع نظر كہ وہ رسوم صحيح ہيں يا غلط ۔نيز وہ معاشرہ ميں ہر قسم كي تبديلي كے مخالف تهے ۔اس كے مقابلہ ميں ترقي پسند افراد معاشرہ ميں پيدا ہونےوالے ہر قسم كے تحول اور تبديليوں كے پيرو اور زمانہ كے تقاضوں كے تابع تهے اور چون كہ يہ جدت پسندي كي فكر مغربي دنيا سے آئي تهي لهٰذا جدت پسند افراد مغربي تمدن سے متاثر تهےاوروہاں پيدا ہونے والي ہر تبديليوں اور تحولات كے تابع تهے اور اس بات سے غافل تهے كہ يہ تبديلياں اور تحولات ديني اوراخلاقي اقداركے موافق ہيں يا مخالف ۔ايرا ن خصوصاً وہاں كي خواتين بهي اس فضا سے مستثنيٰ نہيں تهيں ۔ملك پر حاكم فضا سماجي اور اجتماعي فضاايسي تهي كہ ملك كي زيادہ تر خواتين يا توبغير قيد وشرط كے مغربي ماحول كي پيروي كررہي تهيں يا غلط اور فاسد رسوم وروايات كے چنگل ميں پهنسي ہوئي تهيں ۔

حكومت پہلوي كے زمانہ ميں ملك كي خواتين كا ايك بڑا حصہ “زن سنتي “يعني روايت پرست خواتين سے متعلق تها ۔جو خواتين قديم رسوم وروايات كي پابند تهِي ان كا ظاہري لباس اور رہنے سہنے كا طريقہ قديم رسوم وروايات اور قديم قوانين كے مطابق تها۔اور چونكہ ايرانيوں كا اسلام كے ساته بهي گہراتاريخي رابطہ رہا ہے لهٰذا يہ خواتين اپنے اجداد كي سنت كے مطابق حجاب اور اسلامي احكامات كي رعايت كرتي تهيں ليكن وہ غلط رسوم كو بهي اسلامي احكامات كا جزء سمجهتي تهيں درحقيقت انہيں ان دونوں كے درميان كا فرق نہيں معلوم تها انہيں يہ بهي نہيں معلوم تها كہ ان دونوں كا سرچشمہ كيا ہے ۔ان كي نظر ميں عيد نوروز كي رسميں اسي طرح مقدس تهيں جيسے ماہ رمضان كے اعما ل اوراس كے آداب۔

قديم آداب و رسوم كي تقليد ،ظاہري اسلام اور دين كي حقيقت سے ناآشنائي روايت پرست خواتين كي ترقي ميں سب سے بڑا مانع تها ۔اس طرح كي خواتين اگرچہ شہ كي طرف سے ايجاد كي گئي تبديليوں كي مخالف تهيں اور اس سے مقابلہ كررہي تهيں ۔ليكن معاشرہ كي اصلاح كے لئے اسلام كے سياسي اہداف كو جاري كرنے كي ضرورت بهي نہيں سمجهتي تهيں ۔ قديم روايات اور غلط آداب ورسوم كي زنجيروں نے انہيں جكڑا ہوا تها۔ يہي سوچنے سمجهنے كي صلاحيت ان سے سلب ہوتي جارہي تهي۔اور اسي لئے قدامت پسند خواتين كے آثارمعاشرہ ميں دكهائي نہيں ديتے ہيں ۔اور چونكہ يہ خواتين اجتماعي اور ثقافتي سرگرميوں سے دور رہتي تهيں بلكہ يوں كہا جائے كہ انميں ان امور كو انجام دينے كي صلاحيت ہي نہيں تهي،لهٰذا معاشرہ ميں ان كي كوئي خاص اہميت نہيں تهي ۔جس كا نتيجہ يہ ہوا كہ اسلامي انقلاب كي كاميا بي كے كئي سال كے بعد بهي اگر كوئي ايسي خاتون جس نے اجتماعي ،اقتصادي اور اس جيسے موضوعات ميں ڈگري حاصل كي ہو اور وہ متدين اور پردہ دار خاتون ہوتولوگ اسے تعجب سے ديكهتے تهے ۔

پہلوي حكومت ميں دوسرا گروہ ترقي پسند يا مغرب زدہ خواتين سے تعلق ركهتا تها ۔ يہ عورتيں بغير كسي قيد شرط كے مغربي ماحول كي پيروي كرتي تهيں اس طرح كي خواتين نے مغربي عورتوں كو اپنا آئيڈيل قرار ديا ہواتها اور انكي پوري كوشش يہ ہوتي تهي كہ اپنے آپ كو انكے ماحول كے مطابق ڈهال ليں ۔

امام خميني رہ اس سلسلہ ميں فرماتے ہيں :”ايك اور مسئلہ جس كو ميں كئي بار بيان كر چكا ہو ں يہ ہےكہ ہميں مغربي ماحول كو اپنانے اور انكي پيروي كرنے كے لئے مجبور كيا جارہا تها اگر كوئي جوان مغربي لباس ميں دكهائي ديتا تو اسے پڑها لكها اور شريف سمجها جاتا تها {گويا شرافت كا معيار مغربي لباس پہننا تها }اور اگر كوئي مسلمان عام لباس مِيں نظر آتا تو اسے پچهڑا ہوا اور دقيانوسي فكر وا لا شمار كيا جاتا تها ۔ترقي پسند عورتيں رضا شاہ كے بنائے ہوئےقانون”كشف حجاب” كي پيداوار ہيں۔خدا جانتا ہے اس قوم كے ساته كيا كيا گيا ۔اس كشف حجاب نے حجاب انسانيت كو پارہ پارہ كرديا “۔

اگرچہ تعليم اور معاشيات كے مختلف شعبوں ميں خواتين كے لئے زمينے فراہم تهے ليكن قانون” كشف حجاب” كا اصل مقصد خواتين كي رشد، ترقي اور حصول علم كي راہ كے موانع كو ختم كرنا نہيں تها بلكہ اس كا اصلي مقصد عورتوں كي جسم نمائي تها جس كا اقرار خود شاہ نے كيا تها اس كا كہناتهاكہ “عورت كو دلفريب اورپركشش ہوناچاہئے” ۔

“ملكہ حسن” كے مقابلوں{ Beauty contest }ميں شركت كرنا اور اسميں مقام حاصل كرنا ترقي پسند دوشيزاوں كي ديرينہ خواہش ہواكرتي تهي۔ اس مقابلہ ميں برتري كا ملا ك ذہانت،حكمت ،عقل وہوش اور كمال انساني نہيں بلكہ آنكهوں ،لبوں اور ظاہري اندام جسماني كا متناسب ہونا تها ۔

اس زمانہ ميں عورت كي آزادي كا مفہوم اس كے لئے انساني اوراخلاقي اقدار كي بلندي اوررشد و ترقي كي راہيں فراہم كرنے كے بجائے اس تك آساني سے دسترسي ،اس پر تصرف اسے اپني ہوس كا شكار بنانا تها ۔”آزادي كي دوقسم كي ہوتي ہيں اور حكومت پہلوي ميں صرف منفي آزادي كو رواج ديا گيا تهامگرآزادي كا مثبت ا ورمفيد مفہوم جو دين بيان كرتاہے اس پر مكمل طور پر پابندي عائد تهي۔ اس حكومت ميں عورت كي آزادي كا مطلب يہ تها كہ وہ جيسسے چاہے سڑكوں اور بهيڑ بهاڑ والے علاقوں ميں چلي جائے اورنامحرموں كے ساته روابط برقراركرے۔اور عوروت كے اس عمل كو اس حكومت ميں آزادي سے تعبير كيا جاتا تها “۔

عورت اس زماہ ميں ايك ايسي “شي” تهي جس ميں آزادي كے نام پر آساني سے تصرف كيا جاسكتا تها۔ اقتصادي حلقوں ميں عورت كا استعمال مردوں سے زيادہ تها كيونكہ عورت مردكےمقابلہ ميں زيادہ فرما نبرداراورسستي تهي اس سے آساني سے دو كام ليا جاسكتا تها دفاتريا كارخانوں ميں اسكي قوت يا اسكي ذہانت سےاستفادہ كيا جاتا تها اور اس كي اور اسكي خوبصورتي اور نسوانيت كوہوس راني كا ذريعہ بنايا جاتا تها ۔اور يہ كام قدامت پرست خواتين سے لينا مشكل تها ۔ان دونوںگروہوں كے علاوہ خواتين كا ايك اورطبقہ تها جس نے دين كي حقيقي معرفت كے ساته ساته تعليمي اور ثقافتي ميدان ميں بهي سرگرمياں انجام ديں اور اس وقت خواتين كے لئے جو زمينے فراہم تهے ان كا صحيح استعمال كيا۔ شاہ كے دور ميں روشن فكرمتدين خواتين كي تعداد بہت كم تهي ليكن قلت كے باوجود طاغوت كے مقابلہ ميں ميدان جہاد ميں مردوں كے ساته ساته رہتي تهِيں ۔ان باعظمت خواتين نے كمال صبر كے ساته ستم شاہي كا مقابلہ كيا ،جيل گئيں اورشهيد بهي ہوئيں ۔امام كہتے ہيں “آج جيليں ہماري آزاد متدين خواتين سے بهري ہوئي ہيں ” اورعلم و حكمت كے ميدان ميں بهي انہوںنے بڑے كارنامے انجام دئے ہيں اوران كا ايك واضح نمونہ عالمہ اورمجتهدہ خاتون “بانو امين رہ” ہيں۔ايراني خواتين نے اسي راہ پر چلتے ہوئے اسلامي انقلاب كي كاميابي كے لئے زمين ہموار كي ہيں۔ اگرچہ ان خواتين كو ان كے ہم فكرمردوں كي حمايت اور پشت پناہي حاصل تهي۔

اسلامي انقلاب ايران كي كاميابي ميں خواتين كا كردار

اسلامي انقلاب ايران ۱۳۵۷ه ش ميں كامياب ہوا اوراس حركت كا آغا ز ۱۵ خرداد ۱۳۴۲ه ش كو ہوا تها ۔ايران مسلم خواتين اس جہاد اور طاغوت سے مقابلہ ميں مردوں كے ساته ساته تهيں اور جيسے جيسے سال ۱۳۵۷ قريب آتاجارہا تها ويسے ويسے ان جانباز اور مجاہد خواتين كي سرگرمياں زيادہ ہوتي جارہي تهيں۔ مسلم خواتين جو كسي شہيد كي ماں يا بيوہ تهيں مخفي طور پر سرگرمياں انجام دے رہي۔ انكے مقابلہ كا انداز يہ تها كہ سروں پر كالي چادريں ،بچوں كو گود ميں لئے ہوئے ،مٹهيوں كو بهينچے ہوئے جوش وخروش كے ساته مرگ بر شاہ {شاہ مردہ باد} كے نعرے لگاتے ہوئے سڑكوں پر نكل آتي تهيں۔ “آپ نے آج تك كسي انقلاب كي تاريخ ميں ايسا منظر ديكها ہے ؟يہ عورتيں اپنے بہادر بچوں كو آغوش ميں لئے ہوئےگوليوں كي بارش كے باوجود ميدان ميں آگئيں۔ كيا كسي تاريخ نے خواتين كي اس شجاعت كو بيان كيا ہے؟”ان خواتين كے انہيں اقدامات نے انقلابي حركت كو استحكام بخشا تها ۔ “آپ خواتين كے سڑكوں پر نكل آنے سے مردوں كي قوت ،حوصلے اورہمت ميں اضافہ ہوا اورانكي جرات كواستحكام ملا ۔ مرد،عورتوں كے پيچهے پيچهے سڑكوں پرنكلتے،وہ مردوں كي حوصلہ افزائي كرتيں اور صف كے اگلے حصہ ميں كهڑي ہوجاتي تهيں ۔

يہ شهداء ان ماوں كي گرانقدرمحبتوں اورزحمتوں كا نتيجہ ہيں جن كي مامتا ميں عشق الٰہي كي آميزش تهي ۔انہوں نے بچوں كي بہترين تربيت كركے خدا اوراسلام كي راہ ميں قربان كرنے كے لئے تيار كرديا تها۔ امام خميني رہ اسي طرح سے ہر گام پر عورتوں كي جانفشانيوں كي تعريف كرتے رہتے تهے كيوں كہ خواتين نے اس انقلاب كي كاميابي ميں اہم كردارادا كيا تها۔ امام خميني رہ فرماتے ہيں:يہ خواتين ہي تهيں جو مظاہروں ميں آگے آگے رہتي تهيں يہي خواتين تهيں جن كے خون جگرنے شہيد ہوكر انقلاب كو دوان اور استحكام بخشا تها۔”

نيزفرماتے ہيں “ہمارا يہ انقلاب انہيں خواتين كا مرہون منت ہے “۔ بس يہي جملہ اس بات كے اندازہ كے لئے كافي كہ خواتين نےاسلامي انقلاب كي كاميابي ميں كتنا عظيم كردارادا كيا ہے “۔

 

اسلامي انقلاب كي نگاہ ميں عورت كي اهميت و عورت كا مرتبہ

اسلامي انقلاب كي كاميابي اور اسلامي نظام كے استحكام كے ساته ساته قدامت پرست افراد نے عورتوں كے دائرہ اختيار كو محدود كرنے كا مطالبہ شروع كرديا ۔ ان كا مطالبہ يہ تها كہ سياسي ،اجتماعي اور ثقافتي ميدان ميں خواتين كي سرگرميوں كو ممنوع قرار ديا جائے ۔اوريہ سلسلہ اسلامي نظام كے استحكام كے ابتدائي چند سالوں تك جاري رہا۔دوسري طرف سے تجدد پسند اور مغرب زدہ افراد حكومت اسلامي كے قوانين مثلاً پردے اور بعض امور ميں خواتين كي سرگرميوں پر پابنديوں كي مخالفت كررہے تهے ۔چونكہ اس وقت تك عورت كے واقعي حقوق اورمعاشرہ ميں اس كا مقام مشخص نہيں تها لهٰذا اس كا نتيجہ يہ ہوا كہ يہ دونوں گروہ اگرچہ ايك دوسرے كے شديد مخالف تهے ليكن اسكے باوجود ايك ہوكر اسلامي انقلاب كي مخالفت كررہے تهے ۔ يہ دونوں ہي طبقہ جمہوري اسلامي سے اپنے نظريات كے مطابق خواتين كے حقوق اور اس كے اہميت كا مطالبہ كررہےتهے۔ امام خميني رہ اپني ذكاوت اورعلمي اورفكري صلاحيت كي بنياد پر ان دونوں كے لئے ايك درمياني حل نكالااورايك بہترين مصلِح اورقائد ہونے كي حثيت سے خواتين كے لئے ايك نيا نكتہ نظر پيش كيا كہ تاريخي، سياسي ،اجتماعي ،ثقافتي اورمجاہدت و مزاحمت جيسے ميدانوں ميں عورت كا تعميري كردار ناقابل انكارہے۔ليكن اہم وہ فكرہوتي ہےكو تاريخ كي بلنديوں پر جلوہ فگن ہے۔ امام خميني رہ نے عورت كي اس عظمت اور منزلت كو اجاگركيا جس كو تاريخ نے مبہم اوردهندلا كرديا تها ۔انہوں نےمعاشرہ كو اور خود عورت كو اسكي حقيقي عظمت اور منزلت سے روشناس كرايا۔خواتين كے سلسلہ ميں امام خميني رہ نےدو زاويہ نظر سے بحث كي۔ايك طرف انہوں نے خواتين كے سلسلہ ميں جوغلط نظريات رائج تهے انكي نفي كي اور اپنے اصلاحي افكار كے ضمن ميں انكي منزلت ومقام كو بيان كيا ۔اور دوسري طرف تربيتي وتہذيبي اوراجرائي امورميں خواتين كے لئے راہيں فراہم كرتے ہوئے ان كي شان اور منزلت كے مطابق خاص نظريہ پيش كيا ۔

امام خميني رہ كے كلامي نظريہ كے مطابق مرد وعورت خلقت كے اعتبار سے ہم پلہ ہيں ۔ان كے مطابق دونوں انسان ہيں اوردونوں ميں رشدوكمال كے اعليٰ منازل طے كرني كي صلاحيت موجود ہے۔اور عورت كوبهي پرورگار نے كمال كے اعليٰ ترين مراتب ميں نمونہ بنايا اوروہ جناب صديقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كي ذات والاصفات ہے ۔لهٰذا مردوں كو بهي انكا اتباع كرنا چاہئے ۔امام خميني رہ كا جناب سيدہ كونين سلام اللہ عليہا كي عظمت ومنزلت كو ذكر كرنے اور انہيں انسانيت كے لئے نمونہ كے طورپرتعارف كے ذريعہ دنيا كو يہ بتانا تها كہ اسلام ميں ايسي خواتين موجود ہيں جو انسانوں كے لئے اسوہ اور نمونہ كي حيثيت ركهتي ہيں۔ جب كہ شاہ نے “۱۷ دي” كي تاريخ ميں كہ جس دن اس نے “كشف حجاب” يعني بے پردگي كے قانون كو نافذ كيا تها، ” روز خواتين” قرارديا تها۔

امام خميني رہ كے ديگر اصلاحي افكاراور اصولوں ميں سے ايك ،خواتين كي اس حقيقي منزلت كو آشكا ر كرنا تها جسے اسلام نے بيان كيا ۔ان كااصل نظريہ يہ تها كہ خواتين كو سياست اور مجاہدت كے ميدان ميں بهي كاركردگي انجام ديني چاہئے۔ ليكن وہ خواتين كي ايسي سرگرميوں كے مخالف تهے جس سے انكي انساني حيثيت كے مجروح ہونے كا خطرہ ہو ۔اسي نظريہ كے مطابق امام خميںي رہ كےمطابق انكے اقوال سے اخذ كئے گئے مختلف اور متضاد نتائج كي تشريح اور تاويل كي جاسكتي ہے۔ ۱۳۴۰كي دہائي ميں انہوں عورتوں كے ووٹ دينے اور اليكشن ميں شركت كرنے كي سخت مخالفت كي تهي۔اور وہ عورتوں كي فوجي ٹريننگ كے بهي مخالف تهے ۔ ان مخالفتوں كي تاويل امام خمييني رہ اس قول كے ضمن كي جاسكتي ہے “كيا چند خواتين كو مجلس كا ممبر بنانے سے ملك كو ترقي حاصل ہوجائے گي اب تك مردوں نے مجلس ميں آكر كون سے كارنامے انجام دئے ہيں جو عورتيں مجلس ميں آكر ملك كي ترقي كے لئے راہيں فراہم كريں گي؟ہم عورت كي ترقيوں كے مخالف نہيں ہيں بلكہ ان فحش باتوں ،كردارسوز اوراخلاقي انحرافات كے مخالف ہيں جوترقي كا نام پر وجود ميں آرہے ہيں”۔

انقلاب كي كاميابي كے بعد جب امام خميني رہ نے ديكها كہ اب معاشرہ كے حالات تبديل ہو رہے ہيں اور خواتين كي رشد اور ترقي كے لئے زمينے فراہم ہو رہے ہيں تو انہوں نے خواتين كومختلف ميدانوں ميں سرگرميوں كي دعوت ديتے ہوئے كہا ” خواتين آپ بهي ووٹ دينے آئيے اور اس سلسلہ ميں آپ كےاورمردوں كےدرميان كوئي فرق نہيں ہے بلكہ آپ مردوں پر مقدم ہيں۔

عورت كو استعمال كرنا اور اس كو ايك مشين كا پرزہ سمجهنا يہ استثمار اور مفاد پرست حكومتوں اور افراد كي فكرہے۔ اوريہ لوگ ملك مردوں اور عورتوں كو مختلف اخلاق سے گرے ہوئےكاموں مشغول كركے اپنے مفادات اورمقاصد كوحاصل كرنا چاہتے ہيں۔ جبكہ مردوں اور عورتوں كي ترقي كي راہيں اسي وقت كهل سكتي ہيں جب اس ظالم اور خودغرض حكومت كا خاتمہ ہوجائے۔لهٰذا امام خميني رہ معاشرہ ميں عورت كے مقام اور اس كي حيثيت كو بيان كرتے ہوئے فرمايا “خواتين اس اسلامي نظامي كے تحت انسان ہونے كے اعتبار سے ايك بہترين اسلامي معاشرہ تشكيل دينے ميں مردوں كے ساته كاركردگياں اور سرگرمياں انجام دے سكتي ہيں مگر انہيں يہ حق حاصل نہيں ہے كہ اپنے آپ كو اپني منزلت سے نيچے گراديں اور مردوں كو بهي قطعاً يہ حق نہيں ہے كہ عورت كو پست اور حقير خيال كريں۔ نيز فرماتے ہيں جس طرح سے مرد اپني زندگي كے سلسلہ ميں آزاد اور صاحب اختيارہے اسي طرح عورت بهي اپني زندگي ميں آزاد اور صاحب اختيار ہے اور اسے خود اسلام نے يہ اجازت دي ہے۔

امام خميني رہ كے افكار كا دوسراپہلو مرد اور عورت كےدرميان نسبت كے سلسلہ ميں ہيں قدامت پرستوں كے مطابق عورت كو دوسرے درجہ كي مخلوق كي فہرست ميں ركها گيا تها ۔اور تجدد پسند نظريہ كے مطابق اگرچہ عورت كے اختيارات كے حدود تهوڑے زيادہ ضرور تهے ليكن اس ميں بهي عورت كودوسرا ہي مقام حاصل تها۔ ان كے نظريہ كے مطابق عورت ،مرد كي جانشين تهي اور ضرورت پڑنے پر مرد كي جگہ لے سكتي تهي ۔

فيمينزم جو دورحاضر ميں خواتين نوازوں كا مترقي ترين گروہ مانا جاتا ہے، اس كے نظريہ كےمطابق عورت مرد سے برتر ہے اورا سے اپنے حقوق كو حاصل كرنے كے لئے اپني تمام طاقتيں اوركوششيں صرف كرديني چاہئے۔ان كا آئيڈيل معاشرہ وہ ہے جو صنف نازك سے متعلق ہو۔

ليكن امام خميني رہ كا نظريہ يہ ہے كہ مرد اور عورت مساوي ہيں ،فرماتے ہيں”عورت اور مرد مساوي ہيں اورعورت ،مرد كي طرح اپنا راستہ انتخاب كرنے ميں آزاد ہے”۔

امام خميني رہ خواتين كي فطرت اور طبيعيت سے واقفيت ركهتے تهے وہ جانتے تهے كہ اس كا باطن نرم ہوتا ہے اور وہ جنگ اور خونريزي سے گهبراتي ہے ۔يہي وجہ ہےكہ انقلاب اور آٹه برس چلنے والي ايران،عراق جنگ كے دوران اس سلسلہ ميں انكي سرگرميوں كي مختلف مقامات پر تعريف كي ہے اور انكي برتري اور بزرگي بيان كي ہے، فرماتے ہيں” آپ خواتين اس تحريك كي سربراہ ہيں ہم آپ كو اس تحريك كا قائد مانتے ہيں اورہم آپ كے خادم ہيں”۔

امام خميني رہ كے اس طرح سےعورتوں كي عظمت بيان كرنے سے معاشرہ ميں مختلف ميدانوں ميں سرگرمياں انجام دينے كے لئے ميدان فراہم ہوگيا۔ اس طرح امام خميني رہ نے ايك طرف تو خواتين كے لئے علمي ،سياسي،ثقافتي ،نفاذي اورمعاشرتي ميدانوں ميں سرگرميوں كے حدود بيان كئے اوردوسري جانب انہيں پيچيدہ اور سخت حالات سے باہر نكلنے كے لئے راستہ دكهايا ۔ امام خميني رہ نے اس مرحلہ ميں مختلف نظريات ميں اعتدال كي راہ اپنائي ،كيونكہ اس سلسلہ ميں امام كے مخاطبين مختلف تهے خصوصاً وہ افراد جو امام كے نظريات كے مخالف تهے ۔وہ فرماتے ہيں “جولوگ قانون كي خلاف ورزي كرتے ہيں{يہ ان افراد كي طرف اشارہ ہےجو اجتماعي سرگرميوں كي مخالفت كرتے تهے}تواگر وہ مسلمان ہيں توجان ليں كہ انہوں نے گناہ كبيرہ انجام ديا ہے كيونكہ قانون شكني گناہ كبيرہ ہے اگرچہ يہ بات واضح ہے كہ وہ قوانين اسلام كے پابند نہيں ہيں اورچاہتے ہيں كہ معاشرہ ميں فساد پهيلائيں تو يہ جان ليں كہ وہ زمانہ گذر گيا اب تمہيں خواتين كي حرمت پامال كرنے كا موقع نہيں ديا جائے گا “۔

امام خميني رہ كے نظريہ كے مطابق ااگرچہ خواتين كومختلف ميدانوں ميں كام كرنے كا موقع ملا اور انكي عزت و عظمت ميں اضافہ ہوا ليكن اس كے باوجود ان كي نگاہ ميں عورت كا سب سے بڑا مقام “ماں” ہونا تها۔ يہي وجہ ہے كہ انہوں نے ماں ہونے كو بہترين اور باعظمت كام قرار ديا ہے ۔انكے مطابق ماں كا درجہ استا د بلكہ انبياء سے بهي برتر ہے اسي لئے ماں ہونا اور بچوں كي بہترين تربيت كرنا عورت كي سب سے بڑي ذمہ داري ہے ۔ان كي كي نگاہ ميں معاشرہ كي زوال اور انحطاط كاايك بڑا سبب بچہ كو ماں سے جدا كرنا ہے ۔”شہنشاہي حكومت كے دور ميں يہ كوشش كي جاتي تهي كہ بچوں كو ماں سےجدا كرديا جائے ۔ماوں كو يہ كہكر بہلايا جاتا تها كہ تمہارا كام بچہ پالنا نہيں ہے بلكہ تم لوگ دفتروں ميں جاكر كام كرو۔يہ لوگ ان معصوم بچوں كو دارالاطفال ميں لے جايا كرتے تهے اور وہاں بےرحم اور فاسد افراد انكي غلط تربيت كيا كرتے تهے۔جو بچے اپني ماں كي شفقتوں سے محروم ہوجاتے ہيں وہ ايك طرح كي ذہني اورفكري الجهن كا شكار ہوجاتے ہيں اوراسي جگہ سے جرائم اور فسادات كا آغاز ہوتا ہے۔بہت سے فاسد عقائد اور جرائم انہي فكري بيماريوں كا نتيجہ ہو تے ہيں ۔”

خلاصہ يہ كہ معاشرے اورسماج ميں فكري تبديلياں خصوصاً خواتين ميں فكري انقلابات اسلامي انقلاب ايران كي بركت ہے۔جس ناقابل تبديل حالات كو تبديل كرديا اورخواتين كے افكار ميں انقلاب پيدا كرديا ۔

يہ طالب علموں كي تعداد ميں اضافہ،علم كي فضا قائم ہونا،خواتين كا يونيورسٹي جانا ،اوران كا اقصادي،ثقافتي اور علمي ميدانوں ميں سرگرمياں انجام دينا،خواتين كے لئے انكي شان كے مطابق قوانين تصويب ہونا مثلاً مہر كي رقم زمانہ كے تقاضوں كے مطابق ہونا يا حمل كے ايام ميں انكو كام سے چهٹي ملنا وغيرہ يہ ايسے امورہيں جو اسلامي انقلاب كا نتيجہ ہيں۔ انقلاب حاميوں كو ملك كے حالات سازگار بنانے ميں ايك طويل عرصہ تك جدو جہد كرني پڑي ہے ۔

آخري بات

امام خميني رہ كے اصلاحي افكار كي روش اسلامي جمہوري كے ابتدائي دس سالوں تك جاري رہي اور انكے بعد انكے خلف صالح حضرت آيۃ اللہ العظميٰ سيد علي خامنہ اي دام ظلہ العالي نے اسي طريقہ كار كو اپنايا اور اس كام كو آگے بڑهايا۔ ايران ميں خواتين كي رشد و ترقي كےميدان فراہم ہونا انہي كوششوں كونتيجہ ہے ۔اور يہي چيز سبب بني كہ صنعت،سياست اورہنروفنون جيسے ديگر ميدانوں ميں خواتين كي صلاحيتيں اجاگرہوكرسامنے آئيں ۔ ليكن ايسا لگتا ہے كہ دور حاضرميں خواتين اس طرح كے امور پر حد سے زيادہ توجہ دے رہي ہيں اور اپنے اصلي مقصدجو كہ مادريت اوربچوں كي بہترين تربيت اور شوہر كےلئے بہترين زوجہ ہوناہے ،كو فراموش كرتي جارہي ہيں۔ اگرچہ دنيا كي اجتماعي سياست كا يہ ماننا ہے كہ خواتين ملك اور معاشرہ كي ترقي اور وسعت كے لئے ايك اہم ركن ہيں۔ ليكن ہميں اس بات كي طرف توجہ ديني چاہئے كہ امام خميني رہ كے بنيادي اصلاحي اصول ہميں يہ بتاتے ہيں كہ مرد اورعورت كےدرميان معاشرہ ميں كس طرح توازن برقرار كيا جائے۔لهٰذا نظام كے سياسي افرادكو دنيا ميں حاكم سياسي فضا سے متاثر نہيں ہونا چاہئے۔{بلكہ خواتين كو انكے اصلي فرائض كي طرف متوجہ كرنا چاہئے}

جب امام خميني رہ سے “شوراي نگہبان”{guardian counsil} كے فقہاء نے طلاق كے ايك پيچيدہ مسئلہ كے بارے ميں سوال كيا تو انہوں نے جواب ديا كہ”احتياط كا ايك طريقہ يہ ہے كہ مرد كو نصيحت كركے طلاق كے لئے آمادہ كيا جائے اور اگر وہ راضي نہ ہو تو حاكم شرع كي اجازت سے طلاق كروادي جائے ۔اگرحالات سازگار ہوتے تو ميں ايك اور راستہ بيان كرتا۔” يہاں پر حالات كي ناسازگاري كا حوالہ ديكر سكوت اختيار كرنا امام خميني رہ كي ناتواني اور كمزوري كي دليل نہيں ہے بلكہ يہ اس بات كي طرف اشارہ ہے كہ معاشرہ پر حاكم فضا كس قدر نامناسب تهي اور امام كو اس بات كا خوف تها كہ انكي بات رائيگاں نہ چلي جائے لهٰذا اس بات كي ضرورت ہے كہ امام خميني رہ كے افكار كے نفاذ كےلئے صاحبان فكر افراد اپنے اندرہمت اورجرات پيداكريں۔ تاكہ خواتين كي مشكلات كو برطرف كيا جاسكے اور علمي اور ثقافتي جيسے ديگر ميدانوں ميں انكي ترقي كي راہيں فراہم كي جاسكيں ۔

خواتين كوچاہئے كہ اب خواب غفلت سے بيدار ہوجائيں اوردهوكہ بازوں نے انہيں جو سبز باغ دكهلائے ہيں اس خيا ل سے باہر آجائيں۔اورشانہ بہ شانہ ہوكر كمزور افراد كي مددكريں اورعورتوں كوانكي عظمت اور بزرگي كي طرف متوجہ كريں تاكہ خواتين ميں اسلامي انقلاب كي بركت سے پيداہونے والافكري انقلاب ديگر اسلامي ممالك كي خواتين كے لئےمشعل راہ بن سكے تاكہ وہ اپنے معاشرہ كي اصلاح كريں اور اپنے ملك كو آزادي واستقلال كي راہ پر لگا سكيں۔

ہم پروردگار كي بارگاہ ميں دعاگو ہيں كہ اس كي رحمتين اور بركتين تمام مسلمان خواتين خصوصاًايران كي مسلمان خواتين كے شامل حال رہيں۔

عنوان : امام خميني كي شخصيت

مقالات كے موضوعات :امام خميني (ره)

ايران كا اسلامي انقلاب مسلمانوں كے درميان ايك خاص اہميت كا حامل ہے خصوصاً لبناني عوام اس سے بہت زيادہ متاثر ہے۔لہٰذا اسلامي انقلاب كے بارےميں لبنان اور ديگر ممالك كي سربرآوردہ شخصيتوں كے نظريات ملاحظہ فرمائے۔

“تحريك توحيد اسلامي لبنان” كے سربراہ جناب شيخ سعيد شعبان فرماتے ہيں :دنيائے اسلام كي كامياب ايران كے اسلامي انقلا ب سے وابستہ ہے ۔

حزب اللہ لبنان كے كمانڈر اور رہنما جناب سيد حسن نصراللہ كہتے ہيں : جمہوري اسلامي ايران كا دفاع كرنا ہم سب كا شرعي فريضہ ہے۔ لبناني مسلمانوں اور اسلامي جمہوري ايران كے درميان ايك عميق رابطہ ہے كيوںكہ يہ دونوں ايك ہي مكتب فكر اور ايك ہي رہبر كے مطيع ہيں ۔

شيخ راغب حرب كہتے ہيں: لبناني مسلمان ،ايران كے اسلامي انقلاب كو اپنا انقلاب سمجهتے ہيں اوريہ اسلامي انقلاب سوپر پاور اور استعماري طاقتوں كے مفادات كي راہ ميں بہت بڑا مانع ہے ۔

حزب اللہ لبنان كے سربراہ جناب عباس موسوي فرماتے ہيں :صيہونزم اور استعماري طاقتوں كو منہ توڑ جواب دينے كے لئے مسلمانوں اور آزادي خواہ تحريكوں كوچاہئے كہ اسلامي جمہوري ايران كواپنا آئيڈيل بنائيں اور اسي كے سائے ميں اپني نہضت كا آغاز كريں ۔

حزب اللہ كے ايك ركن جناب حسين غبريس كہتے ہيں :اسلامي انقلاب ايران كادشمن پوري امت مسلمہ كا دشمن ہے ۔

“اسلامي شيعہ مجلس اعليٰ” لبنان كے نائب صدر شيخ محمد شمس الدين كہتے ہيں :اسلامي انقلاب ايران اس صدي كا ايسا معجزہ ہے جس نے ہميں يہ درس ديا ہے كہ اگر ہم سب مسلمان ايك ہوجائں تو كچه بهي كرسكتے ہيں۔ آج دنيا كے مسلمانوں كي نگاہيں ايران ہر ٹكي ہوئي ہيں ۔انقلاب كي كاميابي اور اسكي ترقي ميں ہماري سعادت اور خوش قسمتي ہے ۔

لبنان كے وزير اعظم جناب عمر كرامي كہتے ہيں: ہم اسلامي انقلاب ايران كي حمايت كرتے ہِيں اور اسے اپنا پشتپناہ سمجهتے ہيں كہ علاقہ ميں اس نے امريكہ كے نفوذ كا ختمہ كرديا اور نظام شہنشائيت كودرہم برہم كرديا ۔آج دنيا ميں اسلامي بيداري امام خميني رہ كے انقلاب كي مرہون منت ہے ۔

علامہ سيد محمد حسين فضل اللہ فرماتے ہيں :دنيا كے ايك عرب مسلمان متحد ہوكر ہي استعماري طاقتوں كا مقابلہ كرسكتے ہيں لهٰذا ميں اس بات كي تاكيد كرتا ہوں كہ مسلمانوں كوچاہئے كہ امام خميني رہ كے افكا ركو اپني كتاب جنگ كا سرورق قرار ديں ۔اسلامي انقلاب ايران نے آج دنيا كے مسلمانوں ميں خوداعتمادي پيداكردي ہے اور يہ ثابت كرديا ہے كہ اسلام ہر قسم كي مشكلات كو چاہے وہ سياسي ہوں يا غير سياسي حل كرسكتا ہے ۔

“تحريك امل اسلامي لبنا ن” كے سربراہ ابوہشام {سيد حسين موسوي }كہتے ہيں:ميرے خيال سے اسلامي انقلاب كي ہر كاميابي تمام مسلمانوں كي كاميابي ہے ۔علاقہ كے عرب اورغير عرب مسلمان ايك اسلامي انقلا ب كے مشتاق تهے كيوںكہ انہيں معلوم ہے كہ تنہا اسلام ايسا نظام ہےجو معاشرہ ميں عدل واںصاف قائم كرسكتا ہے اور اسے ترقي كي راہوں پر لگا سكتا ہے ۔

صادق المہدي كہتے ہيں : اسلامي انقلاب ايران كي بركت سے فلسطيني اور عرب عوام ميں شہنشاہئيت اور صيہونزم سے مقابلہ كے لئے ايك نيا جوش اور جذبہ ہيدا ہو گيا ہے۔ايراني عوام نے دين كے لئے قيام كيا اور اسي كي راہ ميں شہييد ہوگئے انہوں نےاپني مرضي سے اس راستہ كا انتخاب كيا اور اب بهي اسلام كے لئے قربا نيا ں ديتے چلے آرہے ہيں كيوں كہ مذہب اسلام كا تقدس انكے پيش نظر ہے ۔

ہميں ايران كي اس بہادر عوام پر فخر ہے كيوں كہ انہوں كہ انہوں نے طاغوتي حكومت كواكهاڑ پهينكا اورايران كو امريكي شہنشاہئيت سے آزاد كراديا اور ايران ايك بار پهر اسلام كي آغوش ميں آگيا ۔درحقيقت اسلامي انقلاب نے روح اسلام كو تازگي بخش دي ہے اوراسلام كي عظمت كو دنيا والوں كے سامنے برملا كرديا ہے ۔ اور دنيا كو يہ بتا دياہے كہ تمام مسلمان ايك مسئلہ ميں مشترك ہيں اور وہ اسلام ہے اسي لئے انقلاب كي كاميابي كے ابتدائي ايام سے ہي انہوں نے بيت المقدس اورفلسطين كي آزادي كے لئے صدائيں بلند كرنا شروع كردي تهيں اور مسلسل انكي حمايت كرتے كررہے ہيں ۔اور اس كے بر عكس شاہ ايران اسرائيل كے لئے اسلحہ فراہم كرواتا تها اور اسے اسرائيل كا بہترين دوست شمار كيا جاتا تها ۔

ليبہ ،شام ،فلسطين اور لبناني عوام كے قيام كي كاميابي اور ناكامي اسلامي انقلاب ايرا ن كي كاميابي اور ناكامي پر منحصر ہے كيوں كہ اس باايمان قوم نے اللہ جسيي لامتناہي قوت پر توكل كرتے ہوئے دشمنوں كي سازشوں كا مقابلہ كيا اور اسلامي افكار كي حفاظت كي ۔ استعماري طاقتوں سے اپنے آپ كو آزادكرايا اوراپنے لئے ايك مبارك زندگي كا انتخا ب كيا ۔ اور اس قوم كا يہ عمل اس با ت كي نشاندہي كرتا ہے كہ وہ كسي صورت ميں بهي سامراجيت كو اپنے اوپر مسلط ہونے كي اجازت نہيں ديں گے۔اسلامي جمہوري ايران كے بارے ميں نظريات كے اختلاف كے باوجود اس بات ميں كوئي شك نہيں ہے كہ مسلمانوں كي اسلامي بيداري ميں اسلامي انقلاب نے ايك اہم كردار ادا كيا ہے ۔اس انقلاب نے مسلمانوں اور آزادي خواہ افراد كو يہ بتا يا ہے كہ كس طرح ظالموں سے مقابلہ كيا جائے اوراپنے اقدار،عقايداور افكار كو محفوظ كياجائے۔

اخبار”الشعب” كہتا ہے :امام خميني رہ نے دنياكي محروم عوام كے دفاع كے لئے اسرائيل كے پرچم كوايران كےآسمان سے گرا ديا اور اس كي جگہ پہلي بارفليسطين كا پرچم لہرايا گيا اور ايران كي مشرقي سرحد كو افغانستان كے مجاہدوں كے لئے كهول دياگيا ۔

انہوں نے “گوربا چوف ” جيسے حاكم كو اسلام قبول كرنے كي دعوت دي اور سلمان رشدي جيسے مرتد كے لئے قتل كا فرمان صادركيا ۔يہ وہ عمل ہے جسكو پيغمبراسلام ص نے انجام ديا اورخلفائے راشدين كے زمانہ ميں بهي اس سنت پرعمل نہيہں كيا گيا ۔

امام خميني رہ نے مسلمانوں كي حوصلہ افزائي كي اورا انكي يكجہتي كے لئے يورپ اورامريكہ ميں متعدد تبليغي ادارے كهلوائے جس كے نتيجہ ميں ہزاروں لوگوں نے ان ممالك ميں مذہب اسلام قبول كرليا ۔اس عظيم انسان كي ۸۹ سالہ زندگي كي كاوشوں اور كاميابيوں كو تاريخ ميں سنہرے الفاظ ميں لكها جائےگا ۔

سوڈان كے صدر كہتے ہيں: اسلامي جمہوري ايران اس صدي كي پہلي اسلامي حكومت ہے۔ سوڈاني عوام بهي چاہتي ہے كہ ملك ميں ايك ايسي حكومت ہو جو اسلامي احكامات كوجاري كرے اور اس سلسلہ ميں انہيں ايران كي مدد كي ضرورت ہے تاكہ ان كے تجربات سے استفادہ كرسكيں ۔لهٰذا كچه دنوں پہلے ايران كے سفر كے دوران وہاں كے صاحبان منصب كے ساته ميري ملاقات كافي تسلي بخش رہي ہے ۔ملاقات كے دوران ميں نے ايران اور سوڈان كےدرميان روابط استوار كرنے پر زورديا اورعلاقہ كے اسلامي ممالك كےساته رابطہ مستحكم بنانے پر بهي تاكيد كي ۔ سوڈاني حكومت كسي قيمت پر ايسي حكومت پرراضي نہيں ہوسكتي جسميں اسلامي احكامات اور اقدار كي كوئي حيثيت نہ ہو۔

وحدت ميگزين ، استنبول

عبد السلام جلود

اسلامي انقلاب ايران نے اسلامي اقوام اور محروم افراد كو عزت اور سربلندي عطاكي ہے اور ان ميں ظالمين سے مقابلہ اورثابت قدم رہنے كي ہمت پيدا كردي ہے ۔

ايران مسلمانوں اور اسلام كا سب سے بڑا حامي اور پشت پناہ ہے ۔پوري دينا ميں امام خميني رہ اور انكے اسلامي انقلاب كي محبوبيت اور مقبوليت كا سبب يہ ہے كہ انہوں نے امريكہ سے مقابلہ كيا اور اور بيت المقس كي آزادي كو اپنا مقصد قرار ديا ہے ۔

ايران كا اسلامي انقلاب صرف شاہ كے خلا ف قيام نہيں تها بلكہ يہايك ايسا انقلاب ہے جس نے قوموں ميں بيداري پيدا كردي،يہ انقلاب صرف اسلام كي مغربي تمدن پر كاميابي نہيں ہے بلكہ اس نے مسلمانوں كو غفلت ،پستي اور جمود سے باہر نكال كر تعمير و ارتقاء كي طرف ليجانے ميں بہترين كردارادا كيا ہے ۔

اسلامي انقلاب ايران نے يہ ثابت كرديا كہ ايمان اور عزم راسخ كے مقابلہ ميں خطرناك ہتهيار كي كوئي حيثيت نہيں ہے ۔

شمالي كورياكے صدر “كم ايل سونگ “كہتے ہيں :ميں ايراني عوام كے اس انقلاب كا بہت احترام كر تا ہوں اور انكي كاميابي كي آرزوكرتا ہوں ۔ وہ لوگ اپنے عظيم اسلامي رہنما كي قيادت ميں اپنے ملك اورقوم كا دفاع كر رہے ہيں جب كہ انہيں اسلامي انقلاب كي كاميابي كي ابتدا سے ليكر اب تك ترقي كي راہ ميں متعدد مشكلا ت سے دوچارہونا پڑا پے ليكن كمال شجاعت اور صبر كے ساته انہوں نے ان كا مقابلہ كيااور اپنے لئے زندگي كي نئي راہيں تلاش كرليں ۔

ليونيڈ برجن اوف كہتے ہيں :ہم ايران كي كاميابي،ترقي اور وہاں جديد انقلاب كي آرزوكرتےہوئے ايران اور روسي اتحاد كے درميان بہترين تعلقات كي اميد كرتے ہيں ۔ہم چاہتے ہيں كہ ايك دوسرے كے داخلي امور ميں مداخلت كئے بغير علاقہ كي مشكلات كا راہ حل تلاش كيا جائے ۔

شاذلي بن جديد كہتے ہيں:الجزائر قومي عصبيت سے قطع نظر ايك مسلمان ملك ہونےكي بنا پر اپنے آپ كو ايران كا حامي اور مددگا ر شماركرتا ہے ۔اور ہم ضروري سمجهتے ہيں كہ ايرا ن جوكہ علاقہ كا ايك طاقتور اسلامي ملك ہے،كے تجربات سے استفادہ كريں ۔ہم اسلامي انقلاب ايران كو اپنا انقلاب سمجهتے ہيں۔

قاہرہ يونيورسٹي ميں لسانيات كے استاد ڈاكٹر ابراہيم دسوقي كہتے ہيں :بيشك اسلامي انقلاب ايران چودهويں صدي كا بہت بڑا كارنامہ ہے ۔اس عظيم الشان انقلاب كي طرف توجہ دينے كي ضرورت ہے اور دنيا كے محققين كو اس سلسہ ميں تحقيق كرني چاہئے۔ تاريخ ميں پہلي بار ايسا ہوا ہے كہ ايك ستم ديدہ قوم نے صرف ايمان كي قوت كے سہارے ظالم وجابر حكومت كي بساط سميٹ كر تاريخ كے كوڑے دان ميں پهينك دي ۔

اس واقعہ نے يہ بهي ثابت كرديا كہ ايمان ايك ناقابل شكست قوت ہے۔اور يہ بهي ثابت كرديا كہ اسلام كس حد تك انقلابي اصولوں كے ساته سازگار ہے اور كس حد تك اسلامي حكومتيں كو اس اسلحہ سے استفادہ كرسكتي ہيں۔

ايمان وہ اسلحہ ہے جو راكه كے ڈهير كے نيچے دبي ہوئي چنگاري كي طرح لوگوں كے دلوں كو حيات ديتا ہے۔

يہ انقلاب اور جذبہ فدا كاري درحقيقت اسلامي افكار كا نتيجہ ہيں جوايك زندہ اور سرگرم قوت كي صورت ميں نظر آرہےہيں بے شك يہ جذبہ ايمان ،اسلامي انقلاب كا سب سےبڑا ركن ہے ۔

پاكستان كےمرحوم صدرجنرل ضياء الحق كہتے ہيں: ايران ميں انقلاب آچكا ہے اور يہ اسلامي انقلاب ہے ۔يہ دور حاضر كا بہت بڑا كارنامہ ہے جسے ايران نے انجام ديا ۔آج ايران نے دنيا كو حقيقي اسلام سے روشناس كرايا ہے ۔

آج ايران نےسوپرپاورحكومتوں كے سامنے تسليم ہوئے بغير اپنا لوہا منوايا اور اپني عظمت كو محفوظ كيا ہے ۔ ايران كا يہ عمل قابل غور ہے اور ہم اس كا احترام كرتےہيں۔كيوںكہ اسلامي انقلاب كےجن كارناموں كا اب تك ميں نے جو مشاہدہ كيا ہےوہ لائق تعريف و تحسين ہيں ۔

“افغان مجاہدين” كے سربراہ برہان الدين ربّاني كہتے ہيں :جس طرح صدراسلام ميں جناب محمد مصطفيٰ ص نے مٹهي بهرمسلمانوں كو كفارجيسي بڑي طاقت پر كاميابي كي بشارت دي تهي اورمسلمانوں كو فتح نصيب ہوئي اسي طريقہ سے امام خميني رہ نے اپنے تهوڑے سے ساتهيوں كے ساته ملكر قيام كيا اور مشرق اورمغرب كي سب سے بڑي طاقتوں كو شكست ديا ہے ۔

“ادارہ تحقيقات اسلامي ” لندن كے مدير كليم صديقي كہتےہيں :دنيا ميں رونما ہونےوالے اسلامي انقلابات كےسلسلہ ميں بہت كم تحقيق ہوئي ہے جبكہ اس سلسلہ ميں زيادہ تحقيق كرني چاہئے خاص طور پر اسلامي انقلاب ايران كے سلسلہ ميں تحقيق اور تحليل كي ضرورت ہے۔كيوںكہ يہ انقلاب ايك خاص اہميت كا حامل ہے اور مستقبل ميں يہ انقلاب، اسلامي حركتوں كے لئے مشعل راہ قرار پائيگا لهٰذا اس سلسلہ ميں زيادہ غور و فكر كي ضرورت ہے ۔

عام طور سے لفظ “انقلاب” كا جو مفہوم لوگوں كے ذہن ميں پايا جا تا ہے “اسلامي انقلاب”كا مفہوم اس سے جداہے ۔اسلامي انقلاب كوئي ايك حادثہ نہيں ہے بلكہ حادثات كا ايك سلسلہ ہے جو پے در پے جا ري ہے ۔يہ انقلاب ايسا عمل نہيں ہے جو دفعۃً انجام پاجا ئے اور جلد ختم ہوجائے بلكہ اس انقلاب كے لئے ايك طويل مدت بلكہ ايك يا چند نسليں دركارہيں تاكہ اسميں استحكام پيدا ہوسكے ۔يہ انقلاب ايسا نہيں ہے كہ اسے كسي قالب ميں ركها جائے بلكہ يہ خود ديگرانقلابا ت اور تحريكوں كے لئے قالب كي حيثيت ركهتا ہے ۔يہ ايك ايسا مسئلہ ہے جسكے سلسلہ ميں مسلمانوں كو غورو فكر كرني چاہئے ۔

اسپين كا اخبار”المونڈ”كہتا ہے :ايران مشرق ووسطيٰ كا ايك طاقتور ملك ہے اور دنيائے اسلام كےلئے مشعل راہ ہے۔چونكہ ايران علاقہ ميں جنگي حالات سے نپٹنے ميں ايك اہم كردار ادا كرسكتا ہے لہٰذا مسلمان ممالك كے لئے قا بل اعمتمادہے۔اسلامي جمہوري ايران ايسا ملك ہے جس نے عراق جس كو مغربي ممالك كي حمايت حاصل تهي ،كے ساته آٹه سالوں تك جنگ برداشت كي اورآخرميں عراق كو شكست تسليم كرنے پر مجبور كرديا۔اس آٹه سالہ جنگ كے دوران مغربي ممالك نے بد ترين كردار ادا كيا اورصدام جس كےلئے قتل عام كوئي بڑي با ت نہ تهہي ،كوايك وحشي مشين بناكر ايران پر مسلط كرنا چاہا تها۔ لہٰذا اس ملعون نے ايران اور عراق ميں بے دريغ قتل عام كيا ۔اس كے مقابل ميں ايرا ن ايك طرف عراقي عوام كي پشتيباني اور حمايت كررہا ہےاور دوسري طرف مغرب اور مشرق كے چهوٹے اور بڑے شيطانوں سے مقابلہ بهي كررہا ہے ۔ليكن اس كے باوجود اس ملك كے قائدحضرت آيۃ اللہ خامنہ اي دنيا كو رحمدلي،امن،محبت،اور شفقت كي طرف دعوت دے رہے ہيں اس ملك كا صدرصلح وآشتي كا پيغام ديتا ہوانظرآ رہا ہے۔

“نجات اسلامي”الجزائر كے سربراہ عباس مدني كہتے ہيں :وہ چراغ جس كو امام خميني رہ نے روشن كيا تها اس نے ہمارے دلوں ميں اجالا پهيلا ديا ہے الجزائر كي عوام ايران كےساته ملكر “اللہ اكبر”كے پرچم كو دنيا بهر ميں لہرانے كے لئے آمادہ ہے۔

“اخوان المسلمين “اردن كے سربراہ عبد الرحمٰن خليفہ كہتے ہيں :ايران ايك ايسا ملك ہے جس ميں پوري دنياكي قيادت كرنے كي صلاحيت پائي جاتي ہےاور آج دنيائے اسلام كو ايران كي مدد اور توجہ كي سخت ضرورت ہے ۔

جاپان كے سابق وزيرخارجہ “شينتاروآبہ”كہتے ہيں :ميں نےايران ميں رونما ہونے والے اسلامي انقلاب كا نزديك سے مشاہدہ كيا ہے اور ايرانيوں كو ايك نيا اور مستحكم ايران بناتے ہوئے ديكها ہے اورميں اس كاميابي كو اسلامي انقلاب كے رہبر كا مرہون منت سمجهتا ہوں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.