علم و فہم، لطیف لذتیں ہیں جنہیں سب محسوس نہيں کرسکتے

0 0

آیت اللہ مصباح یزدی نے کہا: انبیاء الہی کی پیروی کی لازمی شرط یہ ہے کہ انسان عالم وجود کی پہچان کے سلسلے میں اپنی سوچ اور بصیرت کو تقویت پہنچائے اور اس کے پاس اخلاق و اقدار کا ایک آگاہانہ نظام موجود ہو۔/ انھوں نے کہا: انسان کے لئے علم و فہم کی لذت پانا لازمی ہے۔

ترجمہ: ف۔ح۔مہدوی

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) تعلیمی و تحقیقی انسٹیوٹ کے سربراہ آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی نے گذشتہ شب قم کی حسینیہ امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ)، میں خطاب کرتے ہوئے کہا: خدا کے قوانین کا نفاذ دائمی لذت کے حصول تک پہنچنے کا راستہ ہے گو کہ بعض لوگوں کا وہم ہے کہ لذتوں کا تعلق محض اسی دنیا سے ہے۔

انھوں نے کہا: “ہمارے تمام احتیاجات ابدی ہیں، انسان اُس دنیا میں بھی غذا اور شہوت جیسی مادی اشیاء کا محتاج ہے فرق صرف یہ ہے کہ اس دنیا کی ضروریات کو اِسی دنیا سے پورا کرنا پڑتا ہے اور ابھی سے ان احتیاجات کے بارے میں فکرمند ہونا چاہئے اور ان ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش اِسی دنیا میں کرنی چاہئے۔

آیت اللہ مصباح یزدی نے سورہ یسین کی ابتدائی آیات شریفہ کی تلاوت کرکے کہا: یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو قابل ہدایت نہیں ہیں۔ خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے: ہم نے اور ہم نے اُن کے آگے سے (بھی) ایک دیوار اور اُن کے پیچھے سے (بھی) ایک دیوار قرار دی ہے، پھر ہم نے اُن (کی آنکھوں) پر پردہ ڈال دیا ہے سو وہ نہ تو پیچھے سے ان کے لئے راستہ ہے اور نہ ہی آگے سے؛ اور ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں تا کہ ہل جل نہ سکیں۔

مزید  انقلاب اسلامی ایران کا انقلابِ فرانس اور روس سے تقابلی جائزہ

حوزہ علمیہ کے اس استاد اخلاق نے سورہ یس کی روزانہ تلاوت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص صبح سویرے ان آیات شریفہ کی تلاوت کرے تو وہ شخص مایوسی اور بے حوصلگی کا شکار ہوجاتا ہے لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ خداوند متعال چاہتا ہے کہ روزانہ تلاوت کے ذریعے ہمیں ہر روز ان نکات کی یادآوری فرمایا کرے تاکہ ہم جان لیں کہ خطرہ ہر وقت گھات لگائے بیٹھا ہے اور ہم کوشش کریں کہ ان مسائل سے دوچار نہ ہوجائیں۔ 

آیت الله مصباح یزدی نے  «إِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَ أَجْرٍ کَرِیمٍ‌ (یس – 11)» [آپ تو صرف اسی شخص کو ڈر سناتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرتا ہے اور خدائے رحمان سے بن دیکھے ڈرتا ہے، سو آپ اسے بخشش اور بڑی عزت والے اجر کی خوشخبری سنا دیں]، کی تلاوت کرکے کہا: ہدایت صرف ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہوں اور اپنے انجام کی فکر میں ہوں اور جو لوگ ہٹ دھرمی کا راستہ اپناتے ہيں اور حقیقت کے درپے نہیں ہیں کسی صورت میں بھی قابل ہدایت نہیں ہیں۔ 

آیت اللہ مصباح یزدی نے سفارش کی: جو لوگ تمام مسائل کو دنیا کے کسوٹیوں پر پرکھتے ہيں اور ان کا فکری طبقہ کمزور ہے ان کی ہدایت کے لئے قرآن کے عمومی استدلالات سے استفادہ کرنا چاہئے تا کہ ہدایت کے راستے کی جانب آجائیں۔ مثلاً ان سے کہہ دیں کہ: اگر چاہتے ہو کہ دنیا کی لذتیں آخرت میں بھی جاری رہیں تو آج ہی سے آخرت کی فکر کرو اور آخرت کی لذتوں کے حصول کے لئے کوشش کرو۔

مزید  ١٠ ربيع الثاني، رحلت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا

حوزات و جامعات کے اس استاد نے علم کونیات کی طرف اشارہ کیا اور اس کے کئی نمونے بیان کرتے ہوئے کہا: مادی لذتوں میں ڈوبے ہوئے، اور اس دنیا کے لئے کام کرنے والے افراد کا کونیاتی نظریہ مادہ پرستانہ (Materialistic) ہے، حتی وہ لوگ جو معاد کو تسلیم کرتے ہيں لیکن عمل میں دنیا کی جانب ہی رجحان رکھتے ہیں وہ مادہ پرستی کے نظام اقدار (Value System) اور مادہ پرستانہ تفکر سے وابستہ ہیں۔

آیت اللہ مصباح یزدی نے وجودیات (علم الوجود) کے سلسلے میں نظریات کی تقویت اور ایک آگاہانہ نظام اقدار اور اخلاق کی موجودگی کو انبیاء الہی کی پیروی کی لازمی شرط قرار دیا اور کہا: آسمانی کتب اور ائمہ اطہار کی پیروی کے ذریعے اس یقین تک پہنچنا چاہئے کہ علم و فہم لطیف لذتیں ہیں جنہیں ہر شخص محسوس نہیں کرسکتا اور بنی نوع انسانی کی زندگی دنیاوی لذات تک محدود نہيں ہے بلکہ اس سے اعلی و برتر مقام بھی موجود ہے۔ 

انھوں نے بعض بظاہر اقدار پر مبنی نظامات کی جڑ کو مادی قرار دیا اور کہا: بعض لوگ بظاہر حصول علم کے درپے ہیں لیکن جب ہم اس کے محرکات کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ درحقیقت مقام و منصب اور مال و دولت چاہتے ہیں اور اس آفت میں  صرف عام ہی لوگ مبتلا نہیں ہیں بلکہ علمائے دین کو بھی خطرات کا سامنا ہے اور انہیں دوسروں سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ 

انھوں نے کہا: حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا نظریہ دنیا کے سلسلے میں یہ تھا کہ آپ (ع) اس کو “جذام کے مرض میں مبتلا شخص کے ہاتھ میں خنزیر کی ہڈی” سے بھی زیادہ پست سمجھتے تھے اور انسان صرف اسی وقت اس مقام تک پہنچ سکتا ہے کہ وہ یقین کرلے کہ ہماری دنیا سے بڑھ کر اقدار بھی موجود ہيں اور یہ کہ ہمیں وہاں تک پہنچنا چاہئے۔

مزید  قرآن مجید اور تسبیح سے استخارہ کرنے کی سند

آیت اللہ مصباح یزدی نے کہا: انسانوں کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ انہيں عالم آخرت پر یقین نہیں ہے اور اگر ہم اس یقین تک پہنچ سکیں تو ہمیں یہ دنیا ایسے بے قدر و قیمت کھلونوں کی مانند نظر آئے گی جن کو ہم نے بیش بہاء اہمیت دی ہے۔ اور اگر ہم اس یقین تک پہنچتے تو اتنی جنگیں اور خونریزیاں رونما نہ ہوتیں اور ہماری دوسری مشکل یہ ہے کہ ہمیں اپنا بھی یقین نہیں ہے یعنی یہ کہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ “ہم کون ہیں اور ہمیں کہاں تک پہنچنا چاہئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.