علماء کے نزدیک صحیفہ سجادیہ کا مقام و مرتبہ

0 5

صحیفہ کی دعائیں حسن بلاغت اور کمال فصاحت کے ساتھ ساتھ علوم الہیہ اور معارف یقینیہ کا مجموعہ ہیں جن کے سامنے انسانی عقل سرتسلیم خم کئے رہتی ہے اور عظیم ترین علماء اور دانشور خضوع کے طور پر کرنش بجالاتے ہیں۔

صحیفہ پر حقیقت بیں صاحبان دل کی ایک نگاہ سے ایک حقیقت کے چہرے سے پردے ہٹ جاتے ہیں کیونکہ صحیفہ کی عبارات خود ہی اس حقیقت کو عیاں کرتے ہیں کہ یہ کلام مخلوق کے کلام سے برتر اور خالق کے کلام سے کمتر ہے؛ چنانچہ یہ جعل سازوں کے اوہام سے بھی برتر و بالاتر ہے اور علماء اور دانشوروں نے بھی اس کی جانب شدید توجہ کی ہے اور اس کی تعریف و تحسین کے مواقع ضائع نہیں ہونے دیئے ہیں۔ کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:

1۔ ابن شہر آشوب (متوفی 588 ہجری) اپنی کتاب «المناقب» میں لکھتے ہیں: «بصرہ میں ایک مرد بلیغ و ادیب کی موجودگی میں صحیفہ کاملہ کی فصاحت و شائستگی و حسن بیان کا حوالہ دیا گیا کہنے لگا: میں بھی اسی قسم کا صحیفہ املاء اور بیان کرسکتا ہوں اور خود بھی لکھ سکتا ہوں! چنانچہ قلم و قرطاس لےکر لکھنے بیٹھ گیا سرجھکائے بیٹھا رہا اور ایک جملہ بھی نہ لکھ سکا اور نہ بیان کرسکا اور شرمندگی کی حالت میں ہی دنیا سے رخصت ہؤا»۔

2۔ سنہ 1353 ہجری میں مرحوم آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی رحمة اللہ علیہ نے صحیفہ سجادیہ کا ایک نسخہ اہل سنت کے عالم و دانشور اور «تفسیر طنطاوی» کے مؤلف «مفتی اسكندریہ» «علامہ طنطاوی کے نام «قاہرہ » روانہ کیا۔ طنطاوی نے صحیفہ وصول کیا اور اس بیش بہاء تحفے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جواباً تحریر کیا: «یہ ہماری بدبختی ہے کہ یہ گرانبہاء اور علم و معرفت کا زندہ جاوید خزانہ – جو انبیاء کی میراث ہے – اب تک ہماری دسترس سے خارج تھا، میں جتنا بھی اس میں غور کرتا ہوں دیکھتا ہوں کہ یہ کلام، کلام خالق سے کمتر اور کلام مخلوق سے برتر و بالاتر ہے»۔

مزید  سب سے پہلى نماز جمعہ

البتہ ہمیں اس معاصر مفسر پر حیرت ہے جنہوں نے حتی اہل سنت ہے کے مصادر ومنابع تک میں غور نہیں کیا ہے؛ حالانکہ قندوزی حنفی جیسے کئی سنی علماء نے اس کتاب کے کچھ حصے اپنی تألیفات میں نقل کئے ہیں۔

3۔ «میرزا ہادی مشہدی “ذاكر”» سے نقل ہؤا کہ ابن جوزی نے «خصائص الائمة » میں لکھا ہے: «اگر امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نہ ہوتے، مسلمانوں کی توحید اور ان کے عقائد مکمل نہ ہوتے؛ کیونکہ جو کچھ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا وہ اصول عقائد اور دین کے اہم فروعات ہیں مگر عقائد کی باریکیاں اور دقائق [جیسے صفات ذات و فعل، صفات کا عین ذات ہونا] ایسے مسائل ہیں جن کے سلسلے میں مسلمان امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مرہون منت اور آپ کے خوان علم و دانش کے ریزہ خوار اور شاگرد ہیں۔۔۔»،

اس کے بعد امام سجاد علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں: «علی بن الحسین زین العابدین املاء و  انشاء، خدا کے ساتھ بات کرنے اور کلام و خطاب کرنے کے کیفیت و روش کے حوالے سے مسلمانوں پر استادی کا حق رکھتے ہیں؛ انہوں نے ہمیں اپنی حاجت خدا کے سامنے رکھنے کا سلیقہ سکھایا؛ کیونکہ اگر امام سجاد علیہ السلام نہ ہوتے تو مسلمان خدا کے ساتھ بات اور مناجات کرنے اور اپنی حاجات بارگاہ قدس الہی میں پیش کرنے کی روش سے محروم رہتے؛ امام سجاد علیہ السلام نے لوگوں کو سکھایا کہ وہ استغفار کے وقت خدا کے ساتھ کس طرح بات کریں اور بارش کی درخواست کرتے وقت کس زبان اور کس لب و لہجے میں خدا سے نزول باران کی درخواست کریں، اور دشمن سے خوف کے وقت کس طرح خدا سے پناہ مانگیں اور کس طرح دشمنوں کے شر کو دفع کرنے کی التجا کریں۔۔۔ 

مزید  ایک روحانی سفر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.