علامہ طبرسي کي ثمر بخش ھجرت

0 4

 

امين الاسلام طبرسي تقريباً 54 سال تك مشہد مقدس ميں مقيم رھے اور اس كے بعد سبزوار كے عمائدين كي دعوت اور اس شہر ميں ايسے وسائل كي فراواني كي بنا پر جو اس شہر ميں موجود تھے اور آپ كے ليے تدريس و تاليف اور تبليغ دين كا راستہ فراہم كر رہے تھے آپ نے 532 ميں اس شہر كي طرف كوچ فرمايا – سادات آل زبارہ جن سے آپ خانداني نسبت بھي ركھتے تھے نے آپ كي ميزباني كي اور مدد و حمايت كے سلسلہ ميں كسي طرح كا دريغ نہ كيا – آپ كا سب سے پہلا اقدام ”‌مدرسہ دروازہ عراق ” كي زعامت كو قبول كرنا تھا جس كے بعد آپ كي سرپرستي اور رہنمائي كي بنا پر يہ مدرسہ ايك وسيع حوزہ علميہ اور ايك بہت زيادہ اہميت كے حامل مقام ميں تبديل ہوگيا – يہاں كي علمي اور ثقافتي فراواني ايران كے دور دراز علاقوں كے بہت سے طلاب كے جذب ہونے كا سبب بني – جوان طلاب كمالات كي منزلوں كو طے كرنے اور اپنے مكتب فكر كي خدمت كے شوق ميں اس مدرسہ ميں اپني تعليم شروع كرتے اور فقہ و اصول جيسے مختلف علوم طبرسي كي خدمت ميں رہ كر حاصل كرتے – آپ كي علمي كوششوں كا نتيجہ آپ كے يہ مشہور و معروف اور دانشور شاگرد ہيں:

رضي الدين حسن طبرسي (طبرسي كے فرزند)، قطب الدين راوندي، محمد بن علي بن شہر آشوب، ضياء الدين فضل اللہ حسني راوندي، شيخ منتجب الدين قمي، شاذان بن جبرئيل قمي، عبد اللہ بن جعفر دوريستي، سيد شرف شاہ حسيني افطسيني نيشاپوري اور برھان الدين ھمداني –

سبز اوراق

امين الاسلام كے متعدد آثار و تصنيفات موجود ھيں جن ميں كي ھر ايك تصنيف اس كوشاں عالم دين اور قوي مفكر كے فضائل و علم پر دليل ھے – آپ كے آثار كے گنجينہ كي تفصيل اس طرح سے ھے:

الآداب الدينيۃ للخزانۃ المعينيۃ، اسرارالامامة، اعلام الورع باعلام الہديٰ، تاج المواليد، جوامع الجامع، الجواہر (جواہر الجمل)، حقائق الامور، عدة السفر عمدة الحضر، العمدة في اصول الدين و الفرائض و النوافل، غنية العابد و منية الزاھد، الفائق، الكافي الشافي، كنوز النجاح، مجمع البيان، مشكوة الانوار في الاخبار، معارج السوال، الموتلف من المختلف بين ائمة السلف، نثر اللآلي، النور المبين و روايت صحيفة الرضا عليہ السلام –

مزید  حضرت امیر المؤمنین علی علیه السلام کی چالیس حدیثیں

امام المفسرين

ايام جواني سے ھي خدمت قرآن كي فكر علامہ كے ذھن ميں گھر كيے ہوئے تھي – آپ كي زندگي اس الٰہي كتاب كے ہمراہ تھي، اس بےمثل و بےنظير معجزہ كے معارف كا احيا اور اس كي تفسير كي تصنيف آپ كي اصلي آرزووں ميں تھي – خالق جہاں، مراديں پوري كرنے والے نے اس جاوداں اثر اور ابدي ميراث كے پيش كرنے كي توفيق آپ كو نصيب فرمائي – جب كہ آپ كا سن مبارك ساٹھ سال سے زيادہ كا ھوگيا تھا اور سر كے بال سفيدي كي طرف مائل تھے تبھي آپ نے مختلف انداز كے ساتھ قرآن كي تين تفسيريں لكھ ڈاليں – آپ نے تفسير قرآن ميں ايسي خلاقيت سے كام ليا كہ آج تك مفسرين آپ كي تفسير كے آستانہ كا طواف كركے آپ كے لامحدود خرمن جس نے مكتب اھل بيت عليہم السلام سے الہام ليا ھے سے خوشہ چيني كرتے رھے ھيں – بہتر ھے كہ ھم يہاں پر اس عظيم عالم دين كي تمام تفاسير كے مفاھيم اور طرز تفسير كے بارے ميں اختصار كے ساتھ اشارہ كريں:

الف) “مجمع البيان” افضل التفاسير

”‌ آستين ھمت الٹي اور تمام جدّ و جہد كو بروئے كار لايا اور ذھن پر زور ڈالا اور خوب فكر كي، مختلف تفاسير كو ديكھا اور خداوند سے توفيق اور آساني كي دعا كي اور ايسي كتاب كي تاليف شروع كي جو بےانتہا كم ھجم، مزين اور بہترين نظم و ترتيب كے ساتھ ھے اور تفسير، انواع و اقسام كے علوم پر مشتمل ھے اور علم قرائت، اعراب و لغت، پيچيدگي و مشكلات، معاني و مفاہيم، نزول و اخبار، قصص و آثار، حدود و احكام، حلال و حرام جيسے تمام علوم كے گہر كو اپنے دامن ميں سميٹے ھے اور اس ميں لوگوں كے پيش كردہ شبہات كو بيان كيا گيا ھے اور ايسے كلام كا ذكر كيا گيا ھے جو فقط ہمارے اصحاب رضي اللہ عنہم سے ھيں اور اصول و فروع، معقول و منقول كے بہت سے استدلال اپنے اعتقادات كي صحت پر لايا ھوں اس طرح كہ افراط و تفريط سے دور، مختصر ايجاز سے بڑھ كر اور تفصيل سے كم ھيں اس ليے كہ عصر رواں كے اعتقادات زيادہ سنگيني كے تحمل كي قوت نہيں ركھتے اور بڑے مسابقوں كے ميدانوں ميں سعي كرنے سے معذور ھے اس ليے كہ آج علماء كے فقط نام باقي ھيں اور علوم كي فقط رمق حيات –

مزید  عید کے دن غریبوں کا دل نہ دکھائیں

اپنے منحصر و انوكھے طرز تحرير اور خلاقيت كے ساتھ تفسير لكھنے كا روحي جذبہ و تمايل آپ ميں جواني كے ايام سے ھي جوش ماررہا تھا اسي طرح آپ كے مقرب دوست محمد ابن يحييٰ ( سبزوار كي برجستہ شخصيتوں اور سادات آل زبارہ ميں سے ھيں ) كي تشويق و ترغيب تھي يہ دو ايسے عامل اور سبب ھيں جن كي طرف خود آپ نے مقدمہ ميں اشارہ كيا ھے – بعض مورخوں نے ايك داستان كو تفسير كي تحرير ميں دخيل جانا ھے – وہ داستان اس طرح سے ھے:

ايك زمانے ميں علامہ پر سكتہ طاري ہوتا ھے اقرباء نے سمجھا كہ آپ خدا كو پيارے ھوگئے لھٰذا انھيں قبر كے حوالہ كرديتے ھيں – كچھ دير بعد جب انھيں ھوش آتا ھے تو اپنے كو قبر كے اندر پاتے ھيں اور وھاں سے نجات پانے اور باہر نكلنے كا كوئي راستہ نہيں ملتا، اسي اثنا ميں خدا سے نذر كرتے ھيں كہ اگر انھيں اس قبر سے رھائي عطا كردے گا تو وہ تفسير قرآن پر ايك كتاب تحرير كريں گے – اسي رات ايك كفن چور كے ہاتھوں قبر كھلتي ھے اور وہ كفن چور قبر شگافتہ كرنے كے بعد كفن اتارنا شروع كرتا ھے تبھي علامہ اس كے ہاتھ پكڑ ليتے ھيں – كفن چور خوف و وحشت سے لرز اٹھتا ھے، علامہ اس سے بات كرتے ھيں ليكن اس كے خوف و ھراس ميں مزيد اضافہ ھوجاتا ھے علامہ طبرسي اس كي دلجوئي كے ليے پورا ماجرا بيان كرتے ھيں اور اس كے بعد كھڑے ھوجاتے ھيں – كفن چور بھي راحت كي سانس ليتا ھے اور علامہ كو جو اس وقت چلنے كي تاب نہيں ركھتے تھے اپني پشت پر سوار كركے ان كے دولتكدہ تك پہونچاتا ھے – علامہ اس كفن چور كي زحمتوں كے عوض اپنے كفن كے ساتھ كچھ روپيہ پيسہ اسے ھديہ كرتے ھيں وہ شخص بھي ان مناظر كا مشاھدہ كرنے اور علامہ كي مدد سے توبہ كركے بارگاہ خداوندي ميں اپنے سابقہ اعمال كے سلسلہ ميں طلب مغفرت كرتا ھے – طبرسي بھي اس كے بعد اپني نذر كو پوري كرتے ھوئے كتاب مجمع البيان كو تاليف فرماتے ہيں –

مزید  حضرت قاسم کی رخصتی ،جنگ اور شہادت

شيخ طبرسي نے سات سال كے عرصہ ميں اور شيخ طوسي كي تفسير ”‌ التبيان ” سے اقتباس كرتے ھوئے اپني تفسير كي كتاب پر تمت بالخير كي مہر لگائي اور قرآني فنون كو ايك ايك كركے منظّم اور مرتب سانچہ ميں ڈھال كر بيان كيا ہے – اس خاص نظم كي بنا پر شيعہ اور سني علماء نے اس كو دوسري تمام تفاسير پر فوقيت ديتے ھوئے اس كي تعريف و تمجيد كي ھے –

مجمع البيان دس جلدوں ميں تدوين اور پانچ مجلدوں ميں منتشر ھوئي ھے – اس كا آغاز ايك فائدہ مند مقدمہ كے ذريعہ ھوتا ھے اور مندرجہ ذيل سات فنون پر گفتگو ھوتي ھے:

قرآني آيات كي تعداد اور ان سے آشنائي كا فائدہ، قرآن كے مشہور قرّاء كے اسماء اور ان كے آراء و نظريات كا ذكر، تفسير كي تعريف، تاويل اور معنيٰ، قرآن كے اسماء اور ان كے معاني، علوم قرآن اس سے مربوط مسائل اور ان سے متعلق لكھي گئي كتابوں كا تذكرہ، فضيلت قرآن و اھل قرآن كے سلسلہ كي مشہور احاديث اور ان چيزوں كا بيان جو ايك قرآن كے قاري كے ليے بہتر ھيں (مثلاً الفاظ قرآن كو خوبصورت انداز ميں تلاوت كرنا) –

آپ بعض موارد ميں آيات كے معني كي تلاش ميں اور بيشتر توضيح كے ليے مطالب كي طرف اشارہ كركے اس موضوع كو ”‌ فصل” كا عنوان ديتے ھيں – تقوا، ھدايت اور ھديٰ كي خصوصيت، توبہ اور اس كے شرائء اخلاص، نام محمد صلي اللہ عليہ و آلہ اور آخر ميں لقمان حكيم كے پندوں اور حكمتوں كے انتخاب جيسے عناوين ان فصلوں كي مثاليں ھيں – اسي طرح آپ كي تفسير ميں روايات اور احاديث كثير تعداد ميں ملتي ھيں كہ جو ايك ھزار تين سو سے زيادہ ھيں –

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.