علامہ اقبال کا حضرت فاطمة الزہراء (س) کی بارگاہ میں ہدیۂ عقیدت(۱)

0 0

180x480 Banner

حضرت زہراء (س) کے سارے کمالات یہ تین نسبتیں ہی نہیں ہیں، ان میں ایک نسبت یہ ہے کہ رحمت للعالمین(ص) کی بیٹی ہیں، ایک نسبت یہ کہ شیر خدا کی زوجہ ہیں اور ایک نسبت یہ کہ دو اماموں کی ماں ہیں، یہ تین نسبتیں ہیں۔ یہ تین نسبتیں کل متاعِ حضرت زہراء (س) نہیں ہے یہ ساری میراث نہیں ہے بلکہ حضرت زہراء (س) کے کچھ اور کمالات بھی ہیں یہ میراث ان کمالات کا نتیجہ ہے یعنی کچھ کمالات حضرت زہراء (س) کے ایسے ہیں جنہوں نے حضرت زہراء (س) کو اس قابل بنایا ہے کہ ان تین نسبتوں میں آجائیں،

بقلم: علامہ سید جواد نقوی

علامہ اقبال کا حضرت فاطمة الزہراء (س) کی بارگاہ میں ہدیۂ عقیدت(۱)

 

فاطمہ الزہراء (س)اسوہء کاملہ
حضرت
زہراء (س)کو بعنوانِ اسوہ اور وہ بھی اسوۂ کاملہ پیش کرنا اقبال کی فراست
و بصیرت کی علامت ہے یعنی اقبال کی دید حضرت زہراء (س)کی شخصیت کی طرف
اسوائیت کی دید ہے۔ پیروانِ دین اسلام و پیروانِ امامت وولایت کی جانب سے
انبیاء کرام ومعصومین (ع) اور دیگر ذواتِ مقدسہ کی اسوائیت والا پہلو اکثر
موردِ غفلت واقع ہوتا ہے حالانکہ قرآن اور دین اسلام نے اُنہیں بعنوانِ
اسوہ پیش کیا ہے جبکہ اس پہلو کو چھوڑ دیاجاتا ہے اور اس کے بجائے دوسرے
پہلوئوں کو زیادہ بیان کیا جاتا ہے۔
معصومین (ؑع) کی زندگیوں کے دوسرے
پہلوئوں سے بھی ہر مسلمان اور مومن کو آشنائی ہونی چاہیے لیکن کسی معصوم
کی زندگی سے اگر مومن کی زندگی میں کچھ منتقل ہوسکتا ہے تو وہ بابِ اسوہ
اور سیرت ہے جب تک معصوم کی زندگیوں کا مطالعہ بعنوانِ اسوہ نہ کیاجائے اس
وقت تک فقط معصومین (ع) کی مدح وثناء کرنے سے، تحقیقاتِ علمی انجام دینے
سے یا تاریخی معلومات اکٹھی کرکے اپنا اظہارِ عقیدت بارگاہِ معصومین میں
پیش کرنے سے معصوم کی ذات سے کچھ بھی اس ذات میں منتقل نہیں ہوگا۔ چونکہ
اہل ایمان کا عقیدہ ہے بلکہ تمام مسلمین کا بھی یہی عقیدہ ہونا چاہیے کہ
خداوند تبارک وتعالیٰ نے انبیاء کرام اور آئمہ اطہار (ع) کا واسطہ فیض قرار
دیا ہے اور تمام فیوضاتِ ظاہری اور معنوی اُنہی ہستیوں کے توسط سے خداوند
تبارک وتعالیٰ نے مخلوق تک پہنچائے ہیں کیونکہ یہ وسائطِ فیضِ خدا ہیں ان
کی ذات سے مخلوق تک جو فیض پہنچتے ہیں ان میں سے ہدایت، معرفت اور علم ہے
جو مقصدِ بعثت اور مقصدِ خلقتِ معصومین ہے۔ اگر مومن اور مسلمان اس دید سے
انبیاء وآئمہ(ع) کو نہ دیکھے تو انبیاء اور آئمہ اس کیلئے واسطۂ فیض و
ہدایت کی حیثیت نہیں رکھتے۔
بابِ اسوائیت اور بابِ سیرت
قرآن مجید میں رسول اللہ (ص) کو خداوند تبارک وتعالیٰ نے بطورِ اسوہ پیش کیا ہے
”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَة” حَسَنَة”” (سورہ احزاب، آیت ٢١)
حضرت
ابراہیم کو خداوند تبارک وتعالیٰ نے بعنوانِ اسوہ پیش کیا اور جن انبیاء
کا تذکرہ قرآن میں آیا ہے ان کیلئے اگرچہ اسوہ کا لفظ استعمال نہیں ہوا
لیکن وہ بھی اسوہ ہی کے طور پر پیش کئے گئے ہیں یعنی ان کی زندگی کی حکایت
اور ان کے قصص اسوہ کے طور پر پیش کئے گئے ہیں جیسے حضرت موسیٰ کیلئے اسوہ
کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن حضرت موسیٰ کو بھی خداوند تبارک وتعالیٰ نے
مخاطبین قرآن کیلئے اسوہ کے طور پر پیس کیا ہے ورنہ قرآن میں حضرت موسیٰ
اور عیسیٰ کاتذکرہ نہ آتا اور نہ ہی دیگر انبیاء (ع) کا تذکرہ آتا۔ اسی
طرح سے آئمہ اطہار بھی بشریت کیلئے اسوہ ہیں لیکن اگر اسوہ کا عنوان مدّ
نظر نہ ہو تو مومن اور امام کا آپس میں ایک عقیدتی تعلق ہونے کے باوجود
ہدایت منتقل نہیں ہوتی۔ امام کی طرف سے اُمت کیلئے جو باب کھولا گیا ہے وہ
بابِ سیرت ہے یعنی امام یا نبی خداوند تبارک وتعالیٰ کی جانب سے ہدایت
انسان کیلئے مبعوث ہوتے ہیں حالانکہ ان کو معاشرے کے اندر اور بھی فراوان
مسائل نظر آتے تھے، لوگوں کے حسب ونسب کا باب بھی کھول سکتے تھے، علومِ
بشری جو انسان نے علمی ترقی کے ذریعے کشف کئے ہیں ان علوم کا باب بھی انسان
کے سامنے کھول سکتے تھے اور وہ چیزیں جو لوگوں کے اندر پہلے سے رائج تھیں
ان میں بھی معصومین دلچسپی لے کر اُنہیں مزید پھیلا سکتے تھے لیکن آئمہ
وانبیاء کو خدائے تعالیٰ نے اُمت کے اندر ایک نیا باب کھولنے کیلئے منصوب
کیا وہ نیا باب اُمت کے اندر بابِ ہدایت ہے کہ اور دیگر مسائل چونکہ آئمہ
اور انبیاء کی بعثت کے محتاج نہیں ہیں اس لئے اس عنوان سے ان کو مبعوث بھی
نہیں کیا۔ اُمت نے بھی معصومین کی نسبت جس باب کو کھلونا ہے وہ بابِ سیرت
ہے۔
سیرت کا بند دروازہ
بعض دروازے دشمنوں نے بند کرنے کی
کوشش کی ہے اور کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے یہ دروازے بند ہوجائیں جیسے
بابِ ولایت یا بابِ حکومت ہے اور اپنی ان کوششوں اور کاوشوں میں وہ بہت حد
تک کامیاب ہوئے ہیں لیکن معصومین(ع) کی سیرت کا باب پیروکاروں نے خود بند
کردیا ہے، یا توجہالت ونادانی کی وجہ سے یا دیگر اسباب کی بناء پر حالانکہ
خدائے تعالیٰ نے بابِ سیرت اس لئے کھولا تھا کہ ان ہستیوں کو عنوانِ اسوہ
قبول کیاجائے کیونکہ اسوہ کی نگاہ سے دیکھنے میں اور دیگر نگاہوں سے دیکھنے
میں مثلاً فقط عقدیتی نگاہ سے دیکھنے میں بڑا فرق ہے، جب تک ہم اسوہ کی
نگاہ سے اُنہیں نہیں دیکھتے اس وقت تک ایک رہبر، امام اور پیشوا، اُمت کی
زندگی میں حضور پیدا نہیں کرسکتا حالانکہ امام کا اُمت کے اندر حضور بہت
ضروری ہے۔ حضورِ رہبر سے مراد رہبرانہ حضور ہے یعنی بعنوانِ راہنما ان کی
ہدایت اُمت کے اندر موجود ہو کہ جس کی اُمت محتاج ہے۔ ایسی امامت ورہبری
اُمت کے کسی کام نہیں آتی جس میں امام اور رہبر، رہبری سے محروم ہو۔ یہ
اُمت کو کوشش کرنی ہے، بعض اُمتوں نے ایسا رویہ اپنایا کہ اگرچہ جسمانی طور
پر امام ان کے اندر تھے لیکن اُمت کے رویوں نے حضورِ رہبر اُمت کے درمیان
ختم کردیا یعنی رہبر کو گوشہ نشین کردیا اور رابطہ ہدایت اس امام کے ساتھ
برقرار نہیں کیا۔
مثلاً امیرالمومنین(ع) جسمانی طور پر اُمت کے اندر
موجود ہیں لیکن اُمت کا رویہ اپنے امام کے ساتھ اس طرح ہے کہ اُمت نے امام
کو بعنوانِ امام و رہبر قبول نہیں کیا یعنی اُمت نے رہبر کو اپنے درمیان
سے نکال دیا یا یوں کہیں کہ اُمت نے رہبر وامام کو جلا وطن کردیا اور اپنے
درمیان میں سے اس کا حضور ختم کردیا اور بلا امامت امام زندگی گزارنے کو
ترجیح دی جس سے بہت برے نتائج سامنے آئے جو آج تک اُمت کو بھگتنے پڑ رہے
ہیں۔
نبوت وامامت کا حضور
اس طرح سے اُمت کا یہ کام ہے کہ وہ
امامت اور رہبریت کو اپنے رویہ اور عمل کے ذریعے اپنے اندر حاضر رکھے۔ ممکن
ہے امام زندہ اور موجود ہوں اور اُمت میں حاضر ہوں لیکن اُمت ہدایت لینے
کی توفیق پیدا نہ کرسکے اور ممکن ہے امام جسمانی طور پر اُمت کے اندر نہ
ہوں بلکہ غائب ہوں جس طرح سے زمانۂ غیبت کی وجہ سے جو جسمانی طور پر اُمت
میں موجود نہیں ہیں تو اُمت کی ذمہ داری یہ ہے کہ اس نبی یا اس امام کی
امامت ورہبری وہدایت کو اپنے اندر حاضر رکھے بالفاظِ دیگر امام یا نبی کو
اپنے اندر حاضر رکھے۔ آج مسلمانوں کے اندر نبی نہیں ہیں، بغیر نبوت کے
زندگی بسرکررہے ہیں۔ ختم نبوت کا درحقیقت دقیق فلسفہ یہ ہے کہ پہلے خدا نے
نبیوں کے حضورکا سلسلہ اپنے ذمے رکھا ہوا تھا یعنی اُمت کے اندر نبی کاحضور
خدا کے ذمے تھا، خدا نے ہر اُمت کے اندر نبی کو حاضر رکھنا تھا لیکن ختم
نبوت کے معانی یہ نہیں ہیں کہ یہ ذمہ داری خدا نے اب اُمت کو سونپ دی ہے کہ
اب تمہیں نبی کو اپنے اندر حاضر رکھنا ہے۔
ممکن ہے امام یا نبی اُمت کے
اندر جسمانی طور پر موجود ہوں لیکن اُمت بصیرت نہ رکھتی ہو اس کی بہت سی
مثالیں ہیں؛ جیسے حضرت نوح اُمت کے اندر خدا کی طرف سے مبعوث ہوئے لیکن
اُمت نوح کے ہوتے ہوئے بغیر نوح کے زندگی بسر کر رہی تھی یا اسی طرح سے
حضرت لوط کے زمانہ میں اُمت بغیر لوط کے زندگی بسر کررہی تھی حالانکہ لوط
موجود تھے۔ یعنی حضرت لوط کو بعنوانِ رہبر قبول نہیں کیا اس حیثیت سے
رہبرانہ حضور محقّق نہیں ہونے دیاگیا اسی طرح دیگر انبیاء بھی ہیں کہ
اُمتوں نے ان کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کردیں اور یہی عمل مسلمانوں کے اندر
بھی تکرار ہوا۔
پیغمبراکرم (ص) کے بعد اُمت نے جو رویہ اپنایا اس کے
نتیجے میں اُمت نے امیرالمومنین(ع) کو عنوانِ امام اپنے اندر حاضر ہونے
نہیں دیا۔ اس حضور کی راہ میں اُمت کی جہالت، نادانی، سفاہت رکاوٹ بنی اور
اسی طرح سے یہ سلسلہ غیبتِ امام تک جاری رہا اگرچہ امام خود جسمانی طور پر
اُمت کے اندر موجود تھے، اُمت وجودِ امام یا حضورِ امام کو محسوس نہیں
کررہی تھی، امام کو بعنوانِ امام قبول کرنا نہیں چاہتی تھی۔
یہی حالت
ہمیں آج نظر آتی ہے کہ آئمہ اطہار وانبیائے کرام اُمت کے اندر آج بھی حاضر
ہیں لیکن مقدس ہستیوں، شخصیات کے طور پر اور ایسی ہستیوں کے طور پر جن کے
متعلق انسان احساسات اور عقیدت ومحبت رکھتے ہیں، امام ان عناوین سے اُمت کے
اندر حاضر ہیں لیکن اسوہ کے طور پر حاضر نہیں ہیں یعنی اُمت چاہتی ہی نہیں
کہ امام اسوہ بن کر ان کے اندر حاضر ہوں یہ اُمت کا عمل ہے اس کو ہم
معمولی مثال میں بھی لحاظ کرسکتے ہیں مثلاً آج کی شخصیات جو زندہ ہیں ان کا
حضور اُمت کے اختیار میں ہے، مثلاً فرض کریں کہ ایک بہت علمی شخصیت مجتہد
ہے لیکن بعنوانِ مرجع، عوام اور اُمت کے اندر متعارف نہیں ہے، یہ شخصیت اسی
اُمت وقبیلے کا ہے اُنہی کا بیٹا یا بھائی ہے اور اسی قوم سے ہے جسمانی
طور پر بعنوانِ فرزند قوم حاضرہے یا ایک عالم کے طور پر ان کے اندر حاضر ہے
لیکن ایک مرجع کے طور پر حاضر نہیں ہے اور مرجع کے طور پر کیوں حاضر نہیں
ہے چونکہ اُمت نے اس کو مرجع کے طور پرقبول نہیں کیا لہٰذا اس کا مجتہدانہ
حضور نہیں ہے یا ایک عالمِ دین کسی علاقے میں موجود ہے وہ ان کے ہر کام میں
شریک ہے ویلفیئر کاکام کرتا ہے، رفاہی کام بھی کرتا ہے اور ہر قسم کی
فعالیت میں شریک ہے لیکن بعنوانِ مبلّغ وہاں اس کی کوئی کارکردگی وسرگرمی
نہیں ہے، یہ شخص بہت سارے عناوین کے تحت اُمت کے اندر حاضر ہے لیکن مبلّغ
کے طور پر حاضر نہیں ہے، بعنوانِ مبلّغ اُمت کے اندر سے غائب ہے، خواہ
نخواہ اس غیبت کے بھی اثرات پڑتے ہیں جس اُمت سے رہبر اور اسوہ غائب ہو اور
جس اُمت سے رول ماڈل غائب ہو وہ اُمت اسوہ کے اثرات یا حکمت وہدایت سے
محروم ہوجاتی ہے، حالانکہ خداوند تبارک وتعالیٰ نے اسی ہدایت کیلئے اُنہیں
اسوہ بنا کر بھیجا تھا۔
اقبال کی عالمی بصیرت
اقبال پر خداوند
تبارک وتعالیٰ نے یہ لطف کیا ہے کہ اُنہیں غیر معمولی بصیرت عطا کی ہے یہ
بصیرتیں خدا نے سب کیلئے رکھی ہوئی ہیں لیکن دیتا خدا اُن کو ہے جو اس کے
قدردان ہوں، جو اپنی ابتدائی بصیرت کو دُنیاوی چھوٹے اور گھٹیااُمور میں
صرف کردیں خداتعالیٰ بصیرتِ برتر ان کو نہیں دیتا لیکن جو اپنے اندر اس
گوہر کے قدردان ہوتے ہیں، خدا اُنہیں بصیرتِ برتر و بصیرتِ عظیم عطا کرتا
ہے۔
تاریخ بشریت میں انگشت شمار لوگ ہیں جو بصیرتِ برتر کے مالک ہیں۔
عام لوگ وہی معمولی بصیرت کے لوگ ہوتے ہیں علماء میں بھی اکثریت معمولی
بصیرت کے حامل لوگ ہیں۔ صاحبانِ بصیرتِ برتر اور خواص کے اندر بھی بہت کم
اور انگشت شمار ہیں اور ان میں سے ایک اقبال ہیں۔ اقبال کی یہ نظم جو انہوں
نے حضرت سیدہ (س) کی بارگاہ میں بعنوانِ ہدیہ عقیدت پیش کی ہے جس کا عنوان
ہی ان کی عالی بصیرت کی دلیل ہے، اوروہ عنوان یہ ہے :
”در معنیٰ این کہ سیدة نساء فاطمہ الزہرا سلام اﷲ علیھا اسوہ کاملہ است برائے نساء اسلام”
اقبال
کے نزدیک حضرت زہراء (س) اسوہ ہیں اور کامل اسوہ ہیں، یعنی کیا؟ یعنی
اقبال چاہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ(س) کو اُمت کے اندر حاضر کریں، اسوہ یعنی
اُمت میں حضرت زہراء (س) کا حضور! یہ حضور اس حضور سے مختلف ہے جو
معتقدین، محبّین، مدّاحین اورذاکرین پیش کرتے ہیں۔ وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ
ہماری مجلس ہورہی ہے اور بی بی آئی ہوئی ہیں یہ حضور کہاں؟ اور وہ حضور جو
اقبال چاہ رہے ہیں وہ کہاں؟
حضور حضرت فاطمہ(س) اُمت میں
اقبال
جس نقطے سے حضرت زہراء (س) کا حضورِ اُمت چاہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اُمت
خود حضرت فاطمہ الزہراء (س)کو اپنے لئے اسوہ بنائے اور جب تک اُمت اسوائیت
کی دید سے حضرت زہراء (س)کو نہیں دیکھتی حق زہرا کسی سے بھی ادا نہیں ہوگا۔
بے شک مدحِ زہراء (س) میں شعر کہیں، مثنویاں کہیں اور اولادِ حضرت زہرا ء
کیلئے آنسو بہائیں، جو مرضی ہے کریں لیکن جب تک لوگ حضرت زہراء (س)کو
ہدایت کے عملی اسوہ کے طور پر اپنی زندگیوں میں نہیں لاتے، اپنے معاشرے میں
نہیں لاتے اس وقت تک حق زہرا ادا نہیں ہوتا، اس وقت تک حق خدا بھی ادا
نہیں ہوتا، یہ جو خدا نے فرمایا:
”وماقدرواﷲحق قدرہ”
تم لوگوں نے
خدا کی قدر نہیں جانی۔ خدا کی قدر جاننے سے مراد یہ نہیں ہے کہ تم نے
یااللہ یااللہ تھوڑا کہا ہے بلکہ تھوڑا اور اضافہ کردو، ذکر وورد بڑھا دو،
نہ، تم نے خدا کی قدر ہی نہیں جانی یہ تمہیں معلوم نہیں کہ خدا کیا ہے اور
خدا نے تمہارے لئے کیا کیا ہے؟ اور تمہیں کس دید اوربصیرت سے خدا کودیکھنا
چاہیے؟ مثلاً فرض کریں کہ ایک عالم فاضل دانشور انسان کسی اُمت کے اندر
جاتا ہے اور وہ اس کو خوب کھانا کھلاتے ہیں، خوب آئو بھگت کرتے ہیں اس کو
ہدیہ وتحفے دیتے ہیں لیکن اس کے علم سے استفادہ نہیں کرتے تو وہاں یہ جملہ
صدق کرتا ہے کہ انہوں نے اس کی قدر نہیں جانی۔ اگرچہ اس کو بہت زیادہ
احترام بھی دیا لیکن اس کی قدر نہیں جانی، قدرِ عالم یعنی اس کے علم کی
قدر، قدرِ امام یعنی اس کی امامت کی قدر ہے اور قدرِ اسوہ یعنی اس کی سیرت
کی قدر کو کہتے ہیں لہٰذا جب تک زہرا ء (س) کو بعنوانِ سیرت نہیں اپنائیں
گے حضرت زہراء (س) اُمت کے اندر حاضر نہیں ہوںگی۔ حضورِ زہراء (س) کیلئے
ضروری ہے کہ آپ کو بعنوانِ اسوہ اپنائیں تاکہ حوزوں میں حضرت زہراء (س)
موجود ہوں، گھروں میں حضرت زہراء (س) موجود ہوں، معاشرے میں حضرت زہراء (س)
موجود ہوں، آداب ورسوم میں حضرت زہرا ء موجود ہوں اور وہ بھی اسوہ اور
رول ماڈل بن کر موجود ہوں، تب ہی کچھ نہ کچھ حق زہراء (س) ادا ہوجائے گا۔
ہیرو اور رول ماڈل میں فرق
ہیرو
اور رول ماڈل میں یہی فرق ہوتا ہے، معصومین کو بھی ہیرو کی نگاہ سے
دیکھتے ہیں۔ ہیرو اور قہرمان لوگوں کی زندگی میں نہیں ہوتا بلکہ فقط لوگوں
کے ذہنوں اور دلوں میں ہوتا ہے، اس سے محبت کی جاتی ہے اس کے سامنے اظہارِ
عقیدت کیاجاتا ہے، گلہائے عقیدت اس کے سامنے نثار کئے جاتے ہیں چونکہ
قہرمان اگر زندگیوں میں آجائے تو سب ہیرو بن جائیں گے، سب قہرمان ہوں گے
حالانکہ قہرمان اور ہیرو سب نہیں ہوسکتے بلکہ ایک ہی ہوتا ہے، اس وجہ سے
قہرمان کبھی بھی کسی کی زندگی میں نہیں آتا لیکن ذہنوں اور دلوں میں آتا
ہے۔
خدا نے معصومین وانبیاء کو قہرمان سے زیادہ اسوہ اور رول ماڈل بنا
کر پیش کیا ہے کیونکہ رول ماڈل انسان کی زندگی کا محرم ہے۔ اس کو ان کی
زندگیوں کے اندر جانا ہے ان کے جزئی ترین افعال واعمال کے اندر جانا ہے،
قہرمان نہیں جاسکتا لہٰذا جتنے بھی قہرمان ہیں، مثلاً جو کردار انسان نے
خود افسانوی طور پر بنائے ہیں یا یہ جو واقعاً تاریخ میں قہرمان گزرے ہیں
ان کی ادا کوئی بھی نہیں اپناسکا، ان کی کوئی بھی تقلید نہیں کرسکا، ان کی
راہ پر کوئی بھی نہیں چل سکا صرف ان کی ستائش کی ہے خواہ وہ افسانوی قہرمان
ہوں یا واقعی۔ ہیرو قابل تقلید نہیں ہوتا لیکن اسوہ قابلِ تقلید ہوتا ہے
اس لئے ان کو زندگی میں لانا ضروری ہے۔ اقبال اس نظم میں حضرت زہراء (س)
کو زندگیوں میں لانا چاہتے ہیں۔
زندگی ممنوعہ علاقہ
ظاہر ہے
کہ لوگ ہر ایک کو اپنی زندگی میں نہیں آنے دیتے چونکہ سب سے سخت حریم انسان
کی اپنی زندگی ہے۔ ہم زندگی سے باہر بہت ساری چیزیں رکھتے ہیں لیکن زندگی
کے اندر بہت کم چیزوں کو آنے دیتے ہیں، بہت کم اُمور کو اجازت دیتے ہیں کہ
ہماری زندگیوں کے اندر آئیں۔ ہماری دوستیاں اور تعلقات ہوتے ہیں لیکن یہ
تعلقات ہماری زندگی کے دائرہ کار سے باہر ہوتے ہیں۔ زندگی میں انسان کسے
آنے کی اجازت دیتا ہے؟ زندگی میں اس کو آنے کی اجازت دیتا ہے جس پر اعتماد
ہو، اعتماد بھی اس باب سے ہو کہ اُس کا میری زندگی میں آنا میرے لئے مفید
اور ضروری ہے اس وقت اس کو زندگی میں آنے کا موقع دیتا ہے ورنہ ہمیشہ اس کو
زندگی سے باہر رکھتا ہے اگرچہ کوئی بھی رشتہ اس کے ساتھ ہو مثلاً بہت سارے
لوگ ہیں جو کسی دوست کو اپنی زندگیوں میں آنے دیتے ہیں لیکن اپنے بھائی کو
اپنی زندگی میں آنے نہیں دیتے، کیوں نہیں آنے دیتے؟ چونکہ دوست سے اُنہیں
توقع ہے کہ یہ میرے لئے مفید ہے لیکن بھائی شاید میرے لئے مفید نہیں ہے،
ممکن ہے ایک شخص اپنے اُستاد کو اپنی زندگی میں آنے دے لیکن اپنے والد کو
اپنی زندگی میں نہ آنے دے، کیوں؟ کیونکہ اس کو باپ پر اعتماد نہیں ہے یا
باپ کو یہ اتنا کامل نہیں سمجھتا کہ وہ میری زندگی کو سنوار سکے۔ پس بعض
لوگ ہماری زندگیوں میں ہیں لیکن یہ وہ لوگ ہیں جن کے اندر کوئی گوہر و جوہر
پایا جاتا ہے ان کو اجازت نہیں ہوتی کہ اندر آئیں، اس لئے اقبال حضرت
زہراء (س) کو اُمت کی روزمرہ زندگی میں لانا چاہتے ہیں اور زندگی سے مراد
بھی شاعرانہ زندگی نہیں اور نہ ہی ذہنوں اور مجلسوں میں لانا چاہتے ہیں اور
نہ ہی فقط مرثیوں اور قصیدوں میں لانا چاہتے ہیں۔
کسی شخص کا میری مدح
میں آنا بہت آسان ہے لیکن اس کا میری زندگی میں آنا اور وہ بھی روزمرہ کی
زندگی میں آنا یعنی میرے صبح وشام میں وہ موجود ہو یہ بہت اہمیت رکھتا ہے
یعنی ایسی شخصیت جس کے ساتھ میں زندگی بسر کروں، اسوہ یعنی ایسا ساتھی جس
کو دیکھ کر انسان زندگی بسر کرے اور اس کی کاپی(Copy)کرے، انسان اُس کے
سائے میں رہے لہٰذا اُس کے اندر ایسے گوہر اور خصائل ہونے چاہئیں تاکہ ہم
سب اپنی زندگیوں کے دروازے ان کے اوپر کھول دیں، ابھی ہم نے اپنے دروازے ان
شخصیات پر نہیں کھولے جن کے عقیدت مند ہیں، اس لئے تو ان کی زندگیوں کی
جھلک ہماری زندگیوں میں نظر نہیں آتی، ان کی زندگی دینی اسلامی معیاری
زندگی ہے جبکہ ہماری کلچرل زندگی ہے، ان کی زندگی حقائق کے تابع ہے ہماری
زندگی کاذب چیزوں کے تابع ہے، ان کی زندگی میں اقدار ہیں ہماری زندگی اقدار
سے خالی ہے، ان کی زندگی کے خدا ساختہ اصول ہیں ہماری زندگی میں خود ساختہ
اصول ہیں، ان کی زندگی میں نظم ہے ہماری زندگی میں نظم نہیں ہے درحالیکہ
ہمارے ذہنوں اور دلوںمیں وہ ہیں ہماری زبانوں پر ان کے تذکرے ہیں لیکن
ہماری زندگیوں میں داخل نہیں ہیں، ہم نے اپنی زندگیوں کے دروازے آئمہ پر
نہیں کھولے اور حضرت زہراء (س) پر نہیں کھولے۔
اقبال پہلے مقامِ حضرت
زہراء (س) بیان کرتے ہیں تاکہ اُمت اپنی زندگیوں کے دریچے کھول دے یعنی
اعتماد ہوجائے، خاطر اُمت آسودہ ہوجائے کہ جس شخصیت کو زندگی میں لارہے ہیں
وہ بہت پاکیزہ ہے اگرچہ ہماری زندگیاں یقینا آلودہ ہیں لیکن ہماری آلودہ
زندگیوں میں بھی ہم کسی آلودہ کو نہیں آنے دیتے، مثلاً اپنی زندگی میں کسی
فاسق وفاجر کو نہیں آنے دیتے، مثلاً ایک چور دوسرے چور کے ساتھ مل کر چوری
کرتا ہے لیکن چور کو اپنی زندگی میں داخل نہیں ہونے دیتا۔ جب وہ اس کے گھر
آتا ہے تو اس کو پتہ ہے کہ ممکن ہے میری بھی کوئی چیز چرالے۔ ایک نادان کسی
نادان کو اپنی زندگی میں نہیں آنے دیتا، دانا کو اپنی زندگی میں آنے دیتا
ہے لہٰذا ہماری زندگیاں بے شک آلودہ ہوں لیکن کوشش یہ کرتے ہیں کہ ان آلودہ
زندگیوں میں پاک شخصیات اور پاک ہستیاں داخل ہوں۔ لہٰذا اقبال بھی پہلے
حضرت زہراء (س)کا مقامِ طہارت وپاکیزگی اور عظمت کو بیان کرتے ہیں تاکہ خود
ہی دروازے کھل جائیں اور کوئی کھٹکا و خدشہ ہمارے ذہن میں نہ ہو کہ کونسی
شخصیت ہماری طرف آرہی ہے۔
حضرت مریم(س) اور حضرت زہراء (س) کا مقام
مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز
از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
جنابِ
مریم بہت باعظمت اورپاکیزہ خاتون ہیں، عموماً کتابوں، منبروں اور محفلوں
میں ہم معصومین کے درمیان تقابل کرکے اس تقابل کے نتیجے میں اپنی مدنظر
شخصیت کو بڑھانے کیلئے دوسرے معصوم کو نیچا دکھا کر کہتے ہیں کہ یہ بہت
عظیم ہیں اور اس سے ہمیں خوشی ہوتی ہے، حالانکہ اقبال یہ کام نہیں کررہے
ہیں چونکہ مریم اسوۂ قرآنی والٰہی ہے، خدا نے مریم کو بعنوانِ اسوہ متعارف
کروایا ہے۔ مریم ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں کہ خداوند تبارک وتعالیٰ نے
قصہ مریم بتانا شروع کردیا کہ مریم پیدا کیسے ہوئی، دُنیا میں کیسے آئی؟
والدین کیسے تھے؟ کس طرح سے والدین کی نگاہ بچوں کی طرف ہو؟ لہٰذا یہ عمل
ہر گز انجام نہ دیں کہ حضرت زہراء (س) کی خاطر ہم حضرت مریم کا مقام معاذ
اللہ چھوٹا اور ناقص ثابت کریں، نہ حضرت مریم بھی اسوۂ کاملہ ہیں۔
انسانیت
کے درجات ہیں اگرایک شخصیت درجہ اعلیٰ پرموجود ہے تو اس کے معانی یہ نہیں
ہیں کہ چھوٹے یا نچلے درجے پر جو ہے اس کو ناقص ثابت کریں تاکہ بالاتر درجے
کا مقام ثابت ہو، حضرت مریم اسوۂ کاملہ ہیں۔ حضرت زہراء (س) کا اسوہ
ہونا حضرت مریم سے برتر ہے۔ نہ اس وجہ سے کہ حضرت مریم میں کوئی نقص ہے،
بلکہ حضرت زہراء (س) میں فراوان کمالات ہیں، لہٰذا پہلے وہ اسوہ اقبال پیش
کرتے ہیں کہ جو قرآن نے پیش کیا، یعنی مریم جو ایک مسلّم اسوہ ہیں، حضرت
زہراء (س) کی عظمت اور مقام بیان کرنے کیلئے اقبال نے ایک مسلم قرآنی
والٰہی اسوہ پہلے چنا ہے اور ان کو پیش کرکے کہا کہ مریم کے بارے میں کسی
کو شک وشبہ نہیں ہے کہ اسوہ ہے چونکہ مریم وہ ہستی ہیں جن کی عصمت پر قرآن
میں اور آسمانی کتابوں میں گواہی دی گئی ہے، کمالات اور فضائل مریم اس قدر
باعظمت ہیں کہ انبیاء تحت تاثیر مریم ہیں، انبیاء مریم سے متأثر ہیں۔
حضرت
زکریا جن کو خدا نے مریم (ع) کا کفیل بنایا۔ مریم بھی بھرپور جوانی میں
بھی نہیں آئی، نوجوانی میں اس قدر پاکیزہ اور باکمال ہیں کہ زکریا مریم سے
متاثر ہیں اور مریم سے الہام لیتے ہیں، نبی خدا مریم سے الہام لیتے ہیں۔
قرآن
کا مشہور واقعہ ہے کہ جب حضرت زکریا (س) محراب میں داخل ہوئے اگرچہ کفیل
اور ذمہ دار تھے، لیکن جب حضرت زکریا محراب میں وارد ہوئے، دیکھتے ہیں کہ
مریم کے پاس پہلے سے آثار موجود ہیں، نہ صرف یہ کہ کوئی ڈش پڑی ہوئی ہے،
ہم بہت سادہ معنی لیتے ہیں فقط مادّی اور ظاہری مظاہر دیکھتے ہیں، یہ سب سے
ادنیٰ مرتبہ ہے کہ آپ کے پاس کھانا موجود ہوتا تھا، حضرت زکریا بہت ساری
اورچیزیں بھی دیکھتے تھے اور جب بھی جاتے تھے حیرت زدہ ہوجاتے تھے کہ یہ سب
کچھ کہاں سے ہوتا ہے۔ بچی سے سوال کیا کہ یہ سب کہاں سے آیاہے یہ آپ کو
کہاں سے میسر ہوا ہے؟ حضرت مریم نے فرمایا کہ یہ سب کچھ خدا کی طرف سے
آیا ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ صرف یہ میرے لئے نہیں ہے، خدا فقط میرا
خدا نہیں ہے، یا میں ہی فقط اس عالم میں مستحق فیض خدا نہیں ہوں بلکہ کہا
خدا جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اس وقت حضرت زکریا گئے اور بارگاہِ خدا میں
جاکر دُعا کی کہ پروردگارا! مجھے بھی دیدے اور خداوندتبارک وتعالیٰ سے جو
فرزند مانگا وہ حضرت یحییٰ تھے۔ پس مریم ایک اسوۂ کاملہ ہیں لیکن حضرت
زہرا ء برتر اسوہ ہیں یعنی مقاماتِ حضرت زہراء (س) مقاماتِ حضرت مریم سے
برتر ہیں۔
مریم ازیک نسبتِ عیسیٰ عزیز
از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
علامہ
اقبال نے حضرت مریم کی ایک نسبت جبکہ حضرت زہراء (س) کے لئے تین نسبتیں
بیان فرمائی ہیں۔ یہ حقیقی فضائل ہیں علماء جب فضائل کو تقسیم کرتے ہیں تو
فضائل کی چند قسمیں کرتے ہیں، ایک قسم فضائل نفسی ہیں اور دوسری قسم فضائل
نسبی ہیں۔ فضائل نفسی وہ ہیں جو کسی شخصیت کے اندر ذاتی طور پر موجود ہیں
کسی کی طرف اسے نسبت دئیے بغیر اس کے اندر یہ فضائل موجود ہیں یعنی کسی
نسبت سے اس نے یہ فضیلت کسب نہیں کی ۔ بلکہ اگر تمام عالم اور ماسوا سے اسے
ہٹا کر فقط اس کو دیکھا جائے تو اس کے اندر یہ فضیلت موجود ہے، کسی چیز سے
آپ موازنہ نہ کریں، کسی بھی چیز سے تقابل نہ کریں، صرف اسی کو دیکھیں اب
ممکن ہے اس کے اندر کوئی حسن موجود ہو، اگر کوئی حسن اور خوبی اس کے اندر
موجود ہوتو اس خوبی کو کہیں گے کہ یہ اس کی نفسی خوبی ہے یعنی اس کی ایسی
خوبی ہے جو کسی چیز سے منسوب کرنے کے نتیجے میں اس میں پیدا نہیں ہوئی۔
لیکن ایک خوبی اس میں یہ ہے کہ اس کا کسی سے مقائسہ اور موازنہ کریں اور اس
کے ساتھ لحاظ کرتے ہوئے اس میں یہ وصف پایاجتا ہے، مثلاً جس چیز سے یہ بنی
ہوئی ہے یا جس معمار یا کاریگر نے اس کو بنایا ہے اس چیز سے اس کو نسبت دے
کر کہے کہ اس کا بنانے والا بہت خوب ہے، ظاہر ہے جس چیز کا بنانے والا خوب
ہے وہ چیز اس کی وجہ سے ایک قیمت اور اعتبار اپنے اندر پیدا کر دیتی ہے۔
مثلاً معمولی لکڑی سے بنا ہوا فرنیچر ہو لیکن بنانے والا بہت ہی مشہور
کاریگر ہو اس فرنیچر کے اندر ایک قیمت آجاتی ہے چونکہ بنانا والا معروف ہے،
جس طرح سے آج کل وہ کمپنیاں جو بہت مشہور ہیں اور جن کا اعتبار ہے وہ اگر
بہت معمولی چیز بھی بنادیں تواس کی بہت ہی قیمت ہوتی ہے اگرچہ اس چیز کے
اندر خود کوئی قیمتی چیز نہیں ہے لیکن اس نے وہاں سے حیثیت حاصل کی ہے اور
کسب کی ہے۔
پس کچھ صفات وہ ہیں جو کسی سے نسبت دئیے بغیر شے کے اندر
پیدا ہوتی ہیں اور کچھ صفات ایسی ہیں جو دوسری چیز کے ساتھ نسبت دینے سے اس
کے اندرلحاظ ہوتی ہیں۔ حضرت زہراء (س) اور حضرت مریم میں دونوں طرح کی
صفات اور فضائل ہیں وہ فضائل بھی جو کسی اور سے منسوب ہونے کی وجہ سے ان
میں پائے جاتے ہیں یہ بھی حقیقی فضائل ہیں مجازی نہیں ہیں اور وہ فضائل بھی
پائے جاتے ہیں جو کسی سے منسوب ہوئے بغیر خود ان کی ذات کے اندر موجود ہیں
ان کو کسی اور سے منسوب کریں یا نہ کریں۔
مریم از یک نسبت عیسیٰ عزیز
مریم
کو اگر ایک عیسیٰ سے نسبت دے کر دیکھیں تو مریم بہت باعظمت ہے، کیوں؟ اس
لئے کہ نبی خدا کی ماں ہونا، یہ ایک صفت ہے جو عیسیٰ کے ساتھ منسوب کرنے
سے حضرت مریم میں آئی ہے، اس وصف کو ایک لحظہ کیلئے اگر ہم الگ کردیں اور
حضرت مریم کو نہ حضرت عیسیٰ سے قیاس کریں اور نہ زکریا سے اور نہ ہی کسی
اور سے، صرف حضرت مریم کو دیکھیں کہ حضرت مریم کی ذات میں عیسیٰ کی ماں
ہونے کے علاوہ بھی کوئی کمال پایاجاتا ہے یا نہیں؟ درحقیقت مریم کو جو
خدا نے چنا کہ یہ عیسیٰ کی ماں بنے وہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ عیسیٰ سے
منسوب ہونے سے باکمال خاتون بن جائے گی۔ بلکہ پہلے مریم میں کمالات رکھے
تاکہ عیسیٰ کی ماں بننے کے قابل ہوجائے، پہلے کمالاتِ نفسی اورکمالاتِ ذاتی
مریم میں آئے، ان کمالات کے نتیجے میں نسبی کمالات پیدا ہوئے، یعنی ہر
خاتون عیسیٰ کی ماں بننے کے قابل ہو وہ معجزۂ خدا کا مظہر بن سکے۔ پس
پہلے کمالاتِ نفسی ہیں، حضرت مریم کے اندر موجود کمالاتِ نفسیہ نے حضرت
مریم کو اس قابل بنایا کہ عیسیٰ سے نسبت برقرار ہو جائے، عیسیٰ سے نسبت
برقرار ہونے سے ایک اور کمال حضرت مریم کے اندر آیا۔
اسی طرح سے حضرت
زہراء (س) کے سارے کمالات یہ تین نسبتیں ہی نہیں ہیں، ان میں ایک نسبت یہ
ہے کہ رحمت للعالمین(ص) کی بیٹی ہیں، ایک نسبت یہ کہ شیر خدا کی زوجہ ہیں
اور ایک نسبت یہ کہ دو اماموں کی ماں ہیں، یہ تین نسبتیں ہیں۔ یہ تین
نسبتیں کل متاعِ حضرت زہراء (س) نہیں ہے یہ ساری میراث نہیں ہے بلکہ حضرت
زہراء (س) کے کچھ اور کمالات بھی ہیں یہ میراث ان کمالات کا نتیجہ ہے یعنی
کچھ کمالات حضرت زہراء (س) کے ایسے ہیں جنہوں نے حضرت زہراء (س) کو اس
قابل بنایا ہے کہ ان تین نسبتوں میں آجائیں، اس وجہ سے روایات میں ہے کہ
خداوند تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر حضور(ص) کی ذات نہ ہوتی تو میں یہ
عالم خلق نہ کرتا اور اگر زہراء (س) کو خلق نہ کرتا تو میں آپ کو بھی خلق
نہ کرتا، اس قسم کی روایات درحقیقت یہی بتانا چاہتی ہیں کہ درحقیقت اسوائیت
کیلئے نسبی کمالات کافی نہیں ہیں، مثلاً حضرت مریم، عیسیٰ کی والدہ ہیں پس
اسوہ ہیں مومنین کیلئے، یعنی کیا؟ یعنی یہ کہ اب مائیں یا عام خواتین حضرت
عیسیٰ کی ماں بنیں؟ کیا اسوائیت کا یہ معنی ہے کہ ساری خواتین عیسیٰ کی
ماں بنیں؟ نہ یہ نہیں ہوسکتا، عیسیٰ کی ماں صرف ایک اور وہ مریم ہے۔ پس
کب خواتین مریم کی اتباع کرسکتی ہیں؟ کب خواتین مریم کو اسوہ بناسکتی
ہیں؟ ان صفات کی بناء پر جن صفات کی وجہ سے مریم اس قابل ہوئیں کہ عیسیٰ
کی ماں بن سکیں یعنی خواتین اپنے اندر وہ صفات پیدا کریں تاکہ ان سے بھی
حضرت عیسیٰ جیسے بچے پیدا ہوں، پاک وپاکیزہ بچے پیدا ہوں۔ جیسے موسیٰ کی
والدہ کو خدا نے وہ حیثیت دی کہ موسیٰ جیسی شخصیت پیدا ہوئی اور موسیٰ
جیسی شخصیت کو اس ماں نے تربیت کیا اور وہ سارے دکھ اور درد اس ماں نے
جھیلے۔
ایسی مائیں جن کا بچہ ہاسٹل میں رہتا ہے اُنہیں گھر میں نیند
نہیں آتی جبکہ ان کو پتہ ہے کہ ان سے بہتر زندگی یہاں گزار رہا ہے لیکن ایک
ماں ہے جو اپنے شیر خوار بچے کو تابوت میں بند کرکے دریا کے حوالے کردیتی
ہے، کیا ایسی ماں کی فقط یہ عظمت ہے کہ یہ موسیٰ کی ماں ہے؟نہ، اس کی عظمت
کا اندازہ کوئی بھی نہیں کرسکتا، یہ جو کام کررہی ہے یہی بتاتا ہے کہ بہت
بڑی اور باعظمت خاتون ہے، اپنے لخت جگر کو اپنے ہاتھ سے تابوت میں بند
کررہی ہے اور خدا پر بھروسہ اور وعدۂ خدا پر یقین کرکے بچے کو دریا کے
حوالے کررہی ہے یہ باکمال خاتون ہے، اس لئے خدا نے اس کو انتخاب کیا کہ
موسیٰ اس کے بطن سے پیدا ہوا۔ وہاں اور بھی بہت سی خواتین تھیں کسی اور
خاتون سے کوئی بچہ پیدا ہوجائے، نہ۔ حضرت زہراء (س) کی یہ تین نسبتیں اس
وجہ سے ہیں چونکہ زہراء (س) اس قابل ہے کہ ان تین نسبتوں سے منسلک ہوسکیں،
خاتونِ جنت بن سکتی ہیں۔ کیوں بن سکتی ہیں؟ ذاتی اور اندرونی کمالات کی
وجہ سے بن سکتی ہیں۔ ہم سارا چرچا فقط اُن کمالات کا کرتے ہیں جو نسبی
کہلاتے ہیں، دوسرے یہ کہتے ہیں کہ اگر نبی (ص) کی بیٹی اور رشتہ دار ہونا
مہم ہے تو نبی کی اور بھی بیٹیاں شمار کرتے ہیں کہ وہ بھی ان کی بیٹیاں
تھیں، یا نبی کی ازواج کو بھی اتنی عظمت حاصل ہونی چاہیے، نبی (ص) کے تمام
رشتہ دار، خالہ، پھوپھی، وہ بھی رشتہ دار ہیں اگر رشتوں ہی سے سب کچھ حاصل
ہوتا ہے تو سب رشتے ایک جیسے ہونا چاہئیں یہ نسبتیں کمالاتِ نفسیہ کا نتیجہ
ہیں نہ کمالاتِ نسبیہ کا، لیکن ان کو اقبال کیوں پیش کررہے ہیں؟ اس لئے کہ
یہ تین نسبتیں اگر جمع کریں تو ان تین نسبتوں کے اندر ساری دُنیا کے
کمالات سمائے ہوئے ہیں، سارے کمالات ان تین نسبتوں کے اندر موجود ہیں۔ یہ
نہیں ہے کہ ان جملہ کمالات میں سے فقط تین نسبتیں ذکر کی ہیں، بلکہ ان تین
نسبتوں کا تذکرہ درحقیقت تمام کمالات کا تذکرہ ہے۔ مولانا روم کے بقول کہ
پیغمبر اکرم (ص) کے تذکرہ فقط آپ (ص) کا تذکرہ نہیں ہے بلکہ آپ(ص) کا
تذکرہ تمام انبیاء کا تذکرہ ہے۔
ذکرِ احمد(ص) نامِ جملہ انبیاء است
چون صد آمد نود ہم پیش ماست
جب
ہم احمد (ص) کہتے ہیں تو گویا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء (ع) کا ذکر
کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی شخصیت جامع ترین ہے اسی طرح ان تین
نسبتوں کے آنے سے ان کے اندر سب کمالات آجاتے ہیں کیونکہ ایک طرف رسولِ
اکرم (ص)، ایک طرف امیرالمومنین(ع)اور ایک طرح حسنین تمام کمالات ان تین
رشتوں کے اندر پروئے ہوئے ہیں۔

مزید  تبلیغی جماعت کی آڑ میں ہندوستانی مسلمانوں پر زندگی تنگ

 

120x240 Banner - 2

300x250 Banner

تبصرے
Loading...