علامات ظہور کے وقوع میں تحقیق

0 2

بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ظہور کی بہت سی علامات رونما ہوچکی ہیں اور فقط ظہور کی حتمی علامات باقی ہیں۔ ظاہراً اس بارے میں قطعی طور پر کوئی بات نہیں کی جاسکتی ، کیونکہ شیعوں کے اصلی اور قدیمی مصادر نے بعض خاص اور محدود علامات کو ذکر کیاہے اور اس قسم کی علامات کہ جن کے بارے ذکر کیا جاتا کہ یہ واقع ہو چکی ہیں، ان مصادر میں ان کا کوئی ذکرنہیں آیاہے۔ یہ مطلب اس بات کی عکاسی کرتاہے کہ جن روایات نے اس قسم کی علامات کو بیان کیاہے ، گذشتہ علماء نے ان کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے، اس کے علاوہ بعض احادیث کی سند بھی صحیح نہیں ہے

اور بحارالانوار جیسی احادیث کی کتابوں میں ان کا ذکر دو اسباب کے تحت ہوسکتاہے:

(۱)۔ ان کے بارے میں غور و خوض کرنے کے لئے ان کا ذکر کرنا:

(۲)۔ یہ بات واضح ہوجائے کہ اہل بیت کے ماننے والے اور نہ ماننے والے سب حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بارے میں اتفاق رائے رکھتے ہیں۔

مرحوم مجلسی ایک روایت کے ذیل میں فرماتے ہیں: یہ روایت کہ جس کے متن میں تبدیلی واقع ہوئی ہے اور اس کا سلسلہ سند، مخلوق خدا میں سے سب بدترین شخص یعنی عمر بن سعد تک جاتاہے، اسے اس لئے نقل کیاہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ سب حضرت مہدی علیہ السلام کو تسلیم کرتے ہیں۔( بحارالانوار، ج۵۲،ص227)

جن مقامات پر ایک علامت ذکر کرکے اس کے بعد خروج کو بیان کیا گیاہے شاید اس سے مراد امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور نہیں ہے بلکہ مؤمنین کے لئے آسانی اور سہولت ہے۔ امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے:” دمشق سے آنے والی صدا کے منتظر رہو جو اچانک تم تک پہنچے گی اس میں تمہارے لئے بہت بڑی آسانی اور سہولت ہوگی۔( بحارالانوار، ج۵۲، ص۲۲۷، ج۹۰.)بعض احادیث میں امام کا کلام اس طرح ذکر ہوا ہے کہ ایک واقعہ کے بارے میں خبر دے رہا ہے نہ یہ کہ آپ نے اس واقعہ کو ظہور کی علامات میں سے ایک علامت کے طور پر تعارف کروایاہے جسے شدید گرمی کا وقوع۔( الغیبۃ، نعمانی، ۱۴، ح۴۴.)

مزید  دعوت کا آغاز

بعض علامات اس قسم کی ہیں کہ ظاہری معنی سے ہٹ کر دوسرا معنی بھی مراد ہوسکتاہے جیسے مغرب کی طرف سے سورج کا نکلنا کہ شاید یہ امام کے مکہ سے ظہور کرنے سے کنایہ ہو، اس کے علاوہ یہ معلوم نہیں ہے کہ رونما ہونے والا واقعہ حقیقتاً وہی علامت ہو جو روایت میں ذکر ہوئی ہے بلکہ شاید اس کے مشابہہ کوئی اور قصہ ہو۔

لہذا یہ سوال اس وقت قابل جواب ہے کہ جب ہم تطبیق کو قبول کرلیں، تطبیق سے مراد یہ ہے کہ ایک علامت کو واقع ہونے والے واقعہ سے ملائیں اور کہیں کہ یہ واقعہ روایت میں بیان کی گئی وہی علامت ہے۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ ہمارا علم محدود ہے اور ہم نہیں جانتے کہ کیا یہ واقعہ وہی علامت ہے یا نہیں اور دوسرا یہ کہ بعض علامات کی سند معتبر اور قابل قبول نہیں ہے کہ اس علامت کو قبول کر لیں۔

ہاں اگر شواہد اور قطعی قرائن موجود ہوں تو کہا جاسکتاہے کہ ایک علامت واقع ہوچکی ہے اور یہ بہت مشکل بات ہے، البتہ اس بات کی طرف تو جہ بھی ضروری ہے کہ ایک واقعہ کی ایک علامت سے شباہت یہ احتمال دیتی ہے کہ شاید یہ واقعہ وہی ظہور کی علامت ہو، لہذا شخص منتظر میں ایک تیاری کی حالت ایجاد کرتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.