عقیدہ مہدویت تمام مذاہب میں

0 2

مہدی موعود کا عقیدہ مسلمانوں سے مخصوص ہے یایہ عقیدہ دوسرے مذاہب میں بھی پایا جاتا ہے ؟ جیسا کہ بعض منکرین مہدویت کاکہنا ہے : عقیدہ مہدویت کی اصل یہودیوں وغیرہ کے عقاید میں ہے جہاںسے مسلمانوں میں سرایت کرگیا ہے ورنہ اس عقیدے کی ایک افسانہ سے زیادہ حقیقت نہیں ہے (المہدیہ فی الاسلام ، ص ۸۰۴۔)

  مہدی موعود کا عقیدہ مسلمانوں سے مخصوص ہے یایہ عقیدہ دوسرے مذاہب میں بھی پایا جاتا ہے ؟

 جیسا کہ بعض منکرین مہدویت کاکہنا ہے : عقیدہ مہدویت کی اصل یہودیوں وغیرہ کے عقاید میں ہے جہاںسے مسلمانوں میں سرایت کرگیا ہے ورنہ اس عقیدے کی ایک افسانہ سے زیادہ حقیقت نہیں ہے (المہدیہ فی الاسلام ، ص ۸۰۴۔)

جواب 

مہدویت یعنی ایک عالمی نجات دھندہ کا تصور اس وقت سے ہے جب کہ اسلام نہیں آیا تھا اوریہ تصور صرف اسلام میں محدود نہیں ہے ، ہاں اس کی تفصیلی علامتوں کی اسلام نے اس طرح حدبندی کی ہے کہ وہ ان آرزووں کو مکمل طور پر پورا کرتی ہے ، جو دینی تاریخ کی ابتداءہی سے عقیدہ مہدویت سے وابستہ کی گئی ہیں ، جوتاریخ کے مظلوموں اور دبے ہوئے انسانوں کے احساسات کو ابھارنے کے لئے ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے غیب پرایمان وعقیدے کو واقعیت میں بدل دیا ہے اوراسے مستقبل سے حال میں پہنچادیا ہے اور مستقبل بعید کے نجات دہندہ کو موجودہ نجات دہندہ پر ایمان میں بدل دیا ہے (بحوث حول المہدی ، ص ۳۱ باقر الصد (رح) تھوڑا لفظی رد وبدل کے ساتھ )۔

مختصر یہ کہ عقیدہ مہدویت سارے مذاہب وادیان اور ملتوں میں موجود ہے اوروہ ایسے ہی

طاقتورغیبی موعود کے انتظار میں زندگی بسر کرتے ہیں البتہ ہر مذہب والے اسے مخصوص نام سے پہچانتے ہیں ۔

مثال کے طور پر ہندوں کے مذہبی رہنما ” شاکونی“ کی کتاب سے نقل ہوا ہے کہ ” دنیا کا خاتمہ سید خلایق دو جہاں ” کِش “ [پیامبر اسلام ]ہوگا جس کے نام ستادہ [ موعود] خدا شناس ہے۔

اسی طرح ہندوں کی کتاب ” وید“ میں لکھا ہے ” جب دنیا خراب ہو جائے گی تو ایک بادشاہ جس کا نام ” منصور “ ہے آخری زمانے میں پیدا ہوگا اورعالم بشریت کا رہبر وپیشوا ہوگا۔اوریہ وہ ہستی ہے جو تمام دنیا والوں کو اپنے دین پر لائے گا۔

مزید  گناہ صغیرہ کا اصرار (تکرار) بھی کبیرہ ہے

اورہندوں ہی کی ایک اور کتاب ” باسک “ میں لکھا ہے ” آخری زمانے میں دین ومذہب کی قیادت ایک عادل بادشاہ پر ختم ہوگی جو جن وانس اور فرشتوں کا پیشوا ہوگا، اسی طرح ” کتاب پاتیکل“ میں آیا ہے جب دنیا اپنے آخری زمان کو پہنچے تو یہ پرانی دنیا نئی دنیامیں تبدیل ہوجائے گی اوراس کے مالک دو پیشواوں ” ناموس آخرالزمان [ حضرت محمد مصطفی اور ” پشن[ علی بن ابی طالب ] کے فرزندہوں گے جس کا نام راہنما ہوگا۔(۔ستارگان درخشان ، ج۴۱، ص ۲۳۔)

اوریہی ہے جیسے زردتش مذہب میں اسے ” سوشیانس“ یعنی دنیا کو نجات دلانے والا ، یہودی اسے ” سرور میکائلی “ یا ” ماشع“ عیسائی اسے ” مسیح موعود“ اور مسلمان انہیں ” مہدی موعود(عج) “ کے نام سے پہچانتے ہیں لیکن ہر قوم یہ کہتی ہے کہ وہ غیبی مصلح ہم میں سے ہوگا۔

اسلام میں اس کی بھر پور طریقے سے شناخت موجود ہے ، جب کہ دیگر مذاہب نے اس کی کامل شناخت نہیں کرائی ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس دنیا کو نجات دینے والے کی جو علامتیں اور مشخصات دیگر مذاہب میں بیان ہوئے ہیں وہ اسلام کے مہدی موعود(عج) یعنی امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے فرزند پر منطبق ہوتے ہیں ۔

( آفتاب عدالت ، ابراہیم امینی ، مترجم نثار احمد خان زینپوری ، ص ۳۸ ، ۴۸۔)

مختصر یہ کہ ایک غیر معمولی عالمی نجات دہندہ کے ظہور کا عقیدہ تمام ادیان ومذاہب کا مشترکہ عقیدہ ہے جس کا سرچشمہ وحی ہے اورتمام انبیاء نے اس کی بشارت دی ہے ساری قومیں اس کی انتظار میں ہیں لیکن اس مطابقت میں اختلاف ہے ۔ 

عقیدہ مہدی (عج) کا مسلم ہونا

حضرت امام مہدی سے متعلق پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث میں غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ” حضرت مہدی(ع) “ کا موضوع پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے میں مسلم تھا چنانچہ لوگ ایسے شخص کے منتظر تھے حق کی ترویج اور عدل وانصاف کے لئے قیام کرے ، یہ عقیدہ لوگوںمیں اتنا مشہور تھا کہ لوگ اس کو مسلم سمجھتے تھے ، اوراس کے فروغ اورخصوصیات کے بارے میں گفتگو کرتے تھے اور ان کے نسبت کنیت اور القاب وغیر کے بارے میں سوال کرتے تھے رسول اللہ (ص) بھی گاہ بگاہ آپ (ع) کے وجود وظہور اورخصوصیات سے متعلق خبردیا کرتے اورفرماتے تھے ، 

مزید  تحريف عملي و معنوي قرآن کريم ، ايک جائزہ

 مہدی بارہ اماموں میں سے آخری امام ہے ، جو میری نسل ہیں اورفاطمہ(س) وعلی(ع) کے فرزند حسین (ع) کی اولاد سے ہوگا ، زمین کے ظلم وجور سے بھر جانے کے بعد ظہور کرے گا اوردنیا کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی ، مکہ سے ظہور کرے گا رکن ومقام کے درمیان بیعت لے گا وہ دین کا مددگار اور سچے ولی خدا ہوگا آپ کے زمانے میں کفار اور ملحدین سے زمین کی طاقت چھن جائے گی اور پوری دنیا میں اسلام کی مقتدر حکومت ہوگی ہرجگہ اسلام کا بول بالا ہوگا آپ کی حکومت دنیا کی آخری حکومت ہوگی آپ کی سیرت وہی ہوگی جو رسول اللہ کی تھی ایسی قرآن اوردین سے دفاع کریں گے جو آپ کے جدّامجد پر نازل ہواتھا۔

مختصر یہ کہ ” عقیدہ مہدویت “ لوگوں میں اتناراسخ ہوگیا تھا کہ وہ صدر اسلام ہی سے ان کے انتظار میں دن گنا کرتے تھے اورحق کی کامیابی کو یقینی سمجھتے تھے ، یہ انتظار خطرناک حالات اورمعاشرے میں پھیلتی زیادتی وظلم کی وجہ سے اورزیادہ شدید ہوجاتا تھا ، یہاں تک لوگ ہرلمحہ حقیقی منتظر کی تلاش میں رہتے اورکبھی غلطی سے بعض افراد کو مہدی(ع) سمجھ بیٹھے تھے ۔مثال کے طور پر جناب (محمد حنیفہ (رض) رسول اللہ کے ہمنام ) وہم کنیہ تھے اس لئے مسلمانوں کا ایک گروہ انہیں مہدی سمجھ بیٹھا۔

اسی طرح مسلمانوں کا ایک گروہ محمد بن عبداللہ بن حسن کو مہدی سمجھ بیٹھا فرقہ ابی سلمہ ابو مسلم خراسانی کو اور ہابی احمد باربلی کو ، قادیانی مرزا احمد قادیانی کو ، بنی امیہ سفیانی کو اور بنی عباس مہدی عباسی کو بابی ، محمد علی باب کو اور بہائی فرقہ مرزا حسین نوری کو مہدی سمجھتا ہے ۔

مزید  شفاعت، مومنین کے حق میں اللہ کا لطف

عقیدہ مہدویت صد در صد اسلامی ہے 

گذشتہ بحثوں سے بات واضح ہوگی کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عقیدہ مہدویت خالص اسلامی عقائد میں سے ایک ہے جس کا اصلی سرچشمہ کتاب وسنت ہیں ا ور تمام مسلمان صدر اسلام سے لے کر آج تک اس سلسلے میں اتفاق نظر رکھتے ہیں یہاں تک کہ بہت سے علماءومحققین نے ان احادیث کے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے اوریہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس کی بنیاد محکمترین دلیل عقلی اورنقلی پر استوار ہے اورتاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کسی بھی شیعہ وسنی مسلمان نے صدر اسلام سے لے کر آج تک اس عقیدے سے انکار یااس کے بارے میں شک نہیں کیا ہے ، مگر یہ کہ اس آخری صدی میں کچھ نافہم اوراستعمار کے ایجنٹ اورکچھ لوگ جو مغرب والوں کے پڑوپیگنڈے سے متاثر ہوکر ہرچیز کی مادی نقطہ نگا ہ سے تفسیر وتحلیل کرتے ہیں ان کج فکر لوگوں نے یہ کوشش کی ہے کہ ایک ایسا راستہ نکالیں جس کے ذریعے قرآن وسنت کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان شکوک وشبہات ایجاد کریں۔

خدا نخواستہ اگریہ راستہ کھل گیا تو کتاب وسنت سے اعتماد اٹھ جائے گا اور قوانین اسلامی ہواپرستوں اور بدعت گزاروں کی خواہش کے مطابق تحریف کا شکار ہوجائیں گے۔

انصاف سے بتائے اگر ایسی احادیث وروایت جن کے متواتر ہونے پر علماءحدیث ورجال وتاریخ نے تصریح کی ہو، سے انکار اوران کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کریں تو ان احادیث کا کیا ہوگا جو خبرواحد شمار ہوتیں ہیں یہی وجہ ہے کہ دانشمندوں اورعلماءاسلام میں سے ایک گروہ نے منحرفین اور مغرضین کے ان ناپاک عزائم کو درک کرتے ہوئے اِن کے خطرات اور عزائم سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لئے اس منحرف گروہ کی ردّ میں کتابیں لکھی ہیں اور دور حاضر کے علماءکا بھی یہ فریضہ بنتا ہے کہ منحرفین کے غلط تبلغ سے متاثر ہونے کے بجائے ان کے اصلی چہرے سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لئے قلم اٹھائیں اور اسلام کے صحیح عقائد سے مسلمانوں خصوصاً جوانان اسلام کو آگاہ کریں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.