عقیدہ اسلام اور جہاد

0 0

بعض لوگوں نے حقیقت کوکچھ اس طرح بیان کيا ہے اور افسوس کہ کچھ نے اس پر یقین بھي کر لیا ہے کہ اسلام يعني ايک محدود دائرہ اورپابنديوں کا سلسلہ۔۔۔ يہ کرو، يہ نہ کرو، يہ مت کہو، اس کو مت ديکھو وغيرہ وغيرہ ۔ واضح سي بات ہے کہ اگر کسي انسان کو ان پابنديوں اور شرائط کے دائرہ ميں مقيد کرديا جائے تو وہ کسي بھي قيمت پر ان کو قبول نہيں کرے گا بلکہ اس کي سعي و کوشش يہ ہوگي کہ اس حصار سے باہر نکل آئے۔ کيا يہي اسلام ہے ؟ قطعاً ايسا نہيں ہے، يہ اسلام کے بارے ميں غلط تصور ہے، اگر کوئي شخص اسلام کو اس حد تک محدود شمار کرے تو يقينا اسلام کے بارے ميں اس کا نظريہ اور اعتقاد حقيقت سے عاري اور خالي ہے۔ يہ اسلام نہيں ہے بلکہ اسلام نام ہے ايک ايسي حقيقت کا کہ جس کي بنياد ايمان و معرفت پر مبني ہے۔ اسلام يعني ايک ايسا نظام حيات کہ جو زندگي کے ہر پہلو پرمحیط ہے۔ ايسا ضابطہ حيات کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو زندگي کو اس کے اصل ہدف تک پہنچايا جا سکتا ہے۔

اسلام سے متعلق اس شناخت و معرفت کے بعد مرحلہ آتا ہے اس سعي و کوشش کا کہ جس کے ذريعے زندگي کے اس مذکورہ بلند مقصد کو حاصل کيا جا سکتا ہے ، مشہور ومعروف جملہ جو امام حسين عليہ السلام سے نقل کيا گيا ہے ” انما الحياۃ عقيدۃ و جہاد‘‘ يعني زندگي نام ہے عقيدہ اورجہاد کا ۔اس جملے کو اس طرح بھي کہا جا سکتا ہے کہ اسلام نام ہے عقيدہ اور جہاد کا ۔ عقيدہ يعني کيا؟ يعني کائنات ،انسان اور مستقبل وغيرہ کے بارے ميں وسعت اور روشن نظري رکھنا، علاوہ از ایں وہ بلند و اعليٰ اہداف ومقاصد بھي کہ جن کو حاصل کرنے کے لئے انسان کو حتي الامکان کوشش کرني چاہئے، اسي زمرے ميں آتے ہيں۔اس مرحلہ کے بعد نوبت آتي ہے اس راہ ميں آنے والي مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کرنے کي۔ اسلام کي نظر ميں غير متحرک، بے حس اور ساکت وجامد زندگي کي کوئي وقعت نہيں ہے۔ اسي طرح معرفت و شناخت کے بغير زندگي کي بھي اسلام ميں کوئي حيثيت نہيں ہے۔ ساتھ ہي وہ زندگي جس ميں سعي و کوشش نہ ہو اسلامي نقطہ نظر سے بے ثمر ہے ۔ بغير معرفت کي زندگي کا انجام گمراہي ہے ۔ ايسي زندگي جس ميں سعي و کوشش کا عنصر موجود نہ ہو،تو نہ اس ميں ارتقاء ہوتي ہے اور نہ پيشرفت ، پيغمبر اسلام۰ کي دس سالہ دوران حکومت اور اس وقت کے اسلامي معاشرہ پر اگر توجہ کي جائے تو حيرت ہوتي ہے کہ آپ نے اتنے قليل عرصے ميں معاشرہ کے اندر نہ جانے کون سي روح پھونک دي تھي کہ سارا معاشرہ ايک سيدھے راستے کي جانب بغیرکسي شک و شبہ کے تيزي سے آگے بڑھ رہا تھا، يہ ہے اسلامي زندگي ۔

مزید  حضرت فاطمہ الزہرا ء پندرہویں قسط

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.