عظمت اسلام کا اعتراف

ولادیمیر پیوٹن نے روس اور اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: «دین اسلام ایک باعظمت دین ہے».

اہل بیت نیوز ایجنسی «ابنا» نے “الاخبار”، کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ روسی فیڈریشن کی موجودہ صدر «ولادمیر پیوٹن»، – جو مستقبل قریب میں اقتدار نومنتخب صدر «مدودوف» کے حوالے کریں گے – نے مشرق وسطی کا دورہ کرنے کے لئے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: «دین اسلام ایک با عظمت دین ہے».

پیوٹن نے عرب ممالک کی سعودی عرب کے سفیر علی جعفر سمیت ماسکو میں اسلامی ممالک کے چند سفراء کے کاغذات نامزدگی پر دستخط کرتے ہوئے روس کے اسلامی ممالک سے بڑھتے ہوئے تعلقات سے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: «یہ تعلقات مشرق وسطی میں امن و استحکام کا باعث ہونگے».

صدر پیوٹن اور عظمت اسلام کا اعتراف

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ روس اور اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات روس کے لئے قلیل المدت اور طویل المدت فوائد کے حامل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ روس کے ساتھ اسلامی ممالک کے د وستانہ تعلقات عالمی سطح پر روس کی طاقت کے احیاء کا باعث ہونگے.

ولادیمیر پیوٹن نے روس اور اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: «دین اسلام ایک باعظمت دین ہے».

اہل بیت نیوز ایجنسی «ابنا» نے “الاخبار”، کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ روسی فیڈریشن کی موجودہ صدر «ولادمیر پیوٹن»، – جو مستقبل قریب میں اقتدار نومنتخب صدر «مدودوف» کے حوالے کریں گے – نے مشرق وسطی کا دورہ کرنے کے لئے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: «دین اسلام ایک با عظمت دین ہے».

پیوٹن نے عرب ممالک کی سعودی عرب کے سفیر علی جعفر سمیت ماسکو میں اسلامی ممالک کے چند سفراء کے کاغذات نامزدگی پر دستخط کرتے ہوئے روس کے اسلامی ممالک سے بڑھتے ہوئے تعلقات سے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: «یہ تعلقات مشرق وسطی میں امن و استحکام کا باعث ہونگے».

قابل ذکر ہے کہ سینگال میں منعقدہ حالیہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے نام پیوٹن نے اپنے پیغام میں کہا تھا: «روس کے لئے عالم اسلام کے ساتھ دوستانہ روابط اور تعاون کی تقویت ایک اسٹریٹجک پالیسی کی حیثیت رکھتی ہے اور اسی بنا پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی کانفرنس تنظیم میں روس کی نگران رکنیت کے بعد روس اور عالم اسلام کے درمیان تعمیری تعاون میں مسلسل اضافہ ہوا ہے. روس کے اسلامی ممالک کے ساتھ معاملات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں».

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ روس اور اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات روس کے لئے قلیل المدت اور طویل المدت فوائد کے حامل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ روس کے ساتھ اسلامی ممالک کے د وستانہ تعلقات عالمی سطح پر روس کی طاقت کے احیاء کا باعث ہونگے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

15 + 12 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More