عشق و ایمان

0 2

بشرحافی کا بیان ہے کہ : ایک دن بغداد کے بازارمیں گھوم رہا تھا کہ دیکھا کہ ایک شخص کو کوڑے لگائے جارہے ہیں ۔ میں بھی کھڑا ہو کردیکھنے لگا اوریہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اسے یہ تازیانے کیوں مارے جارہے ہيں ۔میں نے دیکھا کہ وہ شخص کوڑے کھارہا ہے پھر بھی اس کے منہ سے کسی طرح کی چیخ وپکار بلندنہيں ہورہی ہے اورنہ ہی آہ ونالہ بلند کررہا ہے حتی اس کی کیفیت سے یہ بھی معلوم نہیں ہورہا تھا کہ اسے کوڑے لگنے سے کوئی چوٹ بھی پہنچ رہی ہو۔ جب اسے کوڑے لگ چکے اوراسے قیدخانے میں قید کردیا گیا تو میں اس سے ملنے قیدخانے میں گیا وہاں جانے کے بعد میں نے اس سےملاقات کی اورپوچھا کہ ؛ تمہيں یہ تازیانے کس جرم میں لگائے گئے ؟ اس نے جواب دیا کہ میں ميں عشق میں مبتلاہوں اورعشق کا دیوانہ ہوں : مین نے پوچھاکہ تازیانے کھانے کے بعد تمہاری چیخ کیوں نہیں نکل رہی تھی؟ اگرتم روتے اورآہ ونالہ کرتے توشایدتمہيں کوڑے کچھ کم لگتے ۔ اس نے جواب دیا کہ میرا معشوق اس مجمع میں تھا اورمجھے دیکھ رہا تھا اورمیری بھی نگاہيں اسی پرتھی ۔مکتب عشق میں گریہ وزاری کی کوئی جگہ نہيں ہے ۔ میں نے کہا کہ اگرتم آنکھ کھولتے اورتمہاری نگاہوں کے سامنے آسمانی معشوق ہوتا توتمہارا کیا حال ہوتا ؟

اس زخمی شخص پربشرحافی کی اس بات کا اتنا اثرہوا کہ اس نے زوردار چیخ ماری اوروہيں اپنی جان دے دی ۔

 

مزید  اربعین کے دن حضرت امام حسین (ع)کی زیارت پڑھنا، مؤمن کی علامت ہے
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.