عزاداری کو درپیش خطرات

0 0

بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقدمہ

تاریخ بشریت نے اپنے سینے پرایسے بے شمار حوادث کو ثبت کیا ہے کہ جن کی ہولناکی اور وحشت ،زمان و مکان کی حدود کا لحاظ کئے بغیر آج بھی انسانیت کے لئے کابوس کی حیثیت رکھتی ہے۔خدا کی اس بہترین مخلوق کی سر نوشت اتنی پیچیدہ ہے کہ کبھی کبھی تجزیہ اور تحلیل کی زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ایک طرف اس میں سنگدلی اور شقاوت کے ایسے نمونے ہیں کہ نیچرکا ماتھا پسینہ پسینہ ہو جاتا ہے اورانسانی تاریخ کا یہ ایک پہلو بہت بد صورت اور سیاہ ہے ۔
تاریخ کا ایک قابل افتخار پہلو بھی ہے اور یہ اتنا درخشان اور روشن ہے کہ نور خورشید بھی اس کے سامنے تاب نہ لاسکے ۔اتنا حسین کہ گلستان بھی شرمسار نظر آئے۔یہاں ایسے ستارے نظر آتے ہیں کہ جنکی روشنی سے سیاہ راتیں روشن،مردہ دل زندہ اور مایوس نگاہیں امیدوں کے فانوس روشن کرتی ہیں ۔شر اور تیرگی کے ساتھ مبارزہ انکی ذات میں داخل ہے اور طاغوتیوں کے سامنے ڈٹ جانا انکی فطرت ہے۔
حق و باطل کی جنگ اور نور و ظلمت کی رسہ کشی ہمیشگی ہے۔جب کبھی باطل کے اندھیروں نے انسانیت کی راہیں تاریک کر کے شبخون مارنے کے لئے پر تولے، حق پرستوں نے اپنے لہو سے ایسے چراغ روشن کیٔے کہ جنکی نورانیت نے زمان و مکان کی ہر قید کو روند ڈالا۔ان لوگوں کی یاد ہمیشہ زندہ ہے۔
تاریخ نے حق و صداقت کے جن علمبرداروں کی پر افتخار سر نوشت ثبت کی ہے ان میں حسین ابن علی ابن ابی طالب کی شخصیت اپنی مثال آپ ہے۔اگر چہ حسین کی طرح راہ حق میں ہر چیز کی بازی لگانے والوں کی تعداد کم نہیں ہے لیکن جو عظمت اور جاودانی فرزند پیغمبرۖ کے نصیب میں آئی اس کی مثال دور دور تک کہیں نظر نہیں آتی ۔تجزیہ نگار اور تحلیل گر نگاہیں ہزارہا زاویوں سے اس راز کو کریدنے کے در پے ہیں جس کے سبب حسین کی قربانی کو معراج کی بلندی عطا ہوئی۔
زمان اور مکان یقینا حوادث کو اپنی کوکھ میں محصور کر لیتے ہیں لیکن کچھ حوادث ان زنجیروں کو توڑ کر جاودانی اختیار کر لیتے ہیں ۔ان حوادث کی یہ خصوصیت ان کی شدت و ضعف ،اور کیفیت و کمیت کی پیداوار نہیں ہوتی بلکہ یہ جاودانی اس پیغام میں مضمر ہے جس کی خاطر یہ حوادث جنم لیتے ہیں اور جس پیغام کو یہ حوادث منتقل کر تے ہیں ۔کربلا نے جو پیغام اپنے بعد والی نسلوں کے لئے منتقل کر دیا ہے اس کی افادیت اور اہمیت میں نہ صرف یہ کہ کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ اس کی تازگی اور ضرورت آج بھی اپنی پوری قوت سے باقی ہے اور یہ پیغام ہرزمان اور مکان کے لئے ہے اور ہربشر اس پیغام کا محتاج ہے ۔کچھ لوگ کربلا کی اس جاودانی کو انہی دو پہلو میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی طرف تاریخ کی ظاہر بین نگاہوں نے اشارہ کیا ۔یعنی یزیدی لشکر کی انتہائی سفاکی اور حسینی جانبازوں کی مظلومانہ شہادت ۔لوگ عزاداری کے فلسفے کو بھی اس تناظر میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔لیکن کیا واقعاً کربلا کی جاودانی اس کے حادثاتی پہلو سے وابستہ ہے اور یہ کہ کیا عزادارمحض اس واقعہ کی مظلوم نمائی کا عکاس ہے؟ کیا عزادار ی اپنی تمام تر وسعت اور ایک منظم تحریک کی حیثیت میں صرف اور صرف امام عالی مقام اور ان کے یار و یاور اصحاب کی مظلومیت کا مرثیہ ہے؟
مذہب شیعہ جن منطقی اصولوں اور بلند اہداف کا پرچم دار ہے اور جو مذہب عالمگیریت کا دعویدار ہو اس کی سب سے بڑی اجتماعی عبادت کی اگر صرف اس بنیاد پر توجیہ کی جائے کہ امام عالی مقام اور انکے جانثارساتھیوں کی شہادت پر غم و اندوہ کا اظہار کیا جائے اور بس۔۔۔ البتہ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ محبت اور مودت اہلبیت کہ جو فرمان الہٰی کے سایہ میں ہدایت الہٰی کا اجر قرار پایا ہے کربلا جیسے حادثہ کی یاد میں حزن و ملال اور گریہ و زاری کا طلب گار ہے۔محبت کا تقاضہ ہے کہ محبوب کے غم میں مغموم اور اسکی خوشی میں مسرت و خوشی کا اظہار کیا جائے۔اور عزاداری کے مراسم میں کسی بھی قیمت پر اس پہلو سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔
لیکن ہمیں عزاداری کے فلسفے کو بھی کربلا کے مقاصد میں تلاش کرنا پڑے گا اورصرف انہی بنیادوں پر اس کی توجیہ کی جا سکتی ہے جن بنیادوں پر کربلا کے واقع کی تفسیر پیش کی جاتی ہے ۔عزادار اسی پیام کی رسالت کاعہدہ دار ہے جسے کربلا والوں نے اپنے مقدس خون سے تحریر کیا ہے۔ماتمی دستے اپنا سینہ پیٹ پیٹ کر امام عالی مقام کے مشن کی آبیاری کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کرتے ہیں ۔
”میں نے خود خواہی ،شرارت یا فساد و ظلم برپا کرنے کے لئے قیام نہیں کیا ، بلکہ اپنے جد کی امت کی اصلاح ( Reform ) کی خاطر میدان میں آیا ہوں”۔
اسی فرمان کے سائے میں عزاداری کے مراسم میں شرکت کرنے والوں کے اہداف بھی واضح ہونے چاہئے۔امام حسین (ع) اپنا لائحہ عمل بیان کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں۔
” اے لوگو! پیغمبر خدا نے فرمایا ہے : کوئی مسلمان اگر وقت کے حکمران کو اس حال میں دیکھتا ہے کہ ظلم کا خوگر ہے، احکام خدا کو پائمال کرتا ہے ، عہد خدا کو توڑ نے والاہے ، پیغمبر کی سنت کا مخالف ہے ، بندگان خدا کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتا ہے اور پھر بھی اس حاکم کے خلاف اپنی زبان اور عمل سے جہاد نہیں کرتا ، خداوند اس شخص کو اسی حاکم کے ساتھ جہنم میں ڈال دے گا۔ ”
یہ پیغام اتنا فراگیر اور عالمی ہے اور اتنا پر اثر ہے کہ ہر مظلوم اس میں اپنی نجات کا نسخہ پاتا ہے اور ہر ستمگر اور طاغوتی حکمران کو اس سے وحشت محسوس ہوتی ہے۔ دنیا کا کوئی کونہ مظلومیت ، فساد، حقوق کی پائمالی کے شواہد سے خالی نہیں اسلئے کربلا ہر جگہ اپنے پورے وجود کے ساتھ موجود ہے اور کربلا کی یہ شان اس سے چھینی نہیں جاسکتی۔
عزاداری تاریخ بشریت کی سب سے بڑی انقلابی اصلاحی تحریک ہے۔ اور یہ تحریک پابند ہے کہ کربلا والوں کے اس عالگیر پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک منتقل کردے جو ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کا متمنی ہے۔ایسا معاشرہ جس کی رگ رگ میں ظلم وبے عدالتی کے خلاف نفرت ،اور عدل و مساوات اور انسانی اقدار کا بول بالا ہو۔اور یہ رسالت اس قدر عظیم ہے کہ وہ سارا وقت، سرمایہ اور محنت جو عزاداری کے انعقاد پر صرف کیا جاتا ہے، اس عظیم مقصد کے مقابلے میں ادنیٰ اور ناچیز ہے جسکے حصول کے لئے کربلا کی رسالت عزاداروں کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے۔
عزاداری کی رسومات میں اپنوں کی غفلت اور بدخواہوں کی سازشوں کی بدولت کہیں کہیں غیر منطقی پہلو نظر آتا ہے جو نہ صرف عزاداری کے مقاصد سے ہم آہنگ نہیں ہے بلکہ یقیناً اس سے شعیت کے حوالے سے بھی غلط پیغام منتقل ہوتا ہے۔اس سلسلے میں ہر دلسوز عزادار کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہوشیاری کا ثبوت پیش کرے لیکن اصلاح کا اصل فریضہ علماء کے کندھوں پر ہے۔رہبر معظم انقلاب نے قمہ زنی اور زنجیر زنی کی حرمت کا حکم صادر کرکے ایک قابل تقلیدمثال قائم کی ہے جس کے بعد اب دوسرے دلسوز علماء کی باری ہے کہ عزاداری کو امام حسین(ع) اور تحریک عاشوراء کے اہداف سے ہماہنگ کرنے میں اپنی مساعی جمیلہ پیش کریں۔حضرت آیت اللہ خاتمی نے مجلس خبرگان کے جلسے میں عزاداری کے حوالے سے کچھ ایسی نامطلوب باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے عزاداری کا مقدس چہرہ مخدوش نظر آتا ہے۔ حقائق کے متلاشی اور امام حسین (ع) کے مقاصد کے پاسبان عزاداروں کے لئے اس تقریر کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے ۔ امید ہے کہ خداوند اس چھوٹی سی کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں۔

شبیر احمد سعیدی
قم ایران
بخش اول

عزاداری کی شان و منزلت اولیاے خدا اور پاکیزہ انسانوں کے غم میں عزاداری اور ماتمی مجالس کا انعقاد ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا پس منظر قرآن ،سیرت نبوی (ص)اور ا ئمہ معصومین (س)کی سیرت میں ملتا ہے ۔
یہ عزاداری اہل بیت (س) سے محبت کا نمونہ ہے ۔[i] شعائر الٰہی کی تعظیم کا مصداق ہے ۔ [ii] ظالم کے خلاف مظلوم کی فریاد کا اظہار ہے ۔[iii] نبی اکرم (ص)کی سیرت میں ملتا ہے کہ آپ نے احد کے شہداء خاص طور پر سید الشہداء حضرت حمزہ (س)کے غم میں ماتم کیا اور ان پر ماتم کرنے کی ترغیب دلائی ۔ اسی طرح آپ نے حضرت جعفر ابن ابی طالب ، زید ابن حارثہ اور عبد اللہ ابن رواحہ کے سوگ میں ماتم کیا ۔
آپ ماتمی مجالں کو برا نہیں سمجھتے تھے اور نہ ہی لوگوں کو ان میں شرکت سے روکتے تھے۔ راوی کہتا ہے ۔”پیامبر اکرم(ص) کا کوئی عزیز انتقال کر گیا تو عورتیں اکھٹی ہوئیں اور ماتمی مجلس برپا کی ۔ عمر (بن خطاب ) کھڑے ہوئے اور ان کو اس عمل سے روکا اور ملامت کی ۔پیامبر اکرم (ص) نے فرمایا ”عمر ! انہیں چھوڑ دو ۔ آنکھیں پر نم ،دل غمگین اور زخم تازہ ہے۔ ” [iv]
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پیامبر اکرم (ص) نے امام حسین کی ولادت پر مجلس عزاء کا انعقاد کیا تھا ۔[v]
امہ سلمہ کے گھر میں امام حسین کے ایام طفولیت میں ان کے لئے مجلس عزاکا انعقاد کیا ۔ [vi]
امام حسن کے لئے جناب عائشہ کے گھر میں ماتمی مجلس برپا کی ۔ [vii]
حضرت علی کے گھر میں ان کے لئے ماتم کیا ۔ [viii]
اس بنیاد پر اگر یہ کہا جائے کہ امام حسین کے سوگ میں عزاداری کی بنیاد پیامبر اکرم (ص) اور ائمہ معصومین نے ڈالی ہے تو یہ کوئی عجیب بات نہ ہو گی ۔ [ix]
ائمہ معصومین نے اپنے زندگی کے ایام میں جس پروگرام کو اپنی پوری آب و تاب سے جاری رکھا وہ سید الشہداء کی عزاداری کا انعقاد ہے ۔ امام حسین کی شہادت کے بعد امام سجاد جب تک زندہ رہے وہ امام حسین کی مصیبت کا ذکر کرتے رہے یعنی حقیقت میں ماتمی مجالس کا انعقاد کرتے رہے ۔امام باقر بھی دشواری اور گھٹن کے ماحول میں عاشورا کے دن عزاداری برپا کرنے کا حکم دیتے تھے ۔
مالک جہنی کا کہنا ہے کہ امام باقر عاشورا کے دن فرماتے تھے ”ہر ایک کو حسین پر رونا چاہیے ” اور گھر والوں کو بھی ان پر رونے کا حکم دیتے تھے ۔ [x]
اسی طرز عمل کا مظاہرہ امام صادق اور دوسرے ائمہ کی زندگی میں بھی ملتا ہے ۔ وہ اس بات پر زور دیا کرتے تھے کہ امام حسین کی عزاداری اور مجالس گریہ و زاری کے طفیل میں حسینی تحریک کا پر افتخار پرچم لہراتا رہے گا اور وہ لہراتا رہا ۔
حسینی مجالس سے نہ صرف سید الشہداء کا نام گرامی پائندہ رہا بلکہ یہ مجالس اسلام کی بقاء کا باعث بھی بنیں۔ یہ اس بات کا باعث بنیں کہ عصر حاضر میں مکتب عاشورا کے مجدد یعنی حضرت امام خمینی نے سرور و سالار شہیداں کی عزاداری کے انعقاد پر سب سے زیادہ تاکید فرمائی:
”ہماری قوم ان مجالس کی اہمیت کو سمجھے۔یہ ایسی مجالس ہیں جن سے ہماری قوم کی حیات وابستہ ہے۔ ” [xi]
” ہماری عوام کو ان ہی مجالس سے زندگی ملی ہے ۔ رضا خان ( شاہ ایران ) کی حکومت میں ساواک ( خفیہ ایجنسی) کے افراد نے بلا وجہ ماتمی مجالس پر قد غن نہیں لگائی تھی۔ ” [xii]
” ماتمی مجالس کو پہلے کی طرح شان و شوکت سے بلکہ اس سے بھی زیادہ بہتر انداز میں منعقد کریں ۔ ائمہ معصومین کی عزاداری کا خیال رکھیں ان کی حفاظت کریں ۔ یہ ہمارے مذہبی شعائر ہیں اور ان کی حفاظت ہونی چاہیے ۔ ” [xiii]
عزاداری کی قدر و قیمت اور اس گراں بہا جوہر کی وجہ سے جو اس میں پوشیدہ ہے یہ بات طبیعی ہے کہ دشمن اس کی تحریف اور تخریب کے لئے وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی کرے ۔ تاریخ کے ایک باب میں جس وقت عباسیوں کے ہاتھ میں حکومتی عنان تھی انہوں نے سید الشہداء کی عزاداری کی تخریب کا بھیڑا اٹھایا اور وہ ماتمیوں کو گرفتار کر کے قید خانے کے حوالے کرتے یا پھر سولی پر چڑھا دیتے اور جس زمانے میں مقابلے کی قدرت سے عاجز تھے انہوں نے تحریف کا منصوبہ بنایا تاکہ اس مبارک سنت کو اس کے مقاصد سے محروم رکھیں ۔ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی اور دوام میں عاشورا کی ثقافت کے بے مثال کردار کو دیکھتے ہوئے اسلام کے جانی دشمنوں نے اس ثقافت کی تحریف کا بیڑا اٹھایا تاکہ اس کے ثمرات سے انسانیت کو محروم رکھیں ۔
یہ مضمون ایک وارننگ ہے ان سب لوگوں کے لئے جن کا عزاداری میں کوئی نہ کوئی رول بنتا ہے یعنی ماتمی مجالس کے بانی ،خطیب اور ذاکر حضرات ۔
عاشورائی ثقافت کے خلاف سی آی اے (CIA)کی سازشیں
امریکہ میں ” الٰہیات میں اختلاف کی منصوبہ بندی ” (A PLAN TO DIVIDE AND DESTROY THEOLOGY)نامی کتاب شائع ہوئی ہے ۔ اس کتاب میں ”سی آی اے” کے ایک سابقہ معاون مائکل برانٹ (michael brantt)کا تفصیلی انٹریو شامل ہے ۔
اس حوالے سے اس کا کہنا ہے کہ سالہا سال تحقیق کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران میں دینی رہبر ی کے نفوذ اور شہادت طلبی کی ثقافت کا ایرانی انقلاب میں کلیدی کردار رہا ہے ۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شیعہ مکتب کے پیرو کار دوسرے فرقوں کی بنسبت فعال اور متحرک ہیں ۔
اس کانفرنس میں فیصلہ ہوا کہ شیعہ مذہب کے سلسلے میں مزید تحقیق کی جائے اور اس تحقیق کی بنیاد پر منصوبہ بندی کی جائے ۔ اسی مقصد کے لئے چالیس ملین ڈالر(چار کروڑ ڈالر) کا بجٹ مختص کیا گیا اور اس پرجیکٹ پرمندرجہ ذیل تین مراحل میں کام کیا گیا ۔
راے عامہ کے جائزوں public opinion polls) (اور دنیا کے کونے کونے سے اطلاعات حاصل کرنے کے بعد ہمیں جو نتائج حاصل ہوئے وہ بہت ہی اہم تھے اور ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ شیعہ مذہب کی اصل قدرت ان کے مراجع اور علماء کے ہاتھ میں ہے ۔
اس تحقیق سے ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ شیعہ مذہب کے ساتھ بلاواسطہ ٹکر لینا ہمارے بس کی بات نہیں ہے اور اس میں کامیابی کا بھی امکان کم ہے اس لئے پس پردہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم نے برطانوی محاورے ” پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو ” (DIVIDE AND RULE)کے بجائے ” پھوٹ ڈالو اور نابود کرو” (DIVIDE AND DESTROY) کی پالیسی اپنائی اور اسی سمت میں طویل المدت حکمت عملی کے لئے وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی شروع کی ۔ من جملہ ایسے لوگوں کی حمایت جن کا شیعہ مذہب کے ساتھ اختلاف ہے اور اسی طرح شیعوں کی اس انداز سے تکفیرپر سرمایہ گزاری کہ جس کی بنیاد پر کسی مناسب موقع پر دوسرے مذاہب کے ذریعے ان کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جائے ۔ اس کے علاوہ مراجع تقلید اور شیعوں کے دینی رہنمائوں کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپیگنڈہ کا منصوبہ بنایا گیاتاکہ لوگوں کے درمیان ان کی مقبولیت کو ختم کیا جائے ۔
ایک اور مسئلہ کہ جس پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس ہوئی وہ عاشورائی ثقافت اور شہادت کے لئے عشق تھا کیونکہ شیعہ حضرات ہر سال مختلف مراسم کے ذریعہ اس ثقافت کو زندہ رکھتے ہیں ۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ایسے خطیبوں ، ذاکروں اور بانیان مجالس کہ جو دنیا طلب اور شہرت کے رسیا ہوں ان کی مالی امداد کی جائے تاکہ ان کے ذریعے شیعوں کے اعتقادات ، ایمان اور شہادت طلبی کی روح کو متزلزل اور سست کیا جائے اور خرافاتی مسائل کو اس انداز سے پیش کیا جائے تاکہ شیعہ ایک جاہل اور خرافاتی گرو ہ کا منظر پیش کرے ۔ دوسرے مرحلے میں شیعوں کے مراجع تقلید کے خلاف وسیع پیمانے پر تخریبی مواد اکٹھا کیا جائے اورپھر مطلب پرست ذاکروں اور لکھاریوں کے ذریعے اس کو پھیلایا جائے اور ٢٠١٠ء تک ہمارے مقاصد کی راہ میں اصل رکاوٹ یعنی مرجعیت کو کمزور کر کے یا خود شیعوں کے اپنے ہاتھوںیا پھر دوسرے مذاہب کے ذریعے ان کو نابود کریں اور پھر اس ثقافت اور مذہب کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیں ۔[xiv]
انحراف کے خلاف جدو جہد میں امام خمینی کا قائدانہ کردار

اسی بنیاد پر ان مجالس کو درپیش خطرات کی نشاندہی اور ان کو انحراف سے پاک کرنا عزاداری کی سب سے بڑی خدمت ہے ۔ امام راحل کے ارشادات سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ بزرگوار امام اپنی فہم و فراست کے ذریعے جو مومن کا سرمایہ ہے ،ساٹھ سال پہلے اس نکتے کی جانب متوجہ تھے ۔ ”آپ کو جان لینا چاہیے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی یہ تحریک باقی رہے تو ان مراسم کی حفاظت کریں ۔ البتہ اگر کہیں پر ناروائی ملتی ہے وہ اسلام سے ناواقف افراد کی کارستانی ہے ۔ ان کی کسی حد تک اصلاح ہونی چاہیے لیکن عزاداری کواپنی تمام قوت کے ساتھ باقی رہنا چاہیے ۔ ” [xv]
یہاں پر ضروری ہے کہ عزاداری اور ایسی مجالس جو حسین ابن علی کے نام پر برپا ہوتی ہیں ان کے بارے میں گفتگوکی جائے ۔ ہم اور کوئی بھی دیندار شخص کیسے قبول کرے کہ ہر کوئی عزاداری کے ساتھ اپنی اپنی مرضی کے مطابق سلوک کرے ۔ ایسے عظیم علماء اور دانشور حضرات کی کمی نہیں ہے جو ان میں سے بہت ساری باتوں کو ناروا سمجھتے تھے اور اپنی توانائیوں کے مطابق اس کا سد باب کرتے تھے جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آج سے بیس سال پہلے ایک عظیم المرتبت عالم دین حاج شیخ عبد الکریم جو کہ شیعہ علماء میں ممتاز مقام کے حامل ہیں انہوں نے قم میں شبیہ خوانی پر پابندی لگائی تھی اور ایک بہت بڑے جلسے کو روضہ خوانی میں بدل دیا تھا ۔ اسی طرح دوسرے علماء اور دانشور حضرات نے بھی ایسی باتوںسے روکا ہے اور اس وقت بھی روکتے ہیں جو دینی تعلیمات کے خلاف ہوں ۔ [xvi]
اسی لئے موجودہ زمانے میں سید الشہداء کی عزاداری کے لئے ایک بہت بڑی خدمت یہ ہو گی کہ آفات کی نشاندہی کی جائے اور ان کو بر طرف کرنے کی کوشش کی جائے ۔ گذشتہ بدھ کو میں آیہ اللہ العظمیٰ فاضل لنکرانی کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ اگر عزاداری کی بعض مجالس میں موجود آفات کا سد باب نہ کیا جائے اس صورت میں مجھے شیعیت کی بنیاد ہی خطرے میں نظر آتی ہے ۔ اسی انداز میں آیہ اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے بھی اظہار خیال کیا ہے اور فرمایا کہ اگر یہ صورت حال جاری رہتی ہے اس صورت میں امکان یہ ہے کہ عزاداری کی لگام ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی جو اس کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں ۔
آفات کے مسئلہ میں افراط و تفریط

مزید  سقائے سکینہ حضرت عباس (ع

آفات پر گفتگو کرنے سے پہلے ایک بات کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آفات سے مقابلے کو لے کر دو نقطہ نظر پیش کیے جا رہے ہیں اور میری نظر میں دونوں نظریہ افراط و تفریط پر مبنی ہیں اور معتدل راستہ درمیان والا ہے ۔
اب ان دو نظریوں کی طرف آتے ہیں ۔
ایک نقطہ نظر ہے کہ عزداری ایک مقدس باب ہے اور اس عرصہ میںقدم رکھنا ممنوع ہے ۔ لوگوں کو آزاد چھوڑدیاجائے۔ وہ اپنی مرضی سے جو چاہیں انجام دیں اور جس طرح چاہیں عزاداری کریں ۔ اگر ہم اس میدان میں قدم رکھیں اور تنقید کا باب کھولیں اس صورت میں خود عزاداری کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے ۔
یعنی عزاداری کے ابرئوں پر ہاتھ رکھنے سے آنکھوں کی بینائی جانے کا خطرہ ہے !
اس نقطہ نظر کے طرفداروں کو اس بات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اگر عزاداری کو آفات سے پاک نہ کیا جائے اس صورت میں بھی عزاداری کی بنیاد کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ عنقریب عزاداری میں ہمیں ہر چیز مل جائے گی لیکن سید الشہداء کے مکتب کا احیاء نہیں ملے گا ۔ ہم کیسے لاپرواہی کا مظاہرہ کریں اور اس بات کا تماشا دیکھیں کہ عزاداری کے نام پر گناہ اور خدا کی نافرمانی ہوتی رہے۔
دوسرا نقطہ نظرتفریط کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس نظریہ کے مطابق عزاداری پر کھل کر تنقید ہونی چاہیے جس سے خدا نخواستہ لوگ عزاداری سے بیزار ہو جائیں ۔ذاکروں کی اس انداز میں تنقید کریں کہ اچھے ذاکر بھی اس کی زد میں آجائیں ۔ خدا کا شکر ہے کہ اس ملک کے ذاکروں میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اخلاص کی دولت سے مالا مال ہیں اور مطالعہ کے ساتھ ساتھ احتیاط کا دامن بھی تھامتے رہتے ہیں ۔ میری نظر میں ان کی منزلت کل کے دعبل خزاعی اور کمیل سے کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہے ۔
خطیبوں پر اس انداز سے تنقید کرنے سے پرہیز کیا جائے کہ جس سے خشک و تر ایک ساتھ بہہ جائے اور مخلص خطیب بھی اس کی زد میں آ جائیں حالانکہ یہ لوگ اسلام کی بولتی زبان ہیں ۔ یہ بھی غلط ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ اعتدال کی راہ اختیار کی جائے ہم اس بات کے سخت حامی ہیں کہ عزاداری برپا ہو ،با اخلاص ذاکروں اور خطیبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ساتھ ساتھ عزاداری میں بھی دوسرے مسائل کی طرح تبیین کی ذمہ داری بہ خوبی انجام پائے ۔
لہذا اگر اس عظیم اجتماع میں آفات پر گفتگو ہونے جارہی ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہ نکالا جائے کہ عزاداری اور مخلص خطیبوں اور ذاکروں پر تنقید کر رہے ہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ یہ مقدس تحریک پر نشاط و شاداب رہے اور گذشتہ ادوار کی مانند الہام آفرین ہو۔
بخش دوم

آفات اس میدان میں جو آفات نظر آتی ہیں وہ دو طرح کی ہیں ۔
ایک مطالب اور متن کے لحاظ سے ہے اور دوسری قسم ظاہری صورت کے لحاظ سے ہے۔
الف۔ ایسی آفات جن کا تعلق عزاداری کے متن سے ہے۔

١۔ ائمہ معصومین کی شخصیت کے صرف کسی خاص پہلو کی عکاسی محافل اور مجالس عزا میں پیامبر اسلام ۖ اور ائمہ معصومین کی سیرت کے کسی ایک زاویہ کو پیش کرنا اور صرف ان کے آسمانی اور مقدس پہلو پر تاکید کرنا اور دوسرے پہلوئوں سے صرف نظر کرنا ۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ پیامبر اسلام ۖ اور ائمہ معصومین کی شخصیت کے دو مہم پہلو ہیں۔ ایک ان کا آسمانی اور ملکوتی پہلو اور اس نگاہ سے وہ معصوم ہیں ، علم غیب اور تکوینی ولایت کے مالک ہیں وغیرہ وغیرہ۔دوسرا ان کا زمینی اور ملکی پہلو ہے ۔ قل انما انا بشر مثلکم۔
ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ مجالس میں دونوں پہلوئوں پر گفتگو کریں اور دوسرے پہلو کو زیادہ اصرار کے ساتھ پیش کریں ۔ وہ انسانوں کے لئے عملی نمونے ہیں اور عملی پہلوئوں پر زیادہ بات ہونی چاہیے اسی سے کردار کی تعمیر ہوتی ہے ۔
اہلبیت اطہار کی منقبت بیان ہونی چاہئے ۔ خدا سے ان کی الفت و وابستگی ، لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ، لوگوں کی مشکل کشائی ،زہد ، شجاعت اور دسیوں پہلو بیان ہوں ۔ قرآن اور روایات اہلبیت اطہار سے محبت کو عمل کا محرک قرار دیتے ہیں ۔ آیہ شریفہ میں ہمیں ملتا ہے :
”قل لااسئلکم علیہ اجراً الا المودة فی القربی ”[xvii]
آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو۔ ”خمسہ طیبہ طاہرہ ”
دوسری آیت میں ملتا ہے: ” قل ما سئلتکم من اجر فھو لکم ان اجری الا علی اللہ۔[xviii]
”کہہ دیجئے کہ میںجو اجر مانگ رہا ہوں وہ بھی تمہارے ہی لئے ہے۔میراحقیقی اجر تو پروردگار کے ذمہ ہے۔”
تیسری آیت میں ملتاہے : ”قل مااسئلکم علیہ من اجر الا من شاء ان یتخذ الی ربہ سبیلا۔ ”[xix]
آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ جو چاہے اپنے پرودگار کا راستہ اختیار کرے۔
ان تین آیات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مودت (محبت) خدا کی جانب ہدایت کا راستہ ہے ۔ یہ تو قرآن کا بیان تھا ۔روایات میں اہلبیت اطہار کے نمونہ عمل ہونے پر شدت کے ساتھ تاکید کی گئی ہے ۔
پیامبر اسلام ۖ فرماتے ہیں:
”میرے اہل بیت حق و باطل کو جدا کرنے والے ہیں یہ وہ امام ہیں جن کی پیروی کی جائے ” [xx]
عن مولانا امیر المومنین ( ع ):انظر وا اھل بیت نبیکم فالزموا سمتھم وا تبعوا اثرھم فلن یخرجوکم من ھدی و لن یعبد وکم فی ردی فان لبدوا فالبدوا و ان نھضوا فانھضوا ولا تسبقوھم فتضلوا و لا تتاخروا عنھم فتھلکوا [xxi]
مولا علی فرماتے ہیں:
”اپنے پیامبر ۖ کے اہلبیت کی طرف دیکھیں جس طرف وہ قدم اٹھائیں آپ بھی اقتدا کریں ۔ ان کے نقش قدم پر اپنے قدم رکھیں ۔وہ کبھی بھی آپ کو ہدایت کی راہ سے بھٹکنے نہیں دیں گے اور پستی و ہلاکت سے محفوظ رکھیں گے ۔اگر خاموشی اختیار کی تو آپ بھی خاموش رہیں اور اگر قیام کیا تو آپ بھی اٹھ کھڑے ہوں ۔ ان پر سبقت لینے سے گریز کریں کیونکہ یہ گمراہی ہے اور ان سے پیچھے رہ جانے والے نابود ہو جاتے ہیں ۔”
عن رسول اللہ (ص ):جعلوا اھل بیتی منکم مکان الراس من الجسد و مکان العینین من الراس فان الجسد لا یھتدی الا بالراس و لا یھتدی الراس الا بالعینین۔[xxii]
پیامبر اسلام ۖ فرماتے ہیں کہ میرے اہلبیت کو اپنی پیکر حیات میں مقام سرعطا کرو اور سر میں دو آنکھوں کی منزلت بخشو کیونکہ جسم کو سر کے بغیر منزل نہیں ملتی اور سر بھی آنکھوں کے طفیل راہ چلتا ہے ۔
جس بات پر افسوس ہوتا ہے وہ یہ کہ حالیہ دنوں میں ایسی مجالس برگزار ہوئیں جن میں ائمہ معصومین کی آسمانی اور معنوی منقبت بھی بیان نہیں کی گئی بلکہ فقط اہلبیت کی آنکھوں اور ابرئوں کی تعریف بیان ہوئی۔ یہی وہ بات تھی جس پر ولی امر مسلمین نے بھی تنقید فرمائی ۔ میری اطلاعات کے مطابق ایسے بھی ذاکر ہیں جو بے معنی منقبت اور مدحت کا سہارا لیتے ہیں جو بعض اوقات نقصان دہ بھی ہے ۔مثال کے طور پر حضرت ابوالفضل عباس کے بارے میں جب گفتگو کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں اور ابرئوں کی تعریف سے شروع کرتے ہیں ۔مثلاًآپ کی آنکھوں پر نثار ہو جائو ں ! کیا دنیا میں خوبصورت آنکھوں کی کمی ہے ؟کیا حضرت عباس کی قدر و منزلت ان کی آنکھوں کی وجہ سے ہے ؟۔
اس سے ہماری دینی معرفت کی سطح نیچے آتی ہے ۔شیعہ تعلیمات اپنے اعلیٰ ترین مرتبے پر جلوہ گرہیں۔ حضرت عباس کی قدر و منزلت ان کے جہاد ، ایثار و قربانی ، اخلاص اور اپنے زمانے کے امام کی شناخت کی وجہ سے ہے ، ان کی صبر و استقامت کا نتیجہ ہے ،حالت تشنگی میں پانی نہ پینے کی وجہ سے ہے جبکہ پانی کا دریا آپ کے قدموں میں بہہ رہا تھا اور شرعی اور عرفی لحاظ سے کوئی ممانعت بھی نہ تھی ۔[xxiii]
ان بے معنیٰ نمونوں کو ملاحظہ فرمائیں ۔

ساری کائنات تیری آنکھوں کا صدقہ ہے ۔
روز اول سے ہی تیری نگاہوں کا دیوانہ ہوں ۔
ان کی آنکھوں کا کام دلبری ہے ۔
خوبصورت اونچا قد محشر کی مانند ہے ۔
سیاہ آنکھیں دل کا جزیرہ ہے ۔
جو بھی تیری نسل سے ہے کتنا خوبصورت ہے ۔
تیری آنکھوں سے محبت ٹپکتی ہے ۔
انسان تیری مردانگی کے سامنے سر تسلیم خم ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر چہ میںاپنی بے بضاعتی سے آگاہ ہوں۔
لیکن خدا یا اپنے عشق کی مصوری کی اجازت مانگتا ہوں۔
دل عاشق کو سکون ملے اگر ایک حسین تصویر بناؤں۔
ایک غیرتمند انسان کی صورت بناؤں۔
قرطاس کے سینے پر اس کی جبین بلند۔
کمان کی مانند ابرؤ اور آسمانی چہرہ۔
جب آنکھوں کی باری آئے تو مصیبت ہے۔
آخر میرے یار کی سیاہ آنکھیں قیامت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا یہ سب کچھ اہلبیت اطہار کی منقبت ہے ؟ کیا خوبصورت آنکھیں باعث فضیلت ہے یا فدا کاری اور قربانی ؟ ائمہ معصومین نے عزاداری پر جہاں اتنی تاکید کی ہے وہیں یہ بھی فرمایا ہے کہ عزاداری میں پوشیدہ حقائق سے پردہ اٹھایا جائے اور یہ ہدایت کا باعث ہوں ۔ اسی مقصد کے تحت اپنے زمانے کے ذمہ دار اور با فضیلت شعراء جو زمانہ حاضر کی مداحی اور مرثیہ خوانی کے عہدہ دار تھے ،عملی طور پر ان کی حوصلہ افزائی اور خاطر مدارت کرتے تھے ۔
کیا وجہ ہے کہ ائمہ معصومین نے کمیت کی اتنی زیادہ آئو بھگت کی ہے ؟کیوں امام سجاد کمیت سے فرماتے ہیں ”ہم آپ کے کام اور اشعار کا صلہ دینے سے عاجز ہیں ۔ خدا خود تمہیں اس کا صلہ عطاکرے” [xxiv]
امام صادق فرماتے ہیں:
”اے خدا کمیت کے سارے اگلے پچھلے گناہ جو آشکار اور تنہائی میں انجام دیئے ہیں ،بخش دے اور اسے اتنا عطا کر کہ وہ راضی ہو جائے ۔”اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک شائستہ اور ذمہ دار شاعر ہے۔ ٥٧٨ بیتوں پر مشتمل ان کا ”ہاشمیات” نامی قصیدہ اہلبیت اطہار کی شناخت ، بنی امیہ کے مظالم اور اسلامی حکومت کے عدل و داد پر مشتمل ہے ۔
آخری شعر میں کہتا ہے ۔

الیکم ذوی آل النبی تطلعت
توازع من قلبی ظما و البب
فانی عن الامر الذی تکرھونہ
بقولی و فعلی ما استطعت لا جنب

اے پیامبر ۖ کے اہلبیت اطہار! میرے پیاسے اعضاء یعنی دل و عقل و وجود ہمیشہ تمہاری جانب محو تماشاہے۔
پھر میں اپنے گفتار و کردار سے جہاں تک میری توانائی اجازت دے ہر اس چیز سے دوری اختیار کروںگا جس میں آپ کی رضا مندی نہ ہو ۔
وہ اس حد تک آل محمدۖ کا عاشق ہے کہ اس کا فرزند کہتا ہے ”شہادت کے وقت تین بار ” اللھم آل محمد ۖ ”کہا اور خدا سے جا ملا ” [xxv]
اس کے علاوہ اہلبیت اطہار کے دوسرے شعراء جیسے فرزدق ، دعبل ، حمیری وغیرہ کی جو آئو بھگت دیکھنے کو ملتی ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے ۔ اہلبیت اطہار کو ایسی مجالس سے انس تھا جن میں ان کے امر (ولایت) اور مکتب کا احیاء دیکھنے کو ملتا ہو۔
اسی قسم کی حسینی مجالس تھیں جن کی کوکھ سے انقلاب نے جنم لیا اور پندرہ خرداد (پانچ جون )کے عوامی قیام کا باعث بنیں جہاں سے عظیم اسلامی انقلاب کی بنیاد پڑی ۔
عاشورا ١٩٦٣ ء کے دو دن بعد امام کو گرفتار کر لیا گیا اور پندرہ خرداد (پانچ جون )کا سانحہ پیش آیا ،مندرجہ ذیل نوحہ پڑھا گیا ۔

فاطمہ کے پیارے بولے ۔موت سے کوئی خوف نہیں
جب تک ہے سانس باقی ۔ظلم کے سامنے سر خم نہیں ۔
زندگی ذلت کے ساتھ عار ہے ۔ موت عزت کے ساتھ دلنشیں ہے
اب میں بے مایہ یزید کے ۔ مظالم سہنے کو تیار نہیں
انقلابی عزاداری کے اشعار یوںتھے ۔
شاہ دیں حسین کی شہادت کا فلسفہ یہ ہے ۔
کہ سرخ موت بہتر ہے ذلت کی زندگی سے
نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ کسی کا ظلم سہو
کہ یہی حسینی شیوہ ہے اور یہی دین کا طریقہ ہے ۔

ہم عصر شاعر جناب بہجتی کے یہ حیات بخش اور انقلابی اشعارملاحظہ ہوں۔

جہاں پر باطل حکمراں ہے ۔
جہاں پر حق شرمندہ ہے ۔
جہاں پر دین اور مروت
پائمال و فقیر و اسیر ہے ۔
جی ہاں! زندگی ناگوار ہے
مرگ باعث افتخار ہے ۔
جہاں پر ظلم کے خوف سے ۔
مظلوم کو فریاد کا یارا نہیں
جہاں پر ظلم دیوانہ وار
خلق خدا کو کرے تار و مار
خاموشی وہاں ظلم کے ہمگام
سکوت کو کہیں گناہ کبیر
یہی تو حسینی راہ ہے
شبیری روح و راز قیام ہے
آزادی ملے یا شہادت
حسینی پیام کا یہی ہے مطلب
شیعہ بھی مانند حسین غیور ہے
ہر فراخ کی ذلت سے دور ہے
شیعہ اور پیش ظلم سر تسلیم !
شیعہ اور خاموش تماشائی !
شیعہ اور سونا پھر مر جانا !
شیعہ اور ذلت کے سامنے جھک جانا !
شیعہ ایسا ہو ہی نہیں سکت
جو بھی ایسا ہو شیعہ ہو نہیں سکت
وہ شہید جو سر بھی دے چک
وہ جانباز جو خون میں نہای
وہاں سے مسلسل آرہی ہے صد
لا اری الموت الا سعادہ
جی ہاں! مردانگی کا شیوہ یہی ہے
طوفان بن کر ظلم کو ڈبو دیتا ہے
کائنات کی حیات حسین سے ہے
روح کی مستی حسین سے ہے
جہاں بھی حق پرستوں کا شور ہے
ڈھونڈو تو شبیری رسم کا نور ہے
اپنے لہو سے تحریر یہ کر دی
ظالم کے حضور جھکنا نا منظور ہے ۔

اب بھی اگر ہم عاشورائی اور حقیقی عزاداری کا احیاء چاہتے ہوں اس کے لئے ہمیں حسینی مجالس میں ائمہ معصومین کی آسمانی شخصیت کے ساتھ ساتھ ان کی ملکی اور دنیوی شخصیت کا ذکر کرنا ہوگا ۔ہمیں یہ بتانا ہو گا کہ کس طرح وہ ہمارے لئے نمونہ عمل بن سکتے ہیں صرف محبت کا اظہار کافی نہیں ہو گا ۔

٢۔غلو عزاداری کی ایک اور آفت ایسے مسائل کا بیان ہے جن میں غلو پایا جاتا ہے۔ ”حسین الٰہی ” اور ”زینب الٰہی ”بن جانا اور اس رہگذر سے اپنی مقدس مآبی کا اظہار کرنا ۔
قرآن کریم نے غلو سے منع کیا ہے ۔
یا اہل الکتاب لا تغلو ا فی دینکم ولا تقو لو ا علی اللہ الا الحق ۔ [xxvi]
اے اہل کتاب! دین میں غلو سے کام نہ لو اور خدا کے بارے میں حق کے علاوہ کچھ نہ کہو۔
قل یا اہل الکتاب لا تغلو ا فی دینکم۔[xxvii]
اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب اپنے دین میں ناحق غلو سے کام نہ لو۔
پیامبر اکرم (ص )فرماتے ہیں :
” ایاکم و الغلو فی الدین فانما ھلک من کان قبلکم بالغلو فی الدین۔”۔[xxviii]
دین میں غلو سے پرہیز کرو ۔ گذشتہ امتیں دین میں غلو کے سبب نابود ہوئیں ہیں ۔ ہمارے ائمہ معصومین نے غلو کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔
امیر المومنین کا ارشاد ہے :
”اللھم انی بری من الغلاہ کبراہ عیسی بن مریم من النصاری اللھم اخذ لھم ابدا و لا تنتصر منھم احدا ۔[xxix]
ے خدا ! میں غالیوں سے بیزار ہوں جس طرح حضرت عیسیٰ عیسائیوں سے بیزار تھے ۔ خدایا ! ہمیشہ ان کو ذلیل فرما اور ان کو اپنی نصرت سے محروم فرما ۔ اور اسی طرح کچھ ایسے غالیوں کوآگ میں جلایا جو حضرت علی کی ربوبیت کے قائل ہو گئے تھے ۔[xxx]
امام صادق فرماتے ہیں:
”اخذروا علی شبابکم الغلاہ لا یفسدو ھم فان الغلاہ شر خلق اللہ یصغرون عظمہ اللہ و یدعون الربوبیہ لعباد اللہ و اللہ ان الغلاہ اشر من الیھود والنصاری و المجوس و الذین اشرکوا”۔[xxxi]
اپنے جوانوں کے حوالے سے غالیوں سے ہوشیار رہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ان کو فساد میں ڈبو دیں ۔ بے شک غالی خدا کے سب سے برے بندے ہیں ۔ انہوں نے خدا کی عظمت کو ٹھکرایا اور خدا کے بندوں کے لئے خدائی کے قائل ہوئے ۔ خدا کی قسم غالی یہودیوں ، عیسائیوں ، مجوسیوں اور مشرکوں سے بھی بد تر ہیں ۔
امام رضا فرماتے ہیں:
”لعن اللہ الغلاہ ۔۔۔۔لا تقاعدوھم و لا تصادقوھم و ابر ا منھم بری اللہ منھم ۔[xxxii]
”خدا غالیوں پر لعنت کرے ۔ ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے پرہیز کرو ۔ان کی دوستی سے دوری اختیار کرو ۔جس طرح خدا نے ان سے اپنی بیزاری کااعلان کیا ہے تم بھی برأت کا اعلان کرو۔ ”
غلات کے حوالے سے مندرجہ ذیل چار کتابو ں کا مطالعہ مفید ہے ۔
١۔ الجذور التاریخیہ والنفسیہ للغلو و الغلاہ تألیف سامی العزیزی
٢۔ شبھة الغلو عنہ الشیعہ تألیف ڈاکٹر عبد الرسول غفار
٣۔ پزوہشی دربارہ طوائف غلاة تا پایان غیبت صغری و موضع ائمہ در این بارہ
تألیف اسکندر اسفندیاری
٤۔ غالیان کاوشی در جریانھا و بر آیندھا تألیف نعمت اللہ صفری فروپاشی

مزید  ضرت زینب (س) عالمہ غير معلمہ ہیں

ہم غلات سے اہلبیت اطہار کی اس قدر شدید نفرت کا مشاہدہ توکرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بد قسمتی سے عزاداری کی بعض مجالس میں غلو آمیز نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں جس سے ائمہ معصومین کی شخصیت زیر سوال آجاتی ہے اور نتیجہ کے طور پر شیعیت کے حوالے سے ایک غلط اور تحریف شدہ تصور منتقل ہو تا ہے حالانکہ شیعیت منطق اور دینداری کا پرچمدار ہے ۔

٣۔ جھوٹ ان مجالس کی ایک اور آفت یہ ہے کہ جھوٹ کا سہارا لیا جائے۔ ہما راایمان ہے کہ ہدف کبھی بھی وسیلہ کے جواز کا باعث نہیں بنتا ہے ۔یعنی چونکہ مقصد مقدس ہے اس لئے جھوٹ کا سہارا لینے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ یہ وہی درد ہے جس نے محدث نوریکو ” لؤ لؤ مرجان ” نامی کتاب میں سو سال پہلے رلایا ہے ۔اور انہوں نے تفصیل کے ساتھ عزاداری میں جھوٹ اور جھوٹ بولنے کی مذمت میں لب سرائی کی ہے اور کچھ ثبوت بھی پیش کیے ہیں ۔ استاد مطہری اس کتاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ میری نظرمیں جس انداز سے اس کتاب میں جھوٹ کے حوالے سے گفتگو ہوئی ہے ایسا کہیں اور دکھائی نہیں دیتا ہے ۔ دنیا میں ایسی کوئی اور کتاب ناپید ہے ۔ [xxxiii]
یہاں پر چند ایک نکات کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے ۔
(١) سید الشہداء کے بارے میں کچھ ایسی باتیں کہی جارہی ہیں جن کے جھوٹ ہونے میں کسی طرح کا کوئی شائبہ نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے نیزے کی لمبائی ٦٠ ہاتھ کے برابر تھی اور وہ جنت سے آیا تھا ۔ اس کے علاوہ امام حسین کے مد مقابل لشکر میں چھ لاکھ سوار ، دس لاکھ پیادہ یا آٹھ لاکھ سپاہی تھے اور امام حسین نے ان میں سے تین لاکھ افراد اور اسی طرح حضرت عباس نے پچیس ہزار افراد کو قتل کیا تھا ۔ دوسری جانب تاریخ کی قطعی شہادت کی بنا پر یزیدی لشکر کی تعداد تیس ہزار سے اسی ہزار یا ایک لاکھ سے زیادہ نہ تھی اور امام حسین کے ہاتھ سے مرنے والوں کی تعداد اٹھارہ سو تھی ۔
ایسی باتیں بھی ہیں جن کا جھوٹا ہونا یقینی نہیں ہے ۔ سو فیصد کھوٹی روایات کے خلاف ہمیں آواز اٹھانی پڑے گی لیکن جس بات کے بارے میں ہم وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ سو فیصدی جھوٹ ہے وہاں احیتاط کا دامن تھامنا پڑے گا ۔
(٢) اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ مصائب کی پرورش اور ان مصائب کی تشریح کو جھوٹ نہیںکہا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح اگر زبان حال توہین آمیز نہ ہو اس کو بھی جھوٹ میں شمار نہیں کر سکتے ہیں ۔
(٣) کسی روایت کے صحیح یا جھوٹ ہونے کا معیار صرف یہ نہیں ہے کہ کسی مشہور کتاب میں اس کا ذکر مل جائے ۔
ایسا بھی ممکن ہے کہ غیر معروف کتاب میں درج بات صحیح ہو اور اسی طرح ایسا بھی ممکن ہے کہ کچھ روایا ت کسی مشہور اور پرانی کتاب میں پائی جائے لیکن جھوٹی ہو ۔
بہر حال جھوٹ ایک آفت ہے جس نے عزاداری کی مجالس کا دامن پکڑ رکھا ہے ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو صحیح مصائب پڑھنا چاہتے ہیں لیکن مورد اعتماد کتاب ان کی دسترس میں نہیں ہے ۔ ”نفس المھموم” ”لہوف ” وغیرہ ایسی کتابیں ہیں جو معتبر ہیں لیکن یہ سب کچھ نہیں ہے ۔
مجھے یہاں پر حوزہ علمیہ سے شکوہ ہے کہ کس قدر آپ جھوٹے مصائب پر چیختے ہیں لیکن کیا صحیح مصائب کی تدوین کے لئے بھی کوئی اقدام اٹھایا ہے ؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جواب منفی ہے ۔ ایسے جوانوں کی کمی نہیں ہے جو صحیح مصائب پڑھنا چاہتے ہیں اور ہم سے صحیح کتاب کا تقاضا کرتے ہیں !لیکن کہاں سے لے کر آئیں ! لیکن جھوٹ ہر حال میں حرام ہے خاص طور پر جہاں مقدسات کی توہین کا باعث بن جائے ۔ استثناء کی جگہیں ہمارے علم فقہ میں مذکور ہیں ۔ان میں سے ایک مجبوری کی حالت ہے ”الدین اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان”اس کے علاوہ جہاں پر لوگوں کے درمیان صلح کا مسئلہ پیش آجائے ۔
”المصلح لیس بکذاب۔”ایسا کہیں بھی نہیں ملتا ہے کہ اہلبیت کے مصائب پر لوگوں کو رلانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیا جاسکتا ہے !

٤۔ توہین آمیز باتیں ذلت آمیز باتیں جیسے ”زینب مضطر ” ”بیمار امام زین العابدین ” وغیرہ ۔ اہلبیت اطہار کا ذلت سے دور دور کا واسطہ بھی نہیں ہے ۔
”وللہ العزہ و لرسولہ و للمومنین ” [xxxiv]
حسین وہ ہے جو نہ فقط خود عزت کا آسمان ہے بلکہ اپنے پسماندگان کو بھی عزت کی وصیت کرتے نظر آتے ہیں:
”یا اخیہ انی اقسمت علیک فابری قسمی لا تشقی علی ! حبیبا و لا تخمشی علی وجھا و لا تدعی علی بالویل و الثبور اذا انا ھلکت” [xxxv]
” میری بہن ! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ میرے بعد گریبان چاک نہ کرنا ! منہ پر تمانچے نہ مارنا ! نفرین اور ہلاکت جیسے الفاظ کا استعمال نہ کرنا ! ”
اتنی تاکید کے باوجود بھی کوئی آکر یہ کہے ۔”جس وقت عبید اللہ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو امام حسین سے جنگ کے لئے روانہ کیا ۔ جونہی امام نے عمر بن سعد کی قیادت میں ایک عظیم لشکر کو دیکھا اور اپنے انگشت شمار جانثاروں کو اس لشکر کے مقابلے میں ناتوان پایا تو عمر سعد سے کہا ۔ میری تین تجاویز ہیں ان میں سے کوئی ایک قبول کر لو !
(١) مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ، جس راستے سے آیا ہوں اسی راستے سے لوٹ جائوں گا ۔
(٢) ترکی کی سرحد پر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کے ساتھ جنگ کروں !
(٣) مجھے یزید کے سامنے لے کر جائو تاکہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے کربیعت کروں اور وہ خود میرے بارے میں فیصلہ کرے ۔
عمر سعد نے امام حسین کی یہ تینوں تجاویز ابن زیاد کو لکھ کر بھیجیں ۔ ابن زیاد نے تینوں کو رد کیا اور عمر بن سعد کو لکھا (امام) حسین کے سامنے صرف دو راستے ہیں یا میرے حلقہ اطاعت میں آجائے اور سر تسلیم خم کرے یا پھر مرنے کے لئے تیار ہو جائے ۔
یہ ایک سفید جھوٹ ہے ۔ یہ ذلت ہے اور سید الشہداء کی ذات کا ذلت سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے ۔ اگرچہ اس واقعہ کو ابن قتیبہ دنیوری ، ابو الفرج اصفہانی ، ابن عساکر دمشقی ، ابن اثیر جرزی وغیرہ نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔

٥۔ بے اساس اسلامی تعلیمات کا بیان بے اساس اسلامی معارف کا بیان اور اسلامی معارف میں خواب کا استعمال ، یا جھوٹی ملاقاتوں کی تشہیر وغیرہ ۔
جس اعتقاد کی بنیاد خواب پر رکھی جائے وہ اعتقاد خواب کے ساتھ ہی مٹ جاتا ہے ۔ اسلامی تعلیمات میں کہاں ملتاہے کہ اہلبیت اطہار نے خواب کے ذریعے کسی کی ہدایت فرمائی ہو۔
کہاں ہمیں سیرت اہلبیت میں ولی خدا سے ملاقات کا وہ نامعقول اور شرم آور طریقہ ملتا ہے جو اب کتابوں میں لکھا جاتا ہے اور مجلسوں میں پڑھا جاتا ہے ۔
ایک صاحب اپنی کتاب میں رقمطراز ہے ”میری گھر والی بار بار امام زمان کی خدمت میں شرفیاب ہوئی ہے ! امام زمان کا پتہ یوں ہے !
اس سے نہ صرف امام زمان کی کوئی خدمت نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ اس مقدس اعتقاد پر کاری چوٹ ہے جس پر ٣٥٠ سے زیادہ آیات اور دسیوں مضبوط دلائل موجود ہیں ۔
مرحوم علامہ سید مہدی بحر العلوم کہ جن کا شمار شیعوں کے عظیم علماء میں ہوتا ہے فرماتے ہیں :
”غیبت کبریٰ میں بعض صاحبان اسرار اور وارستہ علماء امام زمان کے دیدار سے شرفیاب ہوئے ہیں لیکن چونکہ انہیں اس دیدار کو رازمیں رکھنے کا حکم ملا ہے اس لئے حکم خدا کو اجماع کے روپ میں بیان کرتے ہیں ” [xxxvi]
شیخ انصاری نے اس نقطہ نظر کو قبول کیا ہے اور فرمایا ہے ”اس بات کا بہت کم امکان ہے ۔ [xxxvii]
بعض علماء کے لئے اس کا حصول قبول کیا ہے ” [xxxviii]
آیت اللہ وحید خراسانی کئی بار کہ چکے ہیں کہ غیبت کبریٰ میں دو طریقوں سے ملاقات واقع ہوتی ہے ایک اختیاری حالت میں اور ایک اضطراری حالت میں ۔
اختیاری ملاقات سید ابن طائووس جیسے افراد سے مخصوص ہے ۔ انہوں نے امام زمان کو دیکھا ،پہچانا اور ان سے کسب فیض کیا ہے ۔ لیکن اضطراری ملاقات ایسے افراد سے مخصوص ہے جو مشکلات میں امام زمان سے متوسل ہوتے ہیں اور امام زمان اپنے مخصوص افراد کے ذریعے یا خود بھی ایسے لوگوں کی دستگیری کرتے ہیں اور یہ بھی فرمایا ہے ”جو لوگ لیاقت اور شائستگی کی بنیاد پر دیدار کا فیض حاصل کرتے ہیں وہ کسی سے اس کا ذکر نہیں کرتے ہیں ۔”

این مدعیان در طلبش بے خبران اند
آن راکہ خبر شد خبری باز نیامد

(یہ دعویدار اس کی طلب میں نا دان ہیں ۔
جس کو خبر ملی ہے پھر بھی کوئی خبر نہیں آئی ۔ )

مراجع عظام سے پوچھا گیا ۔کچھ افراد مختلف محفلوں اور عزاداری کی مجالس میں ائمہ معصومین خاص طور پر امام زمان سے ارتباط کا دعویٰ کرتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر کمائی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دینی احساسات سے بھی نا جائز فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ایسے مسائل مختلف محافل میں خاص طور پر زنانہ مجلسوں میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ وہ ائمہ معصومین سے ارتباط اور واسطہ کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس کے اخلاقی آثار کی وجہ سے دینی مسائل میں لوگوں کے اعتقادات کو ٹھیس پہنچتی ہے ، حضرتعالی سے گزارش ہے کہ ان مجالس میں شرکت اور ایسے افراد کی حمایت کے بارے میں اپنی نظر مبارک بیان فرمائیں :۔
آیت اللہ صافی :

”غیبت کبریٰ میں امام زمان کے ساتھ خصوصی ارتباط کے دعوے سفید جھوٹ ہیں اور ایسی مجالس میں شرکت کرنا حرام ہے جن میں اس طرح کے دعوے کیے جاتے ہیں اور اسی طرح مومنین پر لازم ہے کہ ایسے بے بنیاد دعوئوں کی پول کھول دیں تاکہ لوگ گمراہ نہ ہوں ۔ ”
آیت اللہ سیستانی :

یہ لوگ جھوٹے اور دجال ہیں اور اگر ان کی ہدایت کا امکان نہ ہو تو لوگوں کو بتایا جائے تاکہ وہ ان سے دوری اختیار کریں ۔
آیت اللہ تبریزی :

” یہ بات سرے سے ہی بے بنیاد ہے اور ان مسائل کی حمایت اور ترویج دین کی توہین ہے اور ناجائز ہے ۔ مومنین کی ذمہ داری ہے کہ ان مجالس میں شرکت سے پرہیز کریں اور ان افراد کو نصیحت کریں تاکہ اس طرح کی مجالس بے رونق ہوجائیں ” [xxxix]
خواب اور مکاشفہ

خواب اور مکاشفہ خود دیکھنے والے کے لئے حجت نہیں ہے دوسروں کو تو چھوڑ دیں ۔ اور خواب سے بد تر تو وہ مکاشفے ہیں جن کا بعض حضرات دعویٰ کرتے ہیں ۔
شیخ انصاری کے استاد مرحوم ملا احمد نراقی فرماتے ہیں ۔
”کچھ امامیہ علماء نے امام معصوم کے قول اور فعل کو جو خواب کی حالت میں صادر ہو جائے حجت مانا ہے لیکن علماء کی اکثریت نے اس قول کے خلاف عمل کیا ہے ۔ ”
ابراہیم بن ہاشم سے ایک روایت ملتی ہے جس میں امام صادق سے سائل نے ابی ابن کعب کے خواب کے بارے میں سوال کیا ہے۔ تو امام نے فرمایا ” ان دین اللہ اعز ان یری فی النوم ” دین خدا کی عظمت اس سے بالا تر ہے کہ اس کو خواب میں ثابت کیاجائے ۔آخر میں فرماتے ہیں کہ جو بات مسلم ہے وہ یہ ہے کہ معصوم کا کلام عالم بیداری اور عادی حالت میں حجت ہے نہ خواب میں ۔ اور اسی طرح دوسری روایات کی تاویل بھی پیش کی ہے اور بالآخر مشہور علماء کی رائے یعنی ”خواب کا حجت نہ ہونا ”کو قبول کیا ہے ۔
میرا عقیدہ ہے کہ معصوم حضرات کے خواب حجت ہیں ۔ معصوم کے لئے ضروری نہیں ہے کہ اس کے لئے یہ بات دوبارہ بیداری کی حالت میں بھی ثابت ہوجائے کیونکہ معصوم انسان شیطان کی دسترس سے محفوظ ہوتا ہے ۔ مرحوم میرزا قمی نے بھی کتاب ”قوانین ” میں اس مسئلہ پر گفتگو کی ہے اور خواب کے حجت ہونے پر خط بطلان کھینچا ہے ۔ ممکن ہے خواب سچا ہو لیکن شریعت کی نگاہ میں حجت نہیں ہے ۔ (یعنی اس سے کسی چیز کو ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے۔)
بہر حال خواب اور مکاشفہ کا اسلامی تعلیمات کے میدان میں وارد ہونا اس بات کا باعث بنا کہ بے بنیاد دینی تعلیمات کے لئے راستہ کھل گیا اور سونے پر سہاگہ یہ کہ جب خواب مقدس ہوں تو چونکہ اس کے نفی یا اثبات کے لئے کوئی معیار موجود نہیں ہے اس لئے بد ذات افراد اس کا سہارا لے کر اپنی بے اساس باتوں کا پرچار کرتے ہیں ۔ آخر میں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ ایسی سچی ملاقاتوں کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے جن کی بزرگوں نے تصریح کی ہے اور اسی طرح سچے مکاشفات کا انکار بھی نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن ان کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا ہے ۔

۶۔ سیاست اوردین میںجدائی کچھ حضرات کی کوشش یہ ہے کہ خود کو نظام اسلامی کے مسؤلین سے زیادہ ولایتی ظاہر کریں ۔ عزاداری کی تقریبات میں کہتے نظر آتے ہیں کہ ہمارا مقصد رونا ہے اور سیاست سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ حالانکہ ہم ائمہ معصومین کو ”ساسھا العباد”یعنی سب سے بڑے سیاست دان کہہ کر پکارتے ہیں ”کان بنی اسرایل یسو سھم انبیا ھم ” انبیاء بنی اسرائیل کے سیاست دان تھے ۔ ایک جانب سیکولر اور لادین افراد دین اور ساست میں جدائی کی باتیں کرتے ہیں اور دوسری جانب رجعت پسند ٹولہ دین کو سیاست سے الگ کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں ۔ یہ دونوں گروہ حقیقت میں ایک ہی قینچی کے دو پھل ہیں جو حقیقی اسلام محمدیۖ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں مصروف ہیں ۔
اس بات کی جانب اشارہ ضروری سمجھتا ہوں کہ مذہبی مجالس کو پارٹی بازی اور سیاست بازی سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ ایک خطر ناک آفت ہو گی کہ اگر ان مجالس پر اسلامی نظام سے لا تعلقی کا ماحول طاری کیا جائے ۔ یہ نظام مشکلات کی ایک لمبی تاریخ کے بعد وجود میں آیا ہے ۔ اہلبیت اطہار کی ماتمی تقریبات مکمل طور پر سیاسی ہوتی تھیں ۔ تولیٰ کے ساتھ ساتھ تبریٰ پر بھی کار بند تھے ۔ گھٹن کے ماحول میں جب تبریٰ ایک مشکل امر تھا پھر بھی انہوں نے تبریٰ انجام دیا ۔

۷۔ توہین آمیز باتیں اہلبیت اطہار کی بارگاہ میں توہین آمیز، تحقیر آمیز اور نا مطلوب باتوں کا اظہار صرف ذلت و خواری کا باعث ہے ۔ ایسی باتوں کے لئے ظالم حکمرانوں کے دربار سے انعامات کی توقع کی جا سکتی ہے لیکن ائمہ معصومین کی بارگاہ سے نہیں ۔
نمونے کے طور پر اس شعر کو ملاحظہ فرمائیں ۔
جس کا جو جی چاہے وہ اظہار کرے ، میں تو کوی زینب کا کتا ہوں ۔
جاویدان بہشت تجھ سے ہے ،بے کراں سمندر تجھ سے ہے ۔
کائنات کی حکومت تجھ سے ہے ،میں تو کوی زینب کا کتا ہوں ۔
اہلبیت اطہار اپنے ماننے والوں کے لئے کسی بھی حالت میں ذلت کے رودار نہیں ہیں ۔
”لا ینبغی للمؤمن ان یذل نفسہ۔”مومن کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ خود کو ذلیل کرے لیکن اہلبیت کی بارگاہ میں تواضع اور اظہار عقیدت کو ذلت کا نام نہیں دیا جا سکتا ہے ۔
مراجع عظام سے پوچھا گیا ۔کچھ ذاکر نامناسب اشعار پڑھتے ہیں ۔ مثلاًمیں ” حسین الہیٰ ” ہوں ، یا کتے کا پٹھا گلے میں ڈال کر کتے کی طرح بھونکتے ہیں۔ ان لوگوں کے تئیں ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے ؟
آیت اللہ تبریزی فرماتے ہیں:
”اہلبیت اطہار کی مجالس میں ایسے اشعار پڑھنے سے پرہیز کیا جائے جوشیعوں کی توہین کا باعث ہو ں اور جن سے دشمنوں کے ہاتھ بہانہ آجائے ۔ اہلبیت اطہار کی مجالس میں ایسے اشعار پڑھیں جائیں جن میںان حضرات کی فضیلت کا بیان ہو اور ان کی مظلومیت کا اظہار ہو ۔ انہوں نے کب ہمیں حیوانی ادائیں دکھانے کو کہا ہے؟ انہیں ہم سے یہ توقع ہے کہ ایماندار اور صالح بن جائیں اور ہمارا اخلاق ان حضرات کے اخلاق کی مانند ہو۔ ” [xl]
ظاہری آفات

١۔ مبتذل موسیقی عزاداری کی ایک آفت جس کا تعلق اس کی ظاہری صورت سے ہے وہ ناجائز اور حرام موسیقی کا ان مجالس میں رواج ہے ۔ کچھ ذاکر حضرات کل کے طاغوتی ترانے اور آج کے بالی ووڈ کے گانے سن کر اوراشعار میں معمولی تبدیلی کر کے عزاداری کی مجلسوں میں پڑھتے ہیں۔ طرز وہی طرزہے فقط اشعار بدلتے ہیں ۔ اس کے حرام ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے ۔ مستحب عمل بجا لانے کی آڑمیں حرام کام انجام نہیں دیا جا سکتا ہے ۔
مرحوم شیخ اعظم انصاری فرماتے ہیں:
” الا تری انہ لا یجوز ادخال السرور فی قلب المومن و اجابتہ بالمحرمات ۔”
”کیا تم نہیں دیکھتے کہ مومن کو خوش کرنا (اگر چہ عبادت ہے ) اور اس کے پکارنے پر لبیک کہنا اگرکسی حرام کام کے ہمراہ ہو تو جائز نہیں ہے ۔ ”
جو اسلام اس بات پر راضی نہیں ہے کہ قرآن کو فاسقوں کے لحن میں پڑھا جائے ایسا اسلام کس طرح راضی ہو سکتا ہے کہ عزاداری میں حرام سنگیت سے استفادہ کیا جائے ۔ بنی اکرم ۖ نے فرمایا ہے:
”اقرا و القران بالحان العرب و اصواتھا و ایاکم و لحون اھل الفسق و اھل الکبار” [xli]
قرآن کو عربی لہجے میں پڑھو ! اور فاسقوں اور فاجروں کے لہجے میں نہ پڑھو !
اسی طرح عزاداری کی مجالس میں یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ نوحہ خوانی کے بجائے صرف ساز بجایا جاتا ہے اور زنجیر زنی ہوتی ہے ۔ یہ کسی شک و شبہ کے بغیر عزاداری کی تحریف ہے اور سید الشہداء اس سے کسی بھی صورت میں راضی نہیں ہیں ۔ مراجع تقلید سے پوچھا گیا کہ کیا عزاداری کی مجالس میں موسیقی کے آلات مانند پیانوکا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟
ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ خامنہ ای :

مزید  خطبۂ غدیر؛نواں حصہ،بیعت کا مسئلہ

”موسیقی کے آلات کا استعمال امام حسین کی عزاداری کے شایان شان نہیں ہے ۔ درست یہ ہے کہ عزاداری کو سنتی طریقے سے انجام دیا جائے ”
آیت اللہ بہجت:

جس سے عزاداری کی توہین کا پہلو نکلتا ہو اس سے پرہیز کیا جائے ۔عزاداری میں موسیقی کے آلات کا استعمال اشکال سے خالی نہیں ہے ۔
آیت اللہ تبریزی :

عزاداری میں موسیقی کے آلات کا استعمال حرام ہے ۔ [xlii]

٢۔ صرف مصائب پڑھن عزاداری کی ایک آفت یہ بھی ہے کہ صرف مصائب اور سینہ زنی پر اکتفا کیا جائے ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ یہ شور و شوق اور سینہ زنی دین کی تقویت کا باعث بنتی ہے ۔اور ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل فسق و فجور کی محفلوںکے بجائے عزاداری کی مجالس میں شرکت کرتی ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ اگر یہ شور و شوق ، شعور اور عقلمندی سے خالی رہے تو اس صورت میں یہ پائیداری سے محروم رہے گا۔ بد قسمتی سے کچھ مجالس میں صرف مصائب کا ذکر ہوتا ہے اور یہ آفت اس وقت مزید خطر ناک صورت اختیار کرتی ہے جب دیکھا جاتا ہے کہ فاتحہ خوانی کی مجالس بھی اسی صورتحال سے دچار ہیںاور ان میں بھی صرف ذاکر حضرات کو ہی بلایا جاتا ہے ۔ حالانکہ یہ مجلسیں بہترین فرصت ہے جن میں لوگوں کو دین اور قیامت کی جانب متوجہ کیا جا سکتا ہے ۔ اہلبیت اطہار چاہتے تھے کہ ان کے نام سے مزّین مجالس ثمر آورہوں ۔
حضرت امام صادق عبد اللہ بن حماد بصری سے فرماتے ہیں ۔
بلغنی ان قوما یا تونہ یعنی الحسین من نواحی الکوفہ و ناسا غیر ھم و نسا ۔۔۔۔یندبنہ و ذلک فی شعبان فمن بین قار یقر وقاص یقص و نادب و قال یقول المراثی فقلت لہ نعم جعلت فداک قد شھدت بعض ما تصف فقال الحمد اللہ الذی جعل فی الناس من یفد الینا و یمدحنا و یرثی علینا و جعل عدونا من یطعن علیھم من قرابتنا او من غیرھم یھددونھم و یقبحون ما یصنعون ۔[xliii]
” مجھے اطلاع ملی ہے کہ پندرہ شعبان کو مرد اور خواتین امام حسین (ع) کی زیارت کے لئے آتے ہیں اور وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ، مناقب پڑھتے ہیں ، اہل بیت اطہار کے واقعات پڑھتے ہیں ، روضہ خوانی اور مرثیہ سرائی کرتے ہیں۔ ” عرض کیا گیا ۔ ”جی ہاں! قربان جائوں ۔ میں خود بھی اس کا مشاہدہ کر چکا ہوں ۔” امام نے فرمایا : ”خدا کا شکر ہے کہ اس نے ایسے لوگ پیدا کئے ہیں جو ہماری مدحت کرتے ہیں، ہمارے لئے مرثیہ پڑھتے ہیں اور ہمارے رشتہ داروں اور غیر رشتہ داروں میں ایسے لوگ پیدا کئے ہیں جو ہمارے دشمنوں کے لئے درد سر ہیں اور ان کی بد کرداری پر ان کو ملامت کرتے ہیں ۔ ”
شہید مطہری کہتے ہیں :
”اس سے پتہ چلتا ہے کہ رونے کا فلسفہ یہ ہے کہ دشمن کا جینا حرام ہو اور ان کی بد کرداری پر سرزنش کی جائے ۔ عزاداری کی مجالس کا اپنی طول تاریخ میں یہ مقصد رہا ہے کہ حقائق سے پردہ اٹھایا جائے اور حقیقت تک رسائی کو ممکن بنایا جائے ۔ خطیب تقریر کرتے ہیں اور ذاکر مرثیہ سرائی کرتے تھے ۔ سب سے زیادہ ثواب ذاکر کا ہوتا ہے ۔
پیامبر اکرم ۖ نے حلقہ علم کو حلقہ ذکر پر ترجیح دی تھی ۔ روایت میں ملتا ہے:
”و خرج رسول اللہ (ص ) فاذا فی المسجد مجلسان مجلس یتفقھون و مجلس یدعون اللہ تعالی و یسالونہ فقال کلا المجلسین الی خیر اما ھولا فیدعون اللہ و اما ھو لا فیتعلمون و یفقھون الجاھل ھو لا افضل بالتعلیم ارسلت ثم قعد معھم۔” [xliv]
پیامبر اکرم ۖ اپنے گھر سے مسجد کی جانب چل پڑے ۔ مسجد میں ملاحظہ فرمایا کہ دو گروہ موجود ہیں ۔ ایک گروہ دین کی تعلیم میں مصروف ہے اور دوسرا گروہ دعا میں مصروف ہے ۔ آنحضورۖ نے فرمایا کہ دونوں مجالس اچھی ہیں ۔یہ دعا پڑھتے ہیں اور وہ تعلیم و تعلم میں مصروف ہیں ۔ لیکن حلقہ علم افضل ہے کیونکہ میں تعلیم کے لئے مبعوث ہوا ہوں ۔ پھر آنحضورۖ تعلیمی حلقے میں تشریف لے گئے۔ جن مجالس میں دینی تعلیم کا احتمام ہو وہ بہشت کے باغات ہیں ۔
”عن رسول اللہ(ص) اذا امررتم بریاض الجنہ فارتعو ا قالو ا یا رسول اللہ و ما ریاض الجنہ قال حلق الذکر فان للہ سیارات من الملا ئکتہ یطلبون حلق الذکر فاذا اتو ا علیھم حفّو ا بھم۔” [xlv]
پیامبر اکرم ۖ نے فرمایا ہے :
” جب بہشت کے باغوں سے تمہارا گذر ہو تو بھر پور استفادہ کرو ۔ ” عرض کیا گیا ”اے رسول خدا ! جنت کے باغ کہاں ہیں ؟ ” آنحضرت ۖ نے فرمایا ”ذکر خدا کے حلقے ۔ خدا کے ایسے بے شمار فرشتے ہیں جو ذکر خدا کے حلقوں کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ جو نہی کوئی حلقہ نظر آتا ہے ا س کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں ۔ ”
” قال بعض العلماء حلق الذکر ھی مجالس الحلال و الحرام کیف تشنزی و تبیع و تصلی و تصوم و تنکح و تطلق و تحج و اشباہ ذلک۔” [xlvi]
بعض علماء کہتے ہیں کہ ذکر کے حلقے وہ مجالس ہیں جن میںحلال و حرام کا عنصر پایا جاتا ہے ۔ مثلاً خرید و فروش ، صوم و صلوة ، نکاح و طلاق اور حج وغیرہ ۔
مذہبی مجالس میں شرکت کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق نوجوان نسل سے ہے ۔ ائمہ معصومین نوجوانوں سے دین میں عمیق طرز تفکر کی توقع رکھتے ہیں۔
امام محمد باقر فرماتے ہیں:
”لو اتیت بشاب من شباب الشیعہ لا یتنفقہ فی الدین لا دبتہ۔” [xlvii]
اگر کسی شیعہ جوان کو میرے پاس لایا جائے جو دینی تعلیمات سے دور ہو تو حتما اس کو سزادوں گا ۔ ہم مداحی کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ماضی کی طرح ہر کوئی اپنا اپنا کام انجام دے ۔ خطیب لوگوں کے لئے قرآن ، حدیث اور احکام بیان کرے جبکہ ذاکر مرثیہ خوانی کرے۔ صرف اسی رہگذر سے ممکن ہے کہ جذبات اور شعور میں ہماہنگی پیدا ہو جائے اور یہی تاثیر گذار ہے ۔ اس سے بھی اہم مسئلہ نوجوان نسل کی فکری رہبری ہے جو ہر حال میں علماء اور دین شناس افراد کے ہاتھوں میں ہونی چاہیے ۔

٣۔ تجارت عزاداری کی ایک اور آفت یہ ہے کہ اسے تجارتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے ۔ اہلبیت اطہار کے نام پر نفع طلبی کا یہ ایک روشن نمونہ ہے جس کی روایات میں شدید مذمت کی گئی ہے ۔ افراط زر کی افزائش کے ساتھ ساتھ یہ بھی اپنی قیمت میں بے پناہ اضافہ کردیتے ہیں ۔
امام صادق کا ارشاد گرامی ہے:
”من اراد الحدیث لمنفعہ الدنیا لم یکن لہ فی الاخرہ نصیب و من اراد بہ الاخرہ اعطاہ اللہ خیر الدنیا و الاخرہ ۔” [xlviii]
جو شخص احادیث کے ذریعے دنیا کا طالب ہو وہ آخرت میں محروم رہے گا اور جو شخص احادیث کے ذریعہ رضاے خدا اور آخرت کے بھلائی کا طالب ہو خدا وند اسے دنیا و آخرت کی بھلائی عنایت کرے گا ۔
حضرت امام صادق فرماتے ہیں :
ہماری راہ ( حدیث ، محبت و ۔۔) کو روزی کمانے کا ذریعہ نہ بنائو ! [xlix]
”یا ابا النعمان لا تستاکل بنا الناس فلا یزیدک اللہ بذلک الا فقرا۔”
”ہمیں روزی کمانے کا ذریعہ نہ بنائو ۔ اس سے خدا تمہاری غربت میں اضافہ کرے گا ۔ ” [l]
اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دینی تعلیمات ، مداحی اور مرثیہ خوانی کو تجارتی نظر سے دیکھتے ہیں اور اسے تجارتی سامان سمجھتے ہیں ۔
البتہ ان لوگوں کی بات الگ ہے جو خدا کی رضا ، اہلبیت اطہار کی تعلیمات اور فضائل کو نشر کرنے کے لئے سعی و کوشش کرتے ہیں اور لوگ بھی خاندان عصمت و طہارت سے محبت کی خاطر ان کو تحائف و نذرانوں سے نوازتے ہیں ۔ ائمہ معصومین کی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں کا مسئلہ الگ ہے اور یہ ہرگز قابل مذمت نہیں ہیں ۔
بخش سوم

راہ حل ان آفات سے مقابلے کے لئے کچھ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے اور ان کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک پروگرام پیش کرتا ہوں ۔
(١) ان آفات کو بیان کرتے وقت اور ان پر تنقید کے حوالے سے ہمیشہ یہ بات یاد رکھیں کہ خود عزاداری کو نقصان نہ پہنچے ۔ تنقید کا ایسا طریقہ اپنانا جائز نہیں ہے جس کی وجہ سے ذاکر ، صاحبان مجلس ،خطیب اور مرثیہ خوان دل سرد ہو جائیں ۔
(٢) ان آفات سے نمٹنے کے لئے ہمیں آہستہ آہستہ اور مرحلہ وار وہی طریقہ اپنانا چاہیے جو ہمارے فقہ میں آیا ہے ۔ ان میں سے بہت سارے مسائل نصیحت ، موعظہ اور گفتگو کے ذریعے قابل حل ہے اور اس میں ایسے طریقہ کار سے پرہیز ضروری ہے جس سے ہٹ دھرمی میں مزید اضافہ ہو جائے ۔
(٣) بزرگوں کو ان آفات پر اتنا بولنا چاہیے کہ ان کی بے وقعتی اور بے قدری ایک سنت اور رواج میں تبدیل ہو جائے ۔ لیکن اس کے لئے جرأت کی ضرورت ہے اور دین کی راہ میں اپنی آبرو نثار کرنا ہو گی ۔ فضا سازی کے سامنے استقامت دکھانا ہو گی اور وظیفہ پر عمل کی ضرورت ہے ۔
پچھلے ہفتے مراجع عظام سے ملاقات کے دوران کچھ سبق آموز نکات سے آشنائی ہوئی کہ کس طرح ہمارے بزرگوں نے غلو کے مقابلے میں صریح موقف اختیار کیا ہے ۔ آیت اللہ العظمیٰ صافی کہہ رہے تھے ”ایک ذاکر نے آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کے حضور مداحی کی اور کہا:

ھذہ فاطمہ بنت الاسد
اقبلت تحمل لا ھوت الابد

”یعنی یہ فاطمہ بنت اسد ہے جو ہمیشہ رہنے والے خدا سے حاملہ ہے ۔” تو مرحوم نے اعتراض کیا اور اس کو مداحی سے روک دیا ۔ جس وقت ایک اور بزرگ نے وساطت کی کوشش کی تو جناب بروجردی نے فرمایا:”ہمیں غلو کے بارے میں سخت موقف اختیار کرنا چاہیے ۔
اس کے بعد مرحوم نے فرمایا :سننے میں آیا ہے کہ کوئی ذاکر پڑھتا ہے :
”تو بہ این جمال و خوبی چہ بہ طور جلوہ آیی
ارنی بگو بہ آن کس کہ بگفت لن ترانی”
”اس جمال اور زیبائی کے ساتھ کوہ طور پر جلوہ افروز ی کا کیا منظر ہوگا!
کہو ‘ارنی’ اس سے کہ جس نے ‘لن ترانی ‘ سنایا۔ ”
یہ غلو ہے ۔ کیوں اس طرح کے اشعار مجلس میں پڑھے جاتے ہیں ۔ میں نے امام خمینی کے شاگردوں سے سنا ہے کہ امام تاکید فرماتے تھے کہ مجالس میں مصیبت خوانی میں صحیح اور درست معیار کا خیال رکھا جائے ۔
علماء اس مکتب کے پاسدار ہیں ۔ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ مکتب کو ہر قسم کی آفت سے محفوظ رکھیں ۔ وہ حضرات جو دین کے سخنور ہیں وہ ان مسائل میں رد عمل دکھائیں اور جب بھی دیکھا کہ کوئی ذاکر یا خطیب غلو کر رہا ہے تو مصلحت پسندی کو خیر باد کہہ کر نہی از منکر کا وظیفہ انجام دیں ۔ اس میں ممکن ہے کہ کچھ لوگ فضا سازی کے ذریعہ کسی کی آبرو ریزی پر اتر آئیں لیکن خدا اس کی تلافی پر قادر ہے ۔ ” ان اللہ یدافع عن الذین آمنو ا۔’ ‘ خدا مومنوں کا دفاع کرے گا ۔
(٤) تنقید کے میدان میں افراط و تفریط سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ جس روایت میں اہلبیت اطہار کے بلند و بالا مناقب وارد ہوئے ہوں اور وہ ہماری فہم و فراصت سے بلاتر ہو تو فوراً اس پرغلو کا لیبل لگائیں ۔
روایت میں ملتا ہے۔ ”نزلونا عن الربو بیتہ و قولوا فینا ما شیتم ۔”
ہمیں خدا کے مرتبہ سے نیچے لے آئو پھر ہماری فضیلت میں جو چاہو بیان کرو۔
یہ بھی معقول نہیں ہے کہ اگر کوئی بات ہمیں سننے کو ملتی ہے اور کتابوں میں ہمیں اس کا ذکر نہیں ملتاہے تو فوراً اس کو جھوٹ کہہ کر رد کر دیں ۔ اس سے الٹا نتیجہ نکلتا ہے ۔ اسی طرح فضا سازی سے ڈر کر خاموش رہنا اورواضح غلو کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنا یا سفید جھوٹ سن کر اس ڈر سے خاموشی اختیار کرنابھی صحیح نہیں ہے کہ کہیں ضد ولایت کا لیبل نہ لگایا جائے ۔ ہمیں اس آیت کا مصداق بننا چاہیے ۔”الذین یبلغون رسالات اللہ و یخشونہ و لا یخشون احدا الا اللہ ۔”
جو لوگ رسالت الہی کو انجام دیتے ہیں اور خدا سے ڈرتے ہیں اور وہ خدا کو چھوڑ کر کسی سے خوف نہیں کھاتے ہیں۔
(٥) اس سلسلے میں ١٩٩٨ ء میں ولی امر مسلمین کی خدمت میں ایک مسودہ(Draft)پیش کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مداحی کی منصوبہ بندی کی جائے ۔حکومت کے بجائے خود ذاکرحضرات اس کی منصوبہ بندی کریں ۔ کیونکہ اس صورت میں یہ کام نتیجہ بخش نہیں ہو گا ۔ اس کا طریقہ یہ ہو کہ ہر صوبہ سے مثال کے طور پر پچاس ذاکر اپنا ایک نمائندہ منتخب کریں ۔ یہ سارے نمائندے تہران ( مرکز ) میں جمع ہو جائیں اور یہ سارے منتخب نمائندے مجلس عامہ تشکیل دیں گے ۔ یہ لوگ اس مجموعہ میں سے ٧ یا ٩ افراد منتخب کریں گے جو ان کی مرکزی شوریٰ کہلائے گی ۔
یہ شوریٰ مندرجہ ذیل مسائل میں مداحی کی منصوبہ بندی کرے گی۔
(١) ایسے مجتہد علماء جو علم تاریخ میں ید طولیٰ رکھتے ہیں ان سے درخواست کی جائے کہ تمام معصومین کے مصائب میں جانچ پڑتال کر کے صحیح کو نا صحیح سے الگ کریں ۔ تمام ذاکروں سے کہا جائے کہ مثال کے طور پر حضرت عباس کے بارے میں جو مصیبت وہ پڑھتے ہیں اس کو ان علماء کے حضور پیش کریں تاکہ وہ اس کی جانچ پڑتال کریں ۔ اس میں جو سفید جھوٹ ہے اس کو واضح کیا جائے اور جو کچھ مصیبت اور روضہ خوانی ہے اور جھوٹ بھی نہیں ہے اس کو بھی بیان کریں ۔ اس طرح آہستہ آہستہ ایک جدیدمقتل تدوین ہوسکتا ہے ۔
(٢) مداحی کی تعلیم کو منصوبہ بند کیا جائے اور اس مقدس میدان کو مبتذل موسیقی سے محفوظ رکھا جائے ۔
(٣) خاص مناسبتوں کے موقع پر ذاکروں کو نئے اشعار اور جدید انداز کی تعلیم دی جائے۔
(٤) پیشہ ورانہ غلطیوں سے پردہ اٹھایا جائے اور یہ لوگ اس سے مقابلے کا طریقہ کار بھی خود ہی طے کریں ۔
(٥) لائق ذاکروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کے لئے میڈیا کے دروازے کھولیں جائیں اور اسی طرح خطاکار ذاکروں کو شروع میں وارننگ دی جائے اور تکرار کی صورت میں قانونی چارہ جوئی کی جائے ۔ اس قانونی چارہ جوئی کا طریقہ کار بھی خود مرکزی شوری طے کرے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
اس تنظیم کو نظم و ضبط عطا کرنے کی خاطر پہلے مرحلے میں ولی امر مسلمین کی جانب سے منتخب نمائندہ نظارت کا کام انجام دے تاکہ پاکیزہ افراد کا انتخاب عمل میں آئے ۔ دوسرے ادوار کے الیکشن کیلئے یہی شوریٰ آئین نامہ تدوین کرے اور الیکشن کی سلامتی کے لئے ولی امر مسلمین کا نمائندہ نظارت کا کام انجام دیتا رہے گا ۔
یہ وہ مسودہ ہے جو مداحی کے حوالے سے میرے ذہن میں آیا ہے اور اس کی تکمیل کے لئے عزیزان گرامی کی رائے اور تجاویز ثمر آور ثابت ہوں گے۔

———-
[i] شورا، آیه 23.
[ii] حج / 32
[iii] نساء / 48.
[iv] سنن ابن ماجه، ج 1، ص 88
[v] مقتل خوارزمی، ج 1، ص 88
[vi] مجمع الزوائد هیثمی، ج 9، ص 189
[vii] مقتل خوارزمی، ج 1، ص 159.
[viii] مقتل خوارزمی، ج 2، ص 167.
[ix] در این زمینه ر.ک: سیرتنا و سنتنا سیره نبینا از مرحوم علامه ی امینی و کتاب اقناع اللائم از مرحوم سید محسن امین.
[x] کامل الزیارات، ص 174.
[xi] قیام عاشورا در کلام و بیان امام خمینی.
[xii] همان.
[xiii] همان.
[xiv] روزنامه ی جمهوری اسلامی 5/3/83.
[xv] کشف الاسرار، ص 173.
[xvi] کشف الاسرار، ص 141.
[xvii] سوره ی شوری، 23.
[xviii] سوره ی سبأ، 47.
[xix] سوره ی فرقان، 57.
[xx] اهل البیت فی الکتاب و السنة.
[xxi] نهج البلاغه، خطبه 97.
[xxii] اهل البیت فی الکتاب و السنة، ص 101 به نقل از کشف الغمة، ج 2، ص 35. امالی طوسی، 483، کفایة الاثر، ص 111.
[xxiii] مجله ی هیأت ماهنامه ی تخصصی هیأت رزمندگان اسلام شماره ی 9، ص 5 و 6.
[xxiv] الغدیر، ج 2، ص 295.
[xxv] الغدیر، ج 2، ص 307، الانمانی، ج 17، ص 43.
[xxvi] سوره ی نساء، آیه 171
[xxvii] سوره ی مائده، آیه 77.
[xxviii] مسند احمد بن حنبل.
[xxix] بحارالانوار، ج 25، ص 284.
[xxx] بحارالانوار، ج 18، ص 552/ مستدرک الوسائل، ج 18، ص 17.
[xxxi] بحارالانوار، ج 25، ص 266.
[xxxii] اهل البیت فی الکتاب و السنة.
[xxxiii] مجموعه ی آثار، ج 17، ص 613.
[xxxiv] سوره ی منافقون، آیه 8.
[xxxv] ارشاد مفید 260. 259/ تاریخ طبری، ج 4، ص 318 و ص 319.
[xxxvi] عوائد الایام، ص‌700.
[xxxvii] رسائل شیخ انصارى.
[xxxviii] كفایة الاصول، ج‌2، ص‌70.
[xxxix] مسائل جدید از دیدگاه علما و مراجع تقلید.
[xl] مسائل جدید از دیدگاه علما و مراجع تقلید، ج‌4، ص‌111 و ص‌112.
[xli] وسائل الشیعه، ج‌4، باب 24 ابواب قرائة القرآن، ص‌858، ح‌1.
[xlii] مسائل جدید از دیدگاه علما و مراجع تقلید.
[xliii] كامل الزیارات، باب 108، ح‌1، با تصحیح علامه امینى.
[xliv] منیه المرید، ص‌106.
[xlv] همان.
[xlvi] همان.
[xlvii] المحاسن، ج‌1، ص‌357. میزان الحكمة، ج‌4، ص‌1401- كلمه شباب.
[xlviii] اصول كافى، ج‌1، ص‌46.
[xlix] اصول كافى، ج‌2، ص‌338.
[l] امالى شیخ مفید، ص‌182.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.