عجائب خلقت اورکائنات

0 0

وہ بیٹھے ہوئے تھے اوران کی بکریاں ان کی نگاہوں کے سامنے چراگاہوں میں گھاس کھا کراپنے پیٹ بھر رہی تھیں کوہستانی علاقے میں دور دورتک ان کی بکریاں وسیع وعریض چراگاہوں ميں پھیلی ہوئي تھیں اورپورا علاقہ ان بکریوں کے وجود سے جو سیکڑوں کی تعداد میں تھی بہت بھلا معلوم ہورہا تھا ۔جناب ابراہیم نہ جانے کس سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے ؟ کیا وہ بکریوں کوگن رہے تھے ؟ یا عجائب خلقت اورکائنات کے پرودگار کے بارے میں ؟

اچانک ایک آوازسنائي دی ۔وہ اس آواز سے ابراہیم کے معشوق کانام ان کوسنائی دے رہا تھا ۔

یاقدوس ! (اے پاک ومنزہ اوربے عیب ونقص پروردگا ) 

یہ سن کرجناب ابراہیم خود سے بیخود ہوگئے اوراس پاک نام کوسننے کی دل انگیز لذت نے ان کےہوش اڑادئے تھے جب وہ ہوش میں آئے تو دیکھا کہ ایک شخص ایک بلندی پرکھڑا ہوا ہے جو ان کی طرف دیکھ رہا ہے ۔ جناب ابراہیم نے کہا : اے بندہ خدا ! اگرایک بارپھر وہی نام اپنی زبان پر دوہرا دے تومیں تجھے اپنے بکریوں کے ایک گلہ کوتجھے دے دوں گا ۔ اسی وقت ایک بار پھر یاقدوس کی آواز دوبارہ پورے دشت وصحرا میں گونج گئی ۔ جناب ابراہیم ایک بار پھر ایک لامتناہی لذت میں ڈوب گئے ۔ محبوب کا نام سننے کا شوق ان کے اندر اس قدر اثرکرگیا کہ اب وہ اس نام کے علاوہ کچھ اورسننا ہی نہيں چاہتے تھے ۔

جناب ابراہیم نے کہا کہ پھر اس نام کودوہراؤ ایک اورگلہ تمہیں حوالے کردوں گا 

مزید  قبر قران مجید

یاقدوس ! 

پھر کہو: یاقدوس ! 

وہ یاقدوس کہتا جارہا تھا اورجناب ابراہیم ایک ایک کرکے بکریوں کے گلے اس شخص کودیتے جارہے تھے ۔نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ اب ابراہیم کے پاس بکریوں کے سبھی گلے ختم ہوگئے لیکن ان کی روح وجان ابھی بھی محبوب یعنی خداو ندعالم کے نام کوسننے کو بے چین وبے تاب تھی ۔اچانک ان کی نظر اس کتے پر پڑی جو بکریوں کی رکھوالی کیا کرتا تھا اس کی گردن میں ایک سنہرا پٹا پڑا ہوا تھا ۔ یہ دیکھ کرجناب ابراہیم کے دل ميں ایک بارپھر اپنے محبوب کانام سننے کی تڑپ پیدا ہوئی انھوں نے پھر اس شخص سے جس کووہ ابھی تک نہيں پہچـان سکے تھے کہا ایک بارپھر محبوب کا نام لے کرپکار تاکہ تجھے ایک اورہدیہ دوں ۔اس شخص نے اس باربھی بلند آواز سے یاقدوس کی آوازلگائی جو پورے صحرا میں پھیل گئی یہ آوازسن کرجناب ابراہیم دوبارہ وجد میں آگئے ۔لیکن اب توجناب ابراہیم کے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا جسے دے کروہ اس شخص سے ایک بار اور اپنے محبوب کا نام سنتے ۔ جناب ابراہیم کا شوق وولولہ اورتڑپ رکنے کا نام ہی نہيں لے رہی تھی لیکن ان کے پاس اس شخص کودینے کے لئے کچھ بھی نہيں تھا ناچار انھوں نے اس شخص پرایک نگاہ ڈالی اوراپنی آخری بضاعت کی بھی پیشکش کرڈالی ۔

جناب ابراہیم نے کہا اے اللہ کے نیک بندے ! ایک بار پھر اس دلنشین نام کوپکار دے تو میں اپنے آپ کوتجھ پرنثار کردوں گا 

مزید  امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

اس شخص کے چہرے پرایک بہت ہی خوبصورت تبسم پھیل گیا اورمسکراتے ہوئے وہ جناب ابراہیم کے پاس آیا ۔ ادھرجناب ابراہیم اس کی زبان سے اپنے محبوب کا نام سننے کوپھر بے تاب تھے ؛ لیکن گویا وہ شخص اب ابراہیم سے مزید کچھ کہنا نہیں چاہ رہا تھا ۔

ان کے قریب پہنچ کر بولا ؛ میں جبرئیل ہوں اللہ کا مقرب فرشتہ ۔

بزم ملکوت میں تمہارا ذکرچھڑا ہوا تھا اورفرشتے تمہاری باتیں کررہے تھے اوربات کرتے کرتے ہم سب نے اللہ کوآوازدی اورعرض کیا : بارالہا : ابراہیم جو تیرے خاکی بندے ہيں کیونکر مقام ( خلیل اللہ ) پر فائز ہوگئے اور ہم لوگ اس مقام ومرتبے سے محروم ہیں ؟ 

خداوندعالم نے مجھے حکم دیا کہ جاکر ابراہیم کا امتحان کرلو۔

اب معلوم ہوا کہ حقیقت میں آپ خلیل اللہ اللہ کے دوست ہيں ۔

اے ابراہیم ! ہمیں آپ کی بکریوں کی کوئي ضرورت نہيں ہے ۔ ابراہیم نے کہا کہ : اللہ کے بندے بخش دی ہوئي چیزوں کودوبارہ واپس نہيں لیتے ۔

جبرئیل نے کہا : میں ان بھیڑ بکریوں اورگوسفندوں کوروئے زمین پرپراکندہ اور ہرطرف انھیں پھیلا دیتا ہوں چنانچہ قیامت تک جو بھی بکریوں بھیڑوں اورگوسفندوں کا گوشت کھائے گا وہ آپ کا مہمان ہوگا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.