عباسی خلافت کے اختتام تک مسلمانوں کی بحری طاقت کے اداوار

0 0

مسلمانوں نے ابتدا میں رودس وسسلی کو فتح کیا اور سن ۳۴/ہجری قمری میں  

فتوحات اسلامی کی تاریخ میں روم کے خلاف ایک مہم جنگ کا آغاز کیا ،یہ جنگ عبدالله بن سعد بن ابی مسرح کی کمان میں لڑی گئیاور ”ذات الصواری“ نام سے موسوم ہوئی، اس جنگ میں مسلمانوں کو ایک شاندار فتح نصیب ہوئی ۔

جب سے مسلمانوں کی فوج نے جریرة العرب کی حدود سے باہر قدم نکالا اور اسلام کی وسعت کی غرض سے پڑوسی ممالک میں داخل ہوئی اور اپنی جنگ اور فتوحات کے مختلف مراحل میں جنگوں کے نت نئے حوادث اور تجربات سے روشناس ہوئے تو جدید اوضاع واحوال کی بنیاد پر اُن کے مقابلے کے لئے خصوصی داؤ پیچ کی ضرورت ہوئی کیونکہ اب وہ فقط زمینی جنگیں ہی نہیں رہ گئیں تھی کہ جن سے مسلمان با آسانی مقابلہ کرسکتے تھے۔ مسلمانوں نے رات دن کی انتھک کوشش کے ذریعہ قابل ملاحظہ ترقی کی راہوں کو طے کیا، ابھی تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ کشتیوں اور دریائی جنگ کے ملاحوں اور ماہرین کی کمک سے مفتوحہ ممالک کے سواحل پر کشتی سازی اور اسلحہ سازی نیز دریائی جنگ میں کام آنے والے اسلحہ کے کار خانہ دیکھے جانے لگے، یہ چیز باعث ہوئی کہ مسلمان ایک عظیم جنگی بیڑے کے مالک ہوگئے جس سے انھوں نے مختلف جزائر وسواحل جیسے شمالی افریقا، اندلس، مدیترانہ دریا کے سواحل کو قتح کرلیا اور اسلام کو دنیا کے دور دراز علاقوں میں پھیلادیا ۔

ہم اس مقالہ میں اس چیز کی کوشش کریں گے کہ ابتدا سے لے کر خلافت عباسی کے اختتام تک مسلمانوں کی بحری طاقت کے تغییر وتبدُّل کا مختصر طور سے جائزہ لیں۔

الف۔ مسلمانوں کا دریا اور دریانوردی سے اشنا ہونا اور پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) کی نظر میں اس کی اہمیت:

عرب لوگ قدیم زمانہ خصوصاً اسلام سے صدیوں پہلے دریا اور دریانوردی سے آشنا تھے اور چونکہ اُن کا روزگار اکثر وبیشتر تجارت سے چلتا تھااس لئے ان کی تجارتی کشتیاں حرکت میں رہتی تھیں اس سلسلہ میں حمیرباں اور قوم سبا کو بطور نمونہ پیش کرسکتے ہیں(۱) جزیرة العرب تین طرف سے پانی سے گھرا ہوا تھا لہٰذا وہ لوگ دریا اور دریائی راستوں سے آشنا تھے اور متعدد مرتبہ تجارت کی خاطر سردیوں کے موسم میں دریائے سرخ سے گذرکر حبشہ پہنچے تھے کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کو جو سب سے پہلا دریائی سفر پیش وہ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور چونکہ یہ سفر کشتی کے ذریعہ تھا اس لئے ان مہاجروں کو اصحاب سفینہ کہا جاتا ہے۔ جزیرة العرب کے لوگوں کا دریا سے آشنائی اور ان کا اس کو اہمیت دینا سبب بنا کہ قرآن مجید میں ۳۸مرتبہ بحر، بحیرہ اور بحرین(۲) اور چار مرتبہ کشتی یا سفینہ(۳) جیسے الفاظ کا ذکر ہوا، لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود تعجب ہے کہ طبری نے کس طرح لکھ دیا کہ خلیفہٴ دوم کو دریا سے کوئی آشنائی نہیں تھی، طبری روایت کرتا ہے: معاویہ خلیفہٴ دوّم سے ایک دریائی جنگ کی اجازت کی کوشش میں تھا لیکن خلیفہ عمروبن عاص سے دریا کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد مطمئن ہوگیا اور کہا دریا مسلمانوں کی جان کے لئے خطرناک ہے لہٰذا اُس نے اس جنگ کی اجازت نہیں دی اور معاویہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”خدا کی قسم میں ہرگز مسلمانوں کو اس کام پر آمادہ نہ کروں گا“(۴) حالانکہ (۵) رسول الله (صلی الله علیه و آله وسلم)نے متعدد مرتبہ مسلمانوں کو دریائی راستہ سے جہاد کرنے کی ترغیب دلائی تھی اور فرمایا تھا: ”لاترکب البرح الّا جاجّاً“ اور ”معتمراً ارغازیاًفی سبیل الله“(۶)نیز رسول الله (صلی الله علیه و آله وسلم) کا یہ بھی فرمان ہے ”من غزفی البحر غزوة فی سبیل الله․․․․“(۷)اگر کوئی دریا کے راستہ الله کی راہ میں جنگ کرے گا، خداوندعالم اس کی راہ میں جنگ کرنے والے کے احوال سے آگاہ ہے، پس وہ اپنی اطاعت کی وجہ سے خدا کی پناہ میں چلا گیا اس کو جنت اپنی طرف بلاتی ہے اور دوزخ اپنے سے دور کرتی ہے، ۔امِّ حرام سے نقل ہوا ہے کہ ایک روز رسول الله (صلی الله علیه و آله وسلم) میرے گھر تشریف فرماتھے اور انھوں نے فرمایا تھا: ”ناس من امتی عرضوا علی غزاة فی فسبیل الله یرکبون․․․“(۸) (ایک روز میر ی امت کا ایک گروہ راہ خدا میں مجاہد کے عنوان سے بادشاہوں کی طرح کشتی پر سوار ہوگا اُمِّ حرام کہتی ہے: میں نے آنحضرت سے عرض کیا کہ حضور خداوندعالم سے میرے لئے بھی دعا کریں کہ میں بھی اس گروہ میں شامل ہووں پس حضور نے فرمایا: تو ان میں سے پہلی خاتون ہوگی، پیغمبر کی پیشنگوئی ایک مدّت بعد اس طرح محقّق ہوئی کہ اُمّ حرام اپنے ”شوہر عبادہ بن صامت“ کے ہمراہ ان سپاہیوں میں شامل تھی جو قبرس کی فتح کے لئے روانہ ہوئے تھے اور وہ اس جنگ میں اپنے خچر کی پشت سے گری اور مرگئی اور وہیں پر دفن ہوئی(۹) ایسے ہی حضور سے روایت ہوئی ہے : ”دریا کا شہید خشکی کے شہیدوں کے مانند ہے اور دریا میں راستہ گم کردینے والا اس شخص کے ایسا ہے جس کا خون خشکی میں بہادیا گیا ہو“ نیز آپ نے یہ بھی فرمایا: ”دریا کی ایک جنگ خشکی کی دس جنگوں کے برابر ہے اور جو کوئی دریا میں گرمی کا شکارہوگیا ہو یا راستہ بھول جاے تو وہ اس شخص کے مانند ہے جس کا خون خشکی میں راہ خدا میں بہا دیا گیا ہو(۱۰)

ب۔ خلفائے راشدین اور اموی بادشاہوں کے زمانہ میں دریائی طاقت:

پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) اور ابوبکر کے زمانہ میں دریائی جنگ کا اتفاق نہیں ہوا، مذکورہ بالا روایت کے باوجود عمر کی خلافت کے زمانہ میں کئی دریائی جنگوں کا پتہ چلتا ہے، جیسے سب سے پہلا دریائی حملہ والی بحرین عثمان بن عاص ثقفی کی طرف سے ہند کے سواحل پر کیا گیا کہ جو بمبیٴ کے نزدیک ”تانہ“ کے مقام کا پہنچا اور دریائے سندھ تک پیش قدمی کی(۱۱) ایسے ہی بحرین کے دوسرے والی علاء بن خضرمی نے دریا کے راستے ایران پر حملہ کیا اور وہ شہر اسطخر تک پہنچا ، سن ۲۰/ہجری میں عمربن خطّاب نے علقمہ بن مجزر کو دریائے سرخ کے راستہ جیشہ پر دریائی حملہ کا فرمان دیا تاکہ مسلمان، اسلام کے سواحل پرجیشیوںکے حملوں کا جواب دے سکیں ، یہ حملہ اگرچہ ناکام رہا لیکن پھر بھی مسلمان حبشہ کے ”اودلس“ شہر تک پہنچ گئے(۱۲) سن ۲۷یا۲۸ میں قبرس کی فتح مسلمانوں کا پہلا کامیاب تجربہ تھا اور چونکہ مسلمان اس جنگ سے کامیاب واپس پلٹے لہٰذا انھوں نے جنگ کے اس طریقہ میں زیادہ کوشش شروع کردی، اگر طبری کی روایت کو عثمان کے زمانہ میں ۲۷/ہجری میں دریا کے ذریعہ اندلس کے فتح کرنے میں قبول کرلیں (البتہ اس کی صحت بعید ہے) تو مسلمان فتح قبرس سے ایک سال قبل اور فتح افریقا کے بعد، اندلس کو فتح کرنے میں مشغول ہوگئے، طبری روایت کرتا ہے خلیفہ نے عبدالله بن نافع کو فرمان دیا کہ دریا کے راستہ اندلس پر حملہ کرے، اُس نے اپنی فوج کے کمانڈر کو اس طرح لکھا:”اما بعد، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ قسطنطنیہ اندلس کے راستہ فتح ہوگا اور اگر تم نے اس کو فتح کرلیا تو انعام واکرم میں اس کے برابر ہوگے جو قسطنطنیہ کو فتح کرے گا“(۱۴) فتح اندلس میں عثمان ایک نئے جنگی حربہ کو استعمال کرنا چاہتا تھا اور وہ یہ کہ قسطنطنیہ کی فتح یورپ کو فتح کئے بغیر وہ بھی دریائی اور اندلس کے فتح کے راستہ، میسّر نہیں ہے، ابتدا میں مسلمانوں نے رودس اور سسلی کو فتح کیا اور سن ۳۴میں روم کے خلاف، تاریخ اسلام کی مہم ترین دریائی جنگ کا آغاز کیا، اس جنگ میں جو عبدالله بن سعد بن ابی مسرح حاکم مصر کی کمان میں لڑی گئی اور ”ذات الصواری“ کے نام سے موسوم ہوئی مسلمانوں کو ایک شاندار فتح نصیب ہوئی(۱۵) سن ۲۸ سے مسلمانوں کی کشتیاں بیز انس کی کشتیوں پر غالب آگئیں اوردریا میں اپنی سرداری کا ثبوت پیش کردیااس کے علاوہ مسلمانوں نے بیزانس کی حکومت کے تحت بہت سے سواحل پر متعدد حملہ کئے(۱۶) مروان بن محمد نے کہ عباسی جس کی تعقیب میں تھے، مصر پہنچتے ہی اپنی فوج کے ایک دستہ کو دریا کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ مدیترانہ دریا خصوصاً اسکندریہ کے سواحل پر موجود تمام کشتیوں کو آگ لگادیں، اسی طرح اُس نے شہر فسطاط میں دریائے نیل میں موجود کشتیوں کو جلاڈالا(۱۷)

ج۔ عباسیوںکے دوران حکومت میں دریائی طاقت:

عباسیوں نے پہلی بار جنگی مقصد کی خاطر شہر واسطہ کے محاصرہ میں کشتیوں کو استعمال کیا، یہ لوگ کشتی کو ایندھن سے بھرکے آگ لگادیتے اور واسط کی طرف روانہ کردیتے تھے تاکہ جو کوئی بھی اس کے سامنے آئے جل جائے، لیکن ابن ہبیرہ اس شہر کے اموی حاکم نے ایک ایسی کمند بنوائی کہ جس سے وہ کشتی کو غرق کردیتا تھا ۔ (۱۸) منصور خلیفہ بھی دریائی فوج اور جنگی کشتیوںکے بنانے کو زیادہ اہمیت دیتا تھا اسی لئے اس نے مصر میں کشتی سازی کے بہت سے کارخانے کھلواے لوگوں کو ان کارخانوں میں کام کرنے کی ترغیب دلائی، اس نے یہاں تک کیا کہ کافر ذمّی کو جب تک وہ کشتی کے کارخانوں میں کام کررہے ہوتے جزیہ دینے سے معاف کردیتا تھا(۱۹) منصور اندلس کو دوبارہ عباسیوں کی حکومت میں لے آنے کی فکر میں رہتا تھا،لہٰذا اس نے سن ۴۶میں اپنے سپہ سالار علاء بن مغیث کے لئے فرمان جاری کیا کہ وہ ایک عظیم دریائی فوج کے ساتھ اندلس کی طرف پیش قدمی کرے،اس کے سپاہی ’‘باجہ“ کی سرحدوں پر اترے اور ان کے ساتھ عبدالرحمن الداخل کے مخالفین خصوصاً فہریان اور یمانیاں بھی ہوگے، انقلاب وسیع ہوگیا لیکن عبدالرحمن الداخل اپنے دشمنوں پر غالب آیا، اس طرح اس نے ان کی شورش کو دبا دیا(۲۰)

مزید  علوم قرآن سے کيا مراد ہے؟

منصور نے سن ۱۴۶ میں ٹیونس کے بیزانسیان گروہ پر حملہ کیا کیونکہ انھوں نے سن ۱۴۰ میں لاذقیہ اور طرابلس کی اس کے خلاف حملوں میں مدد کی تھی، اس دریائی حملہ کی کمان امیرالبحر شامی اور عباس سفیان خثعمی کے ہاتھ میں تھی اور یہ پہلا لشکر تھا جس نے عباسی حکومت کی تشکیل کے زمانے میں قبرس پر حملہ کیا تھا، منصور نے دریائی حملوں کے دفاع کے لئے ایک بیڑا تیا رکرایا تھا، سن ۱۵۳ میں حبشیوں نے جدّہ پر اپنے بیڑے سے حملہ کیا، ادھر سے منصور ان کا جواب دینے کے لئے اپنا بیڑا لے کر چلا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حبشی لوگ شکست کھاکر بھاگ کھڑے ہوئے(۲۱) ایسے ہی منصور نے حج سے فراغت کے بعد جیسے ہی سنا کہ سندھی قزاقوں نے ساحلی شہروں اور کشتیوں کو خصوصاً حجاز کے ساحلوں کو برباد کردیا ہے تو اس نے ان کا جواب دینے کے لئے بصرہ کے راستہ سے ایک بہت بڑا حملہ کیا(۲۲) اس کے دوران حکومت میں بحری فوج نے کئی اور حملہ کئے، جیسے قبرس اور ایشاء صغیر کے ساحلوں کو اپنے حملوں کی آماجگاہ بنایا ۔

البتہ بیزانس نے مسلمانوں کی بحری ارو زمینی فوج کے رابطہ کو قطع کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایشائے صغیر پر ثمامہ بن وقاص کا حملہ ناکام رہ گیا(۲۳) اس دوران، حکومت عباسی کے سربراہ منصور نے کوشش کی کہ ہند کے دریاؤں پر اپنا تسلُّط قائم کرلے تاکہ ان دریائی قزاقوں کا قلع قمع کرسکے جو تجارتی قافلوں کو لوٹتے اور غرات گری پھیلاتے ہیں، اس نے یہ کام ہند اور چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے انجام دیا لہٰذا اس نے عمربن جمیل کو جنگی کشتیوں کے ساتھ اس مہم پر روانہ کیا، اس کے بعد مذکورہ کمانڈر ”تماران“ اور پھر قندہار کی مہم سرکرنے کے لئے انتخاب کیا گیا اس نے ان دونوں جگہوں کو فتح کیا، مہدی عباسی کے دوران خلافت میں بھی معمر بن عباس خثعمی نےسن ۱۶۰ میں ایک دریائی جنگ کا تجربہ کیا(۲۴) عباسی حکومت سرحد کے مشترک ہونے کے وجہ سے ناچار تھی کہ ہمیشہ بیزانس کے بیڑے کے ساتھ درگیر رہے، اسی وجہ سے اس نے بیزانس کے بیڑے کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کے لئے اپنے بیڑے کو میدان میں اتارا(۲۵) اس کےعلاوہ مسلمان دوسرے دریائی حملے کرتے رہتے اور بیزانس کے حملوں کا جواب بھی دیتے رہتے تھے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ عباسیوں کی دریائی کارکردگی زیادہ بہتر نہیں تھی، کیونکہ اس حکومت کے دوران دریائی جنگوں خصوصاً مدیترانہ کی دریائی جنگوں میں ایک خلاء واقع ہوگیا تھا، ادھر یورپی حکومتیں داخلی خلفشار کی وجہ سے اس دریا سے غافل ہوگئی تھیں نتیجةً تقریباً آدھی صدی تک بیزانسس بلاشرکت غیرے دریا پر حکومت کرنے کے لئے آزاد ہوگیا تھا، البتہ بیزانس کبھی کبھی یورپ میں بلغاریوں کے ساتھ جنگ کی وجہ سے اس دریا سے غافل ہوجاتا تھا۲۶) اس کے باوجود بھی مسلمانوں نے سن۱۴۸ اور ۱۴۹ میںقبرس اور سسلی پر حملوں کا آغاز کردیا اور ۱۵۶ تک مسلمانوں کی دریائی فوج کی کارکردگی کچھ آگے برھی اور مہدی عباسی کی حکومت کے لئے دریائی حملوں کے زیادہ ہونے کا زمینہ فراہم کیا(۲۷) اس دوران خلیفہ نے عبدالملک بن شہاب مسمعی کو ایک بیڑے کی کمانڈری کے لئے منصوب کیا اور اس کو ہندوستان کی سرزمین کی طرف روانہ کیا ، اس نے سن ۱۶۰ میں ”باربد“ کے شہر کو فتح کیا اس حملہ میں عباسیوں نے منجنیق کوبھی استعمال کیا، اس دوران دریائی سرگرمیوں میں کچھزیادہ وسعت آگئی تھی ۔

ہارون رشید کے دوران میں بھی دریائی جنگوں اور جھڑپوں میں کچھ شدّت آگئی تھی، سن ۱۷۰ سے لے کر ۱۷۴ تک کئی جنگیں واقع ہوئی، سن ۱۷۴ میں دوبارہ قبرس کے اوپر عباسی لشکر کے حملے شروع ہوگئے اسی سال عباسیوں کے بہت سے وہ راستے جو شام کو مصر سے ملاتے تھے رومی بیڑوں کے حملوں کی آماجگاہ بن گئے(۲۹) ہارون رشید نے جزیرہٴ قبرس میں ہی شام کے عباسی بیڑوں کے ساتھ روم کے حملوں کا ڈت کر مقابلہ کیا، وہ اپنے بیڑے سے ایشاء صغیر کے ساحلوں سے گذرکر خلیج اٹلی تک جا پہنچا(۳۰)اور رومی دریائی بیڑے سے جنگ چھڑگئی اس نے ان کو شکست دی اور روم کی دریائی فوج کے کمانڈر کو قیدی بنالیا(۳۱) عباسیوں نے بیزانس کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے شمالی افریقا کے ساحلوں پر چھاؤنی بنائی ان میں سے ایک ”المنسیتر“ نامی چھاؤنی قابل ذکر ہے،جس کو ہرثمہ بن اعین نے سن ۱۸۰ میں بنایا تھا اغالبہ نے اس چھاؤنی کو وسعت بخشی، عباسی دریائی بیڑوں نے سن ۱۹۰ اور ۱۹۱ میں اغالبہ کی کمان میں روس اور یونان کے سواحل پر حملہ کیا،ایسے ہی امین کے زمانے میں مدیترانہ کے دریا میں دریائی سرگرمیاں جاری رہیں(۳۲) مامون رشید کے دوران میں عبدالله بن طاہر نے طرسوس کی چند کشتیوں کے ساتھ حرکت کی اور ”تینس“(۳۴) تک پیش قدمی کی، مامون نے اس کو سن ۲۱۰ھ ق میں مصریوں کی داخلی بغاوت کو دبانے کے لئے مصر کے لئے روانہ کیا، اس نے اسکندریہ میں اندلسیوں کو اپنے محاصرہ میں لے لیا(۳۵)معتصم عبّاسی کے دوران حکومت میں بھی دریائی سرگرمیاں قابل ملاحظہ تھیں اور اس دوران مسلمانوں کا مشرق سے لے کر مغرب تک کامل طور سے دریا پر قبضہ ہوگیا تھا ۔ مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ: عباسیوں کے زمانہ میں دریا اور بحری فوج پر اتنی توجہ دی گئی کہ ایک رجسٹر ”دیوان الاسطول“ کے نام سے بنایا گیا، اس رجسٹر میں وظائف، عطایا اور غنیمت کی میزان سے ہر اس فرد کا نام درج تھا جو جنگی بیڑے میں خدمت کرتا تھا ۔

دریائی فوج میں شرکت اپنے اختیار سے اور رضاکارانہ تھی(۳۶)جو فوجی چاہتے تھے کہ بحری فوج میں خدمت کریں ان کے لئے ضروری تھا کہ ایک حد تک مہارت، تجربہ اور شجاعت رکھتے ہوں اور وقت ضرورت جنگی کشتیوں کی تعمیر یا مرمّت یا تیراندازی اور دریا نوردی بھی کرسکتے ہوں، خلفاء بہت سے لوگوں کو سکونت کے لئے سرحدی مقامات پر بھیجتے تھے تاکہ وہاں پر دریائی سرحدں اور ساحلوں کو دیوار اور مضبوط حصار کے ذریعہ دشمنوں کے حملہ سے محفوظ کرسکیں اور یہ علاقہ دوسری جگہوں کے لئے پشتیبان کے طور پر رہے (۳۷) دریائی جنگوں میں شرکت کے لئے لوگوں کو جہاد کے نام سے دعوت دی جاتی تھی لوگ رضاکارانہ چھاؤنیوں میں جمع ہوجاتے تھے تاکہ فریضہ جہاد میں شریک ہوسکیں، بطور نمونہ، اسد بن فرات (قیرواں کا قاضی) نے سسلی کی فتح میں دریائی فوج کی کمان سنبھالی جس میں ۱۰۰ کشتیاں اور دس ہزار فوجی تھے(۳۸) بہت سی سرحدوں اور شام کے ساحلوں پر کئی ایک چھاؤنیاں بنائی گئیں تاکہ مجاہدین، دشمن کے دریائی حملوں کا جواب دے سکیں، یہ مجاہدین شام اور مصر سے آتے تھے(۳۹) مجاہدین میں سے ایک بہت مشہور ومعروف مجاہد اور عصر منصور کا بزرگ فقیہ شام ”عبدالرحمن بن عمر اوزاعی تھا جس کا نام شام کے ساحل کے دیوان میں مجاہد کے عنوان سے درج تھا، اس نے سن ۱۴۰ میں روم کے خلاف ایک جنگ میں شرکت کی تھی(۴۰) اسی دوران کا ایک اور مجاہد جس کا نام ”ابراہیم بن ادہم“ تھا، یہ شخص مشہور صوفی اور عارف تھا اس نے بھی دریائے شام میں ہوئی کئی چھڑپوں میں شرکت کی(۴۱) اور کسی ایک جنگ میں شہید ہوگیا ۔

عباسیوں نے بصرہ، بغداد اور مصر میں دریا کو پار کرنے والی کشتیوں کے کارخانہ بنائے اور وہ ان کو دجلہ فرات اور نیل میں چلاتے تھے، ہارون رشید نے ایسی کشتی بنوائی تھی جو اس سے پہلے کبھی نہ بنی تھی، معتصم کے زمانہ میں زطیوں کی سرکوبی کے بعد ۲۷ ہزار فوجیوں کو کشتیوں کے ذریعہ بصرہ سے بغداد پہچایا گیا(۴۲)

جنگی کشتیوں کی بناوٹ اور ان کے اسلحے

الف: گذشتہ زمانہ میں جنگی کشتیاں معمولاً تین منزلہ ہوتی تھیں ان میں سے ہر طبقہ تمام ضروری وسائل او رامکانات سے پُر ہوتاتھاجیسے، پینے کے پانے کو ذخیرہ کرنے کے لئے پانی کا انبار، رسّے، بادبان،تبر، خنجراور دیگر ضروری سامان، ہر دریائی فوجی کے لئے ضروری تھا کہ اپنی کشتی کے ضروری سمان اور اسلحہ کو فراہم کرے، نیز دشمن کے اوپر آتش باری کے وسائل کو بھی فراہم کرے جو معمولاً کشتی کے عرشہ پر نصب کیا جاتا تھا یہاں سے دشمنوں کے اوپر آتش باری سنگ باری یا لوہے کے تیز نوکیلے ٹکڑے پھینکے جاتے تھے، تاکہ ان کو قتل کرسکیں اور ان کی کشتیوں میں آگ لگا سکیں یا غرق کرسکیں، کشتی کی پہلی اور دوسری منزل میں تقریباً ۵۰، سوراخ ہوتے تھے جن کو تیرانداز اور دوسری چیزیں پھینکنے والے اپنا مورچہ بناتے تھے، اور وہیں سے دشمن کو نشانہ بناتے تھے کشتی کا ناخدا کشتی کی اگلی طرف ایک چھوٹے کمرے میں ہوتا تھا، ہر کشتی میں تقریباً ۲۰۰ آدمیوں کی جگہ ہوتی تھی، ان میں ۵۰ فوجی تیراندازی کرتے تھے اور بقیہ کا وظیفہ، لڑنے کا ہوتا تھا، ان میں سے بعض کشتیوں میں منجنیق بھی نصب ہوتی تھی اور کشتی کا پیندا تیز نوکیلے پتھروں سے پُر ہوتا تھا جس کو اسلحہ کی جگہ دشمن طرف پھینکا جاتا تھا(۴۳)

ب۔ اسلحے:

جنگی کشتیوں کے اسلحوں کو دو قسموں میں بانٹا جاسکتا ہے:

۱۔ فوجیوں اور جنگجویوں کے اسحلے۔

۲۔ کشتیوں کے مخصوص اسلحے

۱۔ فوجیوں کے اسلحے

فوجیوںکے اسلحہ اس طرح تھے: تیر کمان، نیزہ، تلوار، خنجر، پتھر اور کلہاڑی اور دفاعی سامان یہ تھے(۴۴) زرہ، خود اورسپر وغیرہ، فوجیوں کے ساتھ معمولاً تین خنجر ہوتے تھے: ایک سپر کے اندر، ایک پہلو سے بندھا ہوا اور ایک لباس کے اندر، تلوار گلے میں حمائل ہوتی تھی نہ کہ کمر سے بندھی ہو، کیونکہ دریائی جنگجووں میں تلوار گردن میں لٹکانا آسان تھا بخلاف خشکی کی جنگوںکے اور گُرز ان کی پیٹی سے بندھا ہوتا تھا (۴۵) حرکت سے پہلے ہر بیڑہ کے لئے اسکا اسلحہ غذا اور دیگر فروری سامان فراہم کیا جاتا تھا (۴۶)

مزید  حاملان عرش اور دوسرے مقرب فرشتوں پر درود و صلوۃ

۲۔ کشتیوں کے مخصوص اسلحے

۲۔۱۔کلالیب یا کمند (۴۷)

یہ ایک لوہے کا چاند نما آلہ ہوتا تھا کہ جو کشتیوں میں لوہے کے حلقوں سے بندھا ہوتا تھا، جیسے ہی اپنی کشتی دشمن کی کشتی سے نزدیک ہوتی تھی تو اس کو دشمن کی کشتی کی طرف پھینکا جاتا تھا اور اس پر لوہے کی چادریں ڈال کر اس کو ایک پل کے مانند بنالیا جاتا تھا اوراس پر سے گذر دشمن کی کشتی میں داخل ہوجاتے تھے اور ان پر ٹوٹ پڑتے تھے(۴۸)

۲۔۲۔ باسلیق

یہ دشمن کی طرف پھینکنے کا ایسا لو ہاہوتا تھا کہ جو کشتی اگلے حصّے میں لوہے کے حلقہ سے بندھا ہوتا تھا اس آلہ کو پے درپے کشتی کی طرف پھینکا جاتا تھا جس سے کشتی ٹوٹ جاتی تھی(۴۹)

۲۔۳۔ توابیب:

یہ ایسے صندوق ہوتے تھے جو اوپر سے کھلے ہوتے تھے اور ان کو کشتی کے عرشے پر رکھا جاتا تھا، فوجی اس میں بیٹھ کر دشمن کی طرف آگ اور دوسرے آتشیں مواد پھینکتے تھے جس سے دشمن کی کشتی جل جاتی تھی یا اس کے سوار اندھے ہوجاتے تھے، کبھی کبھی وہاں سے سانپ اور بچھّو بھی پھینکے جاتے تھے(۵۰)

۲۔۴۔ لجام یالگام:

یہ دریا کا ایک اہم اسلحہ تھا، یہ ایک تیز دھار کلہاڑی کی مانند ہوتاتھا اور اس کو کشتی کے آگے لٹکاتے تھے اور اس کو شدّت سے دشمن کی کشتی پر مارتے تھے اور اس کو الٹا کردیتے تھے(۱۵)

۲۔۵۔ ماء الزرق (چونے کا پانی)

دریائی جنگوں میں اس کو استعمال کیا جاتا تھا، یہ مادہ جوش آئے نمک اور سفید زرنیخ کا محلول ہوتا، یا زرج نامی مادّہ ہوتا تھا، اس مادّے کو ایک برتن میں ڈال کر دشمن کی طرف پھینکا جاتا تھا جس سے دشمن کی آنکھیں اندھی ہوجاتی تھیں(۵۲)

۲۔۶۔ کشتی کا برج:

اس کو کشتی اور سواروں کی حفاظت کے لئے بنایا جاتا تھا، کچھ سپاہی اس پر کھڑے رہتے تھے تاکہ اس کی بلندی سے نوکیلے پتھروں سے دشمن کو نشانہ بناسکیں(۵۳)

۲۔۸۔ یونانی آگ:

یہ آگ ماچس کے مصالحہ اور تیل سے بنائی جاتی تھی اور کشتی کے اگلے ستونوں سے جلتے ہوئے گولے کی شکل میں دشمن کی طرف پھینکی جاتی تھی، یا اس آگ کے گولے کو تیل میں بھیگے ہوئے پٹ سن سے بنایاجاتا تھا جو پانی میں بھی نہ بچھ پاتا تھا، ایسے ہی کچّے تیل اور دوسرے مادّوں میںپٹ سن کو بھگوکر اس کام کے لئے استعمال کیا جاتا تھا(۵۵)

۲۔۸۔ المرایا المحرقہ:(آگ لگادینے والا آئینہ)

جنگ میں اسلامی دریائی فوج ایک آئینہ کو بھی استعمال کرتی تھی، اس آئینہ کو گیند کے مانند بنایا جاتا تھا کہ جس میں سورجکی کرنیں ایک مرکزی نقطہ پر جمع ہوجاتی تھی پھر ان شعاعوں کو دشمن کی کشتی کی طرف متمرکز کردیا جاتا تھا اور وہ کشتی آگ پکڑلیتی تھی، یہ عمل اس وقت کارگر ثابت ہوتا تھا جب دشمن کی کشتی اُن شعاعوں کے سامنے ہو(۵۶)

جنگ کے وقت دریائی فوج کی ترتیب (سجاوٹ)

جنگ کے وقت دریائی کشتیوں اور بیڑوں کی سجاوٹ کو دو مرحلوں میں انجام دیا جاتا تھا ۔

۱۔اندرونی سجاوٹ:

اس سجاوٹ سے مراد کشتی کے اندر سپاہیوں کی ترتیب اور ان کا اپنی جگہ تعینات ہونا اور وظائف کی تقسیم ہے، منکلی کے قول کے مطابق، ضعیف اور غیر شجاع فوجی کشتی کے تحتانی طبقہ میں مستقر ہوتے تھے اور اگر اوپر کے طبقہ میں کوئی زخمی ہوجاتا تھا تو اس کو نچلے طبقے میں منتقل کردیا جاتا تھا اور ان کی جگہ تحتانی طبقہ میں موجود سپاہیوں کو بھیج دیا جاتا تھا اور برحسب ضرورت وبربناء تدبیر ہر کشتی پر چار تجربہ کار افراد ہوتے جو زخمیوں کا علاج کرتے تھے، ان کے بدن سے اسلحہ اتارتے ان کو پانی پلاتے اور ان کے زخموں کی مرحم پٹی کرتے تھے(۵۷)

۲۔ بیرونی سجاوٹ:

اس سجاوٹ اور ترتیب سے مراد میدان جنگ میں کشتیوں کے استقرار کی کیفیت، دریائی جنگوں میں کشتیوں کی ترتیب ہے: دریا میں کشتیوں کی ترتیب اور کیفیت اسقرار بالکل ایسے ہی تھی جیسے خشکی کی جنگوں میں ہوتی ہے اور کشتیاں قلب، بائیں بازو، داہنے بازو، مقدمہ اور ساقہ میں تقسیم ہوتی تھی اور دشمن کو محاصرہ میں لینے کے لئے نیم دائرہ میں کھڑی کی جاتی تھیں، کبھی اپنی کشتیوں کو دشمن کی کشتیوں کو غرق کرنے کی خاطر ایک سیدھی قطار میں کھڑا کرتے تھے اور کبھی ان کو اُلٹے نیم دائرہ کی شکل میں ترتیب دیتے تھے(۵۸) ابن منکلی کے قول کے مطابق اگر جنگ دشمن کے علاقہ کے نزدیک یا اس کے علاقہ میں ہوتی تھی یا دشمن ہماری طرف آتا تھا تو ہم ہمیشہ جنگ کے لئے تیار رہتے تھے اور لڑائی کے وقت میدان جنگ کے حالات کے مطابق کشتیوں کو مختلف اشکال میں مستقر کیا جاتا تھا اور لشکر کو میمنہ، میسرہ اور قلب میں ترتیب دیا جاتا تھا اور اس کی بلاواسطہ نظارت کی جاتی تھی اور اس کے ضعیف نقاط کو برطرف کیا جاتا تھا، دشمن کومحاصرہ کے وقت نیم دائرہ کی شکل میں گھیرا جاتا تھا اور اس پر آتش باری کی جاتی تھی، کشتی کی تعداد کے اعتبار سے جنگجو افراد دو یا تین سمتوں میں بٹ جاتے تھے، ایک گروہ پہلے دشمن پر جٹ جاتا اور اس کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا تھا پھر اس کی پشت اور پہلو سے دوسرا گروہ حملہ آور ہوتا تھا اس کے بعد دوسری کشتیاں دشمن کو دھوکے میں ڈال کر ان پر ٹوٹ پڑتی اور تیروں کا نشانہ بناتی تھیں(۵۹) عربی دریائی فوج خصوصاً عباسی دریائی فوج جنگوں میں کشتیوں کی تعداد اور انواع کے مطابق میدان جنگ کو سجاتی تھی ۔اگر جنگ بڑی اور عظیم کشتیوں کے درمیان ہوتی تو چھوٹی کشتیاں ان کے سامنے یا پہلو میں یا پشت پر نہ رہتی تھیں کیونکہ ممکن تھا کہ وہ کشتیاں غرق ہوجائیں بلکہ دور سے اپنی نظامی ترتیب کے مطابق حملے کرتی تھیں تاکہ دشمن کی کشتی کو غرق کردیں، لیکن اگر جنگ چھوٹی کشتیوں یا ہم پلّہ کشتیوں کے درمیان ہوتی تھی تو چھوٹی کشتیاں نزدیک جاتی اور سیڑھی ڈال کر سپاہیوں کو دشمن کی کشتیوں میں اتار دیا جاتا اور پھر وہاں پر قتل وغارت گری ہوتی تھی (۶۰) رومی فوج مسلمانوں کی کشتیوں کے نزدیک آنے سے ڈرتی تھی اور کوشش کرتی تھی کہ ان کی کشتیوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیں(۶۱) ان کی دریائی جنگیں بہت کم دریائی کی گہرائی میں واقع ہوئیں، اکثر جنگوں کا اتفاق ساحلوں یا جزیروں پر ہوا ہے(۶۲) مسلمانوں کی دریائی فوج عید وتیہوار کے موقعوں یا حکومتی رسومات یا جنگ کےلئے الوادعی کےوقت یا جنگ سے واپسی پر خلفاء کو سلامی دیتی تھیں(۶۳)

جنگی کشتیوں کی اقسام

اس زمانے میں جنگی کشتیوں کی بہت سی قسمیں تھیں، بہت سی کشتیاں چھوٹی لیکن تیز رفتار ہوتیں اور اپنی موجودگی کی اطلاع اور دشمن کی شناسائی کے لئے استعمال ہوتی تھیں، دوسری کشتیاں کہ جن کو ”قلاع“ کہا جاتا تھا یہ کشتیاں سپاہیوں جنگی اوزاروں اور اسلحوں اور خودر ونوش کی اشیاء کو منتقل کرنے کے کام آتی تھیں، بہت سی کشتیاں متوسط ہوتی تھیں ان کو تیل، آتشیں مواد کے پھینکنے کےلئے استعمال کا جاتا اور ان کو آتش افکن کہا جا تھا ۔

اس زمانے کی مہم کشتیاں:

۱۔ سفینہ: یہ دریائی کشتیوں کے لئے ایک عام نام تھا(۶۴)

۲۔ اشونہ: یہ سب سے بڑی اور سب سے کار آمد کشتی تھی، اس میں حملے اور دفاع کے لئے برج اور قلعہ ہوتا تھا، یہ کشتی اوسطاً ۱۵۰ سپاہیوں کو اٹھاسکتی تھی(۶۵)

۳۔ البارحہ: یہ ایک جنگی کشتی تھی، عربوں نے اس کے بنانے کا ہنر ہندیوں سے سیکھا تھا، اس کو دریائی قزاق تجارتی کشتیوں کے لوٹنے میں استعمال کرتے تھے(۶۶) سن ۲۵۱ میں اس قسم کی دس کشتیاں بصرہ سے بغداد پہنچائی گئیں، ہر کشتی میں ۳۹ سپاہی اور تیراک اور چند بڑھئی اور چند آتش باز ہوتے تھے ان میں سے ایک کشتی کی ظرفیت ۴۵ آدمی تھی(۶۷)

۴۔ القرقور: یہ ایک بڑی کشتی تھی اور جنگی کشتیوں کے ساتھ اسلحہ اوردیگر سامان لےکر چلتی تھی ۔

۵۔ السمیریہ: یہ بھی ایک جنگی کشتی تھی جس کو عباسی جنگ میں اسلحہ اور جنگی سازوسامان، تیر اندازوں اور تیراکوں کو منتقل کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔

۶۔ الحرَّاقہ: یہ ایک قسم کی جنگی کشتی تھی جس میں آتشیں مواد اور یونانی آتش باری کے مخصوص آلے رکھے جاتے تھے(۷۰) نیز اس میں منجنیق بھی نصب رہتی تھی، اس کشتی میں دشمن کی کشتی کو کھنچنے اور اس کو غرق کرنے کے لئے کمندیں بھی موجود ہوتی تھیں)۷۱) یہ آتش افکن کشتیاں سواری کے لئے بھی استعمال ہوتی تھیں۔

۷۔ صندل: یہ کشتی ایک بڑی اور مسطح کی کشتی تھی جس کو فوجیوں اور جنگی سازوسامان اور کمک کے لئے استعمال کیا جاتا تھا(۷۲)

۸۔ الحربیہ: یہ ایک ایسی کشتی تھی جس کو ہارون کے زمانے میں جنگ کے لئے استعمال کیا جاتا تھا ۔

۹۔ الطرائد: یہ کشتی گھوڑوں اور ان کا سامان نیز جنگی آلات کومنتقل کرنے کے کام آتی تھی ۔

۱۰۔ البطش: یہ ایک عظیم جنگی کشتی تھی کہ جس کے بادبان کی تعداد ۴۰ ہوتی تھی اس کشتی میں سپاہیوں کے علاوہ منجنیق اور اسلحے بھی لادے جاتے تھے ان میں سے ہر کشتی میں سویوں جنگجویوں کے اٹھانے کی گنجائش ہوتی تھی اور کبھی کبھی اس میں ۷۰۰ سپاہیوں کو سوار کرلیا جاتا تھا، اس کشتی میں کئی منزلیں ہوتی تھیں اور ہر منزل میں فوجیوں کا ایک خاص گروہ مستقر رہتا تھا(۷۴)

۱۱۔ المسطح: بحری فوج میں یہ ایک جنگی کشتی تھی اس کا وظیفہ اسلحوں کے اٹھانے کا تھا اور اس کو حمّالہ بھی کہتے تھے(۷۵) اس کشتی میں گھوڑوں، سپاہیوں اور کشتی کے کاری گروں کو جو بوقت ضرورت کشتی کی مرمَّت اورحفاظت کے لئے آمادہ رہتے تھے، کے علاوہ اشیاء خوردونوش اور جنگی سازسامان بھی لادا جاتا تھا ۔

مزید  حقيقت شيعه شعيت کي حقيقت اور اس کي نشو و نما(تیسری فصل)

۱۲۔ الاعزبہ: یہ ایک بڑی کشتی تھی جس کا اگلا حصّہ کوّے کی منقار کے مانندہوتا تھا اور اس کی ظرفیت ۱۸۰ فوجیوںکی ہوتی تھی، دشمن اس کشتی سے خائف رہتے تھے اور پورپ والے اس کو کروتہ(۷۶) کہتے تھے(۷۷)

۱۳۔ الفلوکہ: ایک چھوٹی کشتی تھی جس کا وظیفہ فوجیوں اور گھوڑوں کو منتقل کرنے کا تھا ۔

۱۴الشیطی․: یہ ایک بہت تیز رفتار کشتی تھی اور اس کے چلانے کے لئے ۸۰ ملّاحوں کی ضورت ہوتی تھی، اس کشتی کو دشمن کی اطلاع حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا ۔

۱۵۔ العشیری: یہ ایسی ناویں تھیں کہ جو ۲۰ ملاحوں سے چلتی تھیں اور ان کو فوجیوں اور جنگی سازوسامان کے اٹھانے کے لئے کام میں لیا جاتا تھا ۔

۱۶۔ القارب: یہ ایک چھوٹی کشتی تھی جو بیڑے کے ساتھ چلتی تھی اور کشتی سواروں کے ضروری سامان کواٹھائے رہتی تھی اور دشمن کی شناسائی میں بھی اس کو استعمال کیا جاتا تھا(۷۸)

۱۷۔ الشموط: یہ ایک چھوٹی کشتی تھی جس کو بڑی کشتیوں کی حفاظت کے لئے استعمال کیا جاتا تھا(۷۹)

۱۸۔ الطیارہ: یہ ندیوں اور نہروں میں چلنے والی ایک مخصوص کشتی تھی جو اپنے ہلکے پن اور تیز رفتاری میں ممتاز سمجھی جاتی تھی اور اس کو دجلہ اور فرات میں چلایا جاتا تھا(۸۰)

۱۹۔ الزنبریہ: یہ بھی نہروں اور ندیوںمیں چلنے والی کشتی تھی اور اس کو فوجیوں کو منتقل کرنے کے لئے نہر فرات میں چلایا جاتا تھا(۸۱)

۲۰۔ لوسری: یہ کشتی نہروں کی جنگ میں استعمال ہوتی تھی، جیسے دجلہ اور فرات میں لڑی جانے والی جنگیں(۸۲)

۲۱الشبارہ: یہ نہروں میں چلنے والی ایک مخصوص ناؤ تھی جس کو دجلہ میں چلایا جاتا تھا، مامون رشید کے اختیار میں ان جنگی کشتیوں کے علاوہ اس قسم کی چھوٹی بڑی چار ہزار ناویں تھیں(۸۳)

۲۲۔ العلابیات: یہ ایک جنگی کشتی تھی کہ جو عصراموی اور عباسی میں مصر کے بحری بیڑے میں شامل تھی(۸۴)

۲۳۔ ملقوطہ: یہ ایک بڑی جنگی کشتی تھی جو معمولاً بیڑے سے پہلے چلتی تھی تاکہ اس سے فوجیوں، اسلحوں اور دیگر سامان کو منتقل کیا جاسکے(۸۵)

حاشیه جات :

۱۔ دیکھیں: جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، (بیروت دارالعلم للملائین، ۱۹۶۸م)چاپ سوم، مصر، مطبع الہلال، ۱۹۲۲، ج۱، ص۲۰۵۔

۲۔ اسراء/ ۶۶۔۶۷، اعراف ۱۶۲/ انعام۹۷۔۶۳۔۵۹/ یونس۲۲۔

۳۔ عنکبوت/۵۱، کہف /۷۱۔۷۹ اور ایسے ہی اس آیت میں جس میں خداوندعالم فرماتا ہے : ”اور ہ ایسی ذات ہے جس نے تمھارے لئے ستاروں کوخشکی اور دریا کے اندھیروں میںراہنما قرار دیا“ انعام/۹۷، یہ کام قطب نما کے بغیر ممکن نہیں تھا اور یہ کنا بے جا نہ ہوگا کہ علم نجوم نے مسلمانوں کو دریا میں راستہ کی کھوج کرنے میں کمک کی ہے۔

۴۔ محمد بن جریر طبری، تاریخ طبری، بیروت، داراحیاء التراث العربی ودار المعارف، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم ۱۹۶۶، ۳/۳۱۶۔ ۳۱۵۔

۵۔ تاریخ کی کتابوں نے عمر بن خطاب کے زمانہ میں چند دریائی جنگوں کو ذکر کیا ہے (دیکھیں بعد والے صفحوں پر)

۶۔ محمد بن عیصبی ترمذی، سنن ترمذی، تحقیق عبدالوہاب عبدالطیف، بیروت، دار الفکر، ط۳، ۱۹۸۲)، ۷/۱۴۸؛ سلیمان اثلث ابی داؤد، سنن ابی داؤد، بیروت، دارالفکر ۱۳۹۸ھ ق۔، ۱/۳۸۹۔

۷۔ ابی داؤد، اسی جگہ پر۔

۸۔ محمد بن اسماعیل بخاری، صحیح (باب الجہاد) بیروت، دار احیاء التراث العربی، ط۲، ۱۳۰۱ھ، ۳/۲۰۱۔

۹۔ ابن داؤد، اسی جگہ ، بخاری، صحیح (باب الجہاد والسّیر)، ۳/۲۰۱۔

۱۰۔ ابو عبدالله بن ماجہ، سنن ابن ماجہ،تحقیق محمد فوٴاد ،عبدالباقی، بیروت المکتبة العلمیہ (بغیر تاریخ کے)، ۲/۱۷۸۔

۱۱۔ سعاد ماہر، البحریہ فی مصر الاسلامیہ وآثار الباقیہ، مصر دار المعارف (بغیر تاریخ کے)، ۶۲۔۶۳۔

۱۲۔ وہی ۔

۱۳۔ اندلس کے مورخین اور فتوح نگاروں نے اندلس کی فتح کی جو تاریخ ثبت کی اس میں ایسی کوئی گزارش نہیں ملتی، انھوں نے اندلس کی فتح کی تاریخ ولید بن عبدالملک کے دوران خلافت سن ۹۲ ہجری بتائی ہے۔

۱۴۔ طبری، گذشتہ حوالہ، ۳/۳۱۴۔

۱۵۔ گذشتہ حوالہ، ۳/۳۳۸۔

۱۶۔ عبدالعزیز الدوری، العصر العباسی الاول، بیروت، دارالطلیعہ للطباعة والنشر، ۱۹۴۸ء، ۴۱/ عبدالعزیز السالم، احمد مختار العبادی، تاریخ البحریہ الاسلامیہ فی مصر والشام، بیروت دار الماحد، ۱۹۷۲ء، ۱۴؛ خدوری، الحرب والسّلم، فی شرعة الاسلام، بیروت، دار المتحدہ للنشر ۱۹۷۳ء، ۱۵۴۔۱۵۱۔

۱۷۔ فارق عمر فوزی، تاریخ العراق فی عصر الخلافة العربیہ الاسلامیہ، بغداد (بغیر تاریخ کے)، ۱۹۵۔

۱۸۔ عبدالعزیز الدوری،العصر العباسی الاول، ۴۸۔

۱۹۔ فارق عمر فوزی، اسی جگہ۔

۲۰۔ عبدالعزیز الدوری،گذشتہ، ۴۸، ایسے ہی دیکھیں عبدالله عنان کی ”تاریخ الدولة الاسلامیہ فی اندلس“ میں۔

۲۱۔ طبری گذشتہ حوالہ، ۸/۴۲۔

۲۲۔ گذشتہ حوالہ، ۸/۳۳ ۔۴۲۔

۲۳۔ فاروق عمر فوزی، گذشتہ، ۱۹۵۔

۲۴۔ طبری، گذشتہ، ۸/۱۹۲ ۔۱۴۰: عماد الدین ابوالفدا، ابن کثیر، البدایة النہایہ، فی التاریخ، بیروت دارالفکر، ۱۹۶۶ء، ۶۵/۴۷۔

۲۵۔ فاروق عمر فوزی، گذشتہ، ۱۹۶۔

۲۶۔ اسی جگہ۔

۲۷۔ اسی کتاب میں ،۲۰۴۔

۲۸۔ طبری، گذشتہ، ۸/۱۱۶: عزّدالین احمد، ابن اثیر الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، ۱۹۶۵ء، ۶/۴۷۔

۲۹۔ Choronogradhia Col/1936/theophanes

۳۰۔ History of the byzantine empire. oxford/1971/ p:83/ finaly.

۳۱۔ عبداالعزیز الدوری، گذشتہ،۱۱۴۔

۳۲۔ سعاد ماہر، گذشتہ، ۸۹۔

۳۳۔ مصر کے شمال میں ایک شہر۔

۳۴۔ عبدالعزیز السّالم، گذشتہ، ۱/۴۱۔

۳۵۔ Levey/ the social struture of islam p:454/ roben

۳۶۔ سعاد ماہر، گذشتہ، ۳۰۰۔

۳۷۔ غزہ غولی، العقیلہ العربیہ فی التنظیمات الماداریہ والعستریہ فی العراق والشام خلال العصر العباسی الاول، بغداد آفاق العربیہ ۱۹۸۶ء، ۱۹۷۔

۳۸۔ عبدالعزیز السّالم، گذشتہ، ۳۸۔

۳۹۔ کرد علی، خطط الشام، بیروت، دار النفائس ۱۹۸۱ء، ۵/۴۰۔

۴۰۔ عبدالعزیز السالم، گذشتہ ۴۳۔

۴۱۔ ابن کثیر، البدایة والنہایہ، ۱۰/۱۴۴۔

۴۲۔ عبدالمنعم ماجد، العصر العباسی الاول، قاہرہ، مکتبہ الآنجلو المصریہ، ط۳، ۱۹۸۴، ۲۸۶۔

۴۳۔محمد بن محمود ابن منکلی، الادلة الرسمیہ فی التعالی العربی، تحقیق محمودیت خطاب، بغداد، مطبعة الجمع العلمی العراقی، ۱۴۰۹ھ ق، ۲۴۱۔۲۴۲۔

۴۴۔ جرجی زیدان، تاریخ التمدن الاسلامی، ۱/۲۳۱۱۔

۴۵۔ ابن منکلی، گذشتہ، ۳۰۵۔ ۲۵۱۔

۴۶۔ سعاد ماہر، گذشتہ، ۳۰۳۔

۴۷۔ کلالیب، جمع کلاب، فارسی میں اس کو قلّ٘اب کہتے ہیں (راعد، ۷۶۹)

۴۸۔ حسن بن عبدالله عباسی، آثار الاول فی ترتیب الدول، قارہ، مطبعة البرلاق، ۱۲۹۵ء، ۱۹۷۔

۴۹۔ حسن بن عبد ا لله، گذشتہ، ۱۹۶: سعاد ماہر، گذشتہ، ۲۰۳۔

۵۰۔ حسن بن عبدالله، اسی جگہ ، سعاد ماہر، اسی جگر پر

۵۱۔ حسن بن عبدالله، اسی جگہ پر۔

۵۲۔ بحری فوج میں موجود ایک گروہ رزراقین کا تھا، یہ لوگ ایک محلول کو کہ جس وضاحت بیان ہوچکی ہے دشمن کی طرف پھینکتے تھے۔

۵۳۔ ابن تغری بردی، النجوم الزاہرہ فی اخبار ملوک المصر والقاہرہ، ۴/۵۱۔

۵۴۔ سعاد ماہر، گذشتہ حوالہ، ۷۴۔

۵۵۔ محمود عواد، الجیش والاسطول، ۵۲۲۔۵۲۵۔

۵۶۔ گذشتہ حوالہ، ۵۲۹۔

۵۷۔ ابن منکلی، گذشتہ، ۲۴۴۔

۵۸۔ حسن بن عبدالله، گذشتہ، ۱۹۵۔

۵۹۔ الادلة الرسمیہ فی التعالبی الحربیہ، ۲۴۸۔ ۲۴۹۔

۶۰محمد یاسین الحموی، تاریخ اسطول العربی، ۱۰۸۔ ۱۰۹۔

۶۱۔ جہادیة القرة غولی، العقیلہ العربیہ، ۲۴۶۔

۶۲۔ گذشتہ حوالہ، ۲۴۷۔

۶۳۔ نعمان بن ثابت، الجندیہ فی الدولة العباسیہ، بغداد، مطبعہ اسد، ط۲، ص۱۹۵۶ء،

۶۴۔ انور رفاعی، النظم الاسلامیہ، ۱۶۱۔

۵۶۔ اسی جگہ۔

۶۶۔ ابوالحسن علی ابن سیدہ، المختص فی اللغة والادب، بیروت، دار الفکر، ۱۳۹۸ھ، ۱۰/۲۶، علی ابن حسن مسعودی، التنبیہ والاشراف، بیروت، (بغیر تاریخ کے)، ۲۰۷۔

۶۷۔ طبری، گذشتہ، ۹/۳۰۶۔

۶۸۔ انور رفاعی، گذشتہ، ۱۶۱۔

۶۹۔ جہادیة القرة غولی، گذشتہ، ۲۴۸۔

۷۰۔ محمد عواد، گذشتہ، ۴۱۲۔

۷۱۔ نعمان ثابت، گذشتہ، ۱۴۳۔

۷۲۔ انور رفاعی، گذشتہ، ۱۶۱۔

۷۳۔ ابن منکلی، الادلة الرسمیہ فی التعالبی الحربیہ، ۲۴۳۔

۷۴۔ شہاب الدین نوبری، نہایة الارب فی فنون الارب، قاہرہ، دار الکتب المصریہ، ۱۳۴۵ھ، ۹/۱۲۳۔ مقدسی، احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم، ۳۲۔

۷۵۔ انور رفاعی، گذشتہ، ۱۶۱۔

۷۶۔ Corrtte

۷۷۔ عبدالمنعم ماجد، تاریخ الحضارة الاسلامیہ، ۷۵۔

۷۸۔ مقدسی، احسن التقاسیم، ۳۲۔

۷۹۔ عبدالمنعم ماجد، گذشتہ، ۷۵، محمود عواد، گذشتہ، ۴۱۵۔

۸۰۔ عبدالمنعم ماجد، اسی جگہ۔

۸۱۔ طبری، گذشتہ، ۷/ ۱۴۹۔

۸۲۔ جہادیة القرة غولی، العقیلة العربیہ، ۲۴۹۔

۸۳۔ اسی جگہ۔

۸۴۔ گذشت حوالہ ۲۵۰۔

۸۵۔ مقدسی، گذشتہ، ۳۱۔

مآخذ :

۱۔ ابن اثیر، عزالدین احمد بن ابی المکارم: الکامل فی التاریخ (بیروت دارالصادر، ۱۹۶۵ء)۔

۲۔ ابن سیرہ، ابوالحسن علی بن اسماعیل: المخصص فی اللغة والادب (بیروت، دار الفکر، ۱۳۹۸ھ ق)۔

۳۔ ابن کثیر، عماد الدین ابوالفداء اسماعیل: البدایة والنہایہ فی التاریخ (بیروت، دار الفکر، ۱۹۶۶ء)۔

۴۔ ابن ماجہ، ابو عبد الله: سنن ابن ماجہ، تحقیق محمد فوٴاد عبدالباقی (بیروت، المکتبة العلمیہ، بغیر تاریخ)۔

۵۔ ابن منکلی، محمد بن محمود: الادلة الرسمیہ فی التعابی الحربیہ، تحقیق محمد د،یت خطاب (بغداد مطبعة الجمع العلمی العراقی، ۱۴۰۹ھ)۔

۶۔ ابو داؤد، سلیمان بن اشعث: سنن ابی داؤد (بیروت، دارلفکر، ۱۳۹۸ھ)۔

۷۔ ترمذی، محمد بن عیسی: سنن الترمذی، تحقیق عبدالوہاب عبدالطلیف (طبع سوم: بیروت، دارالفکر، ۱۳۹۸ھ)۔

۸۔ عباسی، حسن بن عبدالله: آثار الاول فی ترتیب الدول (قاہرہ، بولاق، ۱۲۹۵ھ)۔

۹۔ طبری، محمد جریر : تاریخ الرسل والملوک، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم (بیروت، دارالمعارف، ۱۹۶۶ء)۔

۱۰۔ مسعودی، علی بن الحسین: التنبیہ والاشراف (بیروت، الموسسة الاعلمی للمطبوعات، بغیر تاریخ)۔

۱۱۔ نوبری، شہاب الدین احمد: نہایة الارب فی فنون الارب (قاہرہ، دار الکتب المصریہ، ۱۳۴۵ھ)۔

۱۲۔ جواد علی: المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام (بیروت الدار المتحدہ للنشر، ۱۹۶۸ء)۔

۱۳۔ خدوری عبد العزیز، الحرب والسلم فی شرعة الاسلام (بیروت، دار المتحدہ للنشر ۱۹۷۲ء)۔

۱۴۔ ری، عبدالعزیز: العصر العباسی الاول، دراسة فی التاریخ السیّاس والاداری والمالی (بیروت، دار الطلیعہ للطباعة والنشر ۱۹۴۵ء)

۱۵۔ زیدان، جرجی: تاریخ التمدن الاسلامی (طبع سوم، مصر، مطبعة الہلال، ۱۹۳۲)

۱۶۔ سالم، سعید العبدالعزیز وعبادی، احمد مختار: تاریخ البحریة الاسلامیہ فی مصر والشام (بیروت، دار الاحد، ۱۹۷۲ء)

۱۷۔ سمو، تاریخ البحریہ الاسلامیہ فی المغرب والاندلس (بیروت دارالنہضة العربیہ، ۱۹۶۹ء)

۱۸۔ غولی، جہادیہ القرة: العقیلة العربیہ فی التنظیمات الاداریہ والعسکریہ فی العراق والشام خلال العصر العباسی الاول (بغداد، آفاق العربیہ، ۱۹۸۶ء)

۱۹۔ کرد علی، عبدالمنعم: خطط الشام (بیروت، دار النفائس، ۱۹۸۱ء)

۲۰۔ ماجد، عبدالمنعم: العصر العباسی الاول (قاہرہ، مکتبة الآنجلو المصریہ، ۱۹۸۴ء)

۱۱۔ نعمان بن ثابت، الجندیہ فی الدولة العباسیہ (بغداد، مطبع اسعد، ۱۹۶۵ء)

۲۲۔ History of the byzantine empire. oxford/1977/ finaly.

۲۳۔ The social struture of islam/ robe/ levey

۲۴۔ Choronogradhia/ col/ 1977/ theophanes

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.