عبادت کی شیرینی کا ادراک اور اس کے دوام کا راز:

0 3

عبادت کو جاری رکھنے اور اس کے دوام کے سلسلہ میں اہم یہ ہے کہ انسان عبادت سے لذت محسوس اور احساس کرکے کہ اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے ، جو کام انسان کیلئے لذت بخش نہ ہو اس سے جلدی تھک جاتا ہے عبادت کی حلاوت انسان کیلئے اس امر کا سبب بن جاتی ہے کہ انسان اس سے زیادہ دلچسپی پیدا کرے اور یہ لذت اورحلاوت گناہ کو ترک کئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی ہے گناہ انسان کے لئے عبادت کی لذت کے چھن جانے کا سبب بنتاہے اس لحاظ سے بعض معصومین کی یہ دعا ہوتی تھی کہ خدایا ! ہمیں اپنی عبادت کی لذت و حلاوت عطا فرما!

ممکن ہے ایک بیمار کیلئے بہترین غذاآمادہ کی جائے لیکن بیماری کی وجہ سے اس کیلئے اس میںکوئی مزہ اورلذت نہ ہو لیکن صحت مند اور بھوکے انسان کیلئے خشک روٹی کا ایک ٹکڑا بھی لذت بخش ہوتا ہے ،پس اہم یہ ہے کہ انسان میں عبادت کی لذت کی ضرورت کا احساس زندہ ہوجائے ۔

گزشتہ جملات میں اشارہ ہوا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

” نما ز کے بارے میں میری دلچسپی بھوکے انسان کی غذا سے دلچسپی اورمیلان سے زیادہ ہے ، کیونکہ وہ کھانے پینے سے سیر ہوتے ہیں لیکن میں نماز سے سیر نہیں ہوتا ہوں ”

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام بندگی خد امیں غرق ہونے کے سلسلے میں عبادت کے رابطے کے بارے میں فرماتے ہیں: 

” َلَا وَ اِنَّکَ لَوْ وَجَدْتَ حَلَاوَةَ عِبَادَةِ اﷲِ وَ رَایتَ بَرْکَاتِھَا وَ اسْتَضَْتَ بِنُورِھَا ، لَمْ تَصْبِرْ عَنْھَا سَاعَةً ، وَ لَو قُطِعْتَ ِرْباً ” ١

مزید  5محرم الحرام  61ہجری تاریخ کے آئینہ میں

اگر خدا کی بندگی کی حلاوت کو درک کرو ، اور اس کے برکات پر غور کرو گے اور اس کے نور سے اپنے دل کو روشن کرو گے تو ایک لمحہ کیلئے بھی اس کو ترک نہیں کرگے ، حتی اگر ٹکڑے ٹکڑے بھی ہوجاؤ ۔

ایک دوسری روایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

” .. وَ طَلَبْتُ حَلَاوَةَ الْعِبَادَةِ ، فَوَجَدْتُھَا فِی تَرْکِ الْمَعْصِیَةِ ” 2

”میں نے عبادت کی حلاوت کی درخواست کی اور سرانجام اسے گناہ کو ترک کرنے میں پایا ”

١۔ مستدرک الوسائل ، ج ١١، باب ١٧ ، ص٢٥٣

2:مستدرک الوسائل، ج ١٣، باب ١٠١ ، ص ١٧٣

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.