عالم اسلام کے مصائب کا ایک ہی حل

0 1

آج اگر عالم اسلام مشکلات میں گھرا ہوا ہے تو خود غرص حکمرانوں کے سبب ہے جنھیں سرد جنگ کے بعد امریکا اپنے گھناو¿نے مقصد کے لیے مسلسل استعمال کر رہا ہے ۔اس نے پہلے مرحلے میں صدام حسین کوہلاّ شیری دی کہ کویت پر چڑھائی کرئے ۔جس کو بنیاد بناکر عرب ممالک میں اپنی فوجیں اتار دیں اور مستقل اڈے بنا لیے۔کویت کو مثال بناتے ہوئے عراق کو سعودی عرب کی سلامتی اور بادشاہت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنا کر پیش کیا تاکہ ان کو صدام کی جارحیت سے بچانے کے لیے امریکی افواج کا سعودی عرب میں ہونا ناگزیر ثابت ہو جائے۔ اس کے بعد کیا ہوا سب تاریخ کا بھیانک حصہ بن گیا ہے۔پہلے ایک عرب ملک عراق کو ہی عربوں کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا اور اب یہی کچھ ایران کے ذریعے کر رہا ہے۔ایک طرف اسرائیل کو بار بار ہلاّشیری دیتا کہ ہے ایران پر حملہ کرنے کی بڑھک مارتا رہے تاکہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو مزید تیز کرے اور دوسری طرف ایران کے اسی ایٹمی پروگرام سے عربوں کو ڈراتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے بعض لوگ ایران کے ایٹمی پروگرام کو امریکا کی ملی بھگت اور احمد نژادی کو امریکی ایجنٹ تک کہہ رہے ہیں ۔امریکا نے صدا م اور ایران کو استعمال کرنے کے بعد یمن کے ایک قبیلے کو ہلا شیری دی جس نے سعودی عرب کے ایک سرحدی علاقے پر قبضہ بھی کر لیا ہے ۔یمن کی اس جارحیت اور ا س میں القاعدہ کی موجودگی کو بنیاد بنا کر کسی بھی وقت اس کاحال تورا بورا جیسا کر نے کے بعد یہاں بیٹھ جائے گا ۔ دوسری طرف صومالیہ کے بحری قزاقوں کی سرپرستی کررہا ہے دھڑا دھڑ بحری جہاز اغوا ہو رہے ہیں ۔ کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پرا قوام متحدہ سے ایک قرارداد پاس کرواکر صومالیہ میں فوجی کاروائی کر سکتا ہی، بحری قزاقوں کا سدباب کرنے کے بہانے یمن اور صومالیہ کے سمندوںکواپنے کنٹرول میں لے لے گا تاکہ چین کی تجارت کو قابو میں رکھنے کے ساتھ ساتھ سات سمندر پار اپنے مفادات کی رکھوالی کر سکے ۔ امریکا یہ سب اپنی قوم کے لیے کر رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر عالم اسلام کو کیا ہو گیا ہی؟کیوں اپنے اجتماعی مفاد کو ترجیح نہیں دیتا؟کیوں ذاتی مفاد کے لیے امریکا کا آلہ کار بنا ہواہی؟کیوں اسکے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔اگر ایٹمی ممالک پر ہی ایک نظر ڈالی جائے تو پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے۔دنیا میں اس کے علاوہ بھی چھ باضابطہ ایٹمی ممالک ہیں اسکے علاوہ شمالی کوریا اور اسرائیل بھی اس صلاحیت کے مالک ہیں صرف دھماکے نہیں کیے۔ لیکن سب سے زیادہ شور مغرب میں پاکستان کے ایٹم بم پر ہوا اور اب بھی اسکو دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکا ،فرانس، برطانیہ کو عیسائی بم شمالی کوریاا ور چین کے ایٹم بموں کو بدھ مت بم اسرائیل کے ایٹم بم کو یہودی بم اور ہندوستان کے ایٹم بم کو ہندو بم تو نہیں کہا گیا لیکن پاکستان کے ایٹم بم کو اسلامی بم کہا گیا۔شاید اس لیے بھی کہا گیا کہ اس کے بننے کے لیے کچھ اسلامی ممالک نے سرمایا فراہم کیا اور ایٹمی دھماکوں کی خوشی پورے عالم اسلام میں منائی گئی بالخصوص سعودی عرب میں۔ ماسوائے عالم اسلام کے حکمرانوں کے دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ اسلامی تعلیمات میں دنیا بھر کے مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگرجسم کے کسی بھی حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم تکلیف سے تڑپ اٹھاتا ہے اور اس تکلیف کے سدباب کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔لہذا پاکستان کا ایٹم بم صرف پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا ضرورت پڑنے پر مراکش سے انڈونیشیا تک کی حفاظت کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ نظریاتی طور پر تو وہ ٹھیک ہی سوچتے اور سمجھتے ہیں لیکن عالم اسلام اس وقت خود بدقسمتی سے اس قابل نہیں ۔اگر ہم اس کو اس طرح دیکھیں کہ اس وقت دنیا میں58اسلامی ممالک ہیں ان کا رقبہ 2کروڑ97لاکھ کلو میٹر اور آبادی1 ارب 50 کروڑ ہے۔ ان کے پاس مجموعی طور پر1 کروڑ18لاکھ فوج (بشمول پیرا ملٹری اور ریزور ٹروپس ) ہے ۔ جس پریہ 1 کھرب66 ارب ڈالرسالانہ خرچ کرتے ہیں۔ ان میں سے 24 ممالک کی سرحدیں ایک دوسرے کے ساتھ ہیںیعنی ان ممالک کی سرحدیں صرف اسلامی ممالک کے ساتھ ملتی ہیں نہ کہ غیر مسلم ممالک کے ساتھ ۔ پھر بھی یہ ممالک 48 لاکھ کی فوج پر مجموعی طور پر سالانہ 1 کھرب ڈالر اس وجہ سے خرچ کرتے ہیں کہ انھیں اپنے ہی مسلمان بھائیوں سے خطرہ ہے جو کہ بطور مسلمان میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ میری سمجھ سے یہ بھی بالاتر ہے کہ دو پڑوسی مسلمان ممالک آخر آپس میں اختلافات میں کیوں لڑکر اس حد تک جا سکتے ہیں جہاں انھیں ایک دوسرے کے خلاف فوج استعمال کر نی پڑے۔مثلاًسعودی عرب کی سرحدیں یمن، یواے ای،قطر، بحرین،کویت، عراق اوراردن سے ملتی ہیں لیکن پھر بھی38ارب ڈالر سے زائد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔آخر کیوں؟ اسے کس سے خطرہ ہی؟کیا ایک گھر میں بھائیوں کے آپس میں اختلافات نہیں ہوتے۔لیکن کیا ایسے بھائی کبھی معاشرے میں باعزت اور کامیاب ہو سکتے ہیں جو اختلافات کو افہام تفہیم سے حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے ہی مٹانے کے لیے اسلحہ کا ڈھیر رکھتے ہوں۔درست ہے کہ عالم اسلام کے ایک ایک انچ کی حفاظت کرنا فرض ہے لیکن صرف اپنے اپنے گھر کی کیوں؟ سب ملکر کیوں نہیں ؟ اگر عالم اسلام کسی نہ کسی طرح ایک جھنڈے تلے جمع ہو جائے جہاں ہر ملک اپنی الگ الگ فوج رکھنے کے بجائے عالم اسلام کی ایک فوج ہو جہاںعالم اسلام کے کسی بھی ملک پر حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہو جہاں کسی بھی بیرونی جارحیت کامقابلہ کوئی ایک ملک کے بجائے پورا عالم اسلام ملکرکرئے تو مسلمان ممالک کے سالانہ کم از کم ایک کھرب ڈالر بچ جائیں گے۔ یہ دولت دفاع پر خرچ کرنے کے بجائے عوام کا معیارزندگی بہتر بنانے پر خرچ کی جائے۔ صرف زراعت پر خرچ کی جائے تو عالم اسلام ہی کیا پوری دنیا کی بھوک مٹ جائے ۔ اگر تعلیم پر خرچ کی جائے تو کائنات ہماری دسترس میں ہو، صحت پر خرچ کی جائے تو کئی شوکت خانم جیسے ریسرچ سینٹر اور ہسپتال بن جائیں۔ 2005سے 2009 تک یو اے ای چوتھا بڑا خریدار رہا ہے ہتھیاروں کا جس نے 5.6 ارب ڈالر خرچ کیے اورامریکا اس کا سب سے بڑا سپلائیرتھا۔2000سے 2007 تک سعودی عرب نے 26.4 ارب ڈالر،یو اے ای نے 14.3 ارب ڈالر، پاکستان نی13.7 ارب ڈالر، مصر نے 12.3ارب ڈالر،شام نے 6.1 ارب ڈالر کے جنگی آلات صرف امریکا سے خریدے تھے ۔کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای کے تمام پڑوسی مسلمان ممالک ہیں تو پھر انھیں کس سے خطرہ ہے جس کے لیے خدا کے دئیے ہوئے وسائل مسلمانوں کی فلاح وبہبودکے بجائے یہودیوں کی جھولیوں میں ڈال رہے ہیں۔ اگر یہ کسی ایک جھنڈے تلے ہوتے ان کی مشترکہ فوج ہوتی تو امریکا پھر انھیں کس سے ڈرا کر صرف پانچ ملکوں کو 73ارب ڈالر کا اسلحہ بیچتا۔عرب ملکوں کے ہتھیاروں کی خریداری کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہاہے کہ اگر ایران نے ایٹمی دھماکا کر دیا تو پھر سعودی عرب ،یو اے اور عراق بھی ایسا ہی کریں گے۔ جب یہ کریں گے تو ترکی کیوں پیچھے رہے گا۔شاید یہی سب کچھ امریکا چاہتاہے ،ایران کے ساتھ ساتھ عرب کے سرمائے کو ایٹمی اسلحہ کی بھٹی میںجھونک کر رہے گا۔یہ تو کوئی بھی نہیںمان سکتا کہ سعودی عرب اور یو اے ای یہ ہتھیاراسرائیل کے خلاف استعمال کرنے کے لیے خرید رہے ہیں ۔کیونکہ جب امریکا نے پاکستان کو فروحت کیے گئے ہتھیار بھارت کے خلاف استعمال کرنے سے روک دیا تھا تو عربوں کو انھیں اسرائیل کے خلاف کیسے استعمال کرنے دے گا؟ اگر مسلمان ممالک ایک جھنڈے تلے جمع ہوں تو پھر نہ ایران کو الگ سے ایٹم بم بنانے کی ضرورت ہو نہ لیبیا کو۔ نہ انھیں اس پر مزید اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑیں۔ پاکستان کا ایٹم بم ہی پورے عالم اسلام کا ایٹم بم ہو۔یہی بم مراکش کے ساحلوں سے انڈونیشیاکے جنگلوں کی حفاظت کے لیے کافی ہو۔عالم اسلام کے عوام کاچاہے کسی بھی فقہہ سے تعلق ہوچاہتے ہیں کہ عالم اسلام متحد ہو انکے مفادات نقصانات مشترک ہوں تمام اسلامی ممالک کسی ایسے ا تحاد میں شامل ہوں جن کی ایک کرنسی،مشترکہ مارکیٹ، دفاع، خارجہ اور پارلیمنٹ ہو لیکن ان کے حکمرانوں کو یہ منظور نہیں۔ کیونکہ ان کے ذاتی مفادات اسی میں ہیں کہ یہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجدوں کے مختارکل رہیں۔

مزید  قرآن کريم کي ظاہري اور حقيقي تعظيم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.