عاشورا ! نبرد جاوداں

0 0

السلام عليک يا ابا عبداللہ

اشارہ

تقريبا دو سال قبل ہماري ملاقات محقق و مصنف جناب ڈاکٹر محمد رضا سنگري سے ہوئي – ملاقات کے دوران ہميں يہ بات معلوم ہوئي کہ وہ ايک جديد روش کے ذريعے واقعہ عاشورا کے متعلق تحقيق کر رہے ہيں – طے يہ ہوا  کہ اس تحقيق کا نتيجہ سلسلہ وار تحارير کي شکل ميں ” عاشورا ” کے عنوان سے ” صف ” نامي مجلے ميں شائع کيا  جاۓ –

ساتھيوں کے لڑتے وقت امام کا برتاؤ

ابا عبداللہ الحسين (ع ) کے ساتھي جب ميدان کو جاتے تو امام عليہ السلام  ان کي رہنمائي ، حوصلہ افزائي اور ان کے ليۓ دعا  کرتے – کبھي وہ ميدان ميں آ جاتے اور اپنے ساتھيوں کے سر اپنے زانوں پر رکھ کر ان کي فداکاري اور جانثاري  کي قدرداني اور تعريف کرتے –

سماوي لکھتا ہے کہ ” حضرت امام حسين عليہ السلام  عاشورا کے دن اپنے پسنديدہ افراد ميں سے سات کے سرہانوں پر پيدل جاتے – وہ سات افراد درج ذيل ہيں –

1- مسلم بن عوسجھ

جب مسلم شہيد ہوۓ تو حضرت اس کے سرہانے گۓ اور فرمايا ” رحمک اللہ يا مسلم ! “

2- حر بن يزيد رياحي :

جب ان کو شہادت نصيب ہونے لگي تو امام حسين عليہ السلام ان کے سرہانے آۓ اور فرمايا :

انت حر کما سمتک امک

يعني تم آزاد ہو ، اسي طرح جيسے تمہيں ماں نے جنم ديا ہو –

3- واضح رومي يا اسلم ترک

جب يہ درجہ شہادت کو پہنچے تو امام حسين عليہ السلام ان کے سرہانے آۓ اور انہيں اپني گود ميں لے کر اپني صورت کو ان کي صورت پر رکھا –

4- جون بن حوي :

جب يہ رتبہ شہادت کو پہنچے تو حضرت امام حسين عليہ السلام ان کے سرہانے حاضر ہوۓ اور فرمايا !

اللھم بيض وجھھ

يعني خدايا !  اسے کامياب کر دے –  

5 – عباس بن علي عليہ السلام

جب يہ بزرگ ھستي درجہ شہادت کو پہنچي تو حضرت امام حسين عليہ السلام پيدل ان کے سرہانے پہنچے  اور قريب بيٹھ کر  فرمايا !

الان انکسر ظھري و حيلتي

يعني اب ( تمہاري شہادت کو ديکھ کر ) ميري کمر ٹوٹ گئي اور ميري طاقت کم ہو گئي

6- علي بن الحسين عليہ السلام

اس وقت جب انہوں نے جام شہادت نوش کيا تو امام حسين عليہ السلام پيدل ان کے سرہانے پر آۓ اور فرمايا !

علي الدنيا بعدک العفا

يعني تمہارے بعد اس دنيا کے سر پر خاک ہو –

7- قاسم بن حسن عليہ السلام

جب يہ درجہ شہادت کو پہنچے تو امام پيدل ان کے سرہانے پر حاضر ہوۓ اور فرمايا !

بعدالقوم  قتلوک

يعني جس قوم نے تجھے مارا وہ رحمت خدا سے دور رہے !

دشمن کا عمومي حملہ

فردا فردا لڑائي ميں دشمن کے زيادہ افراد مارے گۓ – عمرو بن حجاج  نے اپنے سپاہيوں سے خطاب کرتے ہوۓ کہا !

بے وقوفو ! تمہيں معلوم ہے کہ  تم کن لوگوں سے لڑ رہے ہو ؟

يہ بڑے باہمت سوار ہيں اور تم ميں سے کوئي بھي انفرادي طور پر ان سے لڑنے کي صلاحيّت نہيں رکھتا ہے –  ان کي تعداد بہت کم ہے اور قسم سے اگر ان پر پتھر برساۓ جائيں تو بھي يہ سب  بہت جلد مارے جائيں گے –

عمر بن سعد نے عمرو بن حجاج کي اس بات سے اتفاق کيا –

بعض تاريخ دانوں کا کہنا ہے کہ عمرو بن حجاج نے کہا !

” اے کوفہ کے لوگوں  ! اپنے اعتقاد و ہمدلي پر ثابت قدم رہو اور سرکشي کرنے والوں اور دين سے منہ  پھير لينے والوں   کے ساتھ لڑائي ميں ترديد مت کريں “

ابا عبداللہ الحسين عليہ السلام  نے اس کے جواب ميں فرمايا !

 اے عمرو بن حجاج  !  تم ان لوگوں کو ميرے ساتھ لڑنے کے ليۓ کھڑا کر رہے ہو ؟

کيا ہم دين سے پھرے اور تم دين پر ثابت قدم رہے ؟

خدا کي قسم اگر انہيں اعتقادات کے ساتھ تمہيں موت آ گئي تو تم ديکھ لو گے کہ کون دين سے پھرے اور آگ کے لآئق ہيں –

اس گفتگو کے بعد عمرو بن حجاج  عمر سعد کي  فوج کے دائيں حصے کے ساتھ فرات کي جانب سے امام عليہ السلام اور ان کے ساتھيوں پر حملہ آور ہوۓ کہ اس پہلے ٹکراؤ کے نتجے ميں مسلم بن عوسجھ  اسدي سب سے پہلے شہيد ہوۓ –

زيارت ” مقدس حصّے ” ميں آيا  ہے – ” و کنت اول من تري نفسھ و اول شہيد من شھداءاللہ و قضي نحبھ “

يعني سب سے پہلے شہيد سے مراد ، دشمن کے اکٹھے ہو کر حملہ کرنے کے دوران شہيد ہونے والا ہے “

اجتماعي لڑائي

مزید  غدیر کے پس منظر میں ہمارے فرائض امام خمینی-رح-

شمر نے عمر سعد کي فوج کے بائيں طرف سے امام عليہ السلام کي فوج پر حملہ کيا – تاريخ ميں رقم ہے کہ اس لڑائي کے نتيجہ ميں عبداللہ بن عمير کلبي اور ان کي زوجہ شہيد ہوئيں  ( يہ خبر مصدقہ نہيں ہے  کيونکہ عبداللہ بن عمير کي تعريف اور لڑائي کا طريقہ اور ان کي بيوي کا ان کے سرہانے پہنچنا اجمتماعي لڑائي سے مماثلت نہيں رکھتا ہے  )

عزرہ بن قيس (جو کہ ايک فوجي کمانڈر تھے ) نے عبدالرحمن بن حصين کو عمر سعد کے پاس بھيجا اور کہا : کيا تم نہيں ديکھ رہے کہ ميرے سوار جنگ کے آغاز سے ہي اس چھوٹے سے گروہ سے کتنا نقصان اٹھا رہے ہيں ؟ پيادہ اور تيرانداز دستوں کو ميدان ميں بھيجو !

عمر بن سعد نے شبت بن ربعي سے چاہا کہ وہ مقابلہ کے ليۓ جاۓ مگر  وہ ايک طرف چلا گيا – عمر بن سعد  نے حصين بن تميم کو مسلح سواروں کہ جن کے گھوڑے زرہ پوش تھے ، 500 تير اندازوں کے ہمراہ حضرت امام کے ساتھيوں  کا سراغ لگانے  کے ليۓ بھيجا –

سراغ ملنے اور امام کے متعدد ساتھيوں کے زخمي ہونے کے بعد باقي رہ جانے والے ساتھيوں نے پيدل دشمن کا مقابلہ کيا – اس  معرکہ ميں امام کے گنتي کے چند ساتھيوں نے زھير بن القين کي رہنمائي ميں شرکت کي – ان حملوں ميں   دشمن کے دسيوں سپاہي مارے گۓ مگر امام کے چند ہي ساتھي شہيد ہوۓ –

خيموں پر  حملہ

عمر سعد اور اس کے سپاہيوں کي ابا عبداللہ کے ساتھيوں کے ساتھ لڑائي ميں سامنے آنے والي کمزوري نے  انہيں بہت خشمگين کر ديا تھا – عمر بن سعد نے اپني فوج کو حکم ديا کہ وہ  امام کے ساتھيوں کے خيموں پر حملہ آور ہوں – امام کے ساتھي  تين تين يا چار چار افراد کي ٹوليوں ميں خيموں کے گرد کھڑے ہو گۓ اور خيموں کا دفاع کيا – وہ دشمن جو قتل و غارت کي غرض سے خيموں کي طرف بڑھتے انہيں اپنے تيروں ، نيزوں اور تلواروں سے دور ہٹا ديتے –

عمر سعد نے حکم ديا کہ خيموں کو آگ لگا دو – آگ لائي گئي –

امام عليہ السلام نے فرمايا ! انہيں آگ لگانے دو کيونکہ آگ ہمارے اور ہمارے دشمن کے درمياں آ جاۓ گي –

شمر نے فرياد لگائي کہ آگ لائي جاۓ تاکہ ان خيموں کو جلا ديا جاۓ  – عورتيں اور بچے  چيخيں مارتے ہوۓ خيموں سے باہر آۓ –

امام نے زور سے فرمايا ! ميں نے کسي کو بھي تجھ جيسے برے مقام و مرتبے  پر نہيں ديکھا اور کسي بھي طرح کے الفاظ کو تيرے منہ سے نکلنے والے الفاظ سے گھٹيا اور بےشرمانہ نہيں سنا –

تم کہتے ہو کہ آگ لاؤ تاکہ ہمارے خيموں اور خيموں ميں بسنے والوں کو جلا ديا جاۓ ؟ خدا تمہيں آگ ميں جلاۓ – عورتوں کو ڈراتے ہو ؟

شمر شرمندہ  ہو کر پيچھے ہٹ  گيا – وہ اپنے نيزے کو امام کے خيمے ميں لے گيا تھا – امام کے ساتھيوں نے بڑي دليري کے ساتھ اسے پيچھے دھکيل ديا – اس معرکہ ميں شمر کا  ايک ساتھي ابوعزہ  ضيابي مارا  گيا –

تن بہ تن لڑائي

ايسا معلوم ہوتا ہے کہ تن بہ تن لڑائي ،  دشمن کے  چند اجتماعي حملات اور امام کے ساتھيوں کي مزاحمت  تقريبا اذان  تک جاري رہي ہو گي – اس صورت ميں يہ لڑا ئي دو سے  ڈھائي گھنٹے جاري رہي ہو گي – تاريخ طبري ميں ” قاتلو ھم حتي انتصف النھار ”  اسي نکتے کو ثابت کرتا ہے –

حميمد بن مسلم کا ردعمل  

حميد بن مسلم کہتا ہے کہ عمر سعد کي فوج کا خيموں پر حملے کے وقت ميں نے شمر سے کہا کہ يہ کام اچھا نہيں ہے کہ ايک ہي وقت ميں دو گھٹيا کاموں کے مرتکب ہو جاؤ – خيموں کو آگ بھي لگاؤ  اور عورتوں اور بچوں کو بھي قتل کرو – امير تو مردوں کو مارنے سے بھي تم سے خوش ہو جاۓ گا –

شمر نے کہا ! تم کون ہو ؟

 ميں  نے کہا ! ميں اپنا نام نہيں بتاğ  گا –

مجھے ڈر تھا کہ عبيداللہ کے نزديک ميں دوبارہ اپنا نام لوں اور مجھے نقصان پہنچايا جاۓ –

اس کے بعد شبث بن ربعي آيا اور اس سے کہا اور يوں شمر نے شرم کھائي -خيموں کي  حالتايسي  خوفناک صورتحال کي وجہ سے بچوں نے رونا شروع کر ديا – شمر کے خيموں پر حملے کي وجہ سے عورتوں کو خيموں سے باہر آنا پڑا – امام نے اھل حرم کو بڑے آرام سے واپس آنے کي دعوت دي – شمر اور اس کے سپاہيوں کے دور ہو جانے کے بعد خواتين آہستہ سے  خيموں ميں واپس آ گئيں –  سورج سر پر تھا اور ميدان ميں گردو غبار چھائي ہوئي تھي- امام کے ساتھيوں ميں سے ( جز بني ھاشم )  چند ہي باقي رہ گۓ تھے مگر يہ چند افراد  بھي ايمان ، معرفت اور  پوري بصيرت کے ساتھ شمر کي فوج کے سامنے سيسہ پلائي ہوئي ديوار کي مانند کھڑے تھے – بني ھاشم ميں سے کوئي بھي شہادت کے رتبے کو نہيں پہنچا تھا – وہ سب کے سب پہاڑ بن کر امام کي پاسداري کر رہے تھے –

مزید  نمازِ وتر کی قنوت میں امام رضا علیہ السلام کی دعا

کربلا اپنے عروج کو پہچ چکا تھا – اقامت نماز کے ليۓ وقت نزديک  آ گيا تھا – امام کے ساتھيوں کي يہ چھوٹي سي جماعت خود کو امام کي امامت ميں  اپني آخري نماز کے ليۓ تيار کر رہي تھي –

نماز ظھر عاشورا ، نماز کے شھداء اور نماز کے بعد

عاشورا کے يہ ستارے تپتے آسمان کے نيچے بڑي جرات  اور دليري کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے – ميدان ميں ہيبت ، گردو غبار اور شمشيروں کا شور تھا  اور ميدان کے چپے چپے ميں  شہداء کا  لہو اور جسم کے ٹکڑے ديکھے جا سکتے تھے –

اس موقع پر ابو تمامھ عمرو بن عبداللہ صائدي   ابا عبداللہ عليہ السلام کي خدمت ميں حاضر ہوا اور کہنے لگا –

ميري جان آپ پر فدا ہو : دشمن لحظہ بہ لحظہ قريب آ رہا ہے – خدا کي قسم ! ميں آپ کي جان کي حفاظت کروں گا يہاں تک کہ اپني جان آپ کے قدموں ميں نچھاور کر دوں – ميرا دل کرتا ہے کہ خدا کا ديدار کروں ، اس وقت جب ميں اپني نماز ميں اقامت کي حالت ميں ہوں –

ابا عبداللہ الحسين عليہ السلام نے سر اٹھايا اور آسمان کي طرف ديکھا – گردو غبار کے پيچھے سورج آسمان کے وسط ميں وقت ظہر کي گواہي دے رہا تھا – امام عليہ السلام نے ابوتمامھ کي طرف منہ کيا اور فرمايا “

“تم نے مجھے نماز کي ياد دلائي ، خدا تمہيں نماز گزاران اور ذاکروں ميں جگہ دے – “

ہاں ! يہ تو وقت نماز ہے –

امام نے پھر فرمايا !

” ان دشمنوں سے کہو کہ ہم سے ہاتھ اٹھا ليں تاکہ ہم نماز پڑھ ليں “

ابو مختنف کہتا ہے کہ

امام نے ابوتمامھ سے فرمايا کہ اذان کہو !

اور پھر عمر سعد سے مخاطب ہو کر بولے ! افسوس ہے تم پر اے سعد کے بيٹے –

کيا تمہيں اسلام کے قوانين ياد ہيں ؟ کيوں جنگ کو نہيں روک  رہے ہو تاکہ  دونوں اطراف نماز پڑھ ليں اور پھر جنگ کي طرف واپس آئيں – “

دشمن کا ردعمل

امام  کي فوج کي طرف سے نماز کے ليۓ اعلان امان کے ساتھ حصين بن تميم نے فرياد لگائي – ” يہ نماز قابل قبول نہيں “

حبيب بن مظاھر نے جواب ديا !

تم يہ ادعا کر رہے ہو کہ خاندان پيغمبر اسلام کي نماز قبول نہيں ہو گي اور خمّار ميں ( حمار يا ختار ) قبول ہو گي ؟شھادت حضرت حبيب

حصين نے جب يہ جملہ سنا تو حبيب پر حملہ کر ديا – حبيب نے شمشير کو اس کے گھوڑے کے سر پر مارا جس سے گھوڑا ڈر گيا اور يوں گھوڑے نے حصين کو زمين پر گرا ديا – حصين کے سپاہيوں نے مداخلت کرکے حصين کي جان چھڑائي – جبيب نے بڑي قوّت سے لڑائي کا آغاز کيا – سپاہيوں ميں سے ايک جس کا تعلق بني تميم سے اور نام يديل بن صريم تھا  ، حبيب کے ہاتھوں مارا گيا –

اس  مقتل ميں حبيب کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد کي تعداد 35 تن ذکر ہوئي ہے –

يہاں ايک دوسرا نکتہ بھي قابل ذکر ہے کہ حبيب نے ميدان ميں جانے اور حصين سے مقابلہ کرنے کے ليۓ ابا عبداللہ عليہ السلام کے ساتھ خدا حافظي کي اور کہا !

” ميرے مولا ! ميرا دل کرتا ہے کہ نماز کو بہشت ميں مکمل کروں – ميں آپ کا سلام آپ کے اجداد ، آپ کے والد ، بھائي کو پہنچا دوں گا ” –

آخر کار حبيب نيزہ لگنے کے باعث زمين پر گر پڑے – انہوں نے اٹھنے کي کوشش کي مگر اسي دوران حصين بن تميم نے تلوار سے ان کے سر پر وار کيا – حبيب زمين پر گرا – تميمي اپنے گھوڑے سے نيچے آيا اور حبيب کے سر کو تن سے جدا کر ديا –

حصين نے کہا : ” ميں حبيب کے قتل ميں تمہارے ساتھ شريک تھا –

عمر سعد نے ان دونوں کے درميان پيدا ہونے والے اختلاف کو حل کيا اور حبيب کے سر کو حصين کے گھوڑے کي گردن پر لٹکا ديا تاکہ ميدان ميں گما کر سب کو گواہ بنايا جاۓ اور ابن زياد سے اس کارنامے کا انعام دريافت کرے –

مزید  قرآن سے تمسک قرآن سے تمسک اور اس پر عمل

امام عليہ السلام نے حبيب کے  تن کے قريب اس کے سوگ ميں  فرمايا !

” عنداللہ احتسب نفسي و حماء اصحابي ، للہ درک يا حبيب  لقد کنت فاضلا تختم القرآن في ليلھ واحدہ “

يعني خدا کے نزديک تمارا خون ميرے اوپر ہے – تم  ميرے برگزيدہ صحابي تھے – خدا نے تجھے اپنے پاس بلا ليا اے حبيب ! تم دانشمند تھے جو قرآن کو ايک رات ميں ختم کيا کرتے تھے “

حبيب کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کي تعداد 35 اور 62 تن لکھي گئي ہے –

امام عليہ السلام نے زھير بن القين اور سعيد بن عبداللہ حنفي کو حکم ديا کہ سب سے پہلے نماز کے ليۓ  کھڑے ہونے کا اہتمام کرو –

دشمنوں نے امام  عليہ السلام اور ان کے ساتھيوں کو ہدف بنايا – زھير اور سعيد خود کو نيزوں اور تيروں کے سامنے کر ديتے – سعيد کے بدن پر نيزوں اور تلواروں کے زخموں کے علاوہ 13 تير بدن ميں پيوست تھے – سعيد  آخر کار ان زخموں کے باعث زمين پر گر گيا اور اسي لمحے کہنے لگا :

” خدايا اس گروہ پر لعنت کر ، وہي لعنت  جو  تم نے عاد اور ثمود پر کي – اے خدا ميرا سلام اپنے پاک پيغمبر تک پہنچا دے اور آنحضرت کو ميرے اوپر آنے والے زخموں کے درد  سے آگاہ کرنا جو کہ تيرے پيغمبر کے خاندان کي ياري ميں تجھ سے  انعام طلب کرنے کے سواء اس کا کوئي دوسرا ھدف نہيں تھا –

اسي وقت امام عليہ السلام کي طرف صورت کرکے بولا :

” اے پيغمبر کے فرزند ! کيا ميں نے اپني ذمہ داري نبھائي ؟

امام نے فرمايا ! ہاں ، تم پہلے ہي بہشتي ہو “

نماز کے بعد سعيد بن عبداللہ کے علاوہ عمرو بن  قرظھ جو کہ امام کي نماز کا دفاع کر رہے تھے  لڑتے ہوۓ شہيد ہو گۓ –

تاريخ کي بعض کتب ميں يہ بھي آيا ہے کہ سعيد نے نماز کے بعد بھي  لڑائي ميں حصّہ ليا اور شہادت کا مرتبہ حاصل کيا –

ان پاکباز ساتھيوں کي شہادت کے بعد بچ جانے والے چند دوسرے ساتھيوں نے خود کو دشمن کے ساتھ لڑائي کے ليۓ تيار کيا –

امام عليہ السلام نے ان سے خطاب کيا اور فرمايا !

” اے ميرے ساتھيوں !  اگرچہ جنت کے دروازے بہت کھلے ہيں اور جنت کي نہريں بہہ رہي ہيں اور وہاں کے پھل چنے ہوۓ ،جنت کے محل آراستہ اور خوبصورت ، غلام اور حوريں تيار ، رسول خدا اور وہ شہداء جو ان کے رکاب اور راستے ميں شہيد ہوۓ اور نيز ميرے والد اور ماں تمارے پہنچنے کے منتظر ہيں اور تمہيں ديکھنے کے مشتاق ، يہي وقت ہے کہ خدا کے دين کي حفاظت کرو اور حرمت رسول خدا کے محافظ بنو ”  

امام عليہ السلام کے خطاب کو سن کر اھل حرم باہر تشريف لے آئيں اور يوں مخاطب ہوئيں !

” اے مسلمانوں ! اے سچائي کے ليۓ کھڑے ہونے والے صبور لوگو ! دين خدا کي حمايت کرو اور دشمنوں کو حرم رسول خدا سے پيچھے دھکيل دو “

امام عليہ السلام کے ساتھي يہ الفاظ سن کر رو پڑے اور انہوں نے  پوري قوّت سے فرياد لگائي !

” اے خاندان پيغمبر ! ہماري جانيں تمہاري جانوں پر فدا ہوں ہمارا خون تمہارے خون پر قربان ہو اور ہماري روح آپ کے ليۓ ھديہ ہيں – خدا کي قسم جب تک زندہ ہيں دشمن کي کيا مجال کہ آپ کے قريب آۓ – ہم نے اپني جانوں کو قرباني کے ليۓ بچا کر رکھا ہے تاکہ تيغ و سنان کو تقديم کرکے ان گرگوں کا لقمہ بنيں – ہم لڑيں  گے اور موت کے گھونٹ پي  ليں گے اور ہم کوشش کريں گے تاکہ کاميابي اور فلاح کا لباس پہن سکيں – “

نماز کے بعد شہداء کي تعداد دو تن اور بچ جانے والے رزمندگان جو لڑے اور شہادت کے رتبے تک پہنچے،  9 تن ہے –

نماز کے بعد شہيد ہونے والے 9 افراد ميں  سے نصف وہ ہيں جو کربلا ميں امام عليہ السلام سے مل گۓ – ان شہداء ميں سب سے جوان شہيد ضرغامہ بن مالک اور سب سے بوڑھے ابوتمامھ اور زھير بن قين تھے جن کي عمر تقريبا 60 سال تھي – نماز کے بعد سب سے برگزيدہ شہيد  زھير بن القين ہے جو اباعبداللہ عليہ السلام کي فوج کے دائيں جناح کے کمانڈر تھے –

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.