ظہور سے قبل کے عجائبات

0 1

تمام انسان بالعموم اور امت اسلامي بالخصوص حضرت امام مہدي( عليہ السلام) کے ظہور سے قبل? زندگي سخت ترين شرائط ميں گزاريں گے، ظلم وستم اپني انتہاکو پہنچ جائے گا، انحراف اپنے عروج پر ہوگا، بدامني ہوگي، ہر طرف بے چيني ہوگي بحر ان در بحران ہوگا، مشکلات سے نکلنے کا راستہ نظر نہ آئے گا اس بات کو حضوراکرم۰ کي اس متواتر حديث سے سمجھا جا سکتا ہے جس ميں آپ ۰ نے فرمايا 

’’بتحقيق مہدي( عليہ السلام) ضرور تشريف لائيں گے وہ زمين کو عدل وانصاف سے اس طرح بھرديں گے جس طرح زمين ظلم وجور سے بھرچکي ہوگي اس حديث ميں ظلم وستم کے بعد عدالت الٰہي کے قيام کي نويد سنائي گئي ہے‘‘۔ (منتخب الاثر باب ٢٥،ص ٢٥٠، ٤٤٧اس مضمون کي ١٢٣، احاديث نقل کي گئي ہيں)

معصومين( عليہم السلام) سے جوا حاديث اور روايات اس مضمون کي وارد ہوئي ہيں جب انکا مطالعہ کرتے ہيں تو ہمارے لئے ظہور سے قبل کے زمانہ کي پوري پوري تصوير کشي ہو جاتي ہے اورظہورکے زمانہ کاپورانقشہ سامنے آجاتاہے ۔

ظہور سے قبل خاص واقعات 

مزيد برآں يہ احاديث وروايات کچھ اور ظہور سے قبل،خاص واقعات اور حادثات کے رونما ہونے کي خبر بھي ديتي ہيں ہم ايسي احاديث کے چند گروپ بناسکتے ہيں ۔

١۔زمين کا ظلم وجور سے بھر جانا

اس طرح کا مضمون احاديث ميں متواتربڑي وضاحت کے ساتھ بيان کياگيا ہے اور اس مضمون کي روايات اتني زيادہ ہيں کہ اس بارے کسي قسم کا شک وشبہ نہيں کيا جا سکتا (بشارۃ الاسلام ص ١٨تاليف سيد مصطفےٰ آل سيدحيدر )

٢۔ فتنوں کا وجود ميں آنا ،ہولناک حادثات اور سانحات کا رونما ہونا

حضرت امام جعفرصادق( عليہ السلام) سے حديث نقل ہوئي ہے کہ جس ميں گمراہ کرنے والے فتنوں کا تفصيل سے ذکر کياگيا ہے (موسوعۃ الامام المہدي ٴ ج ٢ تاريخ الغيبۃ الکبريٰ ص ٢٤٢ تاليف شہيد سيد محمد صادق صدر)

حضرت امام جواد( علي ہ السلام ) فرماتے ہيں

’’حضرت قائم( عليہ السلام) کا قيام ايسے حالات ميں ہوگا جب عمومي سطح پر لوگ سخت ترين خوف اور سخت پريشاني کي حالت ميں ہونگے،زلزلے بپا ہونگے، فتنے رونماہونگے ، مصائب اور مشکلات ہونگي ،ہلاک کردينے والي بيماري طاعون عام ہوگي( ممکن ہے اس سے مراد کينسر يا ايڈز ہو يا اسي قسم کي کچھ اور لاعلاج بيماري ’’خدا بچائے‘‘ )عربوں کے درميان سخت جنگيں ،عالم اسلام کي عمومي بدحالي کسمپرسي ،لوگوں کے آپس ميں شديدمذہبي اختلافات ہوں گے ، فرقہ واريت عروج پر ہوگي اديان ميں اختلاف ، فرقوں کي بہتات ہوگي، مسلمانوں کے حالات کي ابتري، غرض ہر طرف بے چيني، بدامني ، بے سکوني بے اطميناني ، پريشاني ،بيماري ، جنگ وجدال وقتل وغارت گري ،ظلم وستم عام ہوگا‘‘۔(الغيبۃ النعماني ص ١٧٠ بحار الانوار ج ٥٢ ص ٢٣١)

فتنوں سے مراد 

فتنہ کا لفظ کئي معنوں ميں استعمال ہوتا ہے جس کا خلاصہ اس طرح ہے ۔

الف : امتحان اور آزمائش ميں ہونا ۔

ب: کفر ،گمراہي، گناہ ۔

ج: لوگوں کے درميان نقطہ نظر اور انکے درميان نظر ياتي اختلافات۔

٣۔ روزگار کي سختي ،معاشي بحران کي وجہ سے بے صبري 

روايات ميں آياہے کہ عصر غيبت ميں مومنين سخت مصائب ومشکلات سے دو چار ہونگے ، معاشي بحران ہوگا، قوت برداشت جواب دے جائيگي، اس قدر تکاليف ميں ہونگے کہ جب ايک شخص اپنے بھائي کے قريب سے گزرے گا تو کہے گا کاش اس کي جگہ ميں مرگيا ہوتا? (تاريخ الغيبۃ الکبريٰ ص ٢٤٥ منتخب الاثر ص ٤٣٤)

ظاہر ہے موت کي آرزو ان سختيوں اورمشکلات کي وجہ سے ہوگي جن سے اس دورکے لوگ دوچار ہونگے ۔

٤۔ افکار ، عقائد اورنظريات کا ٹکراؤ ،توڑ پھوڑ?اس حوالہ سے اختلافات

حضرت امير المومنين(عليہ السلام) سے حديث وارد ہوئي ہے جس ميں آپٴ نے حضرت امام مہدي( عليہ السلام) کے بارے ميںگفتگو فرمائي ہے اس حديث ميںآپ ٴکا ايک جملہ ہے 

’’حيرانگي ہوگي، پريشاني ہوگي، ايسي غيبت حضرت امام مہدي( عليہ السلام) کے واسطے ہے جس ميں قوميں گمراہ ہوجائيں گي ،کچھ ہدايت پاجائيں گے، يہ حيرت اور پريشاني اور گمراہي چند صورتوں ميں ہو سکتي ہے کہ کچھ اس حيرت کي وجہ سے گمراہ ہوجائيں گے کچھ اس حيرت اور غيبت ميں ہدايت پا جائيں گے۔

يہ حيرت ديني عقائد اور مذہبي نظريات ميں ہوسکتي ہے، جو جہالت کے نتيجہ ميں باطل افکار، امت کے درميان رائج ہوجائيں گے،اس طرح کہ غيبت کا طولاني ہوجانا لوگوں کے درميان شک پيدا کردے گا،اس وجہ سے ان کے درميان اختلافات پيدا ہوجائيں گے يا يہ حيرت ايک بلند مرتبہ رہبر کي عدم موجودگي ميں جہاد کے وجوب کے بارے اور انقلاب کيلئے جدوجہد کے متعلق ہوگا‘‘۔

٥۔جنگ وجدال وقتل وغارتگري

احاديث عصرظہور ميں سياسي بحرانوں کي نشاندہي کرتي ہيں سياسي عدم استحکام ہوگا جنگيں بہت زيادہ ہونگي قتل وغارتگري عام ہوگي حديث ميں الفاظ ہيں 

حضرت امام مہدي(عليہ السلام) کے قيام سے پہلے ’’يبوح قسم کا قتل ہوگا‘‘ راوي نے سوال کيا کہ يہ کونسا قتل ہے؟ اسکا معني کيا ہے؟توآپٴ نے جواب ميں فرمايا’’ اس سے مراد ہر وقت قتل وغارتگري ،دہشت گردي کا ہوناہے، ختم نہ ہونے والي جنگ وجدال اورقتل و غارتگري مراد ہے، اسکي شدت روز افزوں ہوگي، اس ميں کمي نہ آئے گي ۔(بشارۃ الاسلام ص ٨٨٦بحارالانوار ج ٥٢ ص ١٨٢ ، ٢٢٨ ، الممہدون للمہدي ٴ’’ تاليف علي کوراني ‘‘)

مزید  ماہ مبارک کے نورانی لمحات، غریب و نادار طبقہ اور ہماری ذمہ داریاں

بعض روايات ميں ان جنگوں کي شدت کو اس قدر بيان کيا گيا ہے کہ زمين کي آبادي کا ايک بڑا حصہ اسکے نتيجہ ميں ختم ہوجائے گا۔

حضرت علي( عليہ السلام)اس بارے فرماتے ہيں 

’’حضرت مہدي ( عليہ السلام)اس وقت تک قيام نہيں فرمائيں گے جب تک کہ دنيا کي آبادي کا ايک تہائي حصہ قتل نہ ہو جائے گا، آبادي کاایک تہائي حصہ مر جائے گا اور ایک سوئم باقي رہ جائے گا‘‘۔ 

( المہدي تاليف صدر الدين ص ١٩٨يوم الخلاص کامل سليمان ص ٥٦٤)

آج کے دور ميں ان احاديث ميں استعمال الفاظ کي موجودہ رائج اصطلاحات کو اس طرح بيان کرسکتے ہيں کہ آپ ٴ کے ظہور سے قبل سياسي، معاشي ،ثقافتي ،عقيدتي، اجتماعي اور امن عامہ کا بحران ہوگا، جنگ و قتل وغارتگري، دہشت گردي اوراخلاقي بے راہ روي عام ہوگي۔ 

آخري زمانہ کے متعلق جامع ترين حديث نبوي۰

جامع ترين حديث نبوي جو ان سب واقعات وحالات کو بيان کررہي ہے وہ درج ذيل ہے ۔

حجۃ الوداع کا حوالہ 

عبداللہ۱ ابن عباس۱ روايت کرتے ہيں کہ ہم نے رسول اللہ( صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ حجۃ الوداع کيا ،آپ۰ نے کعبہ کي زنجيرکو پکڑ ا ہوا تھا اورہماري طرف آپ۰ نے رخ فرمايا اورآپ۰ نے ہميں اس طرح خطاب کيا

’’کيا ميں آپ کو ’’الساعت‘‘ کے وقوع پذير ہونے سے قبل کي نشانيوں اور علامات سے آگاہ نہ کردوں (اس جگہ الساعۃ سے مراد حضرت امام مہدي(عليہ السلام) کا ظہور ليا گيا ہے )

ابن عباس۱ کہتے ہيں اس دن آپ ۰کے قريب ترين شخص جناب سلمان۱ تھے، پس انہوں نے آپ۰ کي يہ بات سن کر آپ۰ سے باربارسوالات کئے اورآپ۰ نے سلمان کو جوابات ديئے تفصيل کچھ اس طرح ہے 

سلمان:جي ہاں! يا رسول اللہ ۰ضرور بيان کريں ۔

رسول اللہ ۰:الساعت کي آمد سے قبل ۔

١۔ نمازيں ضائع ہونگي، نمازوں کي اہميت جاتي رہے گي ۔

٢۔ شہوات کي پيروي عام ہوگي ۔

٣۔ نفساني خواہشات کو ترجيح دي جائے گي ۔

٤۔ مالداروں کي عزت اور احترام کيا جائے گا ۔

٥۔ دين کودنيا کے بدلے ميں بيچاجائے گا۔

ان حالات ميں مومن کا دل اندر ہي اندر پگھلتا جائے گا جس طرح نمک پاني ميں پگھلتا ہے، يہ اس وجہ سے ہوگا کہ وہ منکرات اور برائيوں کو عام ديکھے گا اور ان کو بدل نہيں سکے گا ۔

سلمان۱:يا رسول اللہ۰ کيا يہ ايسا ہي ہوگا ؟

رسول اللہ۰: اے سلمان۱! قسم ہے اس ذات کي جس کے قبضہ قدرت ميں ميري جان ہے ايسا ہي ہوگا۔

١۔ اس دوران ظالم حکمران ہونگے۔ ٢۔ فاسق وزرائ ہونگے۔

٣۔ ظالم اور ستمگار نمائندگان ہونگے ۔ ٤۔ امين خيانت کار ہونگے 

سلمان۱:يا رسول اللہ۰!واقعي ايسا ہوگا؟

حضرت رسول اللہ۰:جي ہاں اے سلمان۱! قسم ہے اس ذات کي جس کے قبضہ قدرت ميں ميري جان ہے ،ايساہي ہوگا۔

١۔ ا س دوران گناہ نيکي کہلائے گا۔

٢۔خيانت کا رکو امين سمجھا جائے گا اور امين کو خيانت کار سمجھاجائے گا۔

٣۔ جھوٹے کي تصديق کي جائے گي اوراسے سچا کہا جائے گا سچے کو جھوٹا کہا جائے گا اور اسے جھٹلاياجائے گا ۔ 

سلمان۱:يا رسول اللہ۰ کيا يہ بھي ہوگا ؟

رسول اللہ۰:جي ہاں اے سلمان ۱!قسم ہے اس ذات کي جس کے قبضہ قدر ت ميں ميري جان ہے ايسا ہي ہوگا ۔

١۔اس دوران عورتيں حکمران ہونگي۔ ٢۔ لونڈيوں سے مشورے کئے جائيں گے۔

٣ ۔منبروں پر چھوٹے بچوں کو بٹھاياجائے گا۔ ٤۔ جھوٹ بولنا مشغلہ ہوگا ۔

٥۔زکات دينے کو تاو ان سمجھا جائے گا اور بيت المال کو لوٹ کا مال سمجھا جائے گا۔

٦۔ انسان اپنے والد ين پر ظلم کرے گا،جب کہ اپنے دوست پر احسان اور نيکي کرے گا۔ ٧۔دم دار ستارہ طلوع ہوگا۔

سلمان۱:يارسول اللہ۰يہ سب کچھ رونما ہوگا؟

رسول اللہ۰: قسم ہے اس ذات کي جس کے قبضہ قدر ت ميں ميري جان ہے ايسا ضرورہوگا۔

١۔اس دوران بيوي اپنے شوہر کے ساتھ تجارت ميں شريک کاروبار ہوگي۔

٢۔سازشيں کثرت سے ہونگي۔ ٣۔ عزت دار لوگ غصے سے بپھرے ہوں گے۔

٤۔ تنگ دست آدمي کي تحقير کي جائے گي۔

٥۔ بازار ايک دوسرے کے نزديک ہوجائيں گے ،کساد بازار ي ہوگي، ايک کہے گا ميں نے توکچھ فروخت نہيں کيا ،دوسرا کہے گا مجھے تو بالکل نفع حاصل نہيں ہوا ،غرض ہر شخص اللہ تعاليٰ کي ناشکري کرتانظرآئے گا۔

سلمان۱:يارسول اللہ۰ يہ سب کچھ ہوگا؟

رسول اللہ۰:قسم ہے اس ذات کي جس کے ہاتھ ميں ميري جان ہے اے سلمان۱! ايسا ہي ہوگا 

١۔ اس زمانہ ميں ايسي اقوام ظاہرہونگي کہ اگرانکے خلاف بولو گے توقتل کردئيے جاؤگے اگر خاموشي اختيار کروگے تو آبرو ريزي ہوگي۔

٢۔عوام کے اموال کو لوٹيں گے۔ ٣۔عوام کي عزتوں کو پاؤں تلے رونديں گے۔ ٤۔عوام کا خون بہايا جائے گا۔ 

مزید  دعا کے آداب اور اس کی شرطیں

٥۔عوام کے دل غيظ و غضب اور غصہ سے انکے خلاف بھرے ہونگے ،انکے بارے رعب اوردبدبہ ان پر طاري ہوگا۔ ٦۔ عوام خوف زدہ ،سہمے ہوئے، پريشان ہونگے ۔

سلمان۱:کيا ايساہي ہوگا يا رسول اللہ۰؟

رسول اللہ۰:قسم ہے اس ذات کي جس کے ہاتھ ميں ميري جان ہے اے سلمان ۱!ايسا ہي ہوگا 

١۔اس دوران ميري امت مشرق ومغرب کا رنگ پکڑے گي ۔ 

٢۔ ميري امت کے لوگ کمزور،پريشان ہوںگے، ان کي بے عملي کي وجہ سے مشرق ومغرب ان پرغالب ہوں گے ۔

٣۔ مشرقي ومغربي اقوام نہ چھوٹے پررحم کريں گي نہ بڑوں کي توقير اور عزت کريں گي اوروہ اپني مخالفت اورنافرماني کرنے والے کو نہيں چھوڑيں گے، وہ انسانوں کي شکل ميں سنگدل شيطان ہوں گے ۔

سلمان۱:يا رسول اللہ۰ يہ بھي ہوگا؟

رسول اللہ۰: جي ہاں !قسم بخدا اس دوران يہ سب کچھ ہوگا۔

١۔ہم جنس بازي ہوگي، مرد مردوںپر اکتفا کريں گے اورعورتيں عورتوں کو کافي سمجھيں گي اس دوران مرد ،لڑکوں پرگھر ميں رہنے والي کنيزوںکي طرح ٹوٹ پڑيں گے۔

٢۔ مرد، عورتوں کي شباہت اختيار کريں گے اور عورتيں مردوں جيسي بنيں گي ۔

٣۔ عورتيں گھوڑوں کي زين پر بيٹھيں گي، ميري امت کي ايسي عورتوں پر اللہ کي لعنت ہے ۔ 

سلمان۱:يا رسول اللہ۰ !کياايسا ہوگا؟

رسول اللہ ۰: اے سلمان۱! ايسا ہي ہوگا قسم ہے جان آفريں کي اس دوران ۔

١۔ مساجد کو مزين کياجائے گا، جيساکہ بيع اورکنائس(يہود ونصاريٰ کي عبادت گاہيں ) کو مزين کياجاتاہے۔

٢۔ قرآنوں کوآراستہ کياجائے گا۔٣۔مساجدکے فلک بوس منارے ہونگے ۔

٤۔نمازيوں کي صفيں لمبي ہوں گي ليکن آپس ميں انکے دل جدا جدا ہونگے ،ايک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونگے ليکن آپس ميں دشمنياں ہونگي، بدن ملے ہونگے زبانيں جداجدا ہونگي يعني وہ سب باہمي اختلافات کا شکار ہونگے۔

سلمان۱:کيا يا رسول اللہ۰ ايسا ہي ہوگا ؟

رسول اللہ۰ :جي ہاں اے سلمان۱! قسم ہے اس ذات کي جس کے قبضہ ميں ميري جان ہے اس دوران ايساہي ہوگا۔

١۔ ميري امت کے مرد حضرات سونا،ريشمي کپڑے اورحرام جانور کے چمڑے کااستعمال کريں گے ۔

سلمان۱:يا رسول اللہ۰ يہ بھي ہوگا؟

رسول اللہ۰:جي ہاں قسم ہے اس ذات کي جس کے قبضہ قدرت ميں ميري جان ہے يہ بھي ہوگا اس دوران،

١۔ سود کاکاروبارعام ہوگا۔ ٢۔ بيچي ہوئي چيز کو کم قيمت پر واپس خريد کريں گے۔

٣۔رشوت پر مبني کاروبار ہوگا۔ ٤۔ دين کو ايک طرف رکھ کردنيا کو سنوارا جائے گا۔

سلمان۱:يا رسول اللہ۰ يہ بھي ہوگا؟!

رسو ل اللہ۰:قسم ہے اس ذات کي جس کے ہاتھ ميں ميري جان ہے اے سلمان۱! ايسا ہي ہوگا اس دوران،

١۔ طلاق عام ہو جائے گي۔ ٢۔ حدود شرعي قائم نہيں ہونگي ،وہ اللہ تعاليٰ کو ہر گز کچھ بھي نقصان نہ دے سکيں گے ۔

سلمان۱:يا رسول اللہ۰ايسا بھي ہوگا ؟

رسول اللہ۰:جي ہاں! قسم بخدا ايسا ہوگا اے سلمان۱! اس دوران۔

١۔ باجا،ساز ، گانا بجانا، عام ہوگا، اس کے پيچھے ميري امت کے بدترين اور شرارتي لوگ ہونگے ۔

سلمان :يا رسول اللہ ۰ يہ بھي ہوگا؟

رسول اللہ۰:جي ہاں قسم بخدا اے سلمان۱! ايسا ہي ہونے والا ہے اس دوران۔

١۔ ميري امت کے ثروت مند سير وسياحت اور تفريح کے لئے حج پر جائيں گے اور درميانے طبقہ کے لوگ تجارت اور کاروبار کيلئے حج پرجائيں گے۔

٢۔ فقرائ اور غربائ شہرت اور دکھاوا کيلئے حج کريں گے۔

٣۔ اس دوران ايسے گروہ ہونگے جو غير خداکيلئے فقہ(علم شريعت) پڑھيں گے۔

٤۔ زناسے ہونے والے بچوں کي کثرت ہوگي۔

٥۔ قرآن پڑھنے ميں غنائ کااستعمال کريں گے ۔

٦۔ دنيا ميں رغبت رکھتے ہونگے ۔

سلمان۱:يا رسول اللہ۰ ايسا بھي ہوگا ؟

رسول اللہ۰:جي ہاں اے سلمان۱! قسم بخدا ايسا ہوگا اس دوران ۔

١۔ محترمات کي ہتک ہوگي، مقدسات کي بے احترامي عام ہوگي۔

٢۔ گناہوں سے کمائي کي جائے گي، گناہوں کا ارتکاب کاروبارشمار ہوگا۔

٣۔ برے لوگ نيکوں پر مسلط ہونگے۔

٤۔ جھوٹ عام پھيل جائے گا ۔ ٥۔ ضد کرنا، جھگڑالوپن عام رواج پاجائے گا ۔ ٦۔ فاقہ عام ہوگا ۔ ٧۔لباس پہننے پر فخر ومباہات کريں گے۔

٨۔ بے موسمي بارشيں ہونگي ۔ ٩۔ساز ،باجا ، گانے کے آلات،غنائ کے آلات ڈھولک عام ہونگے، شطرنج، نرد، کا استعمال عام ہوگا اور ان کے استعمال کو اچھا سمجھا جائے گا ۔

١٠۔ امر بالمعروف سے انکار کريں گے ۔ ١١۔نہي عن المنکر نہيں کريں گے

١٢۔ اس زمانہ ميں ايک مومن عام کنيز سے بھي زيادہ ذليل ہوگا ۔

١٣۔اس زمانے ميںقاريان قرآن اور عبادت گزار ايک دوسرے کو برا بھلاکہيں گے، ايک دوسرے کي ملامت ومذمت کريں گے، ملکوت السموات ميں(آسمانوں کي بلنديوں ميں ) ايسے لوگوں کوارجاس ، انجاس پليداورنجس کے نام سے پکاراجائے گا۔

سلمان۱:يار سول اللہ۰ يہ بھي ہوگا ؟

رسول اللہ۰:جي ہاں! قسم اس ذات کي جس کے اختيار ميں ميري جان ہے اے سلمان۱! ايسا ہي ہوگااس دوران ۔

١۔ صاحب ثروت ومالدار، فقيرسے ڈرے گا، اس کي حالت يہ ہوجائے گي کہ ايک محتاج ايک جمعہ سے ليکر دوسرے جمعہ تک اپني حاجت پوري کرنے کا سوال کرے گا ليکن کوئي بھي شخص اس ہاتھ پر کچھ بھي نہيں رکھے گا ۔

مزید  روزہ کي اہميت اور فضيلت کے بارے ميں چند احاديث

سلمان۱ :يا رسول اللہ۰ ايسا بھي ہوگا ؟

رسول اللہ۰ :جي ہاں اے سلمان۱! قسم بخدا ايسا بھي ہوگااس دوران۔ ١۔ روبيضہ بولے گا۔

سلمان۱ :ميرے ماں باپ آپ پر قربان جائيں يا رسول اللہ۰يہ روبيضہ کيا ہے؟جوبولے اور آواز دے گا؟

رسول اللہ ۰ نے فرمايا!

اس سے مرادوہ شخص ہے جو ان سار ے حالات ميں خاموش تھا، وہ ان حالات کوديکھ کر عوام کے مسائل کے بارے بول اٹھے گا اور تھوڑي تعداد کے علاوہ کوئي بھي انکي بات نہ سنے گا ?

(بشارۃ الاسلام ص ٢٥،منتخب الاثر ص ٢٣٢)

مصنف کا تبصرہ

مجھے ميري جان کي قسم ہے يہ وہ سب کچھ ہے کہ ہم اس گمراہي اور فسق وفجور کے زمانہ ميں زندگي گزار رہے ہيں جوکچھ رسول اللہ۰ نے خبردي ہے ہم اپنے پورے وجود کے ساتھ اس خبر کا بغير کسي کمي وبيشي کے مشاہدہ کررہے ہيں ،اپنے تمام حواس کے ساتھ اس سب کچھ کو محسوس کررہے اور ديکھ رہے ہيں۔

اس روايت ميں جو کچھ بيان ہوا ہے ہر ايک کے تفصيلي معني بيان کرنے اور ہر جملہ کي تشريح کرنے سے ايک ضيخم کتاب بن جائے گي اس مختصرکتاب ميں ان سب تفاصيل کو بيان کرنے کي گنجائش ہي نہيں ہے۔

ليکن ايک بات اس جگہ کہنا مناسب لگتا ہے کہ يہ روايت اور اسي قسم کي دسيوں اور روايات بڑي وضاحت کے ساتھ اس زمانہ اور اس زمانہ ميں رونما ہونے والے حالات وواقعات کو بڑي وضاحت کيساتھ بيان کررہي ہيں اوريہ بھي بيان کررہي ہيں کہ اس سب کچھ کے بعد، نور ہدايت نے ظاہر ہونا ہے۔

ان حالات ميں آخري زمانہ کي ہلاکتوں سے بچنے کيلئے، کيا اہل بيت (عليہم السلام) کے راستہ پر مکمل طور پر آجانے، انکے اوا مرونواہي کو اپنالينے اور ان سے تمسک کرنے کے سوا کوئي اور چارہ نہيںہے ؟اوراسي طرح جن مشکلات اور مصائب سے ہم اس وقت دوچار ہيں اورجو پريشانياں انفرادي،اجتماعي اورسياسي ميدان ميں ہميںلاحق ہيں ،ان سب کي اصلي وجہ اور سبب کا ادراک بھي کياجاسکتا ہے ۔

يا رسول اللہ۰!آپ ۰پر اللہ کي صلوات وسلام ہو، ہميں ان سب حالات سے آپ نے مطلع کيا?اے مہدي ٴآپ ٴ پرسلام کہ ايک دن آئے گا آپ ان تمام خرابيوں کو دور کرديں گے اور ان کي جگہ عدالت اورانصاف کا نفاذ کرديں گے۔

ہم نے جن روايات کو اب تک بيان کيا ہے يہ کلي طور پر زمانہ کے فاسد ہونے کے متعلق اشارہ دے رہي ہيں ،اس بات کو ان ميں واضح نہيں کيا گيا کہ يہ حالات کس طرح رونما ہونگے؟ روايات اور احاديث ميں وضاحت کيساتھ بيان ہوا ہے کہ ظلم وجو ر کا زمانہ عدالت اور انصاف کے زمانہ سے پہلے ہے۔

يہاں پر ضروري ہے کہ يہ بھي بتاتے چليں کہ ان روايات ميں سے کچھ واقعات کو قيامت کے بپا ہونے سے قبل کے واقعات کے ہمراہ ان عمومي حالات کو بيان کيا گياہے، اس سے جو نتيجہ ہم نکال رہے ہيںوہ قطعاًمشکوک نہيں ہے کيونکہ حضرت امام مہدي( عليہ السلام) کا ظہور قيامت سے پہلے ہے اور اس ميں کوئي فرق نہيں کہ قيامت سے قبل وقوع پذير ہونے والے واقعات پہلے رونما ہوجائيں ۔

قيامت سے پہلے ظہورحضرت امام مہدي(عليہ السلام)

اس کے ساتھ حضور پاک۰ کي اس حديث کو سامنے رکھيں کہ آپ۰ نے فرمايا اگرقيامت بپا ہونے ميں ايک دن باقي رہ گيا تو بھي اللہ تعاليٰ اس دن کو طولاني کردے گا اور ميرا ہمنام ،ميرا فرزند، مہدي ٴ ظہور فرمائے گا اور ايک دفعہ اللہ کي زمين پر عدالت کا راج قائم کرے گا اورظلم کا خاتمہ کردے گا ‘‘۔

اس حديث اور اس مضمون کي اور احاديث سے واضح ہوتا ہے کہ قيامت کے قيام سے قبل يہ تمام حالات و واقعات ہونگے جن کا اورروايات کے علاوہ اس حديث نبوي۰ ميں بھي ذکر ہوا ہے، ليکن اسکے ساتھ ساتھ ان حالات سے اس حديث کي سندبھي ميسر آگئي کہ يہ حديث صحيح ہے اور اسي طرح يہ بھي درست ہے کہ ان فتنوں و فساد کي جگہ عدالت کا نفاذ ضرور ہو گا ، ظلم، بے انصافي ، بدامني ، ہر قسمي بحرانوں کا ايک دفعہ ضرورخاتمہ ہوگا،يہ الٰہي وعدہ ہے جو ضرورپوراہوگا کمزور عوام کو حکومت ملے گي، فرعونيت اور جابرحکمرانوں کا خاتمہ ہوگا، اللہ کي زمين پر اللہ کا نظام نافذہوگا اور يہ ہر صورت ہونا ہے اوريہ سب کچھ قيامت کے بپا ہونے سے پہلے ہوناہے ،ہم اسي نور الٰہي کي صبح کے طلوع کي انتظار ميں ہيں، اسي کے طلوع ہونے کے آثار نظرآ رہے ہيں، سب مل کر دعا مانگيں ۔

اللھم عجل فرج وليک الحجۃ بن الحسن العسکري وصل عليہ واحفظہ من بين يديہ وخلفہ وعن يمنيہ ويسارہ۔

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.