ضرورت امام از روئے عقل و قرآن

0 0

تمام اہل اسلام اوردیگررجملہ مذاہب کے نزدیک وجود ابلےس (سیطان) تسلیم شدہ ہے قرآن شریف میں اکثرمقامات پرتذکرہ ٴ سیطان موجود ہے جس میں بتاگیاہے کہ سیطان انسان کادشمن اورکھلم کھلاگمراہ کرنے والاہے نیز سیطان نے خودبھی دربار خداوندی اپنایہ چیلنج واضح کیا ہے کہ میں سوائے تےرے مخلص بندوں کے سب کوبہکاؤںگا اورراہ راست سے منحرف کروں گا چنانچہ و ہ انسانی رگوں میں خون کی طرح سراےت کرتے ہوئے ہرفرد کوبہکاتارہتاہے اورضلالت وگمراہی اس کامشغلہ ہے۔

مگریہ بھی حقےقت ہے کہ خالق سیطان خداہے اوراسی نے اس کووقت معلوم تک مہلت بھی عطاکی ہے ۔ اس لےے عقلاضروری ہے کہ جب تک کائنات میںاےسے گمراہ کرنے والے کاوجود باقی ہے اس وقت تک اسی طرح کسی ہدایت کرنے والے کاوجود بھی ہواچاہےے ۔ ورنہ انسان اپنی فطری تخلےقی کمزورےوں کی بناٴ پر شرارت اورگناہ پر مجبورسمجھا جائے گا ۔ خداوند عالم کا سیطان کوموجود رکھنا اورمخلوق کوبغیرہادی چھوڑنا مخلوق پر ظلم کے مترادف ہوگا اورجب انسان فطرتا گناہ وگمراہی پرمجبورسمجھ لیا جائے گا توپھرجزاٴ وسزا وجود جنت ودوزخ سب بے کارہوجائے گا ۔

اسی لئے قدرت نے کائنات کوازابتداٴ کبھی کبھی بغیرہادی نہیں چھوڑا چنانچہ حضورصلعم کے متعلق ارشادہے کہ ”اے پیغمبرتوبشےرونذےرہے اورہوقوم کے لےے ایک ہادی ہے۔“ گویا ہدایت کانتظام من جانب اللہ ہمےشہ سے موجود ہے اورہمےشہ رہے گا ۔مگرظاہر ہے کہ وہ انسان جوخود محتاج ہدایت ہوہرگزہگز ہادی نہیں ہوسکتا بلکہ ہادی وہی ہوسکتاہے جوخود ہدایت یافتہ ہواورجس کا دامن گناہوں سے مبراہواورصرف وہ معصوم ہی ہوسکتاہے گمراہ اورخطاکارانسان ہرگز ہدایت کااہل نہیں ہوسکتاکیونکہ اوخویشتن گم است کرارہبری کند

اسی طرح یہ امرواضح ہوجاتاہے کہ ہادی وہی ہوگا جوبالفطرت ہدایت یافتہ ہواورجوہدایت یافتہ ہوگا اسی کو ”مہدی “ کہتے ہیں اورکسی اےسے کے وجود سے عقلازمانہ کبھی خالی نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ تخلےق بشری کی ابتداء سے یہ سلسلہ جاری وساری ہے بلکہ پہلابشربھی بشکل ہادی ہی زےنت زمےن کاسبب بناہے اورازآدم تاخاتم سلسلہ ہدایت ونبوت جاری رہاہے جن میں ہرنبی کی معصوم زندگی ضرورت ہدایت کوپوری کرتی رہی ہے اس لےے بعدازختم نبوت جبکہ زمانہ باقی ہے اوراس کوقیامت تک باقی رہناہے توضرو ری ہے کہ اےساہی معصوم سلسہٴ ہدایت اب بھی جاری رہے مگردنیاجانتی ہے کہ اےسی معصوم شخصےتےں بعدازنبی اکرم علاوہ ذرےت خاص وآل پیغمبرکے اورکوئی نہیں ہے کسی ظاہری راہ نمانے اپنے معصوم ہونے کادعوی کیاہے اسی لئے اس دورکے لےے بھی جملہ اہل اسلام متفق ہیں کہ اس زمانے کے امام حضرت مہدی علیہ السلام بھی ذرےت پیغمبرہی سے ہوں گے جن کاوجودمسلم ومحقق ہے ذرےت پیغمبرمیں جوسلسلہ امامت جاری رہاہے اس میں کے بارھوےں امام حضرت حجت ابن الحسن العسکری علیہ السلام موجودہیں اورغائب ہیں آپ فرےضہٴ ہدایت کوپوشےدہ رہ کر اسی طرح انجام دے رہے ہیں جس طرح سیطان پوشےدہ رہ کر گمراہی وبہکانے میں مصروف ہے۔

مزید  مسجد کے نور نے میری زندگی کو منور کر دیا

حدیث پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

حضورسرورکائنات کی مشہورحدیث ”حدیث ثقلین “ جوحضورنے آخری حج کے موقع پرارشادفرمائی ۔ تقریبا جملہ اہل اسلام میںمتفق علیہ ہے اس حدیث میں حضورنے اپنے بعد کی ہدایت کا انتظام واضح کرتے ہوئے ارشادفرمایاکہ انی تارک فےکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی واھلبےتی ۔ الخ (اے مسلمانوں! میں اپنے بعدتمہارے درمیان ہدایت کے لےے دوگرانقدرچےزےںچھوڑرہاہوں جن میں ایک قرآن اللہ کی کتاب اوردوسرے مےری عترت واہلیبیت ہیں تم ان دونوں سے اپنارشتہ وابستہ رکھوگے توہرگزگمراہ نہ ہوگے اوریہ آپس میں ہرگزجدانہ ہوںگے یہان تک کہ حوض کوثرپرنہ پہنچ جائےں ) اس حدیث سے یہ بات واضح ہے کہ بعد ازپیغمبرمسلمانوں کے لےے واجب الاتباع ”اہلیبیت رسول “ اورواجب العمل کتاب اللہ (قرآن) ہے اوران سے تمسک کے بغیرنجات ممکن نہیں ہے اسی لئے ان کاقیام قیامت تک ساتھ رہناضروری نہیں ہے ظاہری طورسے کتاب اللہ یعنی قرآن تومسلمان کے پاس موجودہے مگراہلیبیت کی بہ ظاہرفرد نظرنہیں آتی لےکن یہ ارشاد اس ذات گرامی کاہے جس کی جانب دروغ اورجھوٹ کاشائبہ بھی نظرنہیں ہوسکتابلکہ اعلان قرآن کی روسے ان کاارشادخداکاارشاد ہے اس لےے عقلاوشرعا ماننا پڑے گا کہ اہل بےت پیغمبرمیںسے کسی بھی فرد کاباقی رہنااشدضروری ہے اوراس وقت تک ضروری ہے جب تک دنیامیںقرآن باقی ہے اوراہلیبیت پیغمبرمیں اےسی جوذات بھی ہوگی وہ ہادی ہوگی اورکوئی ہادی ہونہیں سکتاجب تک کہ مہدی نہ ہو ۔ اس لےے اگرآج کوئی اےسے امام کے وجود کامنکرہوگا جونسل اہلیبیت سے ہوتواس کووجود کتاب کابھی انکارکرناپڑے گا کیوں کہ حضورکاارشاد ہے کہ ”یہ دونوں ہرگزجدانہیں ہوسکتے “ بلکہ ساتھ سا تھ رہیںگے لہذا واضح ہوگیا کہ جب قرآن موجود تواہلیبیت رسول میں سے کوئی نہ کوئی اےساوجود ضرورہے جوقرآن کے ساتھ ہو اوراہلیبیت رسول مع آنحضرت چہاردہ معصومےن ہیں جنمیں علاوہ دخترپیغمبرجناب فاطمہ الزھراصلوات اللہ علےھا کے با رہ امام شامل ہیں ان میں سے آج تک گیارہ امام ازحضرت علی تا حضرت امام حسن عسکری گزرچکے ہیں اب صرف بارہوں فرزند یعنی صرف حضرت امام مہدی علیہ السلام باقی ہیں جن کاوجود کتاب خداکے ساتھ باقی ہے اورانھےں کی وجہ سے یہ قرآن باقی ہے ان کانظرنہ آنا موجود نہ ہونے کی دلےل نہیں ہوسکتا۔اس لےے جملہ اہل اسلام عقےدہ رکھتے ہیں کہ امام مہدی اہلیبیت رسول ہی سے ہیں اوروقت مقررہ پرظاہرہوں گے ان کے وجود سے انکارنہیںکیاجاسکتا۔

مزید  حضرت نوح عليہ السلام

حدیث مذکورکی اسناد اس قدر کتب میںموجود ہیں مجھے اس کے متعلق کچھ تحرےرکرنے کی ضرورت نہیں ۔ عام مسلمانوں کی کتابوں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں علاوہ ازاےں دیگرراکثراحادےث وآیات قرآنی بطوردلےل اس بارے میں موجود ہیں ۔ کتاب ہذا کااختصارتفصےلی طورسے تحرےرکرنے میں مانع ہے ،مطالعہ کے شوقےن طالبان حق اورصاحبان ذوق وشوق ۔صراط السری فی احوال المہدی اورکفاےتہالطالب محمدابن شافعی میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں بطورنمونہ صرف دوحدیثےں پیش کی جارہی ہیں

۱۔ ابن عباس ،انس ،جابر،ابن ماجہ ، احمدبن حنبل وغےرہم نے روایت کی کہ رسول اکرم نے ارشادفرمایا کہ اگرحیات دنیا میںصرف ایک ہی دن باقی رہ جائے توبھی ضروراللہ میرے اہلیبیت سے ایک شخص کوقائم کرے گا جوزمےن کوعدل وانصاف سے اسی طرح بھردے گا ۔ جےساکہ وہ ظلم وجورسے پرہوچکی ہوگی ۔

نوٹ: اس حدیث پرجملہ اہل اسلام متفق ہیں ۔

۲۔ بخاری شریف صحیح مسلم اوردیگررکتابوں میں موجود ہے کہ حضورنے ارشاد فرمایا کہ ”یکون بعدی اثناعشرامیرا کلھم من قریش

اوربعض نسخوں میں ”من بنی ہاشم “ یعنی پیغمبرنے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد بارہ امیر ہوں گے جوکل قریش سے ہوں گے پھرتخصیص کے ساتھ فرمایا کہ بنی ہاشم سے ۔

یہ حدیث بخاری میں تین طرح صحیح مسلم میںنوطرح ،ابوداؤد میںتین طراح ترمذی میں ایک طرح حمیدی میں تین طرح اوردیگررمتعددکتابوں میں متعدد طرےقوں سے مروی ہے اس لئے پتہ چلتاہے کہ پیغمبراکرم نے چندمرتبہ یہ حدیث بیان فرمائی جس میں کہیں قریش فرمایااورکہیں تخصیص کرکے بنی ھاشممگربارہ کی قےدہرجگہ موجود ہے اب یہ بالکل واضح ہے کہ یہ بارہ امیر،خلیفہ ، حاکم یاامام علاوہ اہلیبیت رسول کے دوسرے نہیںہوسکتے کیونکہ نہ توکوئی دوسرے سلسلہ کاکوئی خلیفہ وامیراےساآج موجودہے جس کا وجود قرآن کے ساتھ تسلیم کیاجائے اورنہ کوئی حاکمی وامیری سلسلہ بارہ پرختم ہوجاتاہے رہے اصحاب رسول جوخلیفہ کہلائے وہ با رہ نے تھے نہ بنی امیہ کے تاجداروں میںیہ تعداد پوری ہوتی ہے اورنہ بنی عباس کے بادشاہوں میں اس درست صرف یہی ہے کہ ان امیروں سے مراد صرف بنی ہاشم اوراہلیبیت رسول میںسے بارہ امام ہی ہوسکتے ہیں جن کے اول علی اورآخری بارہوےں امام مہدی علیہ السلام حجت خداورسول موجودہ ہیں ۔ جن کی وجہ سے اب تک دےن محمدی ووجودعالم باقی وقائم ہے اورقیامت کوبھی انہیں کاانتظارباقی ہے ۔

مزید  الاھی اسوے حصہ (2)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.