“صنائع اللہ ” صنائع لنا” صنائع ربّنا ” صنائعنا” کا تحقیقی جائزہ(تیسرا حصہ)

0 1

” صنائع اللہ وصنائع لنا پر کے گذشتہ تمام مطالب  کی مزید فیصلہ کن وضاحت

 جیساکہ گذشتہ مباحث میں  ہم نے معصومین علیھم السلام کی زبان مبارک سے اہل بیت علیھم السلام کی فضیلت ،مقام ومنزلت پر مشتمل پر نورانی جملے ” فنحن صنائع الله ، والخلق كلهم صنائع لنا”(پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور” فإنّا صنائع ربّنا والناس بعد صنائع لنا.”(امام علی علیہ السلام) اور” ونحن صنائع ربّنا، والخلق بعد صنائعنا”(امام العصر والزمان عج اللہ فرجہ الشریف” پر تفصیلی بحث کی تہی. لیکن بعض دوستوں کی طرف سے پیش کردہ اشکالات کی وجہ سے مندرجہ ذیل وضاحتی اور فیصلہ کن  تحریر کو  تیار کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں انشاء اللہ امید ہے کہ مفید ثابت ہوگی ہم نے ان تینوں احادیث کی درایت و رجال پر بحث کو عمدا ترک کیا ہے کیونکہ قواعد حدیث ورجال کے  مطابق یہ ایک مقبول روایت ہے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اصل بحث ان کلمات کے مقصود معانی پر تھی کیونکہ یہ کلمات پرمعنی اور اسرارکے حامل ہونے کے ناطے بہت سوں کی طرف سے ان جملوں کے متعلق شکوک وشبہات اظہارکرنے کی کوشش کی گئی اور بعض نے ایسے معانی اخذ کئے جو “غلو ” کا موجب تہے. اب ہم  “صنائع ” کے معنی  خلق کے  لینے پر اشکالات کو واضح کرینگے.

خلق کے معنی پر اشکالات

 عربی زبان ایک وسیع اورگہری زبان ہونے کے ناطے اس میں  بہت سارے کلمات  ایسے ہیں جن کے مختلف معانی خود اہل لغت نے بیان کئے  ہیں . یہ ان معانی کے علاوہ ہیں جو مجازی طور پر  دیگر معانی و مفاہیم  میں بہی  استعمال ہوتے ہیں مثلا “شیر”  کے لئے  تقریبا 500 کلمات (اسم اور صفت ) عربی میں استعمال ہوتے ہیں یا کبھی ایک لفظ مختلف و متعدد معانی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے. جسے منطقی اصطلاح میں “مشترک لفظی” کہتے ہیں جیسے  لفظ ” عین ” آنکھ ، جاسوس ، چشمہ اور ہرن کی ایک قسم  کے  معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن” مشترک لفظی” صرف اس وقت کسی متن کو سمجھنے میں مشکلات پیدا کرسکتا ہے جب متن میں معنی مقصود اور مطلوب کو سمجھنے یا سمجہانے کے لئے کوئی قرینہ موجود نہ ہو ” قرینہ ” اصطلاح میں اس چیز کو کہتے ہیں جس کے توسط سے کسی لفظ کا مراد ومقصود سمجھ میں آجائے  یہاں پر ہم دو قسم کے قرینے ذکر کرتے ہیں  
1-” قرینہ مقالیہ ” یعنی خود قول اور متن میں ایسا کوئی قرینہ موجود ہوں جو ہمیں اصل اور مقصود معنی کی طرف رہنمائی کرے
 2-” قرینہ مکانیہ” یعنی یہ جملہ کسی ایسی  جگے پر بیان ہوا ہے جو اس کے اصل اور مقصود اور مراد معنی کو ہم تک منتقل کرے لہذا جب” قرینہ مقالیہ یا مکانیہ ” موجود ہو تو پھر دوسرے مختلف معانی  خود بخود مردود و مسترد ہوجاتے ہیں.
 توآیئے ہم  مذکورہ کلمات کے  قرائن  مقالیہ اور مکانیہ کی تحقیق کرتے ہیں.

 
“قرینہ  مقالیہ “

 مذکورہ جملوں کے بنیادی دوحصے ہیں  ایک ” صنائع الله یا صنائع ربنا” اور دوسرا ” صنائع لنا یا صنائعنا ” ان دونوں حصوں میں ” لام” چہپا ہوا ہے جس کو اصطلاح نحو میں لام مقدر کہلاتا ہے .اور کلمہ “صنائع”  “مضاف” ہے اور “اللہ” ” ربنا” اور ضمیر متکلم” نا” “مضاف الیہ” ہے اور اس “لام “کو “لام مضاف الیہ” کہا جاتا ہے جو اختصاص اور ملکیت کے معنی میں اتا ہے جیسا کہ مولا امیر المومنین علیہ السلام کے جملے میں ” لنا” کے ذریعے سے اس لام کااظہار ہوا ہے  اور ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ ان دونوں حصوں میں لفظ” صنائع” ایک ہی معنی میں استعمال ہوا ہے  اور اسی طرح ل” لام” بھی ایک  ہی معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ بعض نے یہاں پر پہلے حصے میں ایک معنی اور دوسرے حصے میں کوئی اور معنی بیان کرنے کی تکلف پر مبنی کوشش کی ہے  اس ضمن میں پہلے حصہ میں لام کو اختصاص اورملکیت اور دوسرے حصے میں لام کو “تعلیل ” جانا ہے .  یعنی اگر تعبیر صحیح ہوں تو سبب کے معنی میں لیا ہے اور جو ان کلمات کے ظاہری ساخت  کا مخالف ہے. اگر چہ التزامی  طور پر تاویل کرکے اس معنی کو درست سمجھا جائے تب بہی یہاں پر صنایع کو خلق کے معنی میں لینے کی وجہ سے وہ ایسی تاویلات کے محتاج ہوئے ہیں  کیونکہ اس  صورت میں پہلے کا معنی یہ ہوتا ہے ” ہم اللہ کے خلق کردہ ہیں اور باقی لوگ ہمارے لئے خلق ہوئے ہیں  ” شاید یہاں پر “لولاک لماخلقت الافلاک ” کے مطلب کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
 دوسری بات ایسا تکلف  والے معنی  پراس وقت حمل کیا جاتا ہے جب بغیر تاویل  کے معنی لینے میں کوئی  اشکال پیدا ہوجائے جیسا کہ اس جیسے بعض کلمات امیر المومنین علیہ السلام سے منسوب ملتے ہیں جس میں لفظ “خلق ” کے ساتھ  ہے تو وہاں  یا تو محدثین نے سلسلہ روات میں غالیون کے وجود کی وجہ سے  رد کیا ہے  یا تاویل کی کی راہ کو اپنایا ہے. جبکہ یہاں پر دونوں حصوں کو ایک معنی لینے میں کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا اور اکثر علماء نے   بھی یہاں پر ایک ہی معنی اخذ کئے ہیں تو دونوں حصوں کے الگ الگ معانی اخذ کرنے اور ایک میں لام کو اختصاص اور دوسر ی  کو تعلیل لینے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی ۔
 تیسری بات اگر یہاں پر خلق کے معنی لیا جائے جس کو ہم نے اپنی پہلی پوسٹ میں رد کیا ۔ تو قواعد درایت احادیث میں سے ایک یہ ہے جہاں پر کسی حدیث کے معنی اور مفہوم میں اختلاف ہوجائے یا کسی متن حدیث کے صحیح اور باطل ہونے میں اختلاف ہوجائے تو ایک قاعدہ یہ ہے اس کو قرآن کریم کی آیات اور سنت واضحہ کی طرف پلٹایا جاتا ہے پس اگر وہ روایت نصوص صریحہ قران و سنت کے مطابق ہوں تو قبول کی جاتی ہے ورنہ رد کیا جاتا ہے ” اور یہ قاعدہ بھی قرآن کریم اور سنت سے  ہی ماخوذ ہے
 رب العزت ارشاد فرماتا ہے ” فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً”(16) یعنی ” (اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا)
 حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں ” کل حدیث مردود الی الکتاب و السنّة و کل شیء لا یوافق کتاب الله فهو زخرف” ہر حدیث کو کتاب وسنت کی طرف پلٹایا جائے پس ہروہ چیز جو خدا کی کتاب کے ساتھ موافق نہ کرے وہ باطل ہے”(17) ایسی روایا ت شیعہ اور سنی فریقین کے نزدیک مستفیض کی حد تک ہے “مستفیض ” تواتر کے قریب روایت کو کہا جاتا ہے
 پس یہ قاعدہ جہاں احکام کے باب میں موجود ہیں وہاں عقائد کے باب میں بھی ہے فرق یہ ہے کہ احکام کے باب میں موافقت میں عدم مخالفت کو کافی سمجھا جاتا ہے لیکن عقائد کا بنیاد قرآن کریم اور سنت قاطعہ سے حتمی طور پر مطابقت ہونا ضروری ہے ان دونوں اصطلاحات میں علمی فرق ہے
 پس اگر ہم “خلق” کے معنی کو لیں اور ان کلمات کو قرآن کریم اور سنت قاطعہ سے مقائسہ کریں تو یہ بنیادی عقاید کے بلکل مخالف نظرآتے ہیں کیونکہ اس معنی کے مراد لیے جانے پر یہاں ” تفویض ” کا معنی اخذ ہوتا ہے جس کی مذمت قرآن کریم کے شانہ بشانہ روایت معصومین علیہ السلام میں صراحتا ہوئی ہے اورعلماء کی کتب بھی تفویض کے بطلان پر واضح ثبوت پیش کرتی ہیں قرآن کی اس سلسلے میں بہت ساری آیات ہیں ہم صرف دو آیات کو نمونے کے طور پر پیش کرتے ہیں

مزید  پہلی رات/ توحید، انسان کی آزادی کا ذریعہ

 1:-” اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَفْعَلُ مِن ذَلِكُم مِّن شَيْءٍ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ”(18) ( اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں رزق دیا وہی تمہیںموت دیتا ہے پھروہی تمہیں زندہ کرے گا، کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی کام کر سکے؟ پاک ہے اور بالاتر ہے وہ ذات اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں”

2:-” أَمْ جَعَلُواْ لِلّهِ شُرَكَاء خَلَقُواْ كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ”(19) ( کیا جنہیں ان لوگوں نے اللہ کا شریک بنایا ہے کیا انہوں نے اللہ کی خلقت کی طرح کچھ خلق کیا ہے جس کی وجہ سے پیدائش کا مسئلہ ان پر مشتبہ ہو گیا ہو؟ کہدیجئے: ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا، بڑا غالب آنے والا ہے.(

 
چند روایات

اس باب میں بہت ساری روایت موجود ہیں  لیکن یہاں ہم انتخاب کرکے چند روایات کے جملے  ذکر کرتے ہیں  

1:-امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا ” نہ جبر صحیح ہے نہ تفویض بلکہ امر بین الامرین  درست ہے  ، پوچھا گیا   اس کا کیا مطلب ہے فرمایا ” جس نے بھی یہ گمان کیا کہ خدا ہمارے افعال کو انجام دینے والا ہے پھر خدا انہی اعمال ورفتار کی وجہ  سے ہمیں عذاب دیگا تو  وہ جبر کا قائل ہوا اور جس نے گمان کیا کہ خدا وند عزوجل نے امر خلق اور ر‌‌زق کو  اپنے حجتوں  کے لئے فویض  کی ہے   پس وہ تفویض کا قائل ہوا   اور جبر کا قائل کافر اور تفویض کا قائل مشرک ہے “(20)

2:- زراۃ بن اعین  کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السلام  کی خدمت میں عرض کی ” ایک شخص جو عبداللہ بن سبا کی اولاد میں سے ہے تفویض کا قائل ہے ” تو امام علیہ السلام نے فرمایا  ” کیسی تفویض  ؟ میں نے کہا ” خدا وند متعال نے محمداور علی علیھما السلام کو خلق فرمایا     پھر سارے امور ان دونوں کو تفویض کی  پس انہوں نے باقیوں کو خلق کیا اور رزق دیا اور موت وزندگی  دیدی ” تو  امام علیہ السلام نے فرمایا  “جھوٹ بولا دشمن خدا نے ، اگر اس سے ملو تو سورہ رعد کی اس آیت کی تلاوت کرو “کیا جنہیں ان لوگوں نے اللہ کا شریک بنایا ہے کیا انہوں نے اللہ کی خلقت کی طرح کچھ خلق کیا ہے جس کی وجہ سے پیدائش کا مسئلہ ان پر مشتبہ ہو گیا ہو؟ کہدیجئے: ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا، بڑا غالب آنے والا ہے) (روای کہتا ہے )پس میں جب اس سے ملا اور اس سے آگاہ کیا تو گویا وہ کچھ نہیں کہہ سکا  (راوی) کہتا ہے گویا وہ گونگا بن گیا تھا “(21)

3:-حضرت امام صادق علیہ السلام نے ان لوگوں کے دعوی کو سختی سے مسترد فرمایا جو لوگ کہتے تھے کہ  خدا نے ائمہ کو خلق فرمایا پھر باقی خلقت اور رزاقیت وغیرہ کو ان کے حوالے  کیا یعنی ان کوتفویض کردی   روایت میں ہے کہ ایک سوال کرنے والے نے امام علیہ السلام کی خدمت میں آکر کہا” ابوہارون المکفوف گمان کرتا ہے کہ آپ نے اس کو فرمایا ہے ” اگر تو” قدیم” کا ادراک کرنا چاہتے ہو تو کوئی بھی اس کا ادراک نہیں کرسکتا اور اگر اس تو یہ جاننا چاہتے ہو کس نے خلق کیا  اور رزق وروزی دی تو وہ محمد بن علی  ہے” (یعنی امام محمد باقر علیہ السلام ہے)(توکیا یہ صحیح ہے؟)امام علیہ السلام نے فرمایا”  اس نے مجھ پر جھوٹ باندھا ہے ، اس پر خدا کی لعنت ہو،  خدا کی قسم  کوئی خالق نہیں اللہ کے سوا ، جو وحد ہ لا شریک ہے ، اس کا حق ہے کہ ہمیں موت چکھائے اور وہ ہمیشہ موجود ہے اور تمام مخلوقات کا خالق ہے”(22)

مزید  ساحل رحمت، ماہ رمضان کی روزانہ دعاوں کی شرح

4:- امام رضاء علیہ السلام کی  ایک  تفصیلی دعاء جس میں  آنحضرت نے غالیوں اور مفوضین سے براءت کا اظہار فرمایا ہے  اس کے چند جملے اسطرح ہیں “پروردگارا ! میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے کی اولاد میں سے ہوں اور اپنے نفس کے نفع ونقصان  اور موت و حیات   اور حشرونشر کا مالک  نہیں ہوں ، پروردگارا ! جس نے بھی گمان کیا کہ ہم “ارباب” ہیں تو ہم اس سے برئ ہیں  اور جس نے گمان کیا ہم خلق کرتے ہیں یا رزق دیتے ہیں تو ان سے بھی ہم برئ ہیں جس طریقے سے عیسی بن مریم نصاری سے برئ ہیں “(23)

 
خلق اور رزق کی تفویض  کےبطلان پر فقہاء اور علماء امامیہ کے  اقوال   

چند بزرگ فقہاء اور علماء کے تفویض کے متعلق  منتخب اقوال کو ذیل میں پیش کرتے  ہیں  جو  فائدے سے خالی نہیں ہیں

1:- علامہ  سید عبدا اللہ شبر    توحید کی اقسام کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” چوتھی قسم خلقت اور رزاقیت میں توحید ہے جیسا کہ خداوند ارشاد فرماتا ہے “أَلَا لَهُ الْخَلْقُ” (آگہ ہوجاؤ اس کے لئے خلقت  ہے”الأعراف آیت 54) اور “هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ”( کیا خدا کے علاوہ کوئی اور خالق ہے ؟ “فاطرآیت 3) و “إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ” (بتحقیق صرف خدا ہی رازق ہے “الذاريات آیت 58) اور جو اس کے مخالف ہیں وہ مفوضہ (لعنھم اللہ) ہیں جنہوں نے کہا کہ  ربوبیت ، خلقت اور رزاقیت کو خدا نے ائمہ علیھم السلام کی طرف تفویض کی ہے  (24)

2:- صاحب کتاب المکاسب ” شیخ انصاری رحمۃ اللہ  علیہ خداوند متعال کی صفات فعلی کے ضمن میں فرماتے ہیں ”  وہ افعال جن کوخدا کی طرف نسبت دینا ضروریات دین میں سے ہے  مثلا ” خلقت، رزاقیت ، موت وزندگی دینا ، وغیرہ  اور ان کو غیر خدا کی طرف(مستقل) نسبت دینا خلاف ضروریات دین  ہے (المکاسب)

3:- علامہ مجلسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ” جان لو !  نبی مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ علیھم السلام کے بارے میں” غلو  ” انکی  الوھیت اور خدا کے ساتھ معبودیت یا خدا کے ساتھ خلق کرنے اور رزق دینے میں شریک کا قائل  ہونا ہے ، یا ان کے وحی یا الہام کے  بغیر عالم الغیب ہونے کا قائل ہونا ہے ، پس  ان میں سے کسی چیز  کا بھی قائل ہو تو  الحاد ، کفر اور دین سے خارج ہے ،جیسا کہ عقلی دلائل اور آیات وروایات اس پر دلالت کرتی ہیں “(25)

3:-آیت اللہ سید محسن الحکیم قدس سرہ  “نجاست غالی ” پر اشکال نہ ہونے کےمسئلے  پر حاشیہ لگاتے ہوئے فرماتے ہیں ”  یہی صورت حال ہے  اگر غلو سے مراد یہ لیا جائے جو انبیاء اور ائمہ علیھم السلام کی صفات کو اس حد تک بڑھائے کہ معتقد  ہو جائے کہ وہ لوگ خالق  اور رازق ہیں  یا (وہ لوگ خدا کی طرح )کسی بھی چیز سے غافل نہیں ہیں اور( خدا کی طرح )ان سے کوئی بھی چیز مخفی نہیں ہے  یا ان جیسی دیگر صفات تو ان کی نجاست ضروریات دین  کے منکر کے نجس ہونے پر مبنی ہے  کیونکہ واضح  سی بات ہے   مذکورہ صفات صرف خداوند  جل جلالہ سے مخصوص ہیں  اوریہ ضروریات دین میں سے ہیں “(26)

4:-شیخ محمد حسن آل کاشف الغطاء قدس سرہ توحید کے معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” خدا کی الوھیت پریکتا ہونے پر اعتقادرکھنا  اور اس کے ساتھ ربوبیت  میں کسی کے شریک نہ ہونے پر اعتقادرکھنا ہے اوریہ بھی  یقین رکھنا کہ وہ ذات   خلقت ، رزاقیت ، موت وزندگی دینے میں اوروجود وعدم میں مستقل ہے  بلکہ شیعوں کے نزدیک  کسی بھی چیز کےوجود میں لانے میں کوئی اور مؤثر نہیں ہے پس جو بھی اعتقاد رکھے  خلقت ، رزاقیت اور موت وحیات میں خداکے علاوہ کسی اور کے مؤثر ہونے پر تو وہ مشرک ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ” (27)

5:- آخر میں ہم صاحب الغدیر علامہ امینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے  قول کونقل کرتے ہیں جس میں حضرت صاحب العصر والزمان عج اللہ فرجہ الشریف کی ایک مبارک توقیع بھی ہے جس میں  تفویض باطل   کو واضح انداز میں بیان فرمائے ہیں  اور علامہ امینی فرماتے ہیں ” کوئی بات نہیں ہے کہ ہم یہاں پر امام محمد باقر علیہ السلام کے  زمانے میں اور اسی طرح حضرت امام المنتظر  عجل اللہ فرجہ الشریف کے زمانے میں اور عصر غیبت میں شیعوں کے درمیان تفویض کے مسئلے میں اختلافات کی طرف اشارہ کریں (28)
پس علی ابن احمد الدلال کہتا ہے ” شیعوں کے ایک گروہ میں اختلاف پیدا ہوا کہ خداوند متعال نے ائمہ علیھم السلام کو خلق کرنے اور رزق دینے میں تفویض دی ہے  تو ایک گروہ نے کہا کہ یہ محال ہے اور اور جائز نہیں  کیونکہ اللہ کے علوہ  باقی اجسام رکھنے والےکسی خلقت پر قادر نہیں ہے  جبکہ دوسرے گروہ نے کہا ” نہیں بلکہ خدا نے ائمہ علیھم السلام کو اس کام پر قادر بنایا ہے  اور ان پرخلق کرنے اور رزق دینے کو تفویض کی ہے  پھر ان کے درمیان اس معاملے پر شدید اختلاف ہوا تو  کسی کہنے والے نے کہا ” تم لوگوں کو کیا ہوا ہے  ؟ کیوں ابو جعفر محمد بن عثمان کی طرف رجوع نہیں کرتے  تاکہ ان سے پوچھا جائے تو ہو حق بات کی وضاحت کردینگے  ،کیونکہ وہ صاحب الامر والزمان عج اللہ فرجہ الشریف تک پنہچنے کا راستہ ہے  پس سب اس پر راضی ہوئے اور اس مسئلہ کو مکتوب کی شکل میں محمد بن عثمان کے حوالے کیا  پس امام کی طرف سے ایک توقیع مبارک ان کے لئے صادر ہوئی ، ” خدا وند ہی وہ ذات ہے جس نے اجسام کو خلق فرمایا اور رزق کو تقسیم کیا ، کیونکہ وہ جسم نہیں رکھتا اور نہ کسی جسم میں حلول کرتا ہے  اس جیسا کوئی بھی نہیں ہے اور وہ سننے والا ، جاننے والا ہے ، لیکن ائمہ علیھم السلام   بے بارے میں تو وہ لوگ خدا سے مانگتے ہیں  تو خدا خلق کرتا ہے  اور وہ لوگ خدا سے مانگتے ہیں تو خدا  رزق عطا کرتا ہے ان کے طلب کو اجابت کرتے ہوئے اور ان کے حق اور عظمت بخشتے ہوئے “(29)
پس امام (جس پر میری جان فدا ہو ) نے یہاں وہ تفویض جن واجب الوجود کی صفات کے مساوی ہے اس کی نفی فرمائی  پس نہ وہ جسم رکھتا ہے اورنہ اس جیسا کوئی ہے  اور خدا ہی رازق ہے  وہی موت دیتا ہے وہی زندہ کرتا ہے  ہاں ائمہ علیھم السلام جب خدا   اسی کے اذن سے کسی کے زندہ ہونے کو مانگتا  ہے  تو  وہ مردے کو زندہ کرتا ہے تو یہاں اصل زندہ کرنے والا خدا کی ذات ہے لیکن ائمہ علیھم السلام کی نسبت بھی یہ کام نسبت دی جاسکتی ہے  (کیونکہ  ان کے مانگنے اور واسطے سے خدا نے اس کو زندہ کیا )جیسا کہ خدا وند ارشادفرماتا ہے “ومارمیت اذ رمیت ولکن الله رمی “

مزید  انسانی زندگی پر معاد کے آثار و فوائد

 
دوسرا قرینہ مکانیہ

اس بارے میں ہم اگر ان کلمات کے صادر ہونے والی جگوں پر غور کریں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہاں معصومین علیھم السلام کیلیے خلق کا معنی ہرگز مناسب معلوم نہیں ہوتا کیونکہ تمام مقامات پر اہل بیت علیھم السلام کے ان فضائل کو منکرین فضائل اہل بیت علیھم سے مخاطب ہوکر بیان کیا گیا ہے. خصوصا حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے معاویہ جیسے دشمن اہل بیت علیھم السلام کو خط میں لکھا ہے اور اگر یہ خلقت کے معنی میں ہوتا تو معاویہ اپنی چالاکی سے اسی کو بہانہ بنا کر کیا کچھ نہ کرتا جیسا کہ آج اسکے ماننے والے انہی کلمات کو خلق کے معنی میں لیکر کر کیا کیاتہمتیں شیعوں پرنہیں لگاتے . اس بارے میں ان کی ویب سائٹس ثبوت کے بطور سامنے ہیں.
 اسی طرح یہی خلق کا معنی اگر اس کلمے سے استفادہ ہوتا تو یقینی طور پر ائمہ علیھم السلام سے ان کلمات کے بارے میں کوئی  استفسار کرتے جیسا کہ موہوم اور مبھم کلمات کے بارے میں ہمیشہ اصحاب ائمہ علیھم السلام کا شیوہ رہا ہے لیکن ایسا کوئی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے لھذا ” کلمہ ” صنیعۃ ” کا معنی عرب عرف میں کوئی غیر مانوس کلمہ نہیں تھا سب اس کے معنی اور مقصود سے آگاہ تھے البتہ بعد میں ابن ابی الحدید جو خود معتزلہ اور تفویض کے معتقد انسان تہے انہوں نے اس کو یہاں بندہ کے معنی میں بیان گیا. اور بعض معاصرین نے ان کلمات کو دوسرں کی دیکہا دیکہی خلق کے معنی سے تفسیر کرکے ان کلمات کو مورد شک وشبہ قرار دیا

 
نتیجہ

پس جو معنی ہم نےابتدائی مباحث میں علماء اورفقہاء اور اہل لغت کی اقوال کی روشنی میں  ان مبارک کلمات کے لئے بیان کیا  وہی صحیح معنی ہے تمام اہل لغت نے ” لفظ “صنیعة” کو اس کے اصل مادہ ” صنع” سے قطع نظر  معنی مورد نظر کو بیا کیا ہے اور علماء نے بھی اسی معنی کے ذیل میں مختلف تعبیرات سے اس کی تفسیر وتشریح کی ہے جیسے ” واسطہ فیض الہی ، اولیائے نعمت ،  اور خدااور ائمہ کے درمیان کوئی واسطہ نہیں جبکہ دیگر مخلوقات اورخدا وند متعال کے درمیان معصومین علیھم السلام واسطہ ہیں ” وغیرہ  اور یہاں پر نہ خلقت کا معنی درست ہے اور نہ عبد کا معنی حتی عبد کو غلام کے معنی میں بھی لیا جائے تو وہ اس مقام سے اجنبی ایک معنی بنے گا  –
 خدا وند عزوجل ہم سب کو محمد آل محمد علیہم السلام کی صحیح معرفت حاصل کرنے کی توفیق عنایت کر ے آمین. والسلام علیکم جمیعا واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین و ما علینا الا البلاغ المبین

————–
16:- (سورہ نساء آیت 59)
17:- (وسائل شیعہ –حرعاملی  ج 18 ص 79)(اصول کافی – کلینی ج 1 ص70)
18:- (سورہ روم آیت 40)
19:-(سورہ رعد آیت 16)
20:- (بحارالانوار- مجلسی  ج5 ص12)
21:-(بحارالانوار- مجلسی  ج25 ص  343-344)( (الاعتقادات- صدوق ” باب الاعتقاد في نفي الغلو والتفويض” ص 101)
22:-(رجال الکشی 2 : 488 | 398 . ) شیخ طوسی نے بھی نقل کی ہے
23:-(الاعتقادات- صدوق ” باب الاعتقاد في نفي الغلو والتفويض” ص 99-100)
24:-( حق اليقين في معرفة أصول الدين – السيد عبد الله شبر، ج 1، ص39)
25:-(بحار الانوار ج 25 ص 346 باب نفی الغلو)
26:- (مستمسك العروة الوثقي- السيد محسن الحكيم، ج 1 ـ ص 423 ـ 424)
27:-( أصل الشيعة و أصولها -محمد حسين آل كاشف الغطاء ص 61.)
28:-( الغدير- الامینی ،ج 5 ص 52- 65.)
29:-( الاحتجاج –طبرسی ،ص264، وبحارالانوار ۔مجلسی ج 25 ص329.)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.