صحیح بخاری پر ایک اجمالی نظر

0 0

مقدمہ

رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے مسلمانوں کی ہدایت کیلئے دو قیمتی چیزیں چھوڑی ہیں تاکہ مسلمان  ہمیشہ ضلالت اور گمراہی سے محفوظ رہیں۔  ان دو چیزوں میں سے ایک اللہ تعالی کی کتاب،  قرآن مجید ہے اور دوسری چیز رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی عترت اور  اہلبیت(علیہم السلام)  ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ عالم اسلام میں پائی جانے والی تمام روایات پر  تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ صحیح احادیث سے صحیح مطلب نکال کہ قرآن کو صحیح طریقے سے سمجھا جا سکے  تا کہ مسلمان اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکیں۔
اہلسنت کے حدیث کی کتابوں میں سے سب سے مشہور کتاب جو  حدیث کی تمام  کتابوں سے معتبر قرار پائی  یہاں تک کہ اہلسنت کے عالموں نے اسے قرآن کے بعد معتبر ترین کتاب کا درجہ دیا اور اسے دین کے سمجھنے کا اہم ذریعہ قرار دیا  وہ  کتاب صحیح بخاری ہے۔
جب تک ہم کسی کتاب کے بارے میں  بحث نہ کریں ،تحقیق نہ کریں  ، اعتراض نہ کریں ، سوال نہ کریں اس وقت تک ہم  اس کتاب کو سمجھ نہیں سکتے  اس لئے صحیح بخاری کو سمجھنے کیلئے بھی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کتاب کی خصوصیات کو سمجھ سکیں۔
اس مقالے میں ہم کوشش کریں گے کہ صحیح بخاری کے علمی معیار کو جان سکیں اور اس کتاب کی فکری  اور  دینی  حیثیت  معلوم کر سکیں اور پتا لگا سکیں کہ اس کتاب نے سنت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی کس حد تک خدمت کی ہے۔

امام بخاری کی زندگی

ابو عبداللہ محمد ابن اسماعیل  بخاری  ،قمری سال کے سن ۱۹۴میں بخارا(خراسان) میں پیدا ہوئے بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہوگیا  اور ان کی والدہ نے ان کی تربیت کی ذمیداری اٹھائی۔  
 بخاری اپنی زندگی کے بارے میں خود فرماتے ہیں کہ  : میں نے دس سال کی عمر سے حدیثوں کو حفظ کرنا  شروع کیا اور ۱۶ سولہ سال کی عمر میں اپنی ماں اور بڑے بھائی کے ساتھ مکے روانہ ہوا چھ سال  میں نے  مکہ اور مدینہ میں زندگی گذاری۔
ان سالوں میں بخاری نے دینی علوم کو حاصل  کیا انہوں نے حدیثوں کی جمع آوری کیلئے شام ، مصر، الجزیرہ، بغداد ، بصرہ، خراسان کا سفر کیا۔  جب وہ نیشاپور پہنچا تو قرآن کے مخلوق ہونے کی  بحث چھڑی ہوئی تھی یہ بحث بخاری اور محمد ابن یحیی دہلی کے درمیان  کشمکش کا سبب بنی  ۔
بخاری علم حاصل کرنے اور چند کتاب لکھنے کے بعد اپنے شہر واپس پلٹے ۔ بخاری اور بخارا کے والی خالد ابن احمد کا اختلاف سبب بنا کہ وہ سمرقند آئے اور ایک گاؤں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ۔  قمری سال۲۵۶  میں جب ان کی عمر ۶۲ سال تھی،  انہوں نے اس جہان فانی کو  الوداع کہا۔(1)
امام بخاری نے ۱۸ ۱کتابیں لکھیں، ان کی کتابوں میں اہم ترین کتاب  صحیح البخاری کو کہا جا سکتا ہے۔   اس کتاب کے علاوہ بخاری کی چند کتابیں یہ ہیں : التاريخ الکبير، التاريخ الأوسط، التاريخ الصغير، خلق أفعال العباد، الضعفاء الکبير، أسامى الصحابة، المبسوط، المسند الکبير، الضعفاء الصغير، مختصر من تاريخ النبى ۔

کتاب صحيح البخارى

 یہ  کتاب اہلسنت کے حدیث کی کتابوں میں سے سب سے زیادہ مشہور کتاب ہے جو اہلسنت کے نزدیک    حدیث کی تمام  کتابوں  میں  سب سے زیادہ  معتبر  کتاب سمجھی جاتی ہے  ۔  صحیح بخاری میں موجود احادیث کو  ۹ نو ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
تمام احادیث کو موضوع کے لحاظ سے ان ابواب میں رکھا گیا ہے  : «بدء الوحي»، «الأيمان»، «العلم»، «الوضوء»، «الغسل»، «الحيض» و «الصلوة» کتاب کے دوسرے ، تیسرے اور چوتھے  حصے میں فقہی ابواب کو جگہ دی گئی ہے ۔ بخاری نے کتاب کے پانچھویں باب میں مناقب کو بیا ن کیا ہے ،  چھٹے باب  میں قرآن کی تفسیر  بیان کی ہے ،  ساتویں باب میں  کچھ فقہی ابواب کو جگہ دی ہے جیسے نکاح ، طلاق  اور آٹھویں باب میں دعا کے متعلق روایات کو  اور کچھ فقھی مسائل کے ساتھ بیان کیا ہے    اور کتاب کے آخر میں  «منامات»، «فتن»، «أخبار آحاد» و «إعتصام  کتاب و سنت» و «توحيد»ان عناوین کو بہترین خاتمے کے عنوان سے ذکر کیا ہے ۔

صحیح بخار ی میں حدیثوں کی تعداد

اہلسنت کے علماء میں صحیح بخار ی کی حدیثوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔   ہدی الساری میں ابن حجر ، ابن صلاح سے نقل کرتے ہیں : صحیح بخاری میں تکراری اور غیر تکراری حدیثوں کی تعداد ۷۲۷۵ ہے (2) جبکہ ریاض میں چھپی ہوئی صحیح بخاری کی دو جلدوں میں حدیثوں کی تعداد ۷۵۶۳ ہے(3) اور دوسری طرف   فہارس البخاری میں رضوان محمد رضوان  نے ابن حجر سے نقل  کیا ہے کہ :  صحیح بخاری میں موجود حدیثوں کی تعداد  ۹۰۸۲ ہے ۔(4) صحیح بخاری کی آدھی سے زیادہ  روایات تکراری ہیں  اس بنا پر غیر تکراری روایات کی تعداد  ۴۰۰۰ ہے۔ ان روایات میں سے ۱۳۴۱روایتیں معلق ہیں یعنی ان کی سند کامل نہیں  اور بہت ساری روایتوں میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کلام نہیں بلکہ اصحاب یا تابعین کے کلام کو نقل کیا گیا ہے۔   ان باتوں کو دیکھتے ہوئے ابن حجر کی بات درست لگتی ہے کہ  :  صحیح بخاری میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے متصل  رواتیوں کی تعداد صرف ۲۶۰۲ ہے۔(5)
امام بخاری کی کتابوں میں سے صحیح بخاری کے علاوہ  دوسری کتابیں علماء اہلسنت کی نظر میں مورد تہمت قرار پائی ہیں کیونکہ بخاری  کی  ۱۱۸ کتابیں سامنے آئی ہیں۔ ۵۹ کتابوں میں پوری کتاب  یا اکثر کتاب  صحیح بخاری کی شرح  پر مشتمل ہیں ۔ ۲۸ کتابیں صحیح بخاری کے حاشیہ پر مشتمل ہیں ۔ ۱۵ کتابیں صحیح بخاری کے خلاصہ پر مشتمل ہیں ۔ ۱۶ کتابیں صحیح بخاری میں موجود موضوعات پر لکھی گئی ہیں ۔(6)

بخاری کا حدیثوں کو نقل کرنے کا طریقہ
۱۔ حدیثوں پر پابندی کے اثرات

کچھ سادہ لوح  مسلمان جو علم الحدیث سے آشنائی نہیں رکھتے  اور حدیث کے صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے منسوب تمام حدیثیں بغیر کمی اور زیادتی کے  رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے ارشاد فرمائی ہیں اور نقل کرنے والوں نے بھی  رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے تمام الفاظ  کو کلام کی ظرافتوں کے ساتھ بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کیا ہے  اور یہ حدیثوں کا مجموعہ نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔   ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صحیح بخاری کی تمام روایات اسی طرح نقل ہوئی ہیں اور سب کی سب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ارشاد فرمائی ہیں ۔ حالانکہ ا س بات کو عقل قبول نہیں کرتی   کیونکہ بہت بعید ہے کہ   رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے اصحاب  کاحافظہ اتنا تیز ہو کہ وہ اس  انتظار میں ہوں کہ رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کچھ بیان فرمائے  اور وہ اس کلام کو بغیر کمی اور زیادتی کے آگے پہنچائیں ۔  اصحاب کے ساتھ تابعین  اور ان کے بعد دوسرے نقل کرنے والے تمام کے حق میں یہ گمان کرنا کہ ان کا حافظہ اتنا تیز تھا کہ  انہوں نے کلام کے تمام الفاط اور ظرافتوں کو بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کیا ہو یہ مشکل ہے    یہا ں تک  کہ ایک حدیث بھی ایسی نہیں جس میں کسی کلمہ کا اضافہ یا کمی نہ ہوئی ہو ۔ جو بات قابل قبول ہے  وہ یہ ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ایک مطلب کو بیان کیا  ہو اور تمام صحابہ نے اپنے حافظہ کے مطابق اس مطلب کو ذہن نشین کیا اور پھر اس مطلب کو اپنے لفظوں میں آگے نقل کیا(اصطلاح میں اسے نقل بالمعنی کہاجاتا ہے)۔ لیکن  وقت کے گذرنے سے  ان مطالب میں کمی زیادتی ہوتی رہی  اور ان الفاظ میں کمی زیادتی ہوتی رہی اور ان تمام  الفاظ کو رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے کلام کا حصہ سمجھا جانے لگا۔  یہ نظریہ اس وقت اور بھی مضبوط ہوتا دکھائی دیتا ہے  جب ہم رسول ا کرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی رحلت کے وقت کے حالات کو ملاحظہ کرتے ہیں  اور پتا چلتا ہے اس وقت حدیثوں کو نقل کرنے پر پابندی لگائی گئی اور وہ دور ’’ منع حدیث‘‘ کے طور پر مشہور ہے اب جب تمام صحابہ اور علماء پر حدیثوں کے بیان کرنے ، سننے ، پڑھنے ، لکھنے پر پابندی ہو  اوران  اسباب کے ساتھ خود انسان اپنی طبیعت اور فطرت میں نسیان (فراموشی ،بھول چوک)رکھتاہے ،  انسان بھول جاتا ہے  اور اتنا بڑا زمانہ جو ہمارے اور رسولاکرم کے درمیان فاصلہ بنا ہوا ہے۔ ان سب عوامل کی بنا پر  ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم تک رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کلام تمام الفاظ اور ظرافتوں کے ساتم بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کیا گیا ہے؟   جو بات  زیادہ سے زیادہ ممکن ہے وہ یہ ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے مطالب کو انہوں نے اپنے الفاط میں بیان کیا ہو جیساکہ اس پر دلیل بھی موجود ہے ۔
عبدالله بن سليمان بن أکيمه الليثى، قال: قلت: يا رسول، إنّى أسمع منک الحديث لا تستطيع أن أوديه کما أسمعہ منک، يزيد حرفاً أو ينقص حرفاً؟ فقال: إذا لم تحلوا حراماً و لم تحرموا حلالاً و أصبتم المعنى، فلا بأس»
عبداللہ ابن سلیمان ابن اکیمہ لیثی  نقل کرتے ہیں : میں نے رسول ا کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے سوال کیا   : یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہم آپ سے حدیث سنتے ہیں لیکن اپنے ضعیف حافظے کی وجہ سے  ہم اس حدیث کو بغیر کمی اور زیادتی کے آگے پہنچا نہیں سکتے۔ اس حدیث کو آگے پہنچانے میں  ضرور کسی حرف کی کمی ہوگی اور کسی حرف کی زیادتی ہوگی ؟
رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ارشاد فرمایا : اگر کسی حرام کو حلال نہیں کرو اور کسی حلال کو حرام نہیں کرو اور  اس حدیث کی معنی وہی رہے تو کوئی حرج نہیں۔(7)
اسی طرح جب واثلہ ابن اسقع سے مکحول اورابو الازھر نے ایک ایسی حدیث کی درخواست کی  جو صحیح ہو ،دقیق ہواور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے بغیر کمی اور زیادتی کے نقل ہوئی ہو تو  انہوں نے مسکرا کے فرمایا :  آپ لوگ جانتے ہیں کہ قرآن ہمارے پاس لکھا ہوا ہے  اور ہم بار بار اس کی تلاوت کرتے ہیں  لیکن جب ہم قرآن کو حفظ کرنے کی کوشش کرتےہیں تو  بعض اوقات اس کو غلط پڑھتے ہیں، اب آپ لوگ کیسے توقع رکھتےہیں کہ ایک ایسی حدیث جو ہم نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سےصرف  ایک بار سنی ہے  وہ ہمارے ذہن میں بغیر کمی اور زیادتی کے  باقی رہے ۔(8)
رسول اکرم کی حدیثوں میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے مطالب کو اپنے الفاظ میں نقل کرنا اتنا عام تھا کہ  حدیثوں کے عالم ابن صلاح  اپنی کتاب کے مقدمہ میں اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے  فرماتےہیں  :
کثيراً ما کانوا ينقلون معنى واحد فى أمر واحد بألفاظ مختلفة و ما ذلک إلاّ لأنّ معولهم کان على المعنى دون اللفظ.
علماء اپنی حدیثوں میں اکثر اوقات ایک معنی کو مختلف الفاظ میں نقل کرتے ہیں  کیونکہ ان کی نظر معنی پہ ہوتیہے الفاظ پہ نہیں ۔(9)
اس کے باوجود کون ہے جو صحیح بخاری کے پورے کے پورے متن کو بغیر کمی اور زیادتی کے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کلام کہے اور صحیح بخاری کو قرآن کے برابر قرار دے  ؟
اب اگر کو ئی کہے کہ  : ان حدیثوں کو درست ماننا ضروری ہے کیونکہ اگر ہمارے پاس صحیح حدیثیں نہ ہوں تو ہمارے لئے  درست عمل کرنا مشکل ہو جائے گا ۔ اس کی بات درست ہے لیکن ہم جواب میں کہیں گے کہ ہمارے پاس اہلبیت(علیہم السلام)  کی حدیثیں موجود ہیں جو ہر موضوع پر فراوان ہیں  جن کو  ہر دور میں موجود اہلبیت (علیہم السلام)  کے شاگردوں نے  سنا اور یاد کیا اور سینہ بہ سینہ منتقل کیا ہے  اور اس طرح سے کلام کو اسکی ظرافتون سے  نقل کیا کہ ان کے لفط لفظ سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔

مزید  کيا خواتين کے لئے بھي بہشتي حور العين ہيں؟

۲۔ بخاری اور ابن عقدہ کا اعتراف  کہ سننے میں اور لکھنے میں اختلاف ہے   

والی بخارا  ،  امام بخاری سے نقل کرتے ہیں  کہ انہوں نے فرمایا : بہت ساری حدیثیں جو میں نے بصرہ میں سنی تھیں  ان کو میں نے شام میں لکھا او رجن حدیثوں کو میں نے شام میں سناتھا ان کو میں نے مصر میں لکھا ۔(10)  والی بخارا نے سوال کیا :  اس صورت میں کیاآپ اس طرح لکھ پائے جیسے سنا تھا ؟ بخاری نے اس سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کی۔(11) بخاری نے حدیث کی کتاب لکھی لیکن افسوس کہ  روایت اور درایت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا اورکسی بھی راوی پر تحقیق کرنا مناسب نہ سمجھا الٹا ایسے راویوں سے روایتیں  نقل کیں جو روایت کیلئے مناسب نہ تھے ۔
معروف رجالی ابن عقدہنے بخاری کے اس ضعیف نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے :بخاری ایک حدیث کو ایک سند کے ساتھ  دو لفظوں سے روایت کرتے ہیں   وہ اپنے حافظہ پر اعتماد کرتے ہیں بخارا آنے کے بعد جو حدیثیں ان کو یاد تھیں ان کو لکھتے تھے ۔
ابن عقدہ سے پوچھا گیا  : بخاری کا حافظہ قوی تھا یا مسلم کا ؟ انہوں نے کہا دونوں عالم ہیں۔ یہ سوال ان سے متعدد بار پوچھا گیا اور ہر بار انہوں نے یہی جواب دیا۔ آخر میں ابن عقدہ نے اس طرح جواب دیا  : محمد بخاری  نے اہل شام کے بارے میں بہت غلطیاں کی ہیں کیونکہ انہوں نے اہل شام سے ان کی کتابیں لیں اور ان  کو پڑھا  اب وہ ایک راوی کی  جگہ پر دوسرے راوی کا ذکر کرتے  اور سمجھتے کہ انہوں نے درست لکھا ہے۔(12) لیکن مسلم اس طرح نہیںتھے ان کی غلطیاں بخاری سے کم ہیں کیونکہ وہ صحیح سند والی روایا ت کو لکھتے  اورمقطوع  ، مرسل اور  بغیر سند والی روایات کو چھوڑ دیتےتھے۔(13)

۳۔ صحیح بخاری میں تحریف

قسطانی اپنی کتاب ارشاد الساری میں لکھتے ہیں کہ : صحیح بخاری کے جتنے بھی نسخے میرے ہاتھ لگے ہیں  ان میں اختلاف ہے  بعض جگہ عنوان ہیں اور حدیثیں نہیں ہیں اور بعض جگہ حدیثیں ہیں اور عنوان نہیں   اس لئے اعتراض کیا جاتاہے ۔
حافظ ابو  ذر ہروی   ، ابو الولید سے اس اختلاف کا راز  نقل کرتے ہوئے لکھتے  ہیں کہ :   
میں نے امام بخاری کے کتابدار سے صحیح بخاری  کا ایک نسخہ لیا  میں نے دیکھا کہ وہ نسخہ ناتمام اور پراگندہ تھا،  کہیں عنوان تھے حدیثیں نہیں تھیں کہیں حدیثیں بغیر عنوان کے تھیں  کہیں حدیث تھی لیکن راوی کی شخصیت کا پتا نہیں تھا  میں نے اس نسخے کودوسرے نسخے سے ملا کر دیکھا تو بہت زیادہ اختلاف تھا ۔(14)  اور تیسرا نسخہ ان دونوں سے مختلف تھا یعنی جتنے نسخے تھے سب کے سب جدا جدا اور الگ الگ تھے، کوئی کسی جیسا نہ تھا، کیونکہ ہر کاتب  اور جمع کرنے والے نے اپنی مرضی سے کام لیا تھا  اب اتنے نسخوں میں سے کسی ایک نسخے پہ ہاتھ رکھ کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ صحیح بخاری کا صحیح  نسخہ ہے  اور اس پر اعتماد کیا جائے ۔

علم رجال کی روشنی میں صحیح بخاری پر ایک نظر
۱۔  بخاری کا حنفی مذہب اور فکر کی توہین کرنا

رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے کلام کو جمع کرنے اور ا س پر تحقیق کرنے کیلئے سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان  سیاسی  اور  مذہبی جانبداری سے کام نہ لے اور تعصب کے بغیر رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے کلام کو  بغیر کمی اور زیادتی کے نقل کرے ۔
امام بخاری  فکری لحاظ سے مسلک ظاہریہ کا پیروکار تھا اور اکثر نظریات  میں  امام احمد ابن حنبل سے متفق تھا اور قیاس ، دلائل عقلی اور تحلیل عقلی کا شدت سے مخالف تھا ۔
بخاری ، حنفی فکر کا مخالف تھا ۔  
اس بات کی دلیلیں ان کی کتاب میں اکثر جگہ پر پائی جاتی ہیں ۔
امام بخاری نے اپنی کتاب میں احمد ابن حنبل ، شافعی اور مالکی  تینوں اماموں کا تذکرہ کیا ہے  لیکن کہیں ابو حنیفہ کا ذکر نہیں کیا ، اس کا سبب یہ نہیں حنفی فکر اس ماحول میں مشہور نہیں تھی  خود سمرقند اور بخارا کے لوگ حنفی مذہب  کے پیروکار تھے اور  خود بخاری  اپنی زندگی کےآغاز میں  اور ان کے والد اور خاندان والے حنفی مذہب  کے پیروکار تھے۔
انہوں نے اپنی کتاب میں کئے مقامات پر ابو حنیفہ کیلئے تحقیرانہ انداز استعمال کیا ہے  اور پوری کوشش کی ہے کہ کہیں ابو حنیفہ کے نظریے کو بیان نہ کرے اور جہاں ابو حنیفہ کے نظریے کو ذکر کرنے پر مجبور ہوئے ہیں تو بھی ابو حنیفہ کے نا م سے نہیں لکھا بلکہ لکھا ہے : «قالبعض الناس» بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے۔   آپ لوگ ۲۷ بار اس عبارت کو مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔ ۱۷ بار کتاب الحیل میں یہ عبارت موجود ہے۔ کیونکہ امام بخاری  فکری لحاظ سے مسلک ظاہریہ کا پیروکار تھا اور ابو حنیفہ مسلک عقل کے پیروکار تھے  او ر ان کے شاگرد بھی اسی مسلک کے پیروکار تھے، جیساکہ ابو یوسف اور شیبائی  کا نام لیا جاتا ہے۔
حنفی مذہب اور فکر کی توہین میں بخاری اس قدر آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے اپنے کتاب کے آخر کو ابوحنیفہ کی مخالفت کیلئے مخصوص کیا۔  حنفی مذہب میں اعمال کیلئے نیت لازمی نہیں  بخاری  نے اس کے مقابل فتوی دیا اور  اعمال کیلئے نیت کو لازمی قرار دیا  ۔ بخاری نے اس بات کو ثابت کرنے کیلئے ایک ایسی حدیث کا سہارا لیا جو (بدء الوحی ) اس باب سے مناسبت نہیں رکھتی ۔کہا جاتا ہے کہ بخاری نے اس حدیث کو ایک ایسے محدث سے نقل کیاہے جوابو حنیفہ کا مخالف تھا۔
ان تمام باتوں سے پتا چلتا ہے کہ بخاری کی کتاب کیلئے صحیح بخاری کا عنوان ٹھیک نہیں لگ رہا  کیونکہ انہوں نے صحیح اور سند والیں حدیثوں کواس لئے بیان نہیں کیا کیونکہ وہ  حدیثیں ابو حنیفہ کے مذہب سے سازگار تھیں ۔ اس طرح کی فکری اور مذہبی بنیاد کی وجہ سے بخاری پر اعتراض وارد ہوتا ہے یا نہیں ؟ اس پر ہم ا نشاء اللہ  آگے بحث کریں گے ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ  ہمیں حق تک پہنچنے کیلئے  دونوں مکاتب کی احادیث کو ملاحظہ کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کس میں تحریف (حدیث مین تبدیلی کرنا) اور تقطیع (حدیثوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا) کا احتمال ہے۔

مزید  والد ین کی خدمت جہاد سے بہتر ہے

۲۔ صحیح بخاری میں غیر مسند حدیثیں  اور رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے علاوہ کسی اور کا کلام

کچھ سادہ لوح  مسلمانوں  کا کہنا ہے کہ صحیح بخاری میں موجود  رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے منسوب تمام حدیثیں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ارشاد فرمائی ہیں  حالانکہ اکثر حدیثیں ایسی ہیں جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کلام ہی نہیں اور  راوی نے رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے نقل ہی نہیں کیا تو ان کے صحیح اور ضعیف ہونے کی بحث کیا کریں۔   کیونکہ وہ صحابہ یا تابعین کا کلام ہے   اس بنا پر صحیح بخاری  کے کچھ حصے کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا نہیں بلکہ صحابہ یا تابعین کا کلام کہنا چاہیے ۔
یہاں یہ بات کہنا  ضروری ہے جب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ صحیح بخاری معتبر کتاب ہے تو ان کی مرادصحیح بخاری  کی وہ احادیث ہوتی ہیں جو رسول اکرم  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے منقول ہیں ورنہ  رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حدیثوں کےعلاوہ جو روایتیں ہیں ان پر اہلسنت کے بزرگ علماء نے اعتراض کیا ہے اور ان میں اختلاف پایاجاتا ہے  ۔
صحیح بخاری پر شرح لکھنے والے عالم ، علامہ عینی نے اپنی کتاب کے مقدمے میں لکھا ہے کہ :
قد أکثر البخارى من أحاديث و أقوال الصحابة و غيرهم بغير إسناد، فإن کان لصيغة جزم ک «قال» و «روي» و نحوهما، فهو حکم منه بصحته، و ما کان بصيغة التمريض «روي» و نحوه، فليس فيه حکم بصحته، و لکن ليس هو واهياً، إذ لوکان واهياً لما أدخله فى صحيحه.
بخاری نے اپنی کتاب میں حدیثوں کو  اور صحابہ کے اقوال کوبغیر سند کے نقل کیاہے  اس کو  جاننے کیلئے دو الگ طریقے کار رکھے ہیں  جہاں قال کہا ہے وہاں یقینی حکم لگایاہے اور جہاں روی کہا ہے وہاں یقینی حکم نہیں لگایاہے لیکن یہ بھی فائدہ سے خالی نہیں کیونکہ اگر فائدہ نہ ہوتا تو اس کو اپنی کتا ب میں کیوں ذکر کرتے؟(15)
صحیح بخاری میں مرفوع اور معلق حدیثوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ   ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں : صحیح بخاری میں مرفوع اور معلق حدیثوں کی تعداد۲۷۶۱ ہے  صحیح بخاری کی تکراری    روایات   حذف کرنے کے بعد صحیح بخاری میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )سے متصل  روابتوں کی تعداد صرف ۲۶۰۲ ہے۔(16)

۳۔ امام بخاری کا علم رجال کو چھوڑ کے ہر ایک سے روایت نقل کرنا

بہت سارے علماء حدیث ،  راویوں میں تحقیق کرتے ہیں اور  جن پر اعتماد کرتےہیں ان کو  جدا کرتے ہیں ان راویوں سے جو حدیثوں کو جعل کرتےہیں (جھوٹی روایتیں نقل کرتے ہیں) لیکن علماء رجال ، صحیح بخاری میں موجود راویوں کے بارے ہیں خاموش رہتےہیں یعنی ان کی خاموشی سے لگتا ہے کہ وہ بخاری سے متفق ہیں حالانکہ ایسا نہیں بلکہ انہوں نے صحیح بخاری کو اتنا مقدس سمجھا ہے کہ اس پر تحقیق کی جرات نہیں رکھتے ۔ لیکن بعد میں آنے والے محقق علماء نے جرات کی ہے اور صحیح بخاری میں موجود راویوں پر تحقیقی کی ہے  اس بارے میں ابوالحسن حنبلی کا کلام نقل کرنے کے قابل ہے ۔ ابوالحسن حنبلی فرماتے ہیں :  جو بھی راوی صحیح بخاری میں ذکر ہے  وہ پل کی طر ح ہے۔  یعنی آگے اس راوی پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔(17)
رفاعی نے صحیح بخاری کا دفاع کیا اور اسے افضل ثابت کیا جب یہ بحث چھڑی کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سے کونسی کتاب  افضل ہے ۔ لیکن صحیح بخاری پر وارد اشکالات کو بھی تسلیم کیا  انہوں نے صحیح بخاری پر وارد چھ اشکالات کو ذکر کیا : وہ راوی جن سے فقط بخاری نے روایت کی ہے اور مسلم نے ان سے روایت قبول نہیں کی ان کی تعداد ۴۳۰ افراد سے زیادہ ہے  اور ان میں سے ۱۶۰ ، افراد کو علماء نے ضعیف قرار دیا ہے ۔(18)
ہم یہاں مثال کے طور پر نعیم ابن حماد کا ذکر کرتے ہیں جو صحیح بخاری کا راوی ہے  اور کچھ افراد نے اس پر اعتماد بھی کیا ہے لیکن اہلسنت  کےعلماء نے اور رجال کے علماءنے   اسے پسند نہیں کیا اور ان سے حدیث لینے سے منع کیا ہے   اور اس کی حدیث کو معتبر نہیں سمجھا ۔ اس بارے میں ابن حجر عسقلانی کی کتاب تہذيب التہذيب(19)کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔

۴۔ ناصبیوں سے حدیثوں کو نقل کرنا

اہلسنت کے بزرگ علماء ناصبیوں سے حدیثوں کو نقل کرنے سے پرہیز کرتے ہیں  ۔ امام بخاری نہ صرف ناصبیوں سے حدیثوں کو نقل کرنے سے پرہیز نہیں  کرتے بلکہ ناصبیوں سے حدیثوں کو نقل کرنے  کی طرف بہت زیادہ مائل ہیں ۔ ابن حجر عسقلانی   نے صحیح بخاری پر لکھنے والے مقدمے کی ایک فصل  کو صحیح بخاری میں موجود راویوں کی  رجالی لحاظ سے تحقیق کے ساتھ مخصوص کیا ہے، اس میں انہوں نے ناصبی راویوں پہ نشان لگایا ہے  ۔ ابن حجر عسقلانی   فرماتے ہیں : اسحاق بن سويد العدوى، جرير بن عثمان حمصى، حصين بن نمير واسطى، عبداللّہ بن سالم اشعرى، عکرمہ مولى ابن عباس (خوارج میں سے )، عمران بن حطان (خوارج میں سے)، قيس بن ابى حازم، وليد بن کثير بن يحيى مدنى (خوارج میں سےہیں)۔(20)

۵۔ امام بخاری کا اہلبیت (علیہم السلام)  سے نقل حدیث کرنے سے پرہیز کرنا

امام بخاری نے پوری زندگی روایتوں کو جمع کیا کبھی مکہ، کبھی مدینہ، کبھی بغداد، کبھی سامرا، کبھی کاظمین سے حدیثیں  کو جمع کیا ۔ اس وقت ان شہروں میں امام محمد تقی(علیہ السلام) ، امام علی نقی (علیہ السلام)   اور امام حسن عسکری  (علیہ السلام) سے منقول حدیثیں موجود تھیں لیکن بخاری نے ایک بھی حدیث ان حضرات  سے نقل نہیں کی  ۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام)  کے بے شمار شاگردوں کے ہوتےہوئے جو دین اور حدیثوں کا علم رکھتے تھے  نہ صرف یہ ان سے کوئی حدیث نقل نہیں کی بلکہ ائمہ معصومین  میں سے بھی کسی سے حدیث کو نقل نہیں کیا ۔بخاری نے  شیعہ حدیثوں کو  نہ صرف شیعہ راویوں سے نقل نہیں کیا بلکہ جہاں کسی سنی عالم نے شیعہ حدیث کو نقل کیا ہے اس حدیث کو بھی بخاری نے نقل نہیں کیا۔
حالانکہ اہلسنت کے بزرگ علماء نے  شیعہ فکر ، شیعہ فرہنگوثقافت ، شیعہ راویوں اور شیعہ حدیثوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔   ابن عقدہ جو کہ اہلسنت  کے بزرگ رجالی عالم  اور بخاری کے ہمعصر ہیں،  اپنی کتاب میں امام جعفر صادق (علیہ السلام)  کے ۴۰۰۰شاگردوں کے نام لکھتے ہیں  جنہوں نے حدیثوں کو نقل کیا ہے(21)جن میں سے سفيان ثورى، ابن عُيينہ، شعبہ، عبدالملک بن جرع، فضيل بن عياض، محمّد بن اسحاق، امام مالک بن انس اور دوسرے شاگرد ہیں  ۔ اہلسنت  کے تمام علماء نے امام جعفر صادق  (علیہ السلام) سے حدیثیں نقل کی ہیں لیکن بخاری نے امام جعفر صادق  (علیہ السلام) سے بھی روایت نقل کرنے کو گوارا نہیں کیا۔

مزید  امام موسیٰ کاظم ع کی ماں حضرت حمیدہ

صحیح بخاری کے مطالب کی تحقیق
۱۔ صحیح بخاری میں تحریف اور تقطیع ( حدیثوں میں تبدیلی اورحدیثوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا)

صحیح بخاری میں موجود حدیثوں کو اہلسنت کے دوسرے علماء نےاپنے کتابوں میں بغیر کمی اور زیادتی کے  نقل کیا ہے لیکن بخاری نے حدیثوں کے ان ٹکڑوں کو جن میں خلفاء کی مذمت آئی ہے، کاٹ  دیا ہے   ۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ یہ طریقہ درست نہیں اور اس کے ساتھ پورے صحیح بخاری کی صحت پر سوال اٹھے گا  ۔(22)

۲۔ غیر مناسب حدیثیں

کبھی حدیثوں کے متن میں  وہ بلند مطالب ہوتے ہیں کہ ایک حدیث کا عالم سند کو دیکھے بغیر بتا سکا ہے کہ یہ حدیث درست ہے لیکن  کبھی حدیثون میں ایسے ضعیف مطالب ہوتے ہیں  جو اس حدیث کے جعلی ہونے کا پتا دیتے ہیں ۔
صحیح بخاری  میں بہت زیادہ مقامات پرپتا چلتا ہے کہ حدیث میں موجود  کلام کے درمیا ن کوئی کوئی نظم اور ضبط نہیں  جیسے ایک حدیث جس  میں آیا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام)  نے ابو جہل(23) سے اس کی بیٹی کا ہاتھ مانگا   اس حدیث کی ابتدا اور انتھا میں کوئی ربط نظر نہیں آتا۔  کیا کوئی درست دیکھنےو الا اس حدیث کی صحت کی گواہی دے سکتا ہے؟

۳۔ معاویہ کی تعریف  میں حد سے بڑھنا

بخاری نے صحیح بخاری  کے  کتاب الفضائل کے ۶۰ ساٹھویں باب کو معاویہ کی شان کیلئے مخصوص کیا ہے ۔ اس باب میں کوئی رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی حدیث تو نہ ملی  اس نے لاچار تین روایتیں نقل کی ہیں :
ابن عباس : معاویہ رسول اکرم کے صحابی تھے۔
ابن عباس : معاویہ ، فقیہ تھے۔
معاویہ : ہم رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے ساتھ تھے اور دیکھا کہ نماز کس طرح پڑہتے ہیں ۔(24)
اور  اس طرح کی بہت ساری روایتیں  جن کی تفصیل  انسان کو حیرانی میں ڈال دیتی ہے۔

۴۔ حضرت علی(علیہ السلام)  اور فاطمہ زہرا (علیہا السلام) کے فضائل کو نقل کرنے میں کوتاہی کرنا

بخاری جب تذکرہ  اہلبیت (علیہم السلام)  تک پہچنتے ہیں   تو صحیح بخاری کے کتاب الفضائل کے ۶۱ ،اکسٹھویں باب میں آدھی سطر کی حدیث نقل کرتے ہیں حالانکہ دوسرے ابواب میں اہلبیت (علیہم السلام)  کے  فضائل میں بہت بڑی حدیثیں ہیں  ۔ حضرت فاطمہ زہرا(علیہا السلام)  کیلئے ایک حدیث نقل کرتےہیں  حالانکہ خلیفہ اول کیلئے ۲۴ حدیثیں نقل کیں ہیں۔ اور خلیفہ دوم کیلئے ۱۵ حدیثیں نقل کیں ہیں۔ جب بات امیرالمومنین (علیہ السلام)  تک پہنچتی ہے صرف سات حدیثیں نقل کرتے ہیں جن میں نہ حدیث غدیر ہے  ، نہ حدیث انا مدینہ العلم ہے  ،  نہ حدیث علی مع الحق ہے ، نہ ہی حدیث ثقلین ہے ۔   امیرالمومنین کی شان میں ہزاروں حدیثیں ہیں  لیکن افسوس یہ ہے کہ بخاری نے  صرف سات حدیثیں نقل کی ہیں ان میں سے بھی دو حدیثیں تکراری ہیں  اور تیسری حدیث : جس میں حضرت علی (علیہ السلام)  کے ابو تراب ہونے کوبیان کیا گیا ہے اس کو تبدیل کردیا ہے   جو صحیح  مسلم سے سمجھ میں آتی ہے ۔  چوتھی روایت میں  تسبیح زہرا (علیہا السلام) کاذکر ہے ۔(25) پانچویں روایت ، حدیث منزلت ہے۔ چھٹی روایت کا مفہوم واضح نہیں ۔

معارف اسلامی میں تحریف اور جعلی حدیثیں
۱۔ اللہ تعالی کی جسمانیت   

تمام آسمانی ادیان کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے انسانوں کے سامنے  اللہ تعالی کی معقول صورت پیش کی ہے ۔ خالق  ، مجرد ہے مادہ سے پاک ہے ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی جسم نہیں رکھتا ، کسی خاص مکان میں نہیں رہتا ، آنکھوں سے نظر نہیں آتا  جیسا کہ قرآن کریم میں صراحت سے آیا ہے کہ:
لا تدرکه الأبصار و هو يدرک الأبصار و هو اللطيف الخبير.(26)
نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں اور وہ نگاہوں کا برابر ادراک رکھتا ہے کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی ہے۔
ایک اور جگہ پر قرآن ارشاد فرماتا ہے :  
ليس کمثله شى ء(27).
 اس کا جیسا کوئی نہیں ہے۔
لیکن بخاری، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی  ایسی حدیثیں لاتے ہیں جو بتاتی ہیں کہ اللہ تعالی انسان کی طرح جسم اور اعضاء رکھتا ہے ۔(28) اللہ تعالی نظر آتا ہے ۔(29) ہر رات اللہ تعالی عرش سے زمین پر آتا ہے(30)اور  اللہ تعالی کو  ان آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔(31)

۲۔ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی شخصیت کو مجروح کرنا

رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اسلام کی آئیڈیل شخصیت ہیں جو تمام نبیوں (علیہم السلام)  سے افضل اور کامل ہیں تمام مسلمانوں کیلئے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی زندگی میں  اسوہ حسنہ ہے لیکن صحیح بخاری نے جس طرح رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی تصویر کشی کی ہے وہ ایک  کمزور شخصیت  کی عکاس لگتی ہے ۔ جس کو نبوت میں شک ہے اور ان کو نبوت  کااطمنان دلانے والا ایک نصرانی عالم ہے ۔ (32)  جس پر ساحروں کا جادو اثر کرتا ہے ۔(33) جو عشاء کی نماز میں دو رکعات پڑھتا ہے ۔(34) جو سورج کے غروب کے بعد عصر کی نماز پڑھتا ہے ۔(35) جو عمامے اور جوتوں پر مسح کرتا ہے ۔(36) جو قرآن  کو بھول جاتا ہے۔(37)  اس کے علاوہ ایسے موارد جن کو لکھنے کی  قلم اجازت نہیں دیتا ۔ حالانکہ قرآن نے  رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی اس طرح سے مدح سرائی کی ہےکہ  :
لقد کان لکم فى رسول اللّه أسوة حسنة(38)
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے،

۳۔  رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے علاوہ دوسرے نبیوں(علیہم السلام) کی شخصیت کو مجروح کرنا

بخاری نے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے علاوہ دوسرے  نبیوں(علیہم السلام) کے بارے میں ایسی حدیثیں ذکر کیں ہیں جو ان کے  بلندمقام سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ بخاری لکھتے ہیں  :  حضرت ابراہیم خلیل اللہ  نے تین جھوٹ بولے اس لئے مقام شفاعت سے محروم ہو گئے ۔(39)ایک بنی کو جیسے ہی ایک چیونٹی نے کاٹا اس نے پورے چھتے کو آگ لگادی(40)حضرت موسی نے عزرائیل کو منہ پرتھپڑ مار کر اسے اندھا بنا دیا(41)

————

 1. ہدی الساری، مقدمہ فتح الباری، ابن حجر عسقلانی، دارالمعرفة، ص 478 و 494.
2 . اوپر والی کتاب، ص 465.
3- صحیح البخاری، ریاض:ناشر بیت الأفکار الدولیہ للطبع و النشر.
4 . فہارس البخاری،ناشر مصر، ص 2.
5 . ہدی الساری، لبنان:ناشر دارالفکر، ص 663 .
6 . مقدمہ صحیح البخاری، مکہ مکرمہ، 1376 ق، صحیح البخاری، ص 40.
7 . معجم الکبیر، طبرانی، نے نقل کیا   أضواء علی السنة المحمدیة، ص 78.
8 . بیہقی، نے نقل کیا  أضواء علی السنة المحمدیة، ص 81.
9 .اوپر والی کتاب، ص 77.
10 . ہدی الساری، دارالمعرفة، ص 488.
11 .اوپر والا حوالہ.
12 . پژوہشی تطبیقی در احادیث بخاری و کلینی، ہاشم معروف الحسنی، ص 131.
13 اوپر والا حوالا
14 . ارشاد الساری، ج 1، ص 23.
15 . عمدة الغاری، ج 1، ص 10.
16 . ہدی الساری، دارالفکر، ص 663 .
17 . اوپر والا حوالہ ، ص 38.
18 . مقدمہ صحیح البخاری، بیروت: دارالعلم، ج 1، ص 16.
19 . تہذیب التہذیب، ج 10، ص 461.
20 . اوپر والا حوالہ.  
21 . الامام الصادق (ع) و المذاہب الاربعہ، ج 1، ص 398.
22 . زیادہ معلومات کیلئے  مطالعہ کریں : صحیح البخاری، ص 54.
23 . صحیح البخاری، ج 4، ص 101.
24 . اوپر والا حوالہ ، ج 5، ص 96.
25 . صحیح البخاری، ج ، ص 80؛ صحیح مسلم، ج 1، کتاب الایمان.
26 . سورہ انعام، آیہ 103.
 27. سورہ شوری، آیہ 11.
28 . صحیح البخاری، ج 6.
29 . اوپر والا حوالہ ، ج 1، کتاب الصلوة.
30 . اوپر والا حوالہ ، ج 2، کتاب التہجد.
31 اوپر والا حوالہ ، ج 1، باب فضل السجود.
32 . صحیح البخاری، ج 1، باب بدء الوحی.
33 . اوپر والا حوالہ ، ج 7، ص 257.
34 .  اوپر والا حوالہ ، ج 2، باب 329، حدیث 458.
35 . اوپر والا حوالہ ، ج، ص 154 و 165 و 201.
36 . اوپر والا حوالہ ، ص 108 و ج 1، ص 62.
37 . اوپر والا حوالہ ، ج 3، کتاب الشہادات، باب شہادة الأعمی و نکاحہ.
38 . سورہ احزاب، آیہ 21.
39 . صحیح البخاری، ج 6، تفسیر سورہ بنی اسرائیل، ذیل آیہ «ذریةمنحملنامع نوح».
40 . اوپر والا حوالہ ، ج 4، کتاب الجہاد و السیر.
41 . اوپر والا حوالہ ، ج 2، باب 853، حدیث 1249.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.