صبرو رضا کا پیکر

0 0

180x480 Banner

کربلا کے تپتے ہوئے رہگزار میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے نواسے شیرِ خدا حضرت علی کے فرزند خاتونِ جنّت جناب فاطمہ کے لاڈلے حضرت امام حسیننے اپنے 72(بہتر) ساتھیوں میں جس میں شیر خوار بچے خواتین اور بوڑھے بھی شامل تھے حق و باطل کی جنگ میں جس شجاعت ،ہمّت اور جرأت کے بعدجامِ شجاعت نوش فرمایا ۔یہ سانحہ عظیم اسلامی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر کے رہتی دنیا تک باطل کو شرمسار کرتا رہے گا۔
صبر و رضا کے پیکر حضرت امام حسین نے میدانِ کربلا میںجامِ شجاعت نوش کر کے اسلام کو ایک نئی زندگی دی اور ’’یز یدیت‘‘ کو وہ انوکھی شکست دی ہے جس کی مثال تاریخِ عالم میں نہیں مل سکتی۔آپ کا جذبۂ صادق اور حق پرستی ہی آج بنی نوع انسان کو صبر و استقلال ،شجاعت اور مردانگی کے اس پیکر کو یاد کرنے پر مجبور کرتا ہے اور یہ یاد رہتی دنیا تک اسی طرح برقرار ہے گی۔
حضرت امام حسین کی شہادت انسانوں کو ہمیشہ سچائی اور حق پرستی کا درس دیتی رہے گی۔چاہے راست گوئی کی سزا کچھ بھی یہ باطل دنیاتجویز کرے حق قائم اوردائم رہنے والا ہے۔نواسہ رسول حضرت امام حسین کی شہادت حق کی بقاء کی جد و جہد تھی سچائی کے فروغ کا راستہ تھی اور اسلام کے استحکام کی کامیاب پیش رفتتھی۔آج واقعۂ کربلا کو قریب چودہ سو سال گزر چکے ہیں لیکن اس شہیدِ اعظم کی یاد تازہ ترین واقع کی طرح تازہ ہے اور یہ تازگی اس وقت تک انسانوں کو اس خوں آشام اور دلدوز مناظر کی یاد دلاتی رہے گی جب تک یہ دنیا قائم ہے۔جبر و صبر کا تصادم اس وقت سے جاری ہے جب سے آدم نے اس کرۂ رض پرانسانی تمدّن کا سنگِ بنیاد رکھا تھا اس مسلسل تصادم کی ایک لمبی اور بھاری زنجیر ہے جو کربلا کے میدان تک کھنچتی ہوئی چلی آئی لیکن شہادتِ حسین کا منفرد پہلوجس نے اسے آفاقی بنا دیا یہ ہے کہ جبر و صبر کے مابین تصادم کے جتنے بھی ممکنہ وجوہ ہو سکتے تھے وہ سب کے سب کربلا میں جمع ہو گئے تھے اور حسین کا یہ فیصلہ کہ صبر کی علامت جبر کی کسی بھی نشانی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرے گی انسانی شعور و فکر کو اس موڑ ر لے آیا تھا جہاں سے شخصی نظامِ حکومت کے خلاف عوام کی تحریکِ آزادی شروع ہوئی ہے ،
بے شک حسین کا ہر اقدام اسلام کی بقا کے لئے تھا۔مذہبِ توحید کی سربلندی کے لئے تھا ۔عبادت،تقویٰ اورپرہیز گاری کے پرچم کو حیاتِ بشر کی فضاؤں میں لہرانے کے لئے تھا اور خود ان کا اشتیاقِ عبادت یہ تھا کہ نمازِ صبح شروع کی وہ تیروں کی برسات میں نمازِ ظہرادا کی تو تلواروں کی چھاؤں میں اور نمازِعصر کے وقت قاتل کی چھری کے نیچے اپنا سر جھکایا تو قبلہ رو ہو کر،لیکن نواسۂ رسول کے اقدامات کو اگر بغوردیکھیں تو یہ احساس ہو گا کہ اسلام صرف چند عبارتوں کے مجموعے کا نام نہیںبلکہ یہ ایک ایسا فلسفہ ہے جو اس دنیا میں پیدا ہونے والے ہر آدمی کی باوقارزندگی سے تعلق رکھنے والے ہر شعبہ میں اس کی رہنمائی کرتا ہے وہ دشمن کو اس حالت میں پانی پلاتے ہیںکہ وہ پیاسا ہے اور پیاس سے جاں بلب ہے
حسین کا یہ اقدام اس وقت سے لے کر آج تک ’’ انسانی دوستی‘‘ کا ایک سرچشمہ بنا ہوا ہے اور دنیا میں انسانت کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی تمام تنظیموں کے منشور حسین کے بہائے ہوئے دریاؤں سے گھونٹ گھونٹ پانی پی کر سیراب ہو رہے ہیں۔جس وقت حسین فرطِ محبت سے اپنے ایک حبشی رفیق جون کو جنگ کی اجازت دینے میں جان بوجھ کر دیر کرتے ہیں اور یہ حبشی رفیق اس تاخیر سے بے چین ہو کر حسین سے کہتا ہے کہ ’’ کیا آپبنی ہاشم کے سرخ لہو میں میرا کالا لہو ملانا نہیں چاہتے،تو حسین بلا تامل و تکلف اسے جہاد کی اجازت دیتے ہیں اور اس کاکالا لہو بنی ہاشم کے سرخ لہو میں شامل ہو جاتا ہے لیکن حسین شائد ساری دنیا کو یہ محسوس کرا دینا چاہتے تھے کہ رنگ و نسل کے فرق کو اسلام نہیں مانتا اور اس بات کو اپنے عمل اور جون کے عمل سے ثابت کر دیناچاہتے تھے۔یہی نہیں بلکہ کربلا پہلا مقام ہے جہاں مقصدکے راستے سے وطنیت کی رکاوٹیں بھی ایک ایک کر کے ہٹ گئیں حسین کی و الدہ محترمہ جنابِ سیّدہ فاطمہ زہرا کی کنیز حضرتِ فضہ حبش کی رہنے والی تھیںخود امام حسین کی زوجہ بی بی شہر بانوایران سے تعلق رکھتی تھیں
اسی طرح جون بھی حبش کا رہنے والا تھا لیکن مقصد کو دیکھئے تو یہ سب ایک دکھائی دیتے ہیں ایک ہی جزبہ،ایک ہی ایثار ،ایک ہی اخلاص،کربلا آدمی کی نجی زندگی میں بہن بھائی،زوجہ و شوہر،اولاد و والدین کے تعلقات کی ایک قابلِ تقلید منزل ہے اور اگر انسان کربلا سے صرف اتنا سیکھ لے کہ اسے اپنےگھر میں اپنے رشتہ داروں ے ساتھ کس طرح تعلق رکھنا چاہیے تو زندگی ے بے شمار غم اپنے طور خود دور ہو جائیں گے۔
کربلا کی قربانی بیشک انتہائی اہم مذہبی شخصیت کی قربانی ہے لیکن اس انتہائی اہم مذہبی شخصیت کے دوسرے ساتھی عوام کی صفوں میں سے نکل کر آئے تھے۔یہی وجہ ہے کہ کربلا آزادی ضمیر کا ایک آفاقی مرکز بن گئی ہے اور یہ مرکز صرف مسلمان ہی نہیں دنیا کے دوسرے مذہبوں کو ماننے والوں کے لئے بھی اہمیت
رکھتا ہے۔امام حسین ایک کتاب حیات ہیں ایک درسِ زندگی ہیں ۔کمال حسین کے قدم چومتاتھا۔حسین نے حق کی سوکھی کھیتی کو اپنے لہو سے شاداب کیا
حسین پیکر و صدق و صفا تھے۔حسین عاشقِ خدا تھے۔حسین عظمتوں کے پہاڑ پھلانگ گئے اور صبر و رضا کے سمندر میں تیر گئے۔حسین جو یقینِ محکم کی زندہ تصویر تھے،آپ عزمِ مستحکم کا مجسمہ آپ اسلام کی تفسیر تھے، آپ معراجِ صداقت تھے،شجاعت کا نمونہ تھے۔امام حسین کی طرزِ سے وہ سب کچھ سیکھا جا سکتا جس کا پیغام اللہ کے آخری نبی نے ساری دنیا کے رہنے والوں کو دیا ہے۔

مزید  امام محمد باقر علیہ السلام کی اخلاقی و سیاسی سیرت

بھلا سکے گی نہ دنیا کبھی حسین کا غم ۔
خدا کے دین کی ہے زندگی حسین کا غم

یزیدیوں کے لئے ہے جو موت کا سامان
وہ اور کوئی نہیں ہے ، یہی حسین کا غم

120x240 Banner - 2

300x250 Banner

تبصرے
Loading...