شیعی تاریخ میں تحول وتغیر

0 0

 

(١)شیعہ خلفا کے زمانے میں

شیعہ پہلے تینوں خلیفہ ،ابوبکر،عمر، عثمان کے زمانے میں حسب ذیل خصوصیات کے حامل تھے ۔                

(الف)شیعہ ان تین خلفا کے دور میں سقیفہ کے ابتدائی دنوں کے علاوہ بہت زیادہ فشار میں نہیں تھے اگر چہ کہا جا سکتا ہے کہ بہت سے شیعہ، شیعہ ہونے کی وجہ سے اہم منصبوں سے محروم تھے۔ (١)

(ب)سقیفہ کے بعد مسلمانوں کی قیادت کا مسئلہ انتشار کا شکار ہوگیا اور مسلمان دو اہم گروہوں میں تقسیم ہوگئے، اہل سنت علمی فقہی و اعتقادی مشکلات میں  خلفاء زمانہ کی طرف اور شیعہ حضرت علی  کی طرف رجوع کرتے تھے، شیعہ اپنے علمی اور فقہی مشکلات بلکہ بطورکلی معارف اسلامی سے متعلق امور میںحضرت علی  کی شہادت کے بعد

(١)ابو بکر نے پہلی بارخالد بن سعید کو شام کی جنگ کا سردار بنایا عمر نے ان سے کہا: کیا آپ اس بات کو بھول گئے ہیںکہ خالد نے بیعت نہیںکی ہے اور بنی ہاشم کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے؟ اس وجہ سے ابو بکر نے خالد سے سرداری اور فرمان روائی کو واپس لے لیا اور خالد کی جگہ کسی اور کو معین کردیا،ابن واضح ،احمد بن ابی یعقوب تاریخ یعقوبی،منشورات الشریف الرضی،قم، ١٤١٤ہجری، ج٢، ص١٣٣ 

 ائمہ طاہرین   کی طرف رجوع کرتے رہے اورشیعہ و اہل سنت کے درمیان فقہ و حدیث و تفسیر کلام وغیر ہ میں اختلاف کی وجہ یہی ہے کہ ان دونوں گروہوں کی دینی درسگاہ اورپناہ گاہ ایک دوسرے سے علیحدہ تھی۔

(ج) اسی طرح حضرت علی نے قانونی طور پر خلفاء وقت کے ساتھ فوجی اور سیاسی شعبہ میں عالم اسلام کی حفا ظت اور مصلحت کی خاطر کافی حد تک طرفداری وحمایت کی (١)چند بزرگ شیعہ صحابہ نے بھی امام کی موافقت سے فوجی او رسیاسی منصوبوں کو قبول کرلیا تھا مثلاً حضرت علی  کے چچازاد بھائی فضل بن عباس جو سقیفہ میں حضرت علی  کے مدافع تھے شام میں فوجی منصب پر فائز تھے اور ١٨ ھ میں فلسطین میںدنیا سے رخصت ہوگئے۔(٢)

(١)جیسے حضرت علی کی رائے ابو بکر کے لئے ،فوج کو شام کی طرف بھیجنے کے بارے میں، ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ،تاریخ یعقوبی،منشورات الشریف الرضی،قم، ١٤١٤ہجری، ج٢، ص١٣٣ ،اور حضرت علی  کا عمر کو رہنمائی کرناکہ جب انہوں نے رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے جانے پر آپ سے مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا : اگرآپ خود ان دشمنوں کے مقابلے میں جائیںگے تو مغلوب ہوجائیں گے اورمسلمانوں کے لئے کسی دور دراز شہر میں بھی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوگی نیز آپ کے بعد کوئی نہیںہے کہ جس کی طرف لوگ رجوع کریں ، لہٰذا جنگ کے ماہر اور بہادرافراد کو ان کی طرف بھیجیں اور ایسے لوگوں کو ساتھ انہیں بھیجیںکہ جو سختی کو برداشت کر سکیں اور نصیحت کو قبول کریں، اگر خدا وند متعال نے کامیاب و کامران کر دیا تو یہ وہی ہے کہ جس کی آپ آرزو رکھتے ہیں اور اگر کوئی دوسرا واقعہ پیش آگیا توآپ مسلمانوں کے مددگار اور پناہ دینے والے ہوںگے ( نہج البلاغہ ، ترجمہ فیض الاسلام ، خطبہ : ١٣٤) ونیز جب عمر نے بنفس نفیس ایرانیوں سے جنگ کرنے کے بارے میںآپ سے پوچھا …

(٢)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥١

حذیفہ ا ور سلمان ترتیب وار مدائن کے حاکم تھے،(١)عمار یاسر ،سعد بن ابی وقاص کے بعد خلیفہ دوم کی طرف سے کوفہ کے حاکم ہوئے( ٢)ہاشم مرقال جو حضرت علی کے مخلص شیعوں میں تھے اور جنگ صفین میں علی کے لشکرمیں شہید ہوئے (٣) تینوں خلفا کے زمانے میںبڑے افسر تھے ٢٢ ھمیںآذر بائیجان کو فتح کیا (٤)عثمان بن حنیف اور حذیفہ بن یمان عمر کی طرف سے عراق کی زمین کی پیمائش پر مامور تھے(٥) عبداللہ بن بدیل بن ورقہ خزاعی،شیعیان علی میں سے تھے جن کا بیٹا جنگ جمل میں سب سے پہلے شہید ہوا(٦)یہ فوجی افسروںمیں سے تھا اور اس نے اصفہان اور ہمدان کو فتح کیاتھا۔ (٧)

اسی طرح سے دوسرے افراد بھی جیسے جریر بن عبد اللہ بجلی (٨)قرظہ بن کعب

(١)مسعودی ، علی بن الحسین ، مروج الذھب ، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١٤ھ ج٢ ص ٣٢٣

(٢)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥٥

(٣)مسعودی علی ابن الحسین ،  ، مروج الذھب ، منشورات موسسة الاعلمی للمطبوعات ، بیروت ، ١٤١٤ھ ج٢ ص ٤٠١

(٤)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥٦

(٥)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥٢

(٦)شیخ مفید، محمد بن محمد بن النعمان ، الجمل ، مکتب الاعلام الاسلامی ، مرکز النشر ، قم ، ص ٣٤٢

(٧)احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، منشورات الشریف الرضی، قم ١٤١٤ھ ج٢ص١٥٧

(٨)بلاذری ، احمد بن یحیی بن جابر ، انساب الاشراف ، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات بیروت ١٣٩٤ ج ٢ ص ٢٧٥

 انصاری( ١)یہ لوگ امیر المومنین کی خلافت میں اہم افراد شمار کئے جاتے تھے جب کہ تینوں خلفا کے زمانے میں ملکی اور لشکری عہدوں پر فائز تھے جریر نے کوفہ کا علاقہ فتح کیا( ٢) اور زمانۂ عثمان میں ہمدان کے حاکم تھے(٣)قرظہ بن کعب انصاری نے بھی عمر بن خطاب کے زمانے میںشہر ری کو فتح کیا۔(٤) 

اظہار تشیّع ( امیرالمومنین کی خلافت میں)

 اگر چہ تشیّع کا سابقہ پیغمبرۖ کے زمانہ سے ہے، لیکن قتل عثمان کے بعد خلافت علی  کے دورمیں علی الاعلان اظہار ہو ااس زمانہ میں صف بندی ہوئی اور پیروان علی نے آشکار ا اپنے شیعہ ہونے کا اعلان کیا ،شیخ مفید نقل کرتے ہیں کہ ایک جماعت حضرت علی کے پاس آئی اور کہا:

”اے امیر المومنین! ہم آپ کے شیعہ ہیں ،حضرت نے ان کو غور سے دیکھا اور فرمایا :آخرمیں تمہارے اندر شیعہ ہونے کی علامت کیوںنہیں دیکھ رہا ہوں؟اس جماعت نے کہا:اے امیرالمومنین شیعوںکی کیاعلامت ہونی چاہیے حضرت نے فرمایا:

راتوں میں کثرت عبادت سے ان کارنگ زردپڑ جائے،(خوف خدا میں) گریہ

مزید  موسمِ سرما اور مومن

(١)ابن اثیر ، عز الدین علی بن ابی الکرم ، اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت، ج٤ ص ٢٠٢

(٢) ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، ج ٢ ص ١٤٣

 (٣) ابن قتیبہ ، ابی محمد عبد اللہ بن مسلم ، المعارف ، منشورات الشریف الرضی ، قم ، ١٤١٥ھ، ص ٥٨٦، 

 (٤) ابن واضح ، احمد بن ابی یعقوب ، تاریخ یعقوبی ، ج ٢ ص ١٥٧   

 کرنے سے ان کی بینائی ضعیف ہوگئی ہومسلسل قیام عبادت سے ان کی کمر خمیدہ ہوگئی ہو اور ان کا پیٹ روزہ رکھنے کی وجہ سے پیٹھ سے لگ گیا ہو اور خضوع اور خشوع میں ڈوبے ہوئے ہوں (١)

اسی طرح بہت سے اشعار حضرت علی کی خلافت کے دور میں کہے گئے ہیں کہ جو امام کے بر حق نیز پیغمبر ۖکے بعدپیغمبرۖکے جانشین اور بلا فصل خلیفہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں ،قیس بن سعد نے کہا :

و علی امامنا و امام           لسوانااتیٰ بہ التنزیل(٢)

 علی ہمارے اورہمارے علاوہ لوگوں کے امام ہیں اس بات کو قرآن نے بیان کیا ہے ۔

 خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین کہتے ہیں :

فدیت علیاً امام الوری           سراج البریّہ مأوی التّقیٰ

میں علی  پر قربان ہو جاؤںوہ لوگوں کے امام اور چراغ خلق اور متقین کی پناہ گاہ ہیں۔

وصی الرّسول وزوج البتول 

امام البریّہ شمس الضّحی

وہ پیغمبرۖ کے وصی اورحضرت فاطمہ زہرا کے شوہرنیز خلائق کے امام اور خورشید تاباں ہیں ۔

(١)شیخ مفید، ارشاد ،ترجمہ شیخ محمد باقر ساعدی خراسانی ،کتاب فروشی اسلامیہ  ١٣٧٦ھ ش،ص ٢٢٧،٢٢٨

( ٢)ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ،موسسہ انتشارات علامہ ، قم ج٣ ص ٢٨

تصدق خاتمہ راکعا

فاحسن بفعل امام الوری

وہ اما م خلق ہیںانہوں نے ہیں رکوع کی حالت میںاپنی انگوٹھی زکوٰة میں دے کر کتنا بڑا نیک کارنامہ انجام دیا

ففضّلہ اللّٰہ رب العباد

و انزل فی شأنہ ھل اتی

اللہ نے ان کو دوسروںپر برتری عطا کی اور ان کی شان میں سورہ ہل اتیٰ نازل کیا۔

حضرت کے شیعوں نے بھی اپنے بعض اشعار میںخود کو علی کے دین پر ہونے کو ثابت کیا ہے عمار یاسر نے جنگ جمل میں عمرو بن یثربی کے سامنے یہ اشعار پڑھے:

لا تبرح العرصة یا ابن یثربی

حتی اقاتلک علی دین عل

نحن وبیت اللّہ اولی بالنّبی

اے یثربی کے بیٹے! میدان سے فرار نہ کرناتاکہ میں دین علی کے دین پر رہ کر تجھ سے جنگ کروں ،خانہ کعبہ کی قسم !ہم نبی کے حوالے سے تم سے اولیٰ ہیں۔

 جیسا کہ عمر بن یثربی کہ جو دشمن علی تھا،محبان علی کو قتل کر کے افتخار کرتا تھا وہ شعر میں کہتاہے:

ان تنکرونی فانا ابن یثربی  قاتل علبائو ھند الجملی ثم ابن صوحان علی دین عل

 اگر مجھے نہیں پہچانتے تو پہچان لو میں یثربی کا فرزند ہوںاورعلبا و ہندجملی کا قاتل ہوں( یہ دو لوگ علی کے دوستوں اور شیعوں میںسے تھے ) اور میں نے علی کی دوستی کے جرم میں صوحان کے بیٹے کو بھی قتل کیا ہے ۔(١)

(٢) شیعہ، بنی امیہ کے زمانہ میں                                   

بنی امیہ کا زمانہ شیعوں کے لئے بہت دشوار زمانہ تھا جو چالیس ہجری سے شروع ہوتا ہے اور ایک سو بتیس ہجری تک جاری رہتا ہے، عمر بن عبد العزیز کے علاوہ تمام خلفائے اموی شیعوں کے سخت ترین دشمن و مخالف تھے، البتہ ہشام اموی کے بعد سے وہ داخلی اختلافات وشورش کا شکار ہوگئے تھے اور عباسیوں سے مقابلہ میں لگ گئے تھے اور گذشتہ سختیوں میں کمی آگئی تھی خلفائے بنی امیہ شام کے علاقہ میں وہاںکے حاکموں کے ذریعہ شیعوںکے اوپر فشار لاتے تھے اور تمام اموی حکام، شیعوں کے دشمنوں میں سے منتخب ہوتے تھے جو شیعوں کو اذیت دینے سے گریز نہیں کرتے تھے لیکن ان کے درمیان زیاد، عبیداللہ بن زیاد اور حجاج بن یوسف نے ظلم کرنے میںدوسروں پر سبقت کی، اہل تسنن کا مشہور دانشمند ابن ابی الحدید لکھتا ہے : شیعہ جہاں کہیں بھی ہو تے تھے ان کو قتل کر دیا جاتا تھا، بنی امیہ صرف شیعہ ہونے کے شبہ کی وجہ سے لوگوںکے ہاتھ پیر کاٹ دیا کرتے تھے جو بھی خاندان پیغمبر ۖ سے محبت کرتا تھااس کو زندان میں ڈال دیتے تھے یا اس کے مال لوٹ لیا کرتے تھے یا اس کا

(١)شیخ مفید ،الجمل ،مکتب الاعلام الاسلامی ، مرکز النشر ، قم ١٤١٦ ھ، ص ٣٤٦

گھر ویران کر دیا جاتا تھا، اس ناگفتہ بہ صورت حال کی شدت اس حدتک پہنچ چکی تھی کہ علی  سے دوستی کی تہمت لگانا کفر و بے دینی سے زیادہ بد تر شمار کیا جاتا تھااور اس کے نتائج بڑے سخت ہوتے تھے، اس خشونت آمیز سیاست میں کوفہ کے حالات کچھ زیادہ بدتر تھے کیونکہ کوفہ شیعیان علی کا مرکز تھا معاویہ نے زیاد بن سمیہ کوکوفہ کا حاکم بنادیاتھا، بعد میں بصرہ کی سپہ سالاری بھی اس کے حوالہ کردی گئی، زیادچونکہ پہلے کبھی علی  کے دوستوں کی صفوں میں تھاجو شیعیان علی  کو اچھی طرح پہچانتا تھا اس نے شیعوںکا تعاقب کیا، شیعہ جہاں کہیں گوشہ و کنار میں مخفی تھے ان کو ڈھونڈکر قتل کردیا ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے اور ان کو نا بینا بنادیا اور انہیں کھجور کے درخت پرپھانسی دے دی نیز انہیں شہر بدر کر دیا یہاں تک کہ کوئی بھی مشہور شیعہ شخصیت عراق میں باقی نہیں رہی۔(١)

ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن الجوزی کہتا ہے:

زیادمنبر پر خطبہ دے رہا تھا کچھ شیعوں نے اس پر اعتراض کیا اس نے حکم دیا اسی٨٠ افراد کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے جائیں وہ لوگوں کو مسجد میں جمع کرتا تھا اوران سے کہتا تھا کہ علی  پر تبر اکرو اور جو بھی تبرانہیں کرتا تھا ،حکم دیتا کہ اس کا گھر کو منہدم کر دیا جائے۔(٢)

مزید  انقلاب حسینی کی پیغام رسانی

زیاد ہ چھ مہینہ کوفہ میں اور چھ مہینہ بصرہ میں حکومت کرتا تھا، سمرہ ابن جندب کو بصرہ میںاپنی جگہ رکھتا تھا تاکہ اس کی غیر موجودگی میں وہ امور حکومت کی دیکھ بھال کرتا رہے ، سمرہ نے اس مدت میں آٹھ ہزار افراد کو قتل کیا تھازیاد نے اس سے کہا :کیا تجھے خوف نہیں

(١)ابن ابی الحدید ، شرح نہج البلاغہ ، دار احیاء الکتب العربیة ، قاہرہ ،  ١٩٦١ ء ، ص ٤٣۔٤٥

(٢)ابن جوزی ،عبد الرحمن بن علی ، المنتظم فی الامم والملوک،دارالکتب العلمیہ، بیروت، طبع اول، ١٤١٢ہجری،ج٥،ص٢٢٧

 ہوا کہ تونے ان میں سے کسی ایک بے گناہ کو بھی قتل کیا ہو؟ سمرہ نے جواب دیا : اگر اس کے دو برابر بھی قتل کرتا تب بھی اس طرح کی کوئی فکرلاحق نہیں ہوتی۔(١)

ابو سوارعدوی کہتا ہے: سمرہ نے ایک دن صبح میں ٤٧ ،افراد کو قتل کیا جومیرے قبیلہ  سے وابستہ تھے اور سب کے سب حافظ قرآن تھے۔(٢)

معاویہ نے خط میں اپنے کارندوں کو لکھا کہ شیعیان او رخاندان علی  میں سے کسی کی گواہی قبول نہ کرنا ،اور دوسرے خط میں لکھا کہ اگر دو افرادگواہی دیںکہ اس کا تعلق شیعیان علی  اور دوستداران علی  سے ہے تو اس کانام بیت المال کے دفتر سے حذف کردو اور اس کے وظائف اورحقوق کو قطع کردو۔(٣)

حجاج بن یوسف جو بنی امیہ کا انتہائی درجہ سفاک و بے رحم عامل تھا مکہ و مدینہ میں لوگوں کو بنی امیہ کا مطیع بنانے کے بعد ٧٥ہجری میں خلیفہ اموی عبد الملک بن مروان کی جانب سے عراق کی حکومت پر مامور ہوا جو شیعوں کا مرکز تھا، حجاج چہرہ کو چھپائے ہوئے مسجد کوفہ میں داخل ہوا صفوں کو چیرتا ہوا منبر پر بیٹھ گیا کافی دیر تک خاموش بیٹھا رہا لوگوںمیںچہ می گوئیاں ہونے لگیں کہ یہ کون ہے؟ایک نے کہا: نیا حاکم ہے دوسرے نے کہا اس پرپتھر مارے جائیں کچھ نے کہا: نہیں صبر سے کام لیا جائے دیکھتے ہیں کہ یہ کیا کہتا ہے؟ جب سب لوگ خاموش ہو گئے تواس نے اپنے چہرہ سے نقاب ہٹائی اور چند جملوں

(١)طبری،محمدبن جریر، تاریخ الامم والملوک، دار القاموس الحدیث بیروت،ج٦،ص١٢٣

(٢)طبری محمد بن جریر ،تاریخ الامم والملوک ،ج٦،ص١٣٢      

 (٣)ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،دار احیاء الکتب العربیہ،قاہرہ،ج١،ص٤٥

  کے ذریعہ سے ایسا ڈرایا کہ جس کے ہاتھ میں مارنے کے لئے پتھر تھے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گئے اس نے اپنے خطبہ کی ابتدا اس طرح کی:

”اے کوفہ والو! برسوں سے آشوب و فتنہ برپا ہے تم نے نا فر مانی کو اپنا شعار بنا لیا ہے میں ایسے سروں کو دیکھ رہا ہوں جو پھلوں کی طرح بالکل تیار ہیں انہیں جسمو ںسے جدا کر دینا چاہئیے، میں اتنے سروں کو قلم کروں گا کہ تم فرمانبرداری کا راستہ یاد کرلو گے”۔(١)

حجاج نے پورے عراق میں اپنی حکومت قائم کی اور کوفہ کے نیک اور بے گناہ بہت سے لوگوں کا قتل کیا ۔

مسعودی حجاج کے مظالم کے بارے میں لکھتا ہے :

حجاج کی بیس سال کی حکومت میں جو لوگ اس کی شمشیر کے ذریعہ شکنجوں میں رہ کر جاں بحق ہوئے ہیںان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے، اس کے علاوہ کچھ وہ افراد ہیں جو حجاج کے ساتھ جنگ میں اس کی فوج کے ہاتھوں قتل کئے گئے حجاج کی موت کے وقت اس کے مشہور زندان میں پچاس ہزار مرد اورتیس ہزار عورتیں قیدتھیں، ان میں سولہ ہزار عریاں اور بے لباس تھے حجاج مرد اور عورتوں کو ایک جگہ قید کرتا تھا، اس کے تمام زندان بغیر چھت کے تھے اس وجہ سے زندان میں رہنے والے گرمی اور سردی سے امان میں نہیں تھے۔(٢)

(١)زبیر بن بکار،اخبار الموفقیات ،منشورات شریف رضی ،قم،١٤١٦ہجری ص٩٩،٩٥،ڈاکٹر شہیدی  جعفر ،تاریخ تحلیلی اسلام تا پایان اموی ، مرکز نشر ، دانشگاہ ، تہران ، ١٣٦٣ھ ش، ص ١٨٤، پیشوائی ، مہدی، سیرہ پیشوایان ، موسسہ ، امام صادق   قم ، طبع ہشتم ، ١٣٧٨ھ ش، ص ٢٤٦

(٢)مروج الذہب،منشورات موسسةالاعلمی،للمطبوعات ،بیروت،١٤١١ہجری ج٣،ص١٨٧

حجاج معمولاً شیعوں کو زندانی اور شکنجہ کرتا تھا اور انہیں قتل کرتا تھا شیعوں کی دردناک وضعیت کا پتہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے جس کو انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کو اموی دور میں امام سجاد  سے بیان کیا ہے ،مرحوم علامہ مجلسینے نقل کیاہے :کچھ شیعیان علی  امام زین العابدین  کے پاس آ ئے اورمصیبتوں پر آہ و گریہ کیا نیز اپنے درد ناک حالات کو بیان کیا: فرزند رسول، ہم کو ہمارے شہر سے نکال دیا گیا قتل و غارت کے ذریعہ ہم کو نابودکردیا گیا امیر المومنین  پر شہروں میں مسجد نبوی میں منبروںسے سب و شتم کیا گیالیکن کوئی مانع نہیں ہوا، اور اگرہم میں سے کسی نے اعتراض کیا تو کہتے تھے کہ یہ ترابی ہے جب اس کا علم حاکم کو ہوتا تھاتو اس شخص کے بارے میںحاکم کے پاس لکھ بھیجتے تھے کہ اس نے ابوتراب کی تعریف کی ہے وہ حکم دیتا تھا کہ اس کو زندان میں ڈال دیا جائے اور قتل کردیا جائے۔( ١)

اموی دور میں تشیع کی وسعت

اموی خلفا کے دور میں شیعوں پر ظلم و ستم ہونے کے باوجود تشیع کی ترویج و فروغ میں کوئی کمی نہیںآئی پیغمبر و خاندان پیغمبر  ۖکی مظلومیت لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف کھینچتی رہی اور نئے نئے لوگ شیعہ ہوتے گئے، یہ مطلب اموی حکومت کے آخری زمانہ میں پورے طور سے دیکھا جا سکتا ہے اموی زمانہ میں تشیع کے پھیلنے کے کئی مراحل تھے ہر مرحلہ کی ایک خصوصیت تھی کلی طور پر شیعوں کی کثرت کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

(١)مجلسی،محمد باقر، بحار الانوار،ج٤٦،ص٢٧٥      

(الف)  ٤٠ھ  سے  ٦١ھ   تک، دوران امام حسن اور امام حسین ۔

(ب)  ٦١ھ  سے  ١١٠ ھ تک، دورا ن امام سجاد و امام باقر علیہما السلام۔

(ج)  ١١٠ ھ سے ١٣٢ھ یعنی اموی حکومت کے اختتام تک، دوران اما م صادق

مزید  ولادت امام زین العابدین علیہ السلام

(الف) عصر امام حسن ١و امام حسین علیہما السلام

امیر المومنین  کے زمانہ میں شیعیت نے آہستہ آہستہ ایک گروہ کی شکل اختیار کر لی تھی اور شیعوں کی صف بالکل نمایاں تھی اسی بنیاد پر امام حسن نے صلح نامہ کے شرائط میں ایک شرط شیعوں کی امنیت کی رکھی تھی کہ ان پر تجاوز نہ کیا جائے (١)

شیعہ رفتہ رفتہ عادت ڈال رہے تھے کہ جو امام اور خلیفہ حکومت سے وابستہ ہو اس کی اطاعت ضروری نہیں ہے، اسی وجہ سے جس وقت لوگ دھیرے دھیرے امام حسن  کے ہاتھ پر بیعت کررہے تھے حضرت نے ان سے شرط رکھی تھی کہ وہ جنگ و صلح میں آپ کی اطاعت کریں گے اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ امامت لازمی طور پر حاکمیت کے مساوی نہیں ہے اور معاویہ جیساظالم حاکم امام نہیں ہو سکتا اور اس کی اطاعت واجب نہیں ہے ،چنانچہ امام نے جو خطبہ صلح کے بعد معاویہ کے فشار کی وجہ سے مسجدکوفہ میں دیا، اس میں فرمایا :

خلیفہ وہ ہے جو کتاب خدا اور سنت پیغمبرۖ پر عمل کرے ،جس کا کام ظلم کرناہے وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا بلکہ وہ ایک بادشاہ ہے جس نے ایک ملک کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے

(١)ابن شہر آشوب ،مناقب آل ابی طالب ،مؤسسة انتشارات علامہ ، قم ،ج ٤ ص ٣٣

مختصر سی مدت تک اس سے فائدہ اٹھائے گا بعدمیں اس کی لذتیں ختم ہو جائیں گی لیکن بہر حال اسے حساب و کتاب دینا پڑے گا(١)

اس دور کے تشیع کی دوسری خصوصیت شیعوں کے درمیان اتحاد ہے جس کا سرچشمہ بہترین رہبر کا وجود ہے امام حسین  کی شہادت تک شیعوں میں کوئی فرقہ نہیں تھاامام حسن اور امام حسین علیہ السلام کو مسلمانوں کے درمیان ایک خاص اہمیت حاصل تھی ان کے بعد ائمہ طاہرین  میں سے کسی کوبھی یہ مقام حاصل نہیں ہوسکایہی دونوں فرزندتنہا ذریت پیغمبرۖتھے ، امیر المومنین  نے جنگ صفین میں جس وقت دیکھا کہ اما م حسن تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں فرمایا:میرے بجائے تم اس جوان کی حفاظت کرو (ان کو جنگ سے روکومجھے مضطرب نہ کرو مجھے ان دونوں کی بہت فکر ہے) یہ دونوں جوان (امام حسن وامام حسین) قتل نہ ہوں کیونکہ ان کے قتل ہونے سے پیغمبر  ۖکی نسل منقطع ہوجائے گی ۔(٢)

حسنین کا مقام اصحاب پیغمبرۖ کے درمیان بھی ایک خاص اہمیت کا حامل تھااس کی دلیل یہ ہے کہ لوگوں نے امام حسن  کی بیعت کی اور صحابۂ پیغمبر ۖ نے حضرت کی خلافت کو قبول کیایہی وجہ ہے کہ خلافت امام حسن میں کوئی مشکل دیکھنے میں نہیں آتی کسی نے اعتراض تک نہیں کیا ،صرف شام کی حکومت کی طرف سے مخالفت کی گئی جس وقت حضرت نے صلح کی اور کوفہ سے مدینہ جانا چاہا تو لوگوں نے شدت سے گریہ کیا مدینہ میں

(١) ابو الفرج اصفہانی ، مقاتل الطالبین ، منشورات الشریف الرضی، قم ، ١٤١٦ھ ص ٨٢

(٢)نہج البلاغہ ،فیض الاسلام ،خطبہ،١٦٨،ص٦٦٠

قریش کی طرف سے کسی نے معاویہ کو جو خبر دی اس سے حضرت کی اہمیت و عظمت کا  اندازہ ہوتا ہے قریش کے کسی آدمی نے معاویہ کو لکھا :یا امیر المومنین!! امام حسن نماز صبح مسجد میںپڑھتے ہیں، مصلیٰ پر بیٹھ جاتے ہیں اور سورج طلوع ہونے تک بیٹھے رہتے ہیں، ایک ستون سے ٹیک لگائے ہوتے ہیں اور جو لوگ بھی مسجد میں ہوتے ہیں ان کی خدمت میں جاتے ہیںاور ان سے گفتگو کرتے ہیںیہاں تک کہ کچھ حصہ دن کا چڑھ جاتا ہے اس کے بعددو رکعت نماز پڑھتے ہیںاور آگے بڑھ جاتے ہیں اور پیغمبر  ۖ کی بیو یوںکی احوال پرسی کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنے گھر تشریف لے جاتے ہیں۔(١)

 امام حسین کا بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح اقبال بہت بلند تھا یہاں تک کہ عبداللہ بن زبیر جو اہل بیت کاسر سخت دشمن تھا وہ بھی امام حسین کی عظمت سے انکار نہ کرسکا،جب تک حضرت مکہ میں تھے لوگوں نے ابن زبیر کی طرف کوئی توجہ نہ دی اسی بنا پر وہ چاہتا تھا کہ امام جلدی مکہ سے چلے جائیں لہذاا مام سے کہتاہے کہ اگر میرا بھی آپ کی طرح عراق میں بلند مقام ہوتا تومیں بھی وہاں جانے میں جلدی کرتا۔(٢)

حضرت کا مرتبہ اس قدر بلند تھا کہ جب آپ نے بیعت سے انکار کردیا تو حکومت یزیدزیر بحث آگئی اور یہی وجہ ہے کہ حضرت سے بیعت لینے کا اصرار و فشار اس قدر زیادہ تھا ،بنی ہاشم کے ان دو بزرگوں کاایک خاص احترام واکرام تھا اس طرح سے کہ ان کے

(١) بلاذری ،انساب الاشراف، دار التعارف ،للمطبوعات ، بیروت، ١٣٩٤ھ، ج٣، ص ٢١

 (٢) ابن عبد ربہ اندلسی ، احمد بن محمد ، عقد الفرید، دار احیاء التراث، العربی ، بیروت، ١٤٠٠ھ، ج٤، ص ٣٢٦

 زمانے میں، بنی ہاشم میں سے نہ ہی کسی نے رہبری کا دعویٰ کیا اور نہ ہی کوئی (بنی ہاشم کی)سرداری کا مدعی ہوا،جس وقت امام حسن معاویہ کے زہر دینے کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوگئے تو شام میں معاویہ نے ابن عباس سے کہا :اے ابن عباس !امام حسن وفات کر چکے ہیںاور اب تم بنی ہاشم کے سردار ہو، ابن عباس نے جواب دیا: جب تک امام حسین موجود ہیں اس وقت تک نہیں۔(١)

ابن عباس بلند مقام ،مفسر قرآن ا ور حبرالامة تھے اور سن میںبھی امام حسن اور امام حسین دونوں سے بڑے تھے اس کے باوجود ان دوبزرگواروںکی خدمت کرتے تھے مدرک بن ابی زیاد نقل کرتا ہے:

ابن عباس امام حسن  امام حسین  کی رکاب سنبھالتے تھے تاکہ یہ دو حضرات سوار ہوجائیں، میں نے کہا : آپ ایساکیوںکرتے ہیں توانہوںنے فرمایا: احمق! تو نہیں جانتا کہ یہ کون لوگ ہیں یہ رسولۖ کے فرزند ہیں کیا یہ ایک عظیم نعمت نہیں ہے جس کی خدانے مجھے توفیق دی ہے کہ میں ان کی رکاب پکڑوں؟(٢)

 

 

تبصرے
Loading...