شیعہ ہی وحدت اسلامی کے داعی

0 0

شیعہ ہی وحدت مسلمین کے داعی ہیں…. اس لئے کہ شیعہ ہی عالم اسلام کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں… کسی کے کفر کا فتوی نہیں دیتے… لوگوں کو ان فتؤوں سے منع کرتے ہیں … شیعہ وحدت کی دعوت اس لئے نہیں دیتے کہ دوسرے

لوگ شیعہ ہو جائیں… شیعہ بھی شیعہ ہی رہنا چاہتے ہیں اور دوسروں کے عقائد کا بھی احترام کرتے ہیں لہذا یہاں وہ تقیہ والی بات بالکل بے جا ہے… ہاں البتہ تقیہ دشمن کی سرزمین میں اپنی جان بچانے کے لئے ہے اور سورہ نحل میں عمار یاسر رضوان اللہ علیہ کا قصہ اس کی دلیل ہے قال اللہ تعالی :

مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (نحل 106)

جو شخص ایمان لانے کے بعد کافر ہوجائے – سوائے اس کے جو بحالت اکراہ کفر کا اظہار کرے مگر اس کا قلب ایمان سے مطمئن اور سرشار ہو – اور کفر کو سینہ کھول کر قبول کرے اس کے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کے لئے عذاب عظیم ہے.

حضرت موسی علیہ السلام فرعون کے گھر میں تقیہ کرکے رہے اور زکریا (ع) یہودیوں کی دشمنیوں میں تقیہ کرکے رہے اور رسول اللہ کی تین سالہ خفیہ دعوت تقیہ کا اعلی ترین نمونہ ہے. آج بھی آپ اگر کسی ایسے علاقے میں چلے جائیں جہاں جان و مال کا خطرہ ہو … یقینا آپ اپنا عقیدہ چھپائیں گے۔

کیا ایسا نہیں کریں گے ؟ اگر ہاں تو پھر اختلاف کی بات کون سی ہے؟ اگر نہیں تو عقل کی انسان کو کیا ضرورت ہے؟

مزید  حضرت فاطمہ الزھراء (رضی اللہ عنہا) کی فضیلت

تو ہماری بات دراصل یہ تھی که ہم اتحاد کی دعوت تقیّہ کی بنیاد پر نہیں دے رہے ہیں بلکہ یہ قرآن کا حکم ہے اور اس حکم میں کوئی بھی دوسرا آپشن نہیں ہے یعنی یہ کہ اتحاد کرنا پڑے گا… اور پهر … ہم ایک خدا اور ایک قرآن اور ایک رسول اور ایک قبلہ کے ماننے والے ہیں اور ہم اتحاد کر بھی سکتے ہیں …

ہمارے دشمن ایک ہیں جن کے لئے اس بات کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے کہ کون ان کے ظلم کا نشانہ بنتا ہے بلکہ وہ عراقی یا پاکستانی شیعہ سے لے کر پاکستانی، عراقی، افغانی اور فلسطینی یا بوسنیائی سنیوں تک کو یکسان انداز میں کاٹ رہے ہیں اور ان کے کھاتے میں یه سب مسلمان ہیں اور ان کو مرنا چاہئے…

ہمارے مفادات ایک ہیں ہم اگر متحد ہوجائیں تو شیعہ مفادات کا بھی لحاظ رکھا جاسکے گا اور سنی مفادات کا بھی….

ہمارے دشمن ایک ہیں اور وہ ہمارے دین کو ہدف یلغار بنانے ہوئے ہیں  اور اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں….

اگر دین اسلام کومٹانے میں وه لوگ کامیاب ہوجائیں اور ہمیں آپس میں لڑا لڑا کر ہمارے ہی اخراجات سے اسلام کا خاتمہ کردیں تو پھر نہ صرف ہم اپنے عقائد کی بات نہ کرسکیں گے بلکہ ہمارے پاس جینے کا جواز تک نہ ہوگا … یہی ہے شوخی دوران یہی ہے فیصلہ قرآن…

«ذلک بان الله لم یک مغیرا نعمة انعمها علی قوم حتی یغیروا ما بانفسهم»(انفال 53)

 … «ان الله لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسهم» (رعد 11)

مزید  جناب قاسم بن حسن(ع) کی شہادت کا بیان مقتل ابی مخنف میں

اس زمانے میں جو لوگ اتحاد کے برعکس کفر و نفاق کی خدمت کرتے ہوئے دشمن کی خدمت کرتے ہوئے کفر کے فتوی بانٹ رہے ہیں اور مسلمانوں کو کفر کے الزام پر قتل کرتے یا کرواتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کو اسلام کا درد لاحق نہیں ہے بلکہ ان کو پیٹ کا درد لاحق ہے ڈالر کمانے کی فکر لاحق ہے اور دشمنان اسلام ایسے لوگوں کو دولت فراوان دیتے ہیں جو ان کے مقاصد کو آگے بڑھاتے ہیں آور سادہ لوح مسلمانوں کو خودکش حملوں اور مسلمانوں کے قتل عام پر آماده کرکے انہیں جنت کا وعدہ دیتے ہیں اور درحقیقت ان کا گھر خراب کرکے اپنے گھر اور اپنی دنیا آباد اور قیامت برباد کررہے ہیں… کیا ان لوگوں کو مرنا بھی ہے یا نہیں؟ کیا وہ حساب اور قیامت اور جنت و دوزخ پر ایمان بھی رکھتے ہیں ؟ … نبی اکرم یا صحابہ نے اپنے کس مخالف کا گلا صرف اس لئے کاٹا تھا کہ وہ ان کی طرح نہیں سوچتا تھا…؟ کیا مدینہ میں یہودی نہیں تهے…؟ کیا عیسائی نہیں تھے…؟ بولیں نا….کیا خدا نے اپنے حبیب (ص) کو حکم نہیں دیا کہ …

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَى كَلَمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئاً وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّهِ فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقُولُواْ اشْهَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ(آل عمران 64)

الله تعالی قرآن میں اتحاد بین المسلمین پر زور دیتا ہے اور اس کا فلسفہ بھی بتاتا ہے اور عدم اتحاد  کی سزا بھی بتا دیتا ہے تلاوت کریں اور ترجمہ بھی اپنے پسندیدہ مترجم کا دیکھیں….

مزید  احادیث حضرت علی (ع) کی اطاعت کو واجب بتاتی ہیں

وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ(انفال 46)

 إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ(قصص 4)

وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ * مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ(روم 31 و 32)

 إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفْعَلُونَ(انعام 159)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.