شیعوں کے ائمہ (ع) کی تعریف

0 1

شیعہ اہلِ بیت(ع) میں سے بارہ(۱۲)  اماموں کی امامت کے قائل ہیں، ان میں سے اوَل علی ابن ابی طالب(ع) پھر ان کے بیٹے حسن(ع) ان کےبعد حسین(ع) اور پھر امام حسین(ع) کی نسل سے نو معصوم امام ہیں۔
رسول(ص) نے متعدد بار ائمہ کی امامت پر واضح اور اشارے و کنایہ میں نص فرمائی ہے۔ بعض روایات میں ناموں کے ساتھ  ائمہ کا تذکرہ ہے ۔ یہ روایات  شیعہ سنی علما نے نقل کی ہیں۔
بعض اہلِ سنت ان روایات پر اعتراض کرتے  ہیں اور  کہتے ہیں کہ رسول(ص) ان امور کے متعلق  کیسے کچھ فرماسکتے ہیں جو عدم کی منزلوں میں ہیں ؟ جبکہ قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے؟
” اگر میرے پاس علم ِ غیب ہوتا تو بہت سی نیکیاں جمع کر لیتا اور مجھے کو ئی تکلیف چھو کے نہ جاتی۔” ( اعراف، آیت ۱۸۸)
ان لوگوں کے اعتراض  کا جواب یہ ہے کہ (مذکورہ ) آیت رسول(ص) کے علمِ غیب کی نفی  نہیں کرتی ہے۔ بلکہ آیت ان مشرکین کی رد میں نازل ہوئی ہے  جو آپ(ص) سے یہ کہتے ہیں ہمیں یہ بتائیے کہ قیامت کب آئے گی  قیامت کے آنے کا وقت خدا نے اپنی ذات سے مخصوص کیا ہے۔
” وہ عالمِ الغیب ہے اور اپنی غیب کی بات ظاہر نہیں کرتا مگی یہ کہ کسی پہغمبر کو اس کے لئے منتخب کرلے۔”(جن، آیت ۲۶،۲۷)
اس آیت کی صاف دلالت  اس بات پر ہے کہ خدا اپنے رسولوں میں سے جس کو  چاہتا ہے اسے علمِ غیب سے مطلع کردیتاہے چنانچہ اپنے قید کے ساتھیوں سے جنابِ یوست(ع)  کا قول اس کی واضح مثال ہے: ارشاد ہے۔
” تمہیں جو کھانے کو دیا جاتا ہے وہ آنے بھی نہ پائے گا کہ میں اس کے تمھارے پاس آنے سے قبل ہی تمھیں اس کی تعمیر بتادوں گا اور یہ  من جملہ ان باتوںکے ہے جو جھے میرے  خدا نے تعلیم دی  ہیں۔”
دوسری جگہ ارشاد ہے:
” ہمارے بندوں میں سے دونوں نے ایک (خاص)  بندہ (خضر) کو  پایا جس کو ہم نے اپنی بارگاہ سے رحمت کا حصہ عطا کیا تھا اور اسے علم لدنی میں سے کچھ سکھایا تھا” (کہف، آیت۶۵)
سنٌی ، شیعہ مسلمانوں کے درمیان اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ رسول (ص)  علم غیب جانتے تھے، سیرت نگاروں نے علم غیب سے متعلق واقعات لکھے ہیں۔ منجملہ ان کے چند یہ ہیں۔
عمٌار تمھیں باغی گروہ قتل کرے گا۔
حضرت علی(ع) سے فرمایا:
” شقی ترین انسان تمھارے سر پر ضرب لگائے گا۔
اور تمھاری ریش خون سے خضاب ہوجائے گا۔”
امام حسن(ع) کے متعلق فرمایا:
” بے شک میرے بیٹے حسن (ع)  کےذریعہ خدا مسلمانوں کے دو بڑے گرہوں میں  صلح کرائے گا۔”
ابوذر کے متعلق فرمایا :
” انھیں عنقریب غربت میں موت آئے گی۔”
اس کے علاوہ اور بہت سے واقعات  و اخبار ہیں جیسا کہ بخاری و مسلم نے اور دیگر محدثین نے ایک مشہور حدیث نقل کی ہے جس میں آپ(ص)  نے اپنے بعد  کے بارہ ائمہ(ع)  کی خبر دی ہے۔
ارشاد ہے:
” میرے بعد بارہ ائمہ(ع) ہوں گے جو کہ قریش سے ہوںگے۔”
بعض روایات میں قریش کے بجائے لفظ بنی ہاشم  وارد ہوا ہے یعنی وہ ائمہ سب بنی ہاشم سے ہوں گے۔
ہم اپنی پہلی کتابوں ، مع الصادقین اور اہل ذکر میں یہ ثابت کرچکے ہیں کہ اہل سنت نے اپنی صحاح و مسانید میں ایسی احادیث  نقل کی ہی اور انھیں صحیح تسلیم کیا ہے کہ جن کی واضح دلالت  بارہ ائمہ کی امامت پر ہے۔
اور جب کوئی پوچھنے والا ان سے پوچھتا ہے کہ تم بارہ ائمہ  کو چھوڑ کر چار کی اقتدا کیوں کرتے ہو جب کہ تمھیں ان احادیث  کا اعتراف ہے اور ان کو صحیح مانتے ہو؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ : سلف صالح چونکہ سب خلفائے ثلاثہ ابوبکر و عمر اور عثمان کہ جنھیں سقیفہ نے جنم دیا ہے ، یا رو مددگار ہیں، ان سب کو اہلِ بیت(ع) اور علی(ع) سے نفرت تھی اور ان کی اولاد سے عداوت تھی اس لئے انھوں نے سنتِ نبی(ص) کو برباد کیا اور اپنے اجتہاد سے بدل ڈالا۔
اسی وجہ سے رسول(ص) کے بعد امت دو  فرقوں میں تقسیم ہوگئی” سلف صالح” اور ان کے پیروکار اور ان کی رائے کا اتباع کرنے والے کہ جن کی اکثریت تھی، اہل سنت والجماعت بن گئے  اور جن لوگوں نے (ابوبکر کی)  بیعت نہیں کی تھی، علی(ع) اور ان کے شیعہ ” جو کہ اقلیت میں تھے اور  اسی وجہ سے ان کی کو ئی پرواہ بھی نہیں تھی، حکومت کے عتاب کا  نشانہ بنے رہتے تھے، لوگ انھیں رافضی کہتے تھے۔
باوجود اس کے کہ اہل سنت صدیوں تک امت پر حکم ران رہے ۔ اس کے مقدر  کا قلم انھیں کے ہاتھ میں تھام بنی امیہ اور بنی عباس سارے ہی تو اس مدرسہ خلافت کے  پیروکار تھے جس کی بنیاد ابوبکر ، عمر ، عثمان و معاویہ اور یزید (لعن)نے رکھی تھی۔ ( ہم نے یہاں جان بوجھ کر حضرت علی(ع) کی خلافت کا تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ کیونکہ اہلسنت والجماعت  انھیں خلیفہ نہیں مانتے تھے جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ہاں احمد بن حنبل کے زمانہ سے ماننے لگے تھے۔ ملاحظہ فرمائیں ، اہل سنت ، سنتِ نبوی(ص) کو نہیں مانتے”)
جب خلافت کی ہوا کھڑ گئی ، ہیبت  جاتی رہی اور غلاموں ، اجنبیوں کے ہاتھوں میں پہونچ گئی، اس وقت رسول(ص) کی ان احادیث کو ایک جا جمع کرنے کی بات سنی گئی جن کو اوَلین مسلمان مٹانے اور چھپانے کی کوشش کرچکے تھے اور اس کے بغیر ان کی نہیں چلی تھی۔ ان احادیث نے بھی انھیں انگشت بدندان کردیا تھ۔ کیونکہ یہ ان کے مکتب کے سراسر  خلاف تھیں۔
بعض لوگوں نے ان حدیثوں میں اور جوان کے عقیدہ کے خلاف تھی ان میں توافق کرنا چاہا اور اہل بیت(ع) سے محبت  کا اظہار کرنے لگے اور علی(ع) کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ و  کرم اللہ وجہہ کہنے لگے ۔ تاکہ یہ لوگ سمجھیں  کہ وہ اہل بیت(ع)  کے دشمن نہیں ہیں۔
کوئی مسلمان ، یہاں تک کہ منافق بھی، اہل بیت نبی(ص) سے عداوت کا اظہار نہیں کرسکتا ، کیونکہ اہل بیت (ع)  کا دشمن رسول (ص) کا دشمن ہے اور رسول (ص) کی دشمنی اسلام سے خارج کردیتی ہے۔
ان تمام باتوں کا لبِ لباب یہ ہے کہ سلف صالح اہل بیت (ع) کے دشمن ہیں کہ جنھوں نے اپنے کو خود  اہل سنت کہا یا ان کے انصار نے اہل سنت والجماعت کا نام دیا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ ان چار مذاہب پر عمل کرتے ہیں۔ جنھیں اس وقت کے حکام نے ایجاد  کیا تھا( عنقریب ہم اس کی تفصیل بیان کریں گے) ان کے مذہب میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے کہ جس کے سلسلہ میں وہ فقہ اہل بیت(ع) سے رجوع کرتے ہوں  یا بارہ اماموں میں سے کسی کی طرف رجوع کرتے ہوں۔
در حقیقت شیعہ امامیہ ہی اہلِ سنت ہیں کیونکہ وہ فقہی احکام میں ائمہ اہلِ بیت(ع) کر طرف رجوع کرتے ہیں۔ جنھوں نے اپنے سے صحیح سنت میراث میں پائی ہے۔ وہ اس میں اپنی رائے داخل نہیں کرتے ہیں اور نہ اجتہادات و اقوال خلفاء کو اس میں شامل کرتےہیں۔
فقط شیعہ ہی طول تاریخ میں نصوص کے پابند رہے ہیں اور ںص  کے مقابلہ میں اجتہاد کو ٹھکراتے رہے ہیں جیسا کہ وہ خلافتِ علی(ع) اور ان  کے بیٹوں کی خلافت کے قائل ہیں کیوں کہ اس پر رسول(ص) نے نص فرمادی تھی  سو وہ علی(ع)  اور ان کے فرزندوں کو خلیفہ رسول(ص) کہتے ہیں اگر چہ ظاہری خلافت علی(ع) کو سوا ان میں سے  کسی کو نہیں ملی، اسی طرح ان حکام  کی خلافت  کا انکار کرتے ہیں جو شروع سے آخر تک خلافت کو ادلتے بدلتے  رہے کیونکہ اس کی بنیاد ہی بے سوچے، سمجھے رکھی گئی تھی، جس کے شر سے خدا ہی نے محفوظ رکھا ہے یہ  وہ خلافت تھی جو  خدا رسول(ص)  کے احکام کو ٹھکرا دیتی تھی اور خلافت راشدہ تو ایک میراث بن گئی تھی۔ اور جانے والا آنے والے کو متعین کرتا تھا۔ خواہ جنگ اور قہر و غلبہ ہی کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ ( ایسے سیاہ کارناموں سے صرف علی ابن ابی طالب (ع)  کی خلافت مستثنی ہے۔ صرف یہ تن تنہا ہیں جسے گذر جانے والے خلیفہ نے متعین نہیں کیا اور نہ ہی آپ(ع)  طاقت کے زور سے خلیفہ بنے بلکہ مسلمانوں نے آزادانہ بیعت کی اور اصرار کر کے خلافت قبول کرنے کی دعوت دی۔
ان ہی وجوہ کی بنا پر اہل سنت  کو  مجبور ا ہر ایک فاسق و فاجر کی امامت کا قائل ہونا پڑا ،اسی لئے انھوں نے فاسق حکام تک کی خلافت کو بھی صحیح مانا ہے۔
شیعہ امامیہ امام کے لئے عصمت کو واجب سمجھتے ہیں پس امامت کبری اور امامت و قیادت کا استحقاق صرف معصوم امام کو ہے اور اس امت میں ان لوگوں کے سوا کوئی معصوم نہیں ہے جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا اور ایسے پاک رکھا جو کہ حق ہے۔

مزید  کرونا وبا کے خوف و ہراس کے طوفان میں سفینہ نجات کا ماتم

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.