شیعوں کاعلمی تفکر

0 2

مذھبی تفکر اس بحث و جستجو اور تلاش میں غور و خوض کرنے کو کھتے ھیں کہ جس کے ذریعے مذھب کے اصولوں اور مذھبی مواد میں سے ایک اصل یا مادہ کے بارے میں مذھبی تعلیم سے نتیجہ اخذ کیا جا سکے جیسا کہ علم ریاضی میں تفکر ، اس سوچ اور غور کو کھتے ھیں جس کے ذریعے ریاضی کے ایک مسئلے یا نظرئیے کے متعلق حل تلاش کر کے کسی نتیجے پر پھونچ سکیں ۔ 

مذھبی تفکر کے معنی

اسلام میں مذھبی تفکر کے بنیادی معنی

تین طریقے جن کی طرف قرآن کریم مذھبی تفکر کے لئے رھنمائی کرتا ھے ۔

تینوں طریقوں کے درمیان فرق

پھلا طریقہ ، دینی ظواھر، دینی ظواھر کی اقسام ، قرآن مجید ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اھلبیت علیھم السلام کی احادیث

اصحاب کی احادیث

کتاب و سنت کے بارے میں دو بارہ بحث

قرآن مجید کا ظاھر اور باطن

قرآن مجید کی تاویل

حدیث کی بحث کا تتمہ

حدیث پر عمل کے بارے میں شیعوں کا طریقہ

اسلام میں عام تعلیم و تعلم

شیعہ اور نقلی علوم 

مذھبی تفکر کے معنی

مذھبی تفکر اس بحث و جستجو اور تلاش میں غور و خوض کرنے کو کھتے ھیں کہ جس کے ذریعے مذھب کے اصولوں اور مذھبی مواد میں سے ایک اصل یا مادہ کے بارے میں مذھبی تعلیم سے نتیجہ اخذ کیا جا سکے جیسا کہ علم ریاضی میں تفکر ، اس سوچ اور غور کو کھتے ھیں جس کے ذریعے ریاضی کے ایک مسئلے یا نظرئیے کے متعلق حل تلاش کر کے کسی نتیجے پر پھونچ سکیں ۔ 

اسلام میں مذھبی تکفر کے بنیادی مآخذ

البتہ مذھبی تفکر کے لئے بھی دوسرے تمام تفکرات کی طرح مآخذ کی ضرورت ھوتی ھے ۔ کیونکہ فکری مواد انھیں سے پیدا ھوتا ھے اور انھیں پر تکیہ کرتا ھے جیسا کہ ریاضی کا ایک مسئلہ حل کرنے کے لئے تفکر میں معلومات کے تسلسل کو ذھن میں لانا پڑتا ھے جو آخر کار ایک نتیجے پر پھونچ جاتا ھے ۔ صرف ایک مآخذ جس پر آسمانی دین اسلام تکیہ کرتا ھے ( اس لحاظ سے کہ یہ دین آسمانی وحی تک پھونچتا ھے ) قرآن مجید ھی ھے اور قرآن مجید ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت اور رسالت کی ھمیشگی ، عمومی اور قطعی دستاویز ھے ۔ اس آسمانی کتاب میں جو کچھ لکھا ھوا ھے وہ اسلامی دعوت یا دین کھلاتا ھے ، البتہ قرآن کریم کے واحد اور اکیلے مآخذ کے معنی یہ نھیں ھیں کہ تفکر کے دوسرے صحیح منابع و مآخذ اور دلائل کو باطل یا منسوخ سمجھا جائے جیسا کہ ھم اگلے صفحات میں تفصیلاً بیان کرینگے ۔ 

تین طریقے جن کی طرف قرآن مجید مذھبی تفکر کے لئے رھنمائی کرتا ھے

قرآن کریم اپنی تعلیمات میں معارف اسلامی اور مقاصد دینی کو سمجھنے اور ان تک پھونچنے کے لئے اپنے پیرو کاروں کے سامنے تین طریقے رکھتا ھے ، اور یہ تین راستے ان کو دکھاتا ھے:

۱۔ ظواھر دینی ( شریعت )

۲۔ عقلی حجت

۳۔ معنوی پھچان ( شریعت ، طریقت اور حقیقت ) بندگی اور اخلاص کے ذریعے ۔

اس کی وضاحت یوں ھوتی ھے کہ ھمیں معلوم ھے کہ قرآن کریم اپنے بیانات میں سب انسانوں کو مخاطب کرتا ھے اور کبھی کبھی اپنے قول کے مطابق کسی دلیل ، حجت اور برھان کے بغیر صرف خدا وند تعالیٰ کی فرمان روائی اور حکومت کو قبول کرنے ، اعتقادی اصول مثلاً توحید ، نبوت اور معاد کو ماننے اور اسی طرح عملی احکام مثلاً نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰة وغیرہ کو تسلیم کرنے کا حکم دیتا ھے ۔ اس کے ساتھ ھی بعض اعمال اور کاموں سے منع فرماتا ھے ۔ قرآن کریم اگر ان لفظی بیانات کی دلیل نہ رکھتا تو ھرگز لوگوں کو فرماں برداری اور اس کے قبول کرنے کا حکم کبھی نہ دیتا ، پس ناگزیر یوں کھنا چاھئے کہ قرآن مجید کے ایسے سادہ بیانات ، مقاصد دینی اور معارف اسلامی کو سمجھنے کے لئے ایک مآخذ یا طریقے کا کام دیتے ھیں ۔ ھم لفظی بیانات مثلاً ” اٰمنوا با للہ و رسولہ “ اور ” اقیمو ا الصلاة “ کو دینی ظواھر کھتے ھیں ۔

اور دوسری طرف ھم دیکھتے ھیں کہ قرآن مجیدا پنی بھت زیادہ آیات میں عقلی حجت ( دلیل و برھان یا عقلی دلائل ) کی طرف رھبری و راھنمائی کرتا ھے اور لوگوں کو انفس و آفاق کی نشانیوں میں غور و خوض کرنے کی دعوت دیتا ھے اور خود بھی حقائق کو واضح کرنے کے لئے عقلی دلائل اور استدلال کو بیان کرتا ھے ، حقیقت میں دوسری کوئی آسمانی کتاب قرآن کریم کی طرح اس قدر دلائل علم و معرفت کو انسان کے لئے فراھم نھیں کرتی ۔

قرآن مجید اپنے بیانات کے ذریعے عقلی حجت اور آزاد دلائلی استدلال ( منطق ) کو مسلم سمجھتا ھے یعنی یہ نھیں کھتا کہ سب سے پھلے معارف اسلامی کی حقانیت کو قبول کرو اور پھر عقلی دلائل میں غور کر کے مذکورہ معارف اور علوم کو اس میں سے اخذ کرو ، بلکہ اپنی واقعیت اور حقیقت پر کامل اعتماد رکھتے ھوئے فرماتا ھے کہ عقلی دلائل کو سمجھتے ھوئے مذکورہ علوم اور معارف کی حقانیت پر غور کرو اور پھر اسے قبول کرو اور وہ دعویٰ اور باتیں جو تم اسلامی تحریک ( دین اسلام ) سے سنتے ھو ، تم ان کی تصدیق آفرینش جھان ( دنیا کی حقیقت اور فطرت ) سے کرو جو سچی اور حقیقی گواھی ھے اور پھر سند اور آخر کار صدق و ایمان کو اپنے غور و خوض اور دلائل کے نتیجے کے ذریعے حاصل کرو ، نہ یہ کہ پھلے ایمان لے آؤ اور پھر اس کے مطابق دلائل لاؤ ۔ پس فلسفی تفکر ایک ایسا طریقہ ھے جس کی موجودگی کی قرآن کریم تصدیق کرتا ھے ۔ دوسری طرف ھم دیکھتے ھیں کہ قرآن کریم بھت ھی دلچسپ اور واضح طور پر بیان کرتا ھے کہ دنیاکے سارے حقیقی علوم و معارف ، توحید اور حقیقی خدا شناسی سے سر چشمہ حاصل کرتے ھیں اور خدا شناسی میں کمال صرف وھی لوگ حاصل کر سکتے ھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ھر طرف سے اکٹھا کر کے صرف اپنے لئے مخصوص کر رکھا ھے ۔ یہ وھی لوگ ھیں جنھوں نے ھر طرف سے منہ موڑ کر اور ھر چیز کو بھول کر صرف اپنی بندگی اور اخلاص کی وجہ سے فقط عالم بالا ( خدا ) کی طرف مبذول کر لی ھے اور خدا وند عزوجل کے نور سے ان کی آنکھیں منور اور پر نور ھو چکی ھیں انھوں نے اپنی حقیقت بین آنکھوں سے اشیاء کی حقیقت ، آسمانی فرشتوں اور زمین کی واقعیت کو دیکہ لیا ھے ، کیونکہ اخلاص اور بندگی کے ذریعے وہ عین الیقین تک پھونچ چکے ھیں اور اسی یقین و ایمان کی وجہ سے ان کے سامنے عالم ملکوت ، آسمان ، زمین ھمیشہ کی زندگی اور ابدی دنیا کی حقیقت آشکار اور بے پردہ ھو گئی ھے ۔

ان آیات کریمہ میں توجہ کرنے سے یہ دعویٰ مکمل طور پر واضح ھو جاتا ھے :۔

” و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الٰہ الا انا فاعبدون “ (سورۂ انبیاء / ۲۵) ” اور ( اے رسول ) ھم نے تم سے پھلے جب کبھی کوئی رسول بھیجا تو اس کے پاس ھم یھی وحی بھجتے رھے کہ بس ھمارے سوا کوئی معبود قابل پرستش نھیں تو میری عباد ت کیا کرو “ ۔

اور پھر فرماتا ھے :” سبحان اللہ عما یصفون ، الا عباد اللہ المخلصون “ (سورۂ صافات / ۱۵۹۔۱۶۰ ) ” یہ لوگ جو باتیں بنایا کرتے ھیں ان سے خدا پاک وصاف ھے مگر وہ لوگ جو خدا کے برگزیدہ اور خالص ھیں “۔

اور پھر فرماتا ھے :” قل انما انا بشر مثلکم یوحیٰ الیّ انما الٰھکم الٰہ واحد فمن کان یرجوا لقاء ربہ فلیعمل عملا ً صالحاً و لا یشرک بعبادة ربہ احدا “ ( سورہ ٴ مریم / ۱۱۰ ) ” اے نبی کھدو کہ میں بھی تمھاری طرح ایک انسان ھوں لیکن مجھے تمھارے خدا کی طرف سے وحی بھیجی جاتی ھے اور تمھارا خدا ایک ھے پس جو کوئی خدا کی ملاقات کا امیدوار ھے اس کو نیک کام کرنے چاھیں اور خدائے وحدہ لا شریک کے ساتھ عبادت میں کسی کو اس کا شریک نہ بنائے “۔

پھر فرماتا ھے :” و اعبدو ربک حتی یاتیک الیقین “ (سورۂ حجرات / ۹۹ ) ” اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو یھاں تک کہ تم یقین ( عین الیقین ) تک پھونچ جاؤ “۔

اور پھر فرماتا ھے :” وکذٰلک نری ٓ ابراھیم ملکوت السموات و الارض و لیکون من الموقنین “ ( سورۂ انعام / ۷۵)” اور اسی طرح ھم ( اپنے پیغمبر ) ابراھیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والے لوگوں میں سے ھو ( اس کو یقین ھو جائے اور اس کا ایمان مزید پختہ ھو جائے “۔

اور پھر فرماتا ھے :”کلّآ ان کتٰب الابرار لفی علیّین ، و مآ ادرٰک ما علّیّون ، کتٰب مّرقوم یّشھد ہ المقرّبون “ ( سورہ ٴمطففین / ۱۸۔۲۱) ” حقا کہ بے شک نیکو کار لوگوں کا تقدیر نامہ علیین میں لکھا ھوا ھے ۔ کیا تو جانتا ھے کہ علیین کیا چیز ھے ۔ علیین ایک لکھی ھوئی کتاب ھے جس کی گواھی مقربان درگاہ خدا دیتے ھیں “ ۔

اور پھر فرماتا ھے :” کلّا لو تعلمون علم الیقین ، لترونّ الجحیم “ ( سورۂ تکاثر / ۵۔۶) ” ھر گز نھیں ، کیا تم جانتے ھو کہ علم الیقین کیا ھے ؟ البتہ یہ اس وقت معلوم ھو گا جب تم دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکہ لو گے “ ۔

پس خدائی معارف کو سمجھنے کے طریقوں میں سے ایک طریقہ پاکی نفس اور بندگی میں اخلاص ھے ۔ 

ان تین طریقوں کے درمیان فرق

پچھلے بیان سے واضح ھو گیا ھے کہ قرآن مجید ، دینی معارف اور مفاھیم کو سمجھنے کے لئے تین طریقے پیش کرتا ھے ، ظواھر دینی ( شریعت ) اوربندگی میں عقل و اخلاص ، حقائق اور باطنی مشاھدات کے موجب ھیں ، لیکن یہ جاننا ضروری ھے کہ یہ تین طریقے چند لحاظ سے باھم فرق رکھتے ھیں ۔

پھلا :” ظواھری دینی “ چونکہ ایسے لفظی بیانات ھیں جو سادہ ترین الفاظ اور بیان میں بتائے گئے ھیں اور ان کو لوگوں کی دسترس اور اختیار میں دیا گیا ھے اور ھر شخص اپنے فھم و عقل کے مطابق ان سے بھرہ مند ھوتا ھے اور فائدہ اٹھاتا ھے ۔ یعنی دوسرے دو طریقوں کے بالکل بر عکس جو ایک خاص گروہ سے تعلق رکھتے ھیں اور عمومی نھیں ھیں ۔

دوسرا :” ظواھری دینی “ کا طریقہ وہ طریقہ ھے جس پر چل کر اصول دینی ، فروعات اور اسلامی معارف کو پھچان کر ایمانی اور عملی دعوت ( اصول معارف اور اخلاق ) تک رسائی حاصل کی جا سکتی ھے ، دوسرے دو طریقوں کے بالکل بر خلاف ، کیونکہ اگر چہ عقل کے ذریعے ، اعتقادی ، اخلاقی اور عملی مسائل کے کلیات کو سمجھا جا سکتا ھے لیکن احکام(شریعت) کی جزئیات چونکہ خاص مصلحتوں کی بنا ء پر عقل کی دسترس میں نھیں دی گئی ھیں لھذا اس کے دائرہ عمل سے خارج ھیں اور اسی طرح تھذیب نفس کا طریقہ ھے ۔ چونکہ اس کا نتیجہ حقائق کے انکشاف پر مبنی ھے اور وہ ایسا علم ھے جو خدا داد ھے اس لئے اس کے نتیجے اور اس سے حاصلہ حقائق کے لئے جو اس خدائی عنایت کے ساتھ ظاھر ھوتے ھیں کوئی حد معین نھیں کی جا سکتی یا اس کا اندازہ نھیں کیا جا سکتا ۔ یہ لوگ چونکہ ھر چیز سے الگ ھو چکے ھیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا انھوں نے ھر چیز کو فراموش کر دیا ھے لھذا وہ براہ راست خدا کی ولایت اور سر پرستی کے دائرے میں چلے جاتے ھیں ، پس خدا کی مرضی اور عنایت سے ( نہ کہ ان کو اپنی مرضی سے ) ھر چیز ان پر منکشف اور ظاھر و واضح ھو جاتی ھے ۔ 

پھلا طریقہ ۔ ظواھر دینی اور ان کی اقسام

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ھے ، قرآن مجید جو اسلام کے بنیادی مذھبی تفکر کا مآخذ ھے ، اپنے ظاھری الفاظ کے ذریعے اپنے قارئین اور سامعین کے سامنے حجت ( برھان ) پیش کرتا ھے اور یھی ظاھری آیات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث کو دوسرے درجے پر رکھتی ھیں اور وہ بھی قرآن مجید کی طرح حجت ( دلیل و برھان ) لاتی ھیں ۔ قرآن مجید فرماتا ھے : ” و انزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما انزل الیھم “ ( سورہ ٴ نحل / ۴۴ ) ” اور ھم نے تجھ پر ذکر ( کتاب ) نازل کیا تاکہ جو کچھ تم پر نازل کیا گیا ھے اس کو لوگوں کے سامنے بیان کرو “۔

مزید  عزاداری

پھر فرماتا ھے : ” ھو الذی بعث فی الامیّن رسولا منھم یتلوا علیھم اٰیٰتہ و یزکیّھم و یعلّمھم الکتٰب و الحکمة “(سورۂ جمعہ / ۲ ) ” وہ ( خدا ) جس نے مکہ والوں میں ان ھی میں کا ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتا اور ان کو پاک کرتا ھے اور ان کو کتاب ( قرآن ) اور حکمت ( دانش و علم ) سکھاتا ھے “۔

اور پھر فرماتا ھے :” لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة “ ( سورہ ٴ احزاب / ۲۱ ) ” بیشک تمھارے لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتدااور پیروی لازمی اور ضروری ھے “ ۔

پس معلوم اور واضح ھے کہ اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گفتار و اعمال اور حتیٰ کہ آپ کی خاموشی اور دستخط ھمارے لئے قرآن کی طرح حجت اور دلیل نہ ھوتے تو مذکورہ مفھوم اور مطلب بھی ٹھیک نہ ھوتا ، پس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بیان ان لوگوں کے لئے جنھوں نے خود آپ سے سنا یا قابل اعتماد ذرائع سے ان تک پھونچا ھے ، لازم الاتباع ھے ( یعنی اس بیان کی اطاعت ، پیروی اور پابندی لازمی ھے ) اور اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہ بیانات قطعی تواتر احادیث کی صور ت میں ھم تک پھونچے ھیں ، یعنی آپ کے اھلبیت علیھم السلام کے بیانات بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیانات کے بعد قابل اعتماد اور معتبر ھیں اور اھلبیت علیھم السلام علمی رھبری رکھتے ھیں کیونکہ وہ اسلام معارف اور احکام کے بیان میں ھرگز خطا اور غلطی نھیں کرتے ، لھذا ان کے بیانات خواہ وہ زبانی ھوں یا لکھے ھوئے ھوں ( البتہ قابل اعتماد ذرائع سے ) حجت ، دلیل اور برھان ھیں ۔

اس بیان سے واضح ھو جاتا ھے کہ ظواھر دینی جو اسلامی تفکر میں ایک سند اور دستاویز ھے دو اقسام پر مشتمل ھیں ” کتاب اور سنت “ کتاب سے مراد قرآنی آیات کے ظاھری معنی ھیں اور سنت سے مراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اھلبیت علیھم السلام کی احادیث ھیں جو ھم تک صحیح ذرائع سے پھونچی ھیں ۔ 

صحابہ کی احادیث

لیکن وہ احادیث جو صحابہ کے ذریعے لکھی گئی یا نقل ھوئی ھیں ، اگر وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول و فعل کے مطابق ھوں اور اھلبیت علیھم السلام سے روایت شدہ احادیث کے بھی مخالف نہ ھوں تو قابل قبول ھیں اور اگر خود صحابی کی نظر اور رائے کی مطابق ھوں تو وہ حجت و برھان نہ ھوں گی ( قابل قبول نہ ھوں گی ) اور صحابہ کا حکم بھی دوسرے تمام مسلمانوں کے برابر اور مانند ھے ۔ خود اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ایک عام مسلمان کی طرح سلوک کیا کرتے تھے ۔ 

کتاب و سنت کے بارے میں دوبارہ بحث

کتاب خدا ( قرآن مجید ) ھر قسم کے اسلامی تفکر کا بنیادی مآخذ ھے ، اور یہ قرآن کریم ھی ھے جو دوسرے تمام دینی مآخذ کے ثبوت کو اعتبار بخشتا ھے اور ان کے معتبر ھونے کی سند دیتا ھے یھی وجہ ھے کہ قرآن مجید سب کے لئے قابل فھم ھے ۔

اس کے علاوہ خود قرآن کریم اپنے آپ کو ” نور “ اور ھر چیز کو واضح کرنے والا بتاتا ھے اورچیلنج کرتے ھوئے لوگوں سے درخواست کرتا ھے کہ قرآنی آیات میں غور و خوض اور فکر کریں کہ اس کی آیات میں کسی قسم کا اختلاف اور تضاد موجود نھیں ھے اور اگر نھیں مانتے تو اس کی مانند کتاب لکہ کر لائیں اور اس کے ساتھ مقابلہ و معارضہ کریں ۔ واضح رھے کہ اگر قرآن مجید سب لوگوں کے لئے قابل فھم نہ ھوتا تو اس قسم کی حقانیت کے کوئی معنی ھی نہ ھوتے ۔

البتہ ھرگز یوں نھیں سمجھنا چاھئے کہ قرآن مجید جو خود بخود قابل فھم ھے اور گزشتہ مطلب کے منافی ھے جس میں کھا گیا ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آئمہ اھلبیت علیھم السلام اسلامی معارف اور علوم میں علمی مراجع (دینی اورعلمی رھبر ) ھیں اور وہ خود در حقیقت قرآن کریم کے مضامین میں سے ھیں کیونکہ بعض معارف اور علوم جن کو شریعت کے احکام اور قوانین کھا جاتا ھے ، قرآن مجید ان کو مجموعی اور کلی طور پر بیان کرتا ھے لیکن ان کی تفصیلات کو جاننے کے لئے مانند نماز ، روزہ وغیرہ اور اسی طرح لین دین اور دوسری عبادات وغیرہ سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اھلبیت علیھم السلام کی احادیث کی طرف رجوع کرنے سے واضح ھوتے ھیں اور یہ امور و احکام انھیں پر موقوف ھیں ۔

اسلام کا دوسرا حصہ جو اعتقادی اور اخلاقی تعلیمات اور اسی طرح معارف اسلامی پر مشتمل ھے اگر چہ ان کے مضامین اور تفصیلات عام افراد کے لئے قابل فھم ھیں لیکن ان کے معانی سمجھنے کے لئے اھلبیت علیھم السلام کی روش اختیار کرنی چاھئے ۔ اسی طرح ھر قرآنی آیات کو اس کی دوسری آیات کے ساتھ ملا کر معنی ، توضیح اور تفسیر کرنی چاھئے نہ کہ اپنے نظریئے اور خیالات کے مطابق جیسا کہ ھمارے زمانے میں یہ رسم اور عادت عام ھو چکی ھے اور ھم بھی اس طریقے سے مانوس ھو چکے ھیں ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : ” قرآن مجید کی بعض آیات ، بعض دوسری آیات کے ذریعے واضح ھوتی ھیں اور معنی دیتی ھیں ، اور اس کی بعض آیات بعض دوسری آیات کے متعلق گواھی دیتی ھیں اور ان کی تصدیق کرتی ھیں “( نھج البلاغہ خطبہ ۲۳۱) اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ھیں :” قرآن مجید کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کی تصدیق کرتے ھیں “( در المنثور ج /۲ ص / ۶ ) اور پھر فرماتے ھیں :” جو شخص قرآن مجید کی تفسیر صرف اپنے نظریئے اور اپنی رائے کے مطابق کرے گا وہ اپنے لئے جھنم میں ٹھکانہ بنائے گا “( تفسیر صافی ص / ۸ ۔ بحار الانوار ج /۱۹ ص / ۲۸ )

قرآن سے قرآن کی تفسیر کے لئے ایک بھت ھی سادہ سی مثال وہ ھے جو خدا تعالیٰ قوم لوط کے عذاب کی داستان میں ایک جگہ فرماتا ھے :” ھم ان پر بری بارش کریں گے “ ( سورہ ٴ شعراء / ۱۷۳ ) اور ایک دوسری جگہ اسی لفظ کو ایک دوسرے لفظ کے ساتھ بدل دیتا ھے اور فرماتا ھے :” ھم ان پر پتھروں کی بارش کریں گے “( سورہ ٴ حجر / ۷۴) ان دو آیات کے انضمام سے واضح ھو جاتا ھے کہ بری بارش کا مطلب ” آسمانی پتھر ھے “ اگر کوئی شخص تحقیق و جستجو کے ساتھ اھلبیت علیھم السلام کی احادیث اور ان روایات سے جو مفسرین صحابہ اور تابعین سے ھم تک پھونچی ھیں ، ان کے اندر معنی تلاش کرے تو اس میں کوئی شک و شبہ نھیں رھے گا کہ قرآن سے قرآن کی تفسیر کا طریقہ صرف اھلبیت علیھم السلام سے ھی مختص ھے ۔ 

قرآن مجید کا ظاھر اور باطن

جیسا کہ ھمیں یہ معلوم ھو چکا ھے کہ قرآن کریم اپنے لفظی بیان کے ساتھ دینی مقاصد اور مطلب کو واضح کرتا ھے ، اور لوگوں کو اعتقاد ، ایمان اورعمل کے بارے میں احکام دیتا ھے ، لیکن قرآن مجید کے مقاصد صرف اسی مرحلے پر منحصر یا ختم نھیں ھوتے بلکہ انھیں الفاظ و عبارات کے اندر اور انھیں مقاصد کے پردے میں ایک معنوی مرحلہ اور کئی دوسرے گھرے مقاصد اپنی بے انتھا وسعتوں کے ساتھ چھپے ھوئے ھیں کہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے اپنے پاک دلوں کے ساتھ ان کو سمجھ سکتے ھیں ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو قرآن مجید کے خدائی معلم ھیں فرماتے ھیں : ” قرآن مجید کا ظاھر بھت ھی خوش آیند اور خوبصورت ھے اور اس کا باطن بھت ھی گھرا اور وسیع ھے “۔ ( تفسیر صافی ج / ۴ ) پھر فرماتے ھیں :” قرآن مجید کا ایک باطن ھے ( ایک باطنی معنی ھے ) اور ھر باطن کے اندر سات باطن ( معنی ) ھیں اور اسی طرح آئمہ علیھم السلام کی احادیث میں بھی قرآن کے باطن کی طرف بھت زیادہ اشارے ھوئے ھیں “( سفینة البحار تفسیر صافی ص ۱۵۳ ، اور تفسیر مرسلا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حدیث نقل کی گئی ھے اور تفسیر عیاشی ، معانی الاخبار میں بھی ایسی احادیث نقل ھوئی ھیں ) ۔

ان احادیث کی اصل بنیاد اور ساکہ وہ مثال ھے جو اللہ تعالیٰ سورہ ٴ رعد آیت ۱۷/ میں بیان فرماتا ھے اللہ تعالیٰ اس آیہ کریمہ میں آسمانی فیض کو اس بارش سے تشبیہ دیتا ھے جو آسمان سے نازل ھوتی ھے اور زمین و اھل زمین کی زندگیاں اس سے وابستہ ھیں ۔ بارش آنے سے سیلاب جاری ھو جاتا ھے اور سیلاب کے مختلف راستے اپنے اندازے کے مطابق اس پانی کو اپنے اندر کھینچ لیتے ھیں اور ان کے اندر پانی بھر جاتا ھے اور وہ پانی جا ری ھو جاتا ھے ۔ سیلاب کا پانی جھاگ اور کف سے پوشیدہ ھو جاتا ھے لیکن اس جھاگ کے نیچے بھی وھی پانی ھوتا ھے جو زندگی بخش ھے اور لوگوں کے لئے بھت ھی فائدہ مند ھوتا ھے ۔ ( بحار الانوار ج / ۱ ص / ۱۱۷ )

جیسا کہ مندرجہ بالا مثال میں خدا وند تعالیٰ اشارہ کرتا ھے ، آسمانی معارف اور قرآنی علوم جو انسان کی معنویت کو جان بخشتے ھیں ، کو حاصل کرنے میں لوگوں کے فھم و ادراک اور سوچ کی گنجائش بھی مختلف ھوتی ھے بعض لوگ ایسے ھوتے ھیں جو اس چند روزہ عارضی زندگی اور جھان گزراں میں مادے اور مادی زندگی کے علاوہ کسی اور چیز کو کوئی اھمیت ھی نھیں دیتے اور اسی طرح مادی خواھشات کے بغیر کسی دوسری چیز میں زیادہ دلچسپی نھیں لیتے ۔ اور مادی نقصانات کے سوا کسی اور چیز سے نھیں ڈرتے ۔ ان لوگوں کو چاھئے کہ کم از کم اپنے درجات میں اختلاف کے لحاظ سے آسمانی معارف اور علوم کو قبول کریں اور اجمالی اعتقادات پر یقین کریں اور اسلام کے عملی دستور اور قانون پر عمل کریں اور آخر کار خدائے وحدہ لا شریک کی پرستش اور عبادت ، قیامت کے دن ثواب کی خواھش یا عذاب کے ڈر سے ھی کریں اور ایسے لوگ بھی موجود ھیں جو صفائے باطن اور صفائے فطرت کے ذریعے اپنی سعادت اور خوش بختی کو اس دنیا کی چند روزہ اور عارضی زندگی کی لذتوں میں نھیں جانتے اور اس جھان کے سود و زیان ، نفع و نقصان ، تلخیوں اور شیرینیوں کو ایک دھوکے باز خیال ( سراب ) کے سوا کچھ نھیں سمجھتے اور ایسے ھی اس کاروان ھستی کے گزرے ھوئے لوگ جو گزشتہ زمانے میں سر خرو زندگی گزار کر اس جھان فانی سے رخصت ھو چکے ھیں اور آج ھمارے لئے افسانہ بن چکے ھیں ۔ ان کی زندگیوں اور کارناموں سے عبرت حاصل کرتے رھتے ھیں ۔

یہ لوگ اپنے پاک دلوں کے ذریعے فطری طور پر ابدی دنیا کی طرف متوجہ ھوتے ھیں اور اس نا پائید ار اور عارضی دنیا کے نقوش اور گونا گوں نظاروں کو خدا تعالیٰ کی نشانیوں کے طور پر دیکھتے ھیں لیکن وہ اس کے لئے کسی قسم کی حقیقت ، استقلال اور پائیداری کے قائل نھیں ھوتے ۔

اس وقت یہ لوگ ان زمینی دنیاوی اور آسمانی نشانیوں کے ذریعے خدائے پاک کی لا متناھی عظمت اور طاقت کو اپنے معنوی ادراک کے ساتھ مشاھدہ کرتے ھیں اور ان کے ناپاک دل آفرینش ، فطرت اور حقیقت کے رموز کے واقف اور شیفتہ ھو جاتے ھیں اور وہ لوگ بجائے اس کے کہ ذاتی منفعت پرستی کے تنگ و تاریک غاروں میں مقید ھوں ، ابدی دنیا کی لا متناھی فضا میں پرواز کرتے ھوئے اوپر چلے جاتے ھیں ۔

یہ لوگ جب آسمانی وحی کے ذریعے سنتے ھیں کہ خدائے تعالیٰ بتوں کی پرستش سے منع فرماتا ھے اس کے معنی ظاھری بتوں کے سامنے سجدہ نہ کرنے کے ھیں تو وہ اس ممنوعیت اور ” نھی “ کے ذریعے سمجھ جاتے ھیں کہ خدا کے سوا کسی اورکی پرستش اور اطاعت نھیں کرنی چاھئے کیونکہ اطاعت کی حقیقت بھی بندگی اور سجدہ کرنے کے سوا کچھ نھیں ھے ۔ پھر وہ لوگ اس سے اور زیادہ سمجھ جاتے ھیں کہ خدا کے سوا کسی سے نھیں ڈرنا چاھئے اور نہ ھی کسی سے امید اور توقع رکھنی چاھئے ۔ اس سے بھی اوپر چلے جاتے ھیں اور ان کو معلوم ھو جاتا ھے کہ نفسانی خواھشات کے سامنے بھی سر تسلیم خم نھیں کرنا چاھئے پھر اس سے بھی زیادہ سمجھ جاتے ھیں کہ خدا کے سوا کسی اور کی طرف نھیں توجہ کرنی چاھئے ۔

مزید  ماہ صیام کے اٹھارہویں دن کی دعا:تشریح و تفسیر

اسی طرح جب کہ قرآن مجید کی زبانی سنتے ھیں کہ قرآن کریم نماز کا حکم دیتا ھے اور اس کے ظاھری معنی صرف مخصوص عبادت کی انجام دھی کے ھیں تو باطنی طور پر وہ سمجھ جاتے ھیں کہ جان و دل سے خدا کے سامنے خضوع و خشوع کے ساتھ سجدہ ریز ھو جانا چاھئے ۔ پھر اس سے زیادہ سمجھتے ھیں کہ خدا کے سامنے اپنے آپ کو ، سچ جاننا چاھئے اور اپنے آپ کو بھول جانا چاھئے اور صر ف خدا کی یاد میں ھی مصروف رھنا چاھئے ۔

جیسا کہ واضح ھے مندرجہ بالا دو مثالوں میں جو باطنی معنی لکھے گئے ھیں وہ امر و نھی کے لفظی معنی نھیں ھیں لیکن جو لوگ وسیع طور پر تفکر کرتے ھیں اور جھان بینی کو خود بینی پر ترجیح دیتے ھیں ان کے لئے ان معانی کا ادراک ناقابل اجتناب ھے ۔

گزشتہ بیان سے قرآن مجید کے ظاھری اور باطنی معنی واضح ھو گئے ھیں اور یہ بھی واضح ھو گیا ھے کہ قرآن مجید کا باطن اس کے ظاھر کو منسوخ نھیں کرتا بلکہ اس روح کی طرح ھے جو اپنے جسم کو زندگی اور جان دیتی ھے ۔ اسلام ایک عمومی اور ابدی دین ھے جو انسانیت کی اصلاح اور بھتری کے لئے آیا ھے اور اس کے سامنے معاشرے اورانسانوں کی اصلاح بھت زیادہ اھمیت رکھتی ھے لھذا اسلام اپنے ظاھری قوانین سے جو معاشرے کی اصلاح کے لئے ھیں اور اپنے سادہ عقائد سے جو مذکورہ قوانین کے نگھبان اور محافظ ھیں ، ھر گز ھاتہ نھیں اٹھاتا ، یا ان کو نظر انداز نھیں کرتا۔

یہ کیسے ممکن ھے کہ ایک معاشرہ اس فریب اور دھوکے کے ساتھ کہ انسان کا دل پاک ھونا چاھئے اور عمل کی کوئی اھمیت نھیں ھے ۔ ھرج و مرج اور افرا تفری کے ساتھ زندگی گزارے اور پھر بھی سعادت اور خوش بختی کو حاصل کرے ؟ اور پھر یہ بھی کیسے ممکن ھو سکتا ھے کہ نا پاک کردار اور گفتار ، ایک پاک دل کو جنم دے سکے یا ایک پاک دل سے نا پاک کردار اور گفتار جنم لے ؟ خداوند تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب مقدس میں فرماتا ھے :” پاک لوگ پاک لوگوں میں سے ھیں اور نا پاک لوگ نا پاک لوگوں میں سے ھیں ۔

پھر فرماتے ھے : ” اچھی زمین اپنی نباتات کو اچھی طرح پرورش کرتی ھے اور بری زمین سے برے فصل کے سوا کچھ پیدا نھیں ھوتا “ ۔  ” و البلد الطیب یخرج بناتہ باذن ربہ ، و الذی خبت لا یخرج الا نکدا ، کذٰلک نصرف الاٰیٰت لقوم یشکرون “ (سورہ ٴ اعراف / ۵۸)

گزشتہ بیان کے ذریعے واضح ھو گیا ھے کہ قرآن مجید میں ظاھر اور باطن موجود ھے اور پھر باطن کے مختلف درجات ھیں اور وہ احادیث نبوی جو قرآن کریم کے اس بیان کی تصدیق کرتی ھیں ، اگلے صفحات میں آئیں گی ۔ 

قرآن مجید کی تاویل

اسلام کے اوائل میں اکثریت اھلسنت میں یہ مشھور تھا کہ جس وقت ضرورت اور دلیل موجود ھو ، قرآن مجید کے ظاھری معانی سے چشم پوشی کر کے معنوی اور باطنی معنی مراد لئے جا سکتے ھیں اور ان ظاھری معانی کے خلاف تفسیر کو ” تاویل “ کھا جاتا تھا ، اور جس چیز کو قرآن مجید میں تاویل کھا گیا ھے وھی معنی تفسیر کو دیئے جاتے تھے ۔ اھلسنت کی مذھبی کتابوں اور اسی طرح مختلف مذاھب کے مناظروں میں جو لکھے بھی جا چکے ھیں ، یہ مسئلہ بھت زیادہ دکھائی دیتا ھے کہ ایک مسئلے میں جو مذھبی علماء کے اجماع سے یا کسی اور وجہ سے ثابت ھو جاتا ھے ۔ اگر ایک آیت کے ظاھری معنی دوسری قرآنی آیات کے مخالف ھوں تو اس آیت کی تاویل کر کے خلاف ظاھر معانی کر دیئے جاتے ھیں اور کبھی کبھی دو مخالف گروہ اپنے دو متقابل اقوال کے لئے قرآنی آیات سے دلائل سے حاصل کرتے ھیں اور دونوں گرھوں میں سے ایک گروہ کی آیات کی تاویل کرتا ھے ۔

یہ طریقہ کم و بیش شیعہ مذھب میں بھی سرایت کر گیا ھے اور ان کی بعض علم کلام کی کتابوں میں بھی دیکھا جاتا ھے ، لیکن جو چیز قرآنی آیات اور ائمہ اھلبیت علیھم السلام کی احادیث میں کافی غور و فکر کے بعد حاصل ھوتی ھے وہ یہ ھے کہ قرآن مجید نے اپنے رس بھرے بیان اور واضح مطالب میں ھر گز معمہ گوئی اور مبھم روش کو اختیار نھیں کیا ھے اور اپنے مطالب اور مضامین کو سوائے ظاھری معانی کے ،اپنے ماننے والوں کے سامنے پیش نھیں کرتا اور جس کو قرآن مجید میں تاویل کھا گیا ھے ، وہ لفظی معنی نھیں ھیں بلکہ وہ حقائق ھیں جو عام لوگوں کے فھم و ادراک سے بھت بالاتر ھیں جن میں سے اعتقادی معارف اور قرآن مجید کے علمی احکام سر چشمہ حاصل کرتے ھیں ۔ ھاں ! تمام قرآن مجید کی تاویل ھو سکتی ھے اور اس کی تاویل بھی براہ راست غور و فکر اور فکر و تدبیر کے ذریعے قابل فھم نھیں ھے اور الفاظ کے ذریعے بھی اس کو بیان نھیں کیا جا سکتا اور صرف خدا کے پیغمبر ، پاک لوگوں اور اولیاء اللہ ھی جو انسانی آلائشوں سے پاک ھوتے ھیں ، اپنے مشاھدات کے ذریعے ان کو سمجھ سکتے ھیں ، مگر قرآن مجید کی تاویل قیامت کے دن سب لوگوں پر ظاھر ھو جائے گا ۔ 

وضاحت

ھم بخوبی جانتے ھیں کہ جس چیز نے انسانوں کو بات کرنے ، الفاظ بنانے اور ان الفاظ سے استفادہ کرنے پر مجبور کیا ھے وہ معاشرتی اور مادی ضروریات ھیں ، انسان اپنی معاشرتی زندگی میں مجبور اور نا گزیر ھے کہ اپنے ضمیر کی آواز اور اپنے ارادے کو اپنے ھم جنسوں کے سامنے پیش کرے ، ان کو اپنے دل کی بات بتائے اور سمجھائے اسی وجہ سے وہ اپنی آواز اوراپنے کانوں سے مدد لیتا ھے اور اس کے علاوہ کبھی کبھی اشاروں اور آنکھوں سے بھی فائدہ اٹھاتا ھے ، یھی وجہ ھے کہ ایک گونگے اور ایک نا بینا فرد میں یہ مفاھمت نھیں پائی جاتی ، کیونکہ جو بات نابینا کرتا ھے ، گونگا اور بھرہ شخص اس کو نھیں سن سکتا اور جس چیز کے بارے میں گونگا اشارہ کرتا ھے اسے نابینا شخص نھیں دیکہ سکتا ۔ اسی وجہ سے الفاظ بنانے اور چیزوں کے نام رکھنے کے لئے مادی ضرورت کو پورا کیا گیا ھے اور چیزوں کے بارے میں الفاظ بنائے گئے ھیں جو مادی ھیں یا احساس کے نزدیک ھیں ، جیسا کہ ھم دیکھتے ھیں کہ وہ شخص جس سے ھم بات کرنا چاھتے ھیں ، اگر اس کے حواس خمسہ میں ایک حس کی کمی موجود ھے اور ھم اسی حس کے مطابق جو اس شخص میں موجود ھی نھیں ھے بات کریں تو ایک قسم کی مثال دے کر اپنے مطلب کو واضح کرتے ھیں یا اشارہ کرتے ھیں ۔ اور اگر ایک پیدائشی نابینا شخص ھو اور ھم اس کے ساتھ روشنی یا رنگ کے بارے میں بات کریں یا ایک بچے کے ساتھ جو ابھی سن بلوغ کو نھیں پھونچا ھے جنسی عمل کی لذت کے متعلق بات کریں تو اپنے مطلب کو ایک دوسری چیز سے تشبیہ دے کر یا مقابلہ کر کے یا مناسب مثال دے کر اسے سمجھاتے ھیں اور یوں اپنے مطلب کو ادا کرتے ھیں ، لھذا اگر فرض کریں کہ اس جھان ھستی میں بعض حقائق اور رموز موجود ھیں جو مادے اور مادی آلائشوں سے پاک ھیں ( اور حقیقت بھی یھی ھے ) اور ھر زمانے میں انسانوں میں سے صرف چند لوگ ان کے مشاھدے اور ادراک کی صلاحیت رکھتے ھیں تو یہ حقائق و رموز لفظی بیان اور عام تفکر کے ذریعے قابل فھم نھیں ھوں گے اور مثال و تشبیھہ کے بغیر ان کے بارے میں کچھ بتایا نھیں جا سکے گا ۔

اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ھے : ھم نے اس کتاب کو پڑھے جانے والے الفاظ اور عربی زبان میں نازل کیا ھے تاکہ شاید تم غور کرو اور سمجھ سکو ، حالانکہ یہ ام الکتاب ( لوح محفوظ ) میں ھمارے پاس موجود ھے جو بھت ھی بلند مقام ھے ( یعنی عام فھم دماغ اس تک نھیں پھونچ سکتا اور اس کو نھیں سمجھ سکتا ) ”انا جعلنٰہ قرآنا عربیا لعلّکم تعقلون ، و انہ فی ام الکتٰب لدینا لعلی حکیم “ ( سورۂ زخرف /۴۰۳)

اور پھر فرماتا ھے :” بیشک یھی کتاب یعنی قرآن مجید ھے جو بھت ھی عزیز اور گرامی ھے اور حقیقت میں یہ عام نظروں سے پنھاں ھے کہ کوئی آدمی اس کو چھو نھیں سکتا مگر خدا کے پاک بندے “۔ ” انہ لقراٰ ن کریم ، فی کتٰب مکنون ، لا یمسّہ الا المطھرون “ ( سورہ ٴ واقعہ / ۷۷۔۷۹)

اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے اھلبیت علیھم السلام کے بارے میں فرماتے ھیں :” اللہ تعالیٰ چاھتا ھے کہ اے( پیغمبر کے ) اھلبیت خدا تو بس یہ چاھتا ھے کہ تم کو ( ھر طرح ) کی برائی سے دور رکھے اور جیسا پاک و پاکیزہ رھنے کا حق ھے ویسا پاک و پاکیزہ رکھے ۔ ” انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا “ (سورۂ احزاب / ۳۳)

ان آیات کے ثبوت سے قرآن کریم کا منبع اور سر چشمہ اس جگہ ھے جھاں لوگوں کے فھم و ادراک کو ھر گز راہ نھیں ھے اور وہ لوگ اس تک پھونچنے سے عاری ھیں ، صرف خدا کے پاک بندوں کے سوا کسی شخص کو اس تک رسائی نھیں ھے اور نہ ھی کوئی اس کو سمجھ سکتا ھے اور نہ ھی اس کا دماغ وھاں تک پھونچ سکتا ھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اھلبیت علیھم السلام انھیں پاک بندوں میں سے ھیں ۔

ایک اور جگہ فرماتا ھے :” یہ لوگ جو قرآن مجید پر ایمان نھیں لاتے وہ اس چیز کو تکذیب کرتے ھیں جس کے علم کو وہ احاطہ نھیں کر سکتے اور ابھی تک اس کی تاویل ان پر ظاھر نھیں ھوئی ھے “ ( یعنی یہ تاویل ان پر قیامت کے دن ظاھر اور واضح ھو گی جب ھر چیز کو آنکھوں سے دیکھا جا سکے گا ) ( سورہ یونس /۳۹) ” بل کذّبوا بما لم یحیطوا بعلمہ و لما یاتھم تاویلہ ، کذٰلک کذّب الذین من قبلھم فانظر کیف کان عاقبة الظالمین “

پھر ایک اور جگہ فرماتا ھے :” جس دن قرآن کی تاویل ( پورا قرآن ) ظاھر ھو گی تو جن لوگوں نے اس کو فراموش کر دیا تھا ، اس دن نبوت کی دعوت پر اعتراف کریں گے ( سورہ ٴ اعراف / ۵۳) ” ھل ینظرون الا تاویلہ ، یوم یاتی تاویلہ یقول الذین نسوہ من قبل قد جآء ت رسول ربنا بالحق “ ۔ 

حدیث کی بحث کا تتمہ

اصل حدیث کا معتبر ھونا ، جس کی قرآن کریم نے ضمانت اور تصدیق کر دی ھے ، اس کے بارے میں شیعوں اور تمام دیگر مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نھیں ھے لیکن اسلام کے اوائل میں حکمرانوں کی طرف سے حدیث نبوی کو حفاظت میں جو کوتاھی ھوئی اور ایسے ھی صحابہ اور تابعین کی طرف سے حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رواج دینے میں جو افراط ( زیادتی ) پیدا ھوئی اس کی وجہ سے حدیث نبوی سخت افسوس ناک حالت سے دو چار ھو گئی ۔

ایک طرف تو خلفائے وقت حدیث لکھنے اور اس کی حفاظت سے منع کیا کرتے تھے اور ھر وہ ورق جس پر حدیث لکھی ھو ، ملتا تھا تو اس کو ڈھونڈاور کھوج کر جلا دیتے تھے اور کبھی کبھی حدیث بیان کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی جا تی تھی ، اس وجہ سے بھت زیادہ احادیث میں تغیر و تبدل آگیا ، یا بھت سی احادیث بھول گئیں یا ان کو بیان نہ کیا گیا ۔

دوسری طرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام جن کو پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی احادیث سننے کا فخر حاصل رھا ھے وہ خلفائے وقت اور عام مسلمانوں کے لئے قابل احترام تھے ، انھوں نے احادیث کی ترویج شروع کی اور اس کا نتیجہ یہ ھوا کہ حدیث کو قرآن مجید پر فوقیت اور حکمرانی مل گئی اور کبھی کبھی یوں بھی ھوتا کہ حدیث کے حکم سے قرآن مجید کی آیت کو منسوخ کر دیا جاتا تھا ۔

مزید  پیغمبر اسلام (ص) میں دوسرے انبیاء کی بعض خصوصیتیں نہیں پائی جاتی تھیں۔ آپ (ص) حضرت موسی(ع) کے مانند خداوند متعال سے گفتگو نہیں کرتے تھےاور۔ ۔ ۔! اس کے باوجود آنحضرت (ص) کی دوسرے انبیاء(ع) برتری کی دلیل کیا ہے؟

اور کئی بار ایسا بھی ھوتا کہ حدیث کو نقل کرنے والے اشخاص ایک حدیث کو سننے کے لئے کئی کئی میل کے سفر کی صعوبت اٹھایا کرتے تھے ۔

بعض غیر مسلم افراد جنھوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اور ظاھری طور پر اسلام بھی قبول کر لیا تھا اور ایسے ھی اسلام کے اندرونی دشمنوں نے حدیث میں تغیر و تبدل شروع کر دیا اور اس طرح حدیث کا اعتبار اور وثوق ختم کر دیا گیا ۔

اسی وجہ سے اسلامی دانشوروں کو فکر لاحق ھوئی اور انھوں نے راہ حل ڈھونڈنا شروع کیا ، پھر انھوں نے بعض علوم پیدا کئے یعنی ” علم رجال “ اور ” علم درایت “ وغیرہ تاکہ درست اور غلط احادیث کو ایک دوسرے سے جدا کیا جائے ۔

لیکن شیعہ باوجودیکہ حدیث کی سند اور اصلاح اور پاک کرنے کے لئے کوشش کرتے ھیں ، حدیث کے متن کو قرآن کریم سے بھی مطابقت دیتے ھیں اور حدیث کے معتبر ھونے کے لئے اس عمل کو ضروری جانتے ھیں ۔

مذھب شیعہ میں بھت زیادہ احادیث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  اور ائمہ اھلبیت علیھم السلام سے پھونچی ھیں ( بحار الانوار ج/ ۱ ص / ۱۳۹ ) جن کی قطعی سند موجود ھے ۔ کیونکہ وہ حدیث جو قرآن مجید کے مخالف ھو ھر گز قابل قبول نھیں ھے اور صرف اسی حدیث کو ھی معتبر جاننا چاھئے جو قرآن کے عین مطابق ھو ۔

اس بیان کے مطابق وہ احادیث جو قرآن مجید کے مخالف ھوں شیعہ ان پر عمل نھیں کرتے اور ایسے ھی وہ احادیث ( بحار الانوار ج / ۱ ص / ۵۵ ) جن کی قرآن مجید کے ساتھ مخالفت یا مطابقت معلوم نھیں ، انکے بارے میں ائمہ اھلبیت علیھم السلام کی طرف سے جو حکم ملتا ھے ، قبول یا رد کئے بغیر ان کو ویسا ھی چھوڑ دیا جاتا ھے اور ان کے متعلق بحث نھیں کرتے ، البتہ شیعہ مذھب میں بھی ایسے آدمی مل جاتے ھیں جو اھلسنت کی طرح ، جو حدیث ان کو مل جاتی ھے اس پر عمل کرنا شروع کر دیتے ھیں ۔ 

حدیث پر عمل کے بارے میں شیعوں کا طریقہ

وہ حدیث جو بلا واسطہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ اھلبیت علیھم السلام کی زبانی سنی گئی ھو وہ قرآن کریم کا حکم رکھتی ھے ، لیکن وہ حدیث جو بعض ذرائع سے ھم تک پھونچی ھو ، شیعہ اس حدیث پر مندرجہ ذیل طریقے سے عمل کرتے ھیں :

اعتقادی معارف میں نص قرآن کی رو سے علم اور یقین ضروری ھے لھذا جو احادیث متواتر ( احادیث ثقہ ) ھیں یا کوئی ایسی حدیث ھے جو قرائن و شواھد کے ذریعے ثقہ احادیث کے زمرے میں آتی ھے ، اس پر عمل ضروری اور لازمی ھے ، ان دو طریقوں کے علاوہ کسی دوسرے طریقے سے جس کو ” خبر واحد “ ( یعنی وہ احادیث جو صرف ایک ھی ذریعے سے حاصل ھوئی ھے ) کھتے ھیں ۔ کسی حدیث کو قابل اعتبار اور قابل اعتماد نھیں کھا جا سکتا ۔

لیکن شرعی احکام میں جب کسی حکم کا نتیجہ حاصل کیا جاتا ھے ، تو تعین شدہ طریقے اور دلائل پر نظر رکھتے ھوئے ” حدیث متواتر اور حدیث قطعی “ کے علاوہ ” خبر واحد “ ( حدیث واحد ) پر بھی عمل کیا جاتا ھے ، بشرطیکہ اگر وہ کسی ذریعے اور طریقے سے قابل یقین اور قابل وثوق ھو ۔

پس احادیث متواتر اور احادیث قطعی ، شیعوں کی نظر میں مکمل طور پر لازم الاتباع یا واجب العمل ( جن پر عمل کرنا فرض اور ضروری ھو ) ھیں اور اسی طرح غیر قطعی اور غیر یقینی ( خبر واحد ) احادیث ، بشرطیکہ کسی طریقے اور ذریعے سے قابل یقین ھو جائیں تو صرف شرعی احکام میں ھی حجت اور برھان ھوں گی ( یعنی صرف شرعی احکام میں ھی ان کی پیروی اور اطاعت ضروری ھو گی نہ کہ تمام امور میں ) اور یہ احادیث لازم الاتباع نھیں ھیں ۔ 

اسلام میں عام تعلیم و تعلم

علم حاصل کرنا دین اسلام کے فرائض میں سے ھے ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ھیں :” علم حاصل کرنا ھر مسلمان پر فرض ھے اور قطعی شواھد سے تصدیق شدہ احادیث کے مطابق اس علم کا مطلب اسلام کے تین اصولوں ( توحید ، نبوت ، معاد یعنی روز قیامت ) کو جاننا ھے ، اور ایسے ھی ان کے قریبی علوم کو سمجھنا ھے ، پھر اسلامی احکام اور قوانین کی تفصیلات کو سمجھنا ھے ،یعنی ان تمام علوم کو حاصل کرنا فرض ھے ، جس قدر بھی ھر انسان کرسکتا ھو اور زندگی میں اسے ضرورت ھوتی ھو ۔

البتہ واضح ھے کہ اصول دین کے ساتھ علم حاصل کرنا ، خواہ و ہ اجمالی لحاظ سے ھی کیوں نہ ھو ، ھر شخص کے لئے میسر ھے اور ھر انسان کی طاقت میں بھی ھے لیکن دینی قوانین اور احکام کے تفصیلی معنی کے لحاظ سے کتاب و سنت ( فقہ استدلالی ) کے بارے میں ٹیکنیکل اور مستند علم حاصل کرنا ھر شخص کے بس کی بات نھیں ھے اور صرف بعض لوگ ھی اسے حاصل کر سکتے ھیں اور اسلام میں طاقت فرسا ( حرجی ) حکم نھیں آیا ھے ( یعنی کوئی ایسا حکم نھیں دیا گیا جس کی وجہ سے انسان کو دکہ اور تکلیف ھو )

لھذا دلیل و برھان کے ذریعے دینی قوانین و احکام کے بارے میں علم حاصل کرنا ” واجب کفایہ “ ھے اور صرف بعض افراد سے متعلق ھے جو اس کی صلاحیت اور طاقت رکھتے ھیں اور باقی تمام افراد کا فرض یہ ھے ( جیسا کہ عام دستور اور قانون کے مطابق یعنی جاھل شخص ایک عالم اور فاضل شخص کی طرف رجوع کرے ، عالم کی طرف رجوع کرنے کا طریقہ کھ) مذکورہ اشخاص کی طرف رجوع کریں ( جن کو مجتھد اور فقیہ یا عالم کھا جاتا ھے ) اور اس رجوع کو تقلید کھا جاتا ھے ، البتہ یہ رجوع اور تقلید اس رجوع اور تقلید کے علاوہ ھے جو اصول معارف میں موجود ھے اور قرآن مجید کی نص صریحہ ” و لا تقف ما لیس لک بہ علم “ کے مطابق ممنوع ھے ۔

یہ جاننا چاھئے کہ شیعہ ابتدائی تقلید میں مردہ مجتھد کو جائز نھیں جانتے یعنی جو شخص مسئلے کو اجتھاد کے ذریعے نھیں جانتا اور دینی فرض کے مطابق اسے ایک مجھتد کی تقلید کرنی چاھئے ، پس وہ مجتھد جو زندہ نھیں ھے اس کے نظرئیے کی تقلید نھیں کر سکتا ۔ البتہ اگر اس مجتھد کی زندگی میں اس کی تقلید کرتا رھا ھو ، اس کی وفات کے بعد بھی وہ اس کا مرجع تقلید باقی رھے گا ( یعنی مجتھد کی وفات کے بعد بھی اس کی تقلید کو جاری رکہ سکے گا ) اور یہ مسئلہ شیعوں کی اسلامی فقہ کو زندہ اور تازہ رکھنے کے عناصر و عوامل میں سے ھے تاکہ کچھ لوگ ھمیشہ اجتھاد تک پھونچنے کی کوشش اور جدو و جھد کرتے رھیں اور اس طرح فقھی مسائل میں اپنی تحقیق جاری رکہ سکیں ، لیکن اھلسنت پانچویں صدی ھجری میں اجماع امت کی وجہ سے اپنی فقہ کے چار اماموں یعنی امام ابو حنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد حنبل میںسے کسی اور کی تقلید کو بھی جائز نھیں سمجھتے ، اور اس کے نتیجے میں ان کی فقہ اسی سطح پر باقی رہ گئی ھے جیسا کہ بارہ سو سال پھلے تھی ، لیکن اس آخری زمانے میں بعض افراد نے پرانی اجماع اور تقلید سے انکار کرتے ھوئے آزاد اجتھاد کو شروع کر دیا ھے ۔ 

شیع اور نقل علوم

اسلامی علوم جو علمائے اسلام کی تدوین و اختراع اور ایجاد کے مرھون منت ھیں ، دو حصوں میں منقسم ھیں یعنی ” علوم عقلی “ اور ” علوم نقلی “ علوم نقلی وہ علوم ھیں جن کے مسائل کو لکھا جاتا ھے یا زبانی بیان کیا جاتا ھے مثلا علم لغت ، علم حدیث ، رمل تاریخ اور ایسے ھی دوسرے علوم اور علوم عقلی ان کے علاوہ دوسرے تمام علوم ھیں مثلا علم فلسفہ اور علم ریاضی وغیرہ جن کے بارے میں غور و فکر کی ضررت ھے ۔

اس میں کوئی شک نھیں ھے کہ اسلام میں علوم نقلی کی پیدائش کا اصلی سبب یا عنصر خود قرآن کریم ھی ھے اور دو تین علوم یا فنون مثلا تاریخ ، انساب اور عروض کے علاوہ باقی تمام علوم اسی آسمانی کتاب کے خانہ زاد ھیں ۔

مسلمانوں نے دینی تحقیق و بحث کی رھنمائی میں ان علوم کو شروع کیا ھے جن میں اھم عربی ادبیات ، علم نحو ، صرف، معانی ، بیان ، بدیع و لغت وغیرہ شامل ھیں اور ایسے ھی دینی ظواھر کے متعلقہ علوم مثلا علم قراٴت ، علم تفسیر ، علم رجال ، علم درایت ، علم اصول اور علم فقہ ھیں ۔

شیعوں نے بھی کوشش اور ھمت کے مطابق ان علوم کی تدوین اور تصنیف میں بھت ھی اھم، اور خصوصی حصہ لیا ، بلکہ ان میں سے بھت زیادہ علوم کے بانی بھی شیعہ ھی تھے ، جیسا کہ علم نحو ( عربی زبان کی گرامر ) کو ابو الاسود دئلی نے جو پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  اور حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے ، حضرت علی علیہ السلام کی رھنمائی میں تدوین کیا تھا ، اور اسی طرح علم فصاحت و بلاغت ، علم معانی ، بیان اور بدیع کے بھت بڑے مصنفین میں سے( وفیات ابن خلکان ص/ ۷۸ ، اعیان الشیعہ ج/ ۱۱ ص / ۲۳۱ ) ایک صاحب بن عیاد شیعی تھے جو آل بویہ کے وزیر تھے ۔ اسی طرح سب سے پھلے لغت کی کتاب کتاب العین ھے(وفیات ابن خلکان ص/ ۱۹۰ ، اعیان الشیعہ اور دوسری تمام کتب ترجمہ ) جو مشھور و معروف دانشور اور ماھر علوم شیعہ خلیل بن احمد بصری نے لکھی تھی جو علم عروض کے بانی اور مصنف تھے اور علم نحو میں سیبویہ نحوی کے استاد بھی تھے ۔

عاصم کی قراٴ ت قرآن بھی ایک واسطے سے حضرت علی علیہ السلام تک پھونچتی ھے اور عبد اللہ بن عباس جو علم تفسیر میں سب سے پھلے صحابی شمار ھوتے ھیں ، حضرت علی علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھے اور علم حدیث اور علم فقہ میں اھلبیت علیھم السلام اور ان کے شیعوں کی کوششیں اور اسی طرح اھلسنت کے چار فقیھوں ( فقہ کے چار اماموں ) کا شیعوں کے پانچویں اور چھٹے امام کے ساتھ تعلق بھی مشھور ھے ۔ اصول فقہ میں بھی وحید بھبھانی (وفات ۱۲۰۵ھء ) کے زمانے میں عجیب ترقی ھوئی خصوصا شیخ مرتضیٰ انصاری ( وفات ۱۲۸۱ھء) کے ذریعے اصول فقہ ( شیعہ ) نے جو ترقی کی وہ اھلسنت کے اصول فقہ سے قابل موازنہ نھیں ھے ۔ ( اتقان سیوطی ) 

دوسرا طریقہ : عقلی بحث

عقلی ، فلسفی اور کلامی تفکر

اسلام کے فلسفی اور کلامی تفکر میں شیعوں کی پیش قدمی

فلسفہ اور دوسرے تمام عقلی علوم کے بارے میں شیعوں کی انتھک کوششیں

شیعوں میں فلسفہ کیوں باقی رہ گیا ھے ۔

شیعوں میں سے چند ایک مشھور علمی شخصیتیں 

عقلی ، فلسفی اور کلامی تفکر

اس سے پھلے بھی بیان کیا جا چکا ھے کہ قرآن کریم نے علمی تفکر ( غور و فکر ) کے لئے بھت زیادہ تاکید کی ھے ، اور اس کو مذھبی تفکر کا جزء قرار دیا ھے البتہ انعکاس کے طور پر عقلی تفکر نے بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت اور حقانیت کی تصدیق کرنے کے بعد قرآنی ظواھر ( شریعت کے احکام ) جو آسمانی وحی ھیں اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اھلبیت علیھم السلام کے بیانات کو بھی عقلی حجت کی صف میں لا کھڑا کیا ھے اور وہ عقلی دلائل جو انسان اپنی خداداد فطرت اور نظریات کے ذریعے ثابت کرتا ھے وہ دو قسم کے ھیں :” برھان اور جدل “ ۔

برھان :۔ وہ حجت اور دلیل ھے جس کے مواد ابتدائی اور حقیقی ھوں ۔ اگر چہ مشھور یا مسلم بھی نہ ھوں ۔ دوسرے الفاظ میں وہ مسائل ھیں جن کی ضروریات کو انسان اپنے خدا داد شعور سے سمجھ لیتا ھے اور تصدیق کرتا ھے ، جیسا کہ ھم جانتے ھیں ( تین کا عدد چار کے عدد سے چھوٹا ھے ) اس قسم کا تفکر ، عقلی تفکر کھلاتا ھے ۔ اگر یہ تفکر اس دنیا کے اندر مجموعی طور پر انجام پذیر ھو ، مثلا آفرینش کے مبداء میں تفکر ، لھذا دنیا اور اھل دنیا کا انجام فلسفی تفکر کھلائے گا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.