شہادت امام حسين (ع) کے بعد زينب کبري

0 0

ہمارا اعتقاد ہے کہ سلسلہ امامت کي چوتھي کڑي سيد السجاد(ع) ہيں ،چنانچہ عبيداللہ ابن زياد نے عمر بن سعد کو دستور ديا تھا کہ اولاد امام حسين (ع) ميں سے تمام مردوں کو شہيد کئے جائيں،دوسري طرف مشيت الہي يہ تھي کہ مسلمانوں کيلئے ولايت اور رہبري کايہ سلسلہ جاري رکھا جائے ، اس لئے امام سجاد (ع) بيمار رہے اور آپ کا بيمار رہنا دوطرح سے آپ کا زندہ رہنے کيلئے مدد گار ثابت ہوئي-

ہمارا اعتقاد ہے کہ سلسلہ امامت کي چوتھي کڑي سيد السجاد(ع) ہيں ،چنانچہ عبيداللہ ابن زياد نے عمر بن سعد کو دستور ديا تھا کہ اولاد امام حسين (ع) ميں سے تمام مردوں کو شہيد کئے جائيں،دوسري طرف مشيت الہي يہ تھي کہ مسلمانوں کيلئے ولايت اور رہبري کايہ سلسلہ جاري رکھا جائے ، اس لئے امام سجاد (ع) بيمار رہے اور آپ کا بيمار رہنا دوطرح سے آپ کا زندہ رہنے کيلئے مدد گار ثابت ہوئي-

صرف دو صورتوں ميں ضروري ہے کہ خدا تعالي ائمہ طاہرين (ع) کي غيبي امداد کے ذريعے حفاظت اور مدد کرے :

1- معجزے کے بغير اسلام کي بقا عادي طور پر ممکن نہ ہو –

2- دين کي حفاظت مسلمانوں کي قدرت ميں نہ ہو-

ايسا نہيں کہ کسي فداکاري اور قرباني اور مشکلات اور سختي کو تحمل کئے بغير مسلمان اپنے دشمنوں کو نابود کرسکے –

چنانچہ جب مشرکان قريش پيامبر اسلام (ص) کي قتل کے درپے ہوئے تو خدا تعالي نے وحي کے ذريعے قريش والوں کے مکروہ ارادے سے آگاہ کيا اور غار ثور کے دروازے پر مکڑي کا جال بنا کر ان کي اذہان کو منحرف کيا ، کيونکہ اولاً تو دين اسلام کي بقا اور دوام ،پيامبر اسلام (ص) کي زندگي اور حيات طيبہ پر منحصر تھا- ثانيا ً پيامبر (ص) کو دشمن کي پلانينگ سے آگاہ اور مشرکوں کے اذہان کو منحرف کرنا تھا؛ جو بغير معجزے کے ممکن نہ تھا – ليکن باقي امور کو رنج ومصيبتوں اور سختيوں کوتحمل کرکے نتيجے تک پہنچانا تھا -جيسا کہ حضرت علي (ع) پيامبر (ص) کي جان بچانے کيلئے آپ بستر پر سوگئے تاکہ آپ (ص) کو غار ميں چھپنے کي مہلت مل جائے – اور پيامبر اکرم (ص) بھي مدينے کي طرف جانے کے بجائے دوسري طرف تشريف لے گئے ، تاکہ کفار کے ذہنوں کو منحرف کيا جائے- اگر سنت الہي اعجاز دکھانا ہوتي تو يہ ساري زحمتيں ان بزرگواروں کو اٹھاني نہ پڑتيں –

مزید  حی علیٰ خیر العمل " كے جزء اذان ھونے كے سلسلہ میں علماء كے نظریات

امام سجاد (ع) کي حفاظت اور ديکھ بال کرنا بھي اسي طرح تھا ؛ کہ زينب کبري (س) اس سختيوں کو اپنے ذمہ لے لے -اور پورے سفر کے دوران آپ (ع) کي حفاظت اور مراقبت کي ذمہ داري آپ آپ ہي قبول کرلے -( جاری ہے )

 

حوالہ جات :

1 – اللهوف ، ص130-

2 – بحارالأنوار، ج45، ص115-

3 – موج ادراک،ص135-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.