شيطان کي تيسري غلطي

بالآخر ابليس اپنے اس بڑے گناہ اور عظيم خطا کے باعث تباہ و برباد ہوا اور خدا کي جوار رحمت سے باہر نکال ديا گيا اور اس برے فعل کي وجہ سے دنيا کي مردود ترين مخلوق بن گيا ليکن يہ لعنت بھي اس کي بيداري کا باعث نہ بني اور شيطان اب بھي غرور اور نخوت کا مرکب نظر آتا ہے – بجاۓ اس کے کہ شيطان توبہ کرتا اس نے ايک مزيد برا فعل انجام ديا اور وہ يہ کہ اس نے ا

بالآخر ابليس اپنے اس  بڑے گناہ اور عظيم خطا کے باعث تباہ و برباد ہوا اور  خدا کي جوار رحمت سے باہر نکال ديا گيا  اور اس برے فعل کي وجہ سے دنيا کي مردود ترين مخلوق بن گيا  ليکن يہ لعنت بھي اس کي بيداري کا باعث نہ بني  اور شيطان اب بھي غرور اور نخوت کا مرکب نظر آتا ہے – بجاۓ اس کے کہ شيطان توبہ کرتا اس نے ايک مزيد برا فعل انجام ديا اور وہ يہ کہ اس نے ابن آدم کو گمراہي کے راستے پر گامزن کرنا شروع کر ديا اور اپنے حسد اور غصے کي وجہ سے بيشتر گناہوں کا مرتکب ہوتا گيا  اور اس نے خدا سے تقاضا کيا کہ اسے قيامت تک زندہ رکھا جاۓ –

دوسري طرف جب امر الہي کے جواب ميں حضرت آدم شيطان کے بہکاوے ميں آ گيا تو اس نے ترک اولي کيا اور توبہ و استغفار کرکے اپني غلطي کي تلافي کي –

جب حضرت آدم عليہ السلام کو اپني غلطي کا احساس ہوا تو اس نے فورا اپنے گناہ پر خدا سے توبہ طلب کي اور يوں خدا نے اس کي توبہ کو قبول کيا –

َفتَلَقَّى آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ(بقره /37 )

جبرائيل نازل ہوا اور فرمايا کہ ميں  تجھے راستہ بتاۆں گا  – اگر  تم خدا تعالي کو ان ناموں کي قسم دو تو خدا تمہيں قبول کر لے گا  – کہو :   محمد ص کے حق ميں ياحميد ، علي کے حق ميں يا عالي ، فاطمہ کے حق  ميں يا فاطر ، حسن کے حق ميں يا محسن ، حسين کے حق ميں ياقديم الاحسان – حضرت آدم عليہ السلام نے پنج تن پاک کے توسل سے توبہ کي اور خدا نے اسے بخش ديا ليکن ابليس نے توبہ نہ کي اور وہ قيامت تک  گمراہي کے راستے پر گامزن رہے گا –

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.