شفا عت کے اصو ل

0 0

شفاعت کرنے یا شفاعت پانے کے لئے بنیا دی شر ط خد کی اجا زت ہے، جیسا کہ سو رہ بقرہ کی آیت نمبر ٥٥ ٢،میں ارشاد ہو ا ہے (مَن ذَالَّذِی یَشفَعُ عِندَہُ اِلَّا   بِاِذنِہِ )کو ن ہے جو اس کی با رگا ہ میں اس کی اجازت کے بغیر سفا رش کر سکے ،اور سو رہ یو نس کی آیت نمبر ٣میں یو ں ارشا د ہے (مَا مِن شَفِیعٍ اِلَّا مِن بَعدِ اِذنِہِ) کو ئی سفا رش نہیں کر سکتا مگر اس کی

اجا زت کے بعد اور سو رہ طہٰ کی آ یت نمبر ١٠٩ میں بھی ارشا د ہو رہا ہے :

یَومَئِذٍ لَا تَنفَعُ الشَّفَا عَةُ اِلَّا لِمَن اَذِنَ لَہُ الَّرحمٰنُ وَ رَضِیَ لَہُ قَولاً )

اس دن کسی کی سفا رش کام نہ آئے گی ،سوا ئے ان کے جنھیں خدا نے اجاز ت دیدی ہو اور وہ ان کی بات سے را ضی ہو اور سو رہ سبا ء کی آیت نمبر ٢٣ میں فر ما تا ہے :

(وَلَا تَنفَعُ الشَّفَا عَةُ عِندَہُ اِلَّا لِمَن اَذِنَ لَہُ)اس کے نزدیک کسی کی سفا رش کام نہ آئے گی مگر اس کی جس کو اجاز ت دی گئی ہو ان آیات سے اجما لی طور سے خدا کی اجازت ثا بت ہو تی

ہے لیکن اجا زت یا فتہ افرا د کی خصو صیت کا اند ا زہ نہیں ہو تا ، لیکن دوسر ی آیا ت کے ذ ریعہ طر فین      ( شفا عت کرنے وا لے اور شفا عت پا نے وا لے ) کی شر طو ں کو واضح کیا جا سکتا ہے جیسا کہ سورہ زخرف کی آیت نمبر ٨٦ میں ہے :

(وَلا یَملِکُ الَّذِینَ یَد عُونَ مِن دُونِہِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَن شَہِدَ بِا لحَقِّ وَ ہُم یَعلَمُونَ) اور وہ لو گ جو خدا کے علا وہ کسی اور کو آواز دیتے ہیں شفا عت کا حق نہیں رکھتے ( اور کسی کو بھی شفا عت کا حق نہیں ) مگر وہ جو حق کی گو اہی دے اور علم بھی رکھتا ہو، شا ید ( مَن شَھِدَ بِا لحَق) سے  مرا د اعما ل کے اوپر گو اہ فرشتے ہو ں جو خدا کی تعلیم کے ذریعہ بندوں کے اعما ل اور نیتوں سے وا قف رہتے ہیں اور ان کی رفتا ر و کر دا ر کی قدر و قیمت اور کیفیت پر شہا دت دے سکتے ہیں ،جیسا کہ حکم اور مو ضو ع کے  تنا سب سے استفا دہ کیا جا سکتا ہے کہ سفا رش کر نے والو ں کے پا س اتنا علم ہو نا چا ہیے کہ جو شفا عت پانے وا لوں کی صلا حیت کی تشخیص دے سکیں ۔

اور یقینی طور سے ان دو نوں شرا ئط کے حا مل وہ معصو مین   ٪ہیں ،دوسری طر ف سے بعض  آیا ت سے استفا دہ ہو تا ہے کہ شفا عت پا نے وا لے مر ضی خدا کے حق دار ہو ں جیسا کہ سور ہ انبیا ء کی آیت نمبر ٢٨میں ارشاد ہے : (وَ لَا یَشفَعُونَ اِلَّا لِمَن اِر تَضیٰ )سفا رش نہیں کر سکتے مگر یہ کہ خدا اس کو پسند کر ے اور سو رہ نجم کی آیت نمبر ٢٦ میں ارشاد ہے : (وَکَم مِن مَلَکٍ فِی السَّموات  لَا تُغِن شَفَاعتُہُم شَیًا اِلَّا مِن بَعدِ اَن یَأ ذَنَ اللّہُ لِمَن َیشَاء وَ یَر ضیٰ) اور آسما نوں میں کتنے ہی ایسے فر شتے ہیں جن کی سفارش کسی کے کا م نہیں آسکتی، جب تک خدا جس کے  با رے میں  چا ہے اور پسند نہ کر ے اجا زت نہ دیدے ۔

صا ف ظا ہر ہے کہ رضائے پر وردگا ر کی منز ل میں ہو نے سے مر اد یہ نہیں ہے کہ اس کے    سا رے اعما ل پسندیدہ ہو ں ورنہ شفا عت کی کو ئی ضرو رت نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ خو د شخص دین و ایمان کے لحاظ سے مر ضی خدا کے مطا بق ہو جیسا کہ رو ایا ت میں اسی عنوان سے تفسیر ہو ئی ہے ۔

دوسری طر ف چند آیتوں میں ان لو گو ں کی خصلت جن کی سفا رش نہیں ہو سکتی بیان کی گئی ہے، جیسے سو رہ شعراء کی آیت نمبر ١٠٠ میں مشر کین کے قول کو نقل کر رہا ہے(فَمَا لَنَا مِن شَا فِعِین)َ  اور سورہ مدثر کی آیت نمبر ٤٠سے ٤٨ تک آیا ہے کہ مجر مو ں کے دو زخ میں جا نے کے سبب کے     با رے میں سوا ل کیا جا ئے گا تو وہ لو گ جو اب میںتر ک ِنما ز (١) بیکسو ں کی مدد نہ کر نے روز قیا مت کے جھٹلا نے کی خصلت کو گنوائیں گے اس کے بعد ارشا د ہے (فَمَا تَنفَعہُم شَفا عَة الشَا فِعِینَ ) اس آیت سے استفا دہ ہو تا ہے کہ وہ مشرکین او ر قیا مت کا ا نکا ر کر نے وا لے جو خدا کی عبا دت نہیں  کر تے اور اس کے محتا ج بند وں کی مدد نہیں کر تے ،اور صحیح اصول و قوا نین کے پا بند نہیں ہیں ۔

شفا عت ہر گز ان کے شا مل حا ل نہیں ہو گی او ر اس با ت پر غور کر تے ہو ئے کہ پیغمبر  ۖکا استغفا ر بھی اس دنیا میں ایک طر ح کی شفا عت ہے اور ان کا استغفا ر ان لو گو ں کے حق میں جو ا س بات کے لئے حا ضر نہیں ہیں، آپ سے استغفا ر و شفا عت کی در خوا ست کر یںشامل نہیں ہو گا(۲) اس سے اس با ت کا اندا زہ ہو تا ہے کہ شفا عت کا انکا ر کر نے وا لا بھی شفا عت کا حق دار نہیں ہے جیسا کہ یہی مضمو ن    احا دیث میں ذکر ہو ا ہے (۳)

حا صل کلا م یہ ہے کہ مطلقا ً اور اصلی سفا رش کر نے وا لے کے لئے ضر وری ہے کہ خد ا کی   اجا زت کے علا وہ خو د بھی معصیت کا ر نہ ہو اور دوسروں کے گناہ اور اطا عت کے مر ا تب کو سمجھنے کی    قدر ت رکھتا ہو نیز سچے پیرو کار بھی ان کے زیر سا یہ شفا عت کے کمترین مر تبہ کے ما لک ہو تے ہیں ،جیسا کہ ایسے افراد شہدا ء اور صد یقین کے زمر ہ میں محشور کئے جا ئیں گے (۴) اوردوسری طرف    صر ف وہ لو گ شفا عت پا نے کا حق رکھتے ہیں جو خدا کی اجا زت کے علا وہ خدا و رسو ل اور قیامت اور وہ چیزیں جو خدا نے نبی  ۖ پر نا زل کی ہیں جیسے شفا عت کی حقا نیت پر ایمان رکھنا، نیز اس اعتقاد پر آخر دم تک باقی رہنا ہے ۔

…………………………………………

١۔ امام صا دق   اپنی زند گی کے آخر ی لمحا ت میں فر ما یا:( ان ّ شفاعتنا لا تنا ل مستخفا با لصلوٰة  )     ہما ری  شفاعت اس انسان تک نہیں پہنچ سکتی جو نما ز کو ہلکا سمجھے ۔ بحا ر الانوا ر  ج٤ ص ٢

 ۲۔ منا فقون  ٥۔٦

۳۔ (عن النبی  ۖ مَن لم یؤمن بشفاعت فلا انالہ اللہ شفاعت )جو میری شفا عت پر ایما ن نہیں رکھتا  خدا میری شفا عت کو اس کے شا مل حا ل نہیں کر ے گا ، بحا ر لانوا ر ج٨ ص ٥٨ ،

۴وا لذین آمنوا با اللہ و رسولہ او لٰئک ھم الصدقون والشہد اء عند ربھم )

جو خدا اور رسول  ۖ پر ایما ن لا ئے خدا کے نزدیک وہی لو گ صدیقین اور شہدا ء ہیں ،

از آموزش عقائد۔ مصباح یزدی

مزید  منتظرین کے فرائض

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.