شرم وحیابہترین متاع

0 0

صنف نازک یعنی عورت ذات اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کا اندازہ ہر ایک ذی حس اور باضمیر انسان کو ہے۔ اسی کی وجہ سے پوری کائنات کو سرور حْسن حاصل ہے۔اسی سے انسانی نسل کی زینت بنی ہے۔اس  کے دم سے ا?داب واخلاق کی دنیا ا?باد ہے۔کسی  دانش مند کا قول ہے :مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے ، عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے۔یہ ا?فاقی سچ ہے لیکن جب عورت ذات میں  حیائ  کی یہ خوبیاں  موجود ہیں  تو اس کے پیدا ہونے پر گھر کے سارے افراد غمزدہ کیوں  ہوتے ہیں  ؟

آج کل شرم وحیائ  کا نام ونشان مٹ رہا ہے۔اگر لاج شرم بچانی ہے تو لڑکی تھوڑی بڑی ہوئی تو اسے چاہئے کہ پردے میں  رہے۔ آج کل کی لڑکیاں  گھرسے نکلتی ہیں  تو غیر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔بسااوقات خود اس کا بنائو سنگار ایسا ہی ہوتاہے۔ اس غلطی کے لئے ان لڑکیوں  سے زیادہ ان کے گھروالے ذمہ دار ہیں  کیونکہ اچھی تربیت کرنا گھروالوں  کا اولین فرض ہے۔ اب حال یہ ہے کہ سر پر ڈوپٹہ نام کی کوئی چیز ہی نہیں  ہوتی اور بعض لڑکیاں  تو جینز پہن کر گھر سے باہر نکلتی ہیں ۔ایک لڑکی گھر سے باہر جائے تو گھروالے تب تک پریشان رہتے ہیں  جب تک وہ واپس نہ لوٹے کیونکہ سماج ہی ایسا بگڑ گیا ہے۔اگر کوئی لڑکی شرم وحیائ  کے دائرے میں  رہناچاہئے تو سماج میں  اس کو بڑی بے دردی سے رد کیا جاتاہے۔ رومانہ جاوید اور تابندہ غنی جیسی لڑکیاں  اپنی عزت کی حفاظت کرتے کرتے ہی موت کی ا?غوش میں  چلی گئیں ۔انہیں  معلوم تھاکہ ہم شرم کرکے ہی عزت کی زندگی جی لیں  گے۔

مزید  درود میں آلِ محمد کا ثبوت

حالات یہاں  تک پہنچے ہیں  کہ ا? ج کا انسان ذہنی پریشانی میں  مبتلا ہے کہ ا?یا لڑکی کو جنم دینا بھی چاہئے یا نہیں  کیونکہ اس کے سامنے ا?سیہ جان اورنیلوفر کا المناک انجام ہوتاہے۔ خدا نخواستہ لڑکی غلط راستہ پر جائے تو بے حیا کہلاتی ہے اور گھروالوں  کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کا نام مٹی میں  ملا دیتی ہے لیکن اگرشرم وحیائ  کا دامن پکڑے تو اسے تابندہ غنی ، صبرینہ فیاض، رومانہ جاوید یا ا?سیہ اور نیلوفر کا حشردیکھنا پڑتاہے۔ ہوکیا گیا ہے اس سماج  کو ؟ اس سماج  کو سدھرنے میں  کتنی صدیاں  لگیں  گی ؟گوا?ج زندگی کا نظام سدھرنے کا نام نہیں  لیتا پھر بھی غیرت مند اور روشن ضمیر انسانوں  کو چاہئے کہ وہ اس سماج کو سدھارنے میں  جی توڑ کوشش کریں ۔گزشتہ دنوں  یہاں  ”ہفتہ حیا ”چلا۔ یہ قوم کو سدھارنے کا اچھا اور سنہری موقع ہے۔غلطی کسی بھی انسان سے سرزد ہوسکتی ہے کیونکہ انسان غلطیوں  کاپتلا ہے۔البتہ جس انسان کو غلطی کرکے اس کا احساس ہو اور اس غلطی کو سدھارے وہی سب سے اچھا انسان کہلاتاہے۔ہمیں  چاہئے کہ ہم اس بگڑی قوم کو ویسا ہی بنانے کی کوشش کریں  جیسا کہ لاج شرم والی قوم ہونی چاہئے۔تاکہ صنفِ نازک بغیر کسی ڈر کے اپنیندگی پوری عزت وحرمت کے ساتھ بسر کرسکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.