شخصیت کشی

*تصویر کا دوسرا رخ*

*شخصیت کشی*

تحریر: سکندر علی بہشتی

انسانی اور اخلاقی معیارات کو پس پشت ڈال کر جہاں شخصیت پرستی مذموم عمل ہے،وہاں اس کے مقابلے میں شخصیت کشی،توہین،تخریب، الزام،تہمت اور بے احترامی بھی معاشرہ کے لئےزہرقاتل ہے۔اسلامی معاشرے میں مفکرین،مصلحین اور اجتماعی وسیاسی شخصیات کے ساتھ ہمیشہ سے یہ مسئلہ پیش آتا رہا ہے جہاں بلاچون وچرا ماننے والوں اور عقیدت میں حد سے تجاوز کرنے والوں کی کمی نہیں وہاں پر آنکھ بند کرکے مخالفت کرنے والے بھی حد سے زیاد ہوتے ہیں۔
عوام کے درمیان رائج نظریات،رسوم اور عادات ہی معیار ہوتے ہیں،ایسے میں کسی بھی مذہب،مسلک یا مکتب سے تعلق رکھنےوالے شخص کا ان سے اختلاف نظر،مخالفین کی نگاہ میں اس قدر سنگین جرم ہےکہ اس کی شخصیت کشی اورہرقسم کی مخالفت اس کے لئے جائز ہوتی ہے۔
یہی طریقۂ کار پارٹیوں اور احزاب میں ہوتا ہے جب تک ایک شخص اس پارٹی کے وفادار یاان کے ہمراہ ہے اس کی تعریف وتمجید ہوتی ہے جونہی وہ ان سے اپنا راستہ الگ کرلے،اختلاف نظر یاتنقید کرے،اس پر ہرقسم کی تہمت،بہتان اور اس کی شخصیت کشی شروع ہوجاتی ہے یا اپنی ہی من پسند شخصیات یا گروہوں کے برخلاف دوسروں کے ہر عمل واقدام کی مخالفت،ان پر تنقیداور منفی نگاہ سے دیکھنا بھی بعض افراد کا شیوہ ہے۔
ایک مثال علمی حلقوں میں ہے کہ ایک فقیہ،محقق یاصاحب نظر جب تک ان کے ہم نظر ہے وہ قابل احترام ہے لیکن جونہی وہ کوئی نیانظریہ یاموقف اپنائے جو ذرا مختلف ہو یا ان کے مزاج کے مطابق نہ ہو تو اس دن سے اس کی شخصیت کشی شروع ہوجاتی ہے اور اس پر توہین، تہمت اور ہرقسم کے الزامات لگاتے ہیں اور اس سلسلے میں تمام شرعی،اخلاقی اور انسانی حدود کراس کر دیتے ہیں۔
ہوبہو یہی مثال حکومتوں کی ہے وہ اپنے حامیوں اور ہاں میں ہاں ملانے والوں کو درست اور مخالفین کی مخالفت اور شخصیت کشی کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔
بالکل یہی صورتحال اس وقت بھی ہے جب ہم کسی کی معمولی غلطی یاخطا کو دیکھ کر ہر محفل میں اس کی شخصیت کی مخالفت کرتے ہیں،جبکہ اس کے مقابلے میں اس میں موجود متعدد اچھی صفات اورخوبیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
شخصیات کے بارے میں یا ہمہ یاہیچ کانظریہ انسان کو شخصیت پرستی یا شخصیت ستیزی کی جانب لے جاتا ہے،
اس لئے انبیاء وائمہ علیہم السلام کے بعد کسی بھی شخصیت کو علی الاطلاق قبول اور رد بھی ایک انتہائی مہلک خطرہ ہے۔
عظیم شخصیات،مفکرین اور مصلحین کی عظمت اس میں نہیں کہ ان کہ ساری باتیں درست یا ہراقدام برحق ہے،بلکہ ان کی عظمت اس میں ہے کہ یہ شخصیات اپنے ادوار میں جہل،پسماندگی اور جمود کے خلاف میدان میں آئیں اور معاشرے کی اصلاح کے لئے قربانیاں دیں،یہی وجہ ہے کہ بہت سے علماء اور مجتہدین کے نظریات فقہی،اصولی اور دیگر علمی موضوعات پر تمام تر عظمت کے باوجود علمی نقد اور مورد بحث قرار پاتے ہیں ان کے نظریات پر دیگر فقہاءاور محققین کی جانب سے گفتگو ہی ان کی اہمیت اورعظمت کی علامت ہے،اسی طرح فکری رہنما،اجتماعی مصلحین کے افکار اور آراءحوزہ ہائے علمیہ، یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں کتاب،پایان نامہ،رسالہ اور تحقیقی مقالات کی شکل میں مورد توجہ قرار پاتے ہیں جوکہ علمی اورفکری سرمایہ اور معاشرے میں جدید نظریات میں اضافے کا سبب بنتا ہے،لہذا اختلافات کو بہانہ بنا کر توہین،شخصیت کشی اور تخریب کے بجائے منصفانہ اور تعمیری نقد اور ابحاث کی جانب توجہ،تجربات میں اضافے اور نکات ضعف وقوت سے آشنائی میں مددگار ثابت ہوگی۔

شخصیت کشی کے اسباب:
بہت سے افراد کی طرف سے کسی کی شخصیت کشی کے اسباب میں متعلقہ شخصیت سے حسد،کینہ وعداوت،ذاتی اختلاف،مدمقابل کے نظریے کو نہ سمجھنایعنی جہالت،علمی کمزوری،مدلل جواب سے عاجزی جیسے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں۔
ہرشخص نے،میری نظر،میرا ہم فکر وہم مکتب ہونا،میری زبان،قوم،مسلک یاپارٹی جیسے معیارات بنائے ہوئے ہیں جبکہ ان معیارات پر پورا نہیں اترنے والے افراد کی شخصیت کو مجروح کرنا شروع کردیا جاتاہے۔

علماء کے ساتھ وابستگی یا کسی فکر سے وابستگی کے حوالے سے جب بات ہوتو بعض افراد شخصیت پرستی کے عنوان سے تنقید شروع کرتے ہیں اور شخصیت پرستی کے نام سے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
اگر اسلام نے انبیاء،ائمہ علیہم السلام اور علماء کے مقام و منزلت کی بنا پر ان سے رجوع کا حکم دیا ہے تو یہ اس علم اور دین کی بناپر ہے کہ جس کے وہ حامل ہیں،لہذا شخصیت کا احترام،اطاعت اور پیروی کسی صورت شخصیت پرستی کے نام مذموم نہیں،بلکہ بہت اہم عمل ہے انسان کی زندگی میں آئیڈیل ونمونہ عمل ایک فطری عمل ہے۔

راہ علاج:
شخصیت پرستی یا شخصیت کشی کے بجائے کسی بھی انسان کی بات،کردار وطرز عمل کے بارے میں اخلاقی اصول کو مدنظر رکھیں،جذبات،ہرقسم کے ذاتی یادیگر تعلقات،پسند اور ناپسند اور تعصب کی سوچ کو بالائے طاق رکھ کر سوچیں،تمام پہلوؤں کاجائزہ لیا جائے اور مخالفت کے آداب واخلاق سے آگاہ ہوکر مخالفت کی جائے اگر ہمارا مدمقابل اشتباہ کا شکار ہے تو اس کوعلمی انداز میں رد کریں اور اسے اس کے اشتباہات کی طرف متوجہ کرائیں،اختلاف دشمنی ونفرت میں تبدیل نہ ہو بلکہ گفتگو کا وسیلہ اور راہ حق کی جانب لانے کا ذریعہ ہو،خصوصاً علمی اور دینی شخصیات پر فوراً کافر،فاسق،مرتد،منحرف اور ایجنٹ جیسے القابات سے اجتناب کریں۔اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں،فورا ردعمل یا ناقص بات سن کر فیصلہ نہ کریں،کسی چھوٹی بات پر اس کی پوری خدمات اور شخصیت کو زیر سوال نہ لائیں،یعنی ہر چیز میں اخلاقی اور شرعی حدود کی رعایت کریں..

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More