سیرت معصومین علیھم السلام میں تعلیم و تربیت

0 0

رسول اسلام (ص) نے اسلامی تربیت کی بنیاد رکھی آپ پر پہلی مرتبہ جو آیات نازل کی گئیں ان میں ارشاد ہوا کہ اقراء باسم ربک الذی خلق ،ان میں تعلیم و تربیت کے بنیادی عناصر یعنی

1. حصول علم و معرفت اور

 2.کمال و ترقی پر تاکید کی گئي ۔

رسول اسلام (ص) تربیت کے عام ھدف یعنی انسانی کمال کی تبلیغ فرمارہے تھے تاکہ اپنے پیرووں کی کمال کی بلند و بالا چوٹیوں تک رھنمائی فرمائيں اسی وجہ سے قرآن نے آپ (ص) کو اسوہ حسنہ کا لقب عطا کیا ہے  ۔

اس کے ساتھ ساتھ رسول اسلام (ص)تعلیم و تربیت کی متعدد روشوں سے استفادہ فرماتے تھے جو حسب ذیل ہیں  ۔

الف: تلاوت آیات قرآن مجید اور خطبہ یا وعظ کی صورت میں ان کی وضاحت کرنا۔

ب: آس پاس کے علاقوں میں مبلغین و معلمیں روانہ کرنا ۔

ج: خط و کتابت کے ذریعے دعوت دینا ۔

د: عملی روش ۔

رسول اسلام (ص) کی نظر مبارک میں تعلیم و تربیت کی اس قدر اھمیت تھی کہ آپ (ص) نے غزوہ بدر کبری کے بعد اعلان فرمایا کہ قریش کے قیدیوں میں سے جو بھی انصار کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائے گا اسے رھا کر دیا جاے گا ائمہ علیھم السلام نے بھی رسول اسلام (ص) کی تربیتی روشوں کو جاری رکھا، امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی عملی زندگي کا ہر ہر پہلو عوام کے لۓ تربیت کا سبق تھا آپ (ص) کی حکومت کی اساس اسلامی تربیتی اصولوں یعنی تقوی و فداکاری و ایثار پر تھی لیکن آپ ( ص) کی خاص روش خطبے اور وعظ ونصیحت تھی جس کے دسیوں نمونے ہمارے سامنے موجود ہیں  ۔

مزید  امير المومنين عليہ السلام فرماتے ہيں: شادى كرو كہ يہ رسول خدا (ص) كى سنت ہے

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام تعلیم و تربیت کی روشوں میں رسول اسلام (ص) کی پیروی کرتے تھے آپ (ص) کا تعلیمی ادارہ بھی مسجد ہی تھا. تاریخی شواھد سے معلوم ہوتاہے کہ آپ (ص) نے ہی عربی زبان کے قواعد وضع فرماے ہیں  اور جو قواعد عرب کی نسبت ابوالاسود دوئلی کی طرف دی جاتی ہے دراصل آپ (ص) نے ہی انہیں قواعد عرب کی تعلیم دی تھی۔

حضرت علی علیہ السلام ہی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے فلسفہ الھی میں غور اور استدلال و برھان منطقی کی روش پر گفتگو کی، آپ (ص) کے خطبوں اور ارشادات میں عرفان و فلسفہ کے اعلی معارف اور اخلاق و تربیت کے ظریف ترین نکات دیکھے جاسکتے ہیں، آپ (ص) سے مختلف عقلی فنون و دینی و اجتماعی معارف کےبارے میں گیارہ ھزار سے زائد کلمات قصار نقل کۓ گۓ ہیں ان اقوال کو آمدی نے غرر الحکم اور سید رضی نے نھج البلاغہ میں نقل کیا ہے ۔

اس بحث کے آخر میں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے خطبوں میں موجود تربیتی نکات کی طرف اشارہ کررہے ہیں ۔

امام حسن علیہ السلام کودرپیش سنگین مسائل کی بناپر آپ (ص) کو اپنے تربیتی پروگراموں کو آگے بڑھانے میں نھایت شدید مشکلات کا سامنا تھا ۔

امام حسین علیہ السلام نے وعظ و نصیحت کے ساتھ ساتھ مسلحانہ جھاد کی صورت میں بھی امربالمعروف و نھی عن المنکر کی تحریک شروع کی، امام جعفرصادق علیہ السلام کا زمانہ اھل بیت کے لۓ تعلیم و تربیت کا بہترین زمانہ تھا امام صادق علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کے فراھم کردہ حالات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوے اپنے شاگردوں کی تعداد چار ھزار تک پہنچادی آپ کے حلقہ درس میں ان تمام مسائل پر جو فردی و اجتماعی زندگی پر مفید اثرات کے حامل تھے ان پر بحث ہوتی تھی ،امام صادق علیہ السلام کے بعد بھی ديگر ائمہ نے اپنے اجداد طاھرین علیھم السلام کی روش جاری رکھی اور ہر امام (ع) نے اپنے وقت کے تقاضوں کے مطابق امت کی رھنمائی کی ذمہ داری بنحو احسن انجام دی56 ۔

مزید  کریمۂ اہل بیت حضرت معصومۂ قم(‏ع)

حضرت علی علیہ السلام کے خطبوں سے مستفاد تربیتی نکات کو اگر تفصیل سے بیان کریں تو کئي جلدیں تیار ہوجائیں گی لھذا ہم نھایت اختصار سے ان کی طرف اشارہ کررہے ہیں تاکہ آپ (ص) کی نظر میں تعلیم و تربیت کی اھمیت واضح ہوجاے ۔

1- امیرالمومنین علیہ السلام تعلیم کی اھمیت پر تاکید کرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ “ما اخذاللہ تعالی علی اھل الجھل ان تعلموا حتی اخذ علی اھل العلم ان یعلموا

2- تعلیم اور تمدن کی پیشرفت میں ربط باھمی

امیرالمومنین علیہ السلام نے نھایت لطیف طرز پر بیان فرمایا ہے کہ کن حالات میں یہ ھدف حاصل ہو سکتا ہے آپ (ص) فرماتے ہیں عالم کو اپنے علم سے استفادہ کرنا چاھیے ،جاھل کو حصول علم سے جی نہیں چرانا چاھیے مالدار کو اپنے رزق و روزی میں بخل نہیں روا رکھنا چاھیے اور نادار کو اپنی آخرت کو دنیا کے بدلے فروخت نہیں کرنا چاھیے ۔

3. علم و عوام کی زندگی میں ربط، اس موضوع کے تحت آپ (ص) نے تاکید کی ہے کہ علم کو نفع بخش ہونا چاھیے آپ (ص) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا ہے کہ نعوذباللہ من علم لاینفع  ۔

4. امام علیہ السلام علم کی منفرد خاصیت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو کمیاب ہوتی ہے اس کی قیمت اور اھمیت میں اضافہ ہوجاتاہے لیکن علم جب فراوان ہوجاتاہے تو اس کی قیمت میں اضافہ ہوتاہے ۔

5. حکمت روح کی غذاہے مولاے کائنات کا فرمانا ہے کہ اگر نفس انسان حکمت سے عاری رہے تو غم و اندوہ میں گرفتار ہوجاتاہے آپ (ص) فرماتے ہیں کہ اجمعوالنفوس والتمسوا لھا طرف الحکمۃ فانھا تمل کما یمل الجسد ۔

مزید  آنکھوں سے دُور ہو کے بھی، دل سے نہ جا سکا

6. اخلاقی و ایمانی امور،امام فرماتے ہیں کہ یہ امور (دینی اقدار )انسانی کردار و گفتار کو مستحکم بناتے ہیں اور عدالت و دیگر اقدار کو رائج کرتے ہیں آپ (ص) فرماتے ہیں کہ ان اللہ لا یامرالا بالحسنی ولا ینھی الا عن القبیح  ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.