سنتِ نبوی(ص) اور حقائق و اوھام

0 0

عمر ابن خطاب اہل سنت والجماعت کے یہاں صحابہ میں سے بڑے عالم اور الہام ہونے والے افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ جب کہ صحابہ کے درمیان سب سے بڑے عالم نہیں تھے جیسا کہ خود ان ہی کی نقل کردہ روایت سے ثابت ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی(ص) نے عمر کو اپنا جھوٹا پانی دیدیا اور علم سے اس کی تاویل ، خود عمر کہتے ہیں کہ مجھے نبی(ص) کی بہت سی حدیثیں یاد نہیں ہیں اور پھر انھیں حدیث سے کچھ لگاؤ نہ تھا اس لئے کہ انھیں تو بازاروں میں تجارت ہی سے فرصت نہیں تھی!!
بخاری نے اپنی صحیح کے باب الحجۃ میں کسی کا قول نقل کیا ہے کہ : احکام نبی(ص) آشکار تھے کیونکہ سب ہی تو نبی(ص) کے ساتھ رہتے تھے۔ اسلام کے امور کا مشاہدہ کرتے تھے۔
این روز ابوموسی نے عمر کے پاس جانے کی اجازت طلب کی لیکن عمر مشغول تھے اس لئے وہ لوٹ آئے ، عمر نے کہا مجھے عبداللہ ابن قیس کی آواز سنائی دے رہی ہے اسے بلاؤ ، بلایا گیا تو عمر نے کہا تم واپس کیوں چلے گئے تھے؟
ابوموسی نے کہا ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، عمر نے کہا اپنے اس دعوی کی دلیل پیش کرو، ورنہ تمھیں اس کا بھگتان کرنا ہوگا۔ ابوموسی انصار کے پاس گئے ، انصار نے کہا ہم میں سب سے چھوٹا اس کی گواہی دے گا۔ پس ابوسعید خدری اٹھے اور کہا یقینا ہمیں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ عمر نے کہا مجھ سے نبی(ص) کا یہ حکم مخفی رہا۔ ہاں بازاروں میں مجھے تجارت نے مشغول رکھا ۔(صحیح بخاری، ج۲، ص157، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، صحیح مسلم ، ج۶، ص179، باب لاستئذان من کتاب الآداب)
تعلیق :اس قصہ میں کچھ لطائف ہیں جن کا بیان کرنا ضروری ہے۔
اسلام میں اجازت طلب کرنے کا قضیہ مشہور ہے نبی(ص) کی اس سنت کو ہر خاص و عام جانتا ہے۔ کیوں کہ جب لوگ رسول (ص) کے پاس آتے تھے تو پہلے اجازت طلب کرتے تھے اور پھر  یہ اسلام کے آداب و مفاخر میں سے ایک ہے۔
۱۔اس واقعہ سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ عمر ابن خطاب کے پاس دربان و چوکیدار رہتے تھے جو لوگوں کو بغیر اجازت کے ان کے پاس نہیں جانے دیتے تھے۔ ابو موسی نے بھی تین دفعہ اجازت مانگی  انھیں اجازت نہ ملی تو وہ لوٹ گئے۔ لیکن عمر کے یارو مددگار سب بنی امیہ تھے وہ انھیں نبی(ص) پر فضیلت دینا چاہتے تھے۔ اس لئے انھوں نے یہاں تک کہدیا کہ وہ بغیر کسی محافظ و باڈی گارڈ کے سرِراہ سوجاتے تھے مزید کہا تم نے عدل کیا تو (یہاں) سوگئے ۔ ( مطلب یہ ہے کہ اگر عدل نہ کرتے تو سرِراہ تھوڑی ہی سوسکتے تھے۔ کوئی بھی قتل کردیتا۔)
گویا وپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عمر بنی(ص) سے بھی بڑے عادل تھے کیوں کہ نبی(ص) کے پاس محافظ و دربان رہتے تھے ورنہ یہ بات کیسے کہی گئی کہ عمر کے مرنے سے عدل بھی مرگیا؟
۲۔اس روایت سے ہمیں عمر کا مغلوب الغضب  ہونا اور ان کی کٹھور طبیعت اور   مسلمانوں سے ان کے بے جارویہ کا پتہ چلتا ہے۔
ابوموسی اشعری” صحابہ میں سب سے بزرگ ” مسئلہ اجازت طلبی پر حدیث بنی(ص) سے استدلال کرتے ہیں اور عمر کہتے ہیں کہ قسم خدا کی اگر تم نے اپنے مدعا پر کوئی شہادت پیش نہ کی تو میں تمھیں پشت وشکم کے درد میں مبتلا کردوں گا۔(صحیح مسلم، ج۶، ص179، کتاب الآداب باب الاستیذان)
ابوموسی کی اس سے بڑی اہانت و تذلیل اور کیا ہوگی کہ انھیں لوگوں کے سامنے جھٹلادیا  اور حدیث نبی(ص) سنانے پر انھیں اذیت باک سزا کی دھمکی دی۔ جبکہ ، حدیث کی صحت پر گواہی موجود تھی، ابی ابن کعب نے عمر ابن خطاب سے کہا کہ رسول اللہ (ص) کے اصحاب کے لئے ہر گز عذاب نہ بننا۔(حوالہ سابق)
مجھے تو اکثر امور میں عمر کا استبداد کے علاوہ کوئی نرم و نیک رویہ نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ وہ کتاب خدا وسنت نبی(ص) کی مخالفت کرتے تھے۔ اور غضب ناک ہوتے اور ڈراتے تھے ان کی اس سخت مزاجی نے بہت سے صحابہ کو حق چھپانے پر مجبور کیا جیسا کہ تیمم کے سلسلہ میں عمر نے عمار یاسر کو سنتِ نبوی(ص) بیان کرنے سے منع کیا اور جب عمر نےزیادہ تہدید کی تو عمار نے کہا اگر تم کہو تو میں یہ واقعہ کسی سے بیان نہ کروں۔(صحیح مسلم، ج۱، ص193، باب التیمم ، صحیح بخاری، باب التیمم)
اس سلسلہ میں بے شمار شواہد موجود ہیں کہ عمر نے زمانہ ابوبکر ہی میں صحابہ کو احادیث نبی(ص) بیان کرنے سے منع کردیا تھا اور اپنی دس سالہ خلافت کے دوران اس بات پر شدت سے عمل کیا تھا۔ اور صحابہ نے جو احادیث نبی(ص) جمع کرلی تھیں انھیں نذر آتش کردیا تھا مزید برآں بیان کرنے سے منع کردیا تھا۔ چنانچہ بعض صحابہ کو محبوس بھی کردیا تھا۔( اس موضوع کو ہم اہل ذکر میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔ شائقین کے لئے اس کا مطالعہ کافی ہوگا۔
عمر کی خلافت سے قبل ابوبکر نے اور عمر کی خلافت کے بعد عثمان نے نقل حدیث پر سخت پابندی لگادی تھی۔
اس کے باوجود ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ تمام خلفاء سنتِ نبی(ص) پر عمل کرتے تھے جبکہ صحابہ حدیث نبی(ص) کو پیش بھی نہیں کرسکتے تھے کیوں کہ جلادیا جاتا تھا؟
۳۔اس روایت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ عمر ابن خطاب اکثر نبی(ص) کی مجلس سے غائب رہتے تھے اور وہ بازاروں میں تجارت کے کاموں میں مشغولیت کی بنا پر حدیث نہیں سن پاتے تھے۔
اسی لئے وہ اکثر حدیثوں کو نہیں جانتے تھے جب کہ صحابہ میں سے ہر خاص و عام ان کو جانتا تھا یہاں تک کہ ان کے بچے بھی جانتے تھے۔ چنانچہ جناب ابوموسی کو جب عمر نے دھمکی دی اور وہ انصار کے پاس آئے تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ اس حدیث کو ہمارا چھوٹا بچہ پیش کرے گا۔ پس ابوسعید خدری ان کے ساتھ گئے جب کہ وہ سب سے چھوٹے تھے۔ انھوں نے گواہی دی کہ میں نے یہ حدیث نبی(ص) سے سنی ہے۔
یہ مسند خلافت پر بیٹھنے والے عمر کی توہین ہے کہ وہ حدیث نبی(ص) سے نا واقف ہے۔ جبکہ ایک بچہ اسے جانتا ہے ۔ اور رسول (ص) کی اس حدیث پر کیوں عمل نہیں ہوا  کہ جس میں فرمایا ہے!
جب کسی کو کسی رعایا کے امور کی باگ ڈور دی جاتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس قوم میں مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے تو اس نے خدا و رسول (ص) اور مؤمنین کے ساتھ خیانت کی۔
میرا خیال تو یہ ہے کہ عمر ابن خطاب نے نبی(ص) کی ایسی احادیث سنی تھیں۔ اور ان کا حیاتِ نبی(ص) میں ہی انکار کردیا تھا۔کیوں کہ ان سے مطمئن نہیں ہوتے تھے اور ان کے مقابلے میں اپنا اجتہاد شروع کردیا تھا۔
ہمیں ابو حفصہ کے لئے خود انھیں کی طرح ان کی جہالت کا اعتراف کرلینا چاہئے کیونکہ جب وہ بعض صحابہ سے بحث و مباحثہ میں زیر ہوجاتے تھے تو کہتے تھے اے عمر تمام لوگ تجھ  سے زیادہ جانتے ہیں جہاں تک حجلہ نشین عورتیں بھی تجھ سے زیادہ علم رکھتی ہیں۔ کبھی کہتے ” اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا” اور کبھی اظہار نادانی ان الفاظ میں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، احادیث نبی(ص) سے مجھے بازاروں کے کاموں نے بیگانا بنائے رکھا ۔ اور جب عمر حدیث سے بیگانوں کا سا رویہ اختیار کرکے بازاروں کے لہو و لعب میں مشغول رہتے تھے تو قرآن سے بھی ویسے ہی بے اعتنا رہتے ہوں گے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ مشہور حافظ ابی ابن کعب سے بھڑگئے اور ان کی قرائت کا انکار کر دیا اور کہنے لگے ہم نے تو آج سے پہلے یہ قرائت کسی سے نہیں سنی، ابی ابن کعب نے کہا جناب عمر ہمیں قرآن سے دلچسپی تھی جبکہ آپ بازاروں میں مشغول رہتے تھے۔ ( تاریخ ابن عساکر، ج۲، ص228، ایسے ہی حاکم نے مستدرک میں اور ابوداؤد نے سنن اور ابن اثیر نے جامع الاصول میں روایت کی ہے۔)
پس عمر تجارت و بازاروں کے لہو ولعب میں مشغول رہتے تھے اور اسے صحابہ میں ہر خاص و عام جانتا تھا خصوصا ان لوگوں سے تو یہ چیز قطعی طور پر مخفی نہیں تھی۔ جو کتابِ خدا اور حدیث رسول(ص) کے عارف تھے۔
اس لئے میرا عقیدہ ہے کہ عمر جہل مرکب میںمبتکا تھے۔ کیونکہ جو چیزیں مسلمانوں کے بچوں کو یاد تھیں وہ بھی عمر کو یاد نہیں تھیں جو ایک بچہ جانتا تھا وہ عمر نہیں جابتھ تھے اسی طرح ایک جانب علی(ع) ہیں جن کی عمر ابھی تیس ۳۰ سال نہیں ہے کتابِ خدا اور حدیث رسول(ص) کے سلسلہ میں ان کی رائے صحیح ہوتی ہے۔ ان کے بارے میں صحابہ کے سامنے عمر نے کہا ” اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا”
ایک مرتبہ مسجد کے آخری کونہ سے ایک عورت کھڑی ہوتی ہے اور تمام نمازیوں کےسامنے منبر پر بیٹھے ہوئے عمر پر عورتوں کے مہروں کے بارے میں احتجاج  کرتی ہے اور جب عمر سے جواب نہیں بن پڑتا تو کہتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ حجلہ نشین عورتیں فقہ جانتی ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ عمر نے اپنی جہالت کی پردہ پوشی اوراپنے موقف کے استحکام کے لئے جو کچھ کیا ہے اسے تواضع اور کسرِ نفسی کا نام نہیں دیا جاسکتا جیسا کہ آج بہت سے لوگ کہتے ہیں۔
بلکہ ان سے جہاں تک ہوسکتا تھا انھوں نے سنتِ نبی(ص) کو مٹایا اور کتابِ خدا اور سنتِ رسول (ص) کے خلاف اپنا اجتہاد کیا، عمر کی سوانح حیات کا محقق اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ اعلانِ رسالت کے بعد عمر گیارہ سال یا اس سے بھی کم نبی(ص) کے ساتھ رہے۔
اپنے متعلق وہ خود فرماتے ہیں۔
میں اور بنی امیہ میں سے میرے پڑوسی زید باری، باری رسول(ص) کے پاس جایا کرتے تھے۔ ایک روز زید اور ایک روز میں جاتا اور  وحی وغیرہ کی خبر لاتااور ایک روز زید جاتے تو وہ بھی وہی کام انجامدیتے تھے۔ (صحیح بخاری،ج1، کتاب العلم باالتناوت فی العلم)
عمر کا یہ قول خود بتاتا ہے کہ وہ رسول (ص) کی مسجد سے کہیں دور رہتے تھے اس لئے عمر نے اپنی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا ایک روز رسول(ص) کو دیکھنے جاتے اور ایک روز  شید جاتے تھے۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا ہ مسافت زیادہ ہونے کی بنا پر عمر زحمت برداشت نہیں کرتے تھے اور نہیں جاتے تھے۔ یا مسافت زیادہ نہں ہوتی تھی بلکہ عمر بازاروں میں تجارتی کاموں میں مشغول ہوجاتے تھے۔
اور جب ہم ابوموسی اشعری کے قضیہ میں، جو کہ پہلے بیان ہوچکا  ہے، عمر کے اس قول کا اضافہ کرتے ہیں کہ مجھے تجارت نے نبی(ص) کی خدمت سے ہٹاکر بازار میں بھیج دیا اور پھر  اس کے فورا بعد ابی ابن کعب کا قول ہمیں قرآن سے شغف تھا اور اے عمر تمھیں بازار سے دلچسپی تھی۔ تو ان چیزوں سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ عمر نے رسولص) کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزارا تھا۔
عمر اکثر رسول(ص) کے پاس سے غائب رہتے تھے یہاں تک ان عظیم مناسبتوں میں بھی غائب رہتے تھے ۔ جن میں سب مسلمان جمع ہوتے ہیں جیسے عید الفطر و عید الاضحی کیونکہ  عمر بعد میں ان لوگوں سے سوال کرتے تھے جنھیں ذکرِ خدا اور اقامتِ نماز سے تجارت باز نہیں رکھتی تھی۔ چنانچہ عمر پوچھتے تھے۔ رسول(ص) نے نماز عید الفطر و عید الاضحی میں کیا پڑھا تھا۔
مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب العیدین میں عبید اللہ ابن عبد اللہ ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ عمر نے ابو واقد اللیثی سے پوچھا رسول(ص) نے نمازِ عید الفطر و عید الاضحی میں کیا پڑھا تھا۔ انھوں نے کہا ” ق والقرآن المجید اور اقترب الساعۃ والنشق القمر” ( صحیح مسلم ، ج3، ص61، کتاب الصلاۃ باب ما یقرا بہ الصلوۃ لاعیدین)
خود ابو واقد اللیثی سے منقول ہے کہ انھوں نے کہا : مجھ سے عمر نے پوچھا کہ عید کے دن رسول (ص) نے کیا پڑھا تھا میں نے کہا ” اقترب الساعۃ اور ق والقرآن المجید” صحیح مسلم ، ج3، ص61، کتاب الصلوۃ )
عبید اللہ اور ابو واقد اللیثی کے قول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمر یہ نہیں جانتے تھے کہ نبی(ص) نے نماز عیدین میں کونسی  سورت پڑھی تھی اور ابی ابن کعب نے نیز عمر کے قول سے واضح ہوتا ہے کہ وہ قرآن نہیں سنتے تھے بلکہ خرید و فروخت کے لیے بازروں میںرہتے تھے اس کے باوجود ایسے فتوے تراشتے تھے جن سے آج تک علما متحیر ہیں مثلا جس مجنب کو پانی نہ ملے وہ نماز چھوڑدے اسی طرح تیمم کے احکام سے بھی ناواقف تھے۔ جبکہ قرآن و حدیث میں اس کے احکام بیان ہوچکے تھے۔ کلالہ کے احکام سے بھی جاہل تھے اور نہ جانے ایسے کتنے ہی متناقض فیصلے کرڈالے۔ اگر چہ قرآن مجید میں وہ بیان ہوچکے تھے اور حدیث میں ان کی تفصیل مذکور تھی لیکن عمر انھیں مرتے دم تک نہ سمجھ پائے( بیہقی نے اپنی سنن میں روایت کی ہے کہ عمر نے نبی(ص) سے بھائی کی موجودگی میںدادا کی میراث کےبارے میں معلوم کیا تو آپ نے فرمایا عمر  تم اس چیز کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ تم اس کے جاننے سے قبل مرجاؤ گے۔ ابنِ مسیب کہے ہیںعمر اس سے بے خبر ہی مرے۔)
اگرعمر اپنے دائرہ میں رہتے اور مسائل کو سیکھنے کی کوشش کرتے تو وہ ان کے اور تمام مسلمانوں کے حق میں بہتر ہوتا۔ لیکن انھیں انانیت نے گناہ کی طرف کھینچ لیا۔ اور انھوں نے خدا اور رسول(ص) کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دے دیا جیسے متعہ حج۔ و متعہ نساء اور مولفتہ القلوب کا حصہ اور جن چیزوں کو خدا اور اس کےرسول(ص) نے حرام قرار دیا تھا انھیں حلال قرار دے دیا،مثلا تین طلاق کو جائز کردیا اور مسلمانوں پر جاسوس چھوڑنا وغیرہ ( ملاحظہ فرمائیں شرف الدین صاحب کی النص والاجتہاد)
شاید یہی وجہ تھی جو عمر اور ان کےدوست ابوبکر پہلے دن رسول(ص) کی احادیث بیان کرنے پر پابندی لگارہے تھے۔ اس کی تدوین اور تحریر سے منع کرتے تھے۔ یہاں تک کہ دونوں نے صحابہ کی جمع کی ہوئی حدیثوں کو نذر آتش کردیا۔ احادیث کو جلا دینے میں ان کے تین فائدے تھے ایک علی(ع) اور اہل بیت(ع) کے ان فضائل و حقائق کا مٹانا جو رسول(ص) نے بیان فرمائے تھے ۔ دو تاکہ نصِ نبوی(ص) میں سے کوئی چیز ایسی نہ بچے جو ان کی سیاست کے خلاف اور احکام کے سلسلہ میں ان کے اجتہاد کے برعکس ہو۔ تین عمر ابن خطاب رسول(ص) کی چند ہی حدیثیں جانتے تھے۔
امام احمد ابن حنبل نے اپنی مسند میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ عمر اس بات میں متحیَر تھے کہ اگر نماز میں شک ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ ابن عباس سے کہا تم نے رسول اللہ(ص)  یا صحابہ  میں سے کسی سے سنا ہے کہ اگر کسی کو نماز میں شک ہوجائے تو وہ کیا کرے۔ ( مسند امام احمد ابن حنبل، ج1، ص190)
قسم خدا کی عمر ابن خطاب کا قضیہ ہی عجیب ہے وہ اپنی نماز بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے تھے بلکہ اس کے متعلق صحابہ کے بچے سے سوال کرتے تھے۔ حالانکہ یہ ایسا مسئلہ تھا۔ جسے عام مسلمان یہاں تک کہ ان پڑھ بھی جانتے ہیں اور اس سے زیادہ حیرت انگیز تو اہل سنت کا یہ قول ہے” کہ عمر صحابہ میں سب سے بڑے عالم تھے اگر صحابہ کے اعلم کی یہ کیفیت ہے تو  حسنِ ظن ہی ٹھیک ہے  حقیقت نہ پوچھئے۔
ہاں  تھوڑے احکام ان کے اجتہاد ات سے بچ گئے تھے وپ بھی اس لئے کہ ان سے خلافت کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ جیسے ابوموسی کااجازت طلب کرنے والا قضیہ یا ابی ابن کعب کا اس قرآئت سے استدلال جسے عمر نہیں جانتے تھے، لہذا یہاں عمر فخر کے ساتھ اعتراف کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں ہاں میں بازار کے کاموں میں الجھا رہتا تھا۔
لیکن علی(ع)  فرماتے ہیں:
 میں رسول (ص) کے پاس بطور خاص دو مرتبہ جاتا تھا۔
“ایک مرتبہ صبح او ر ایک مرتبہ شام میں۔”
یہ صبح و شام کی مجلس علی(ع) سے مخصوص تھی ۔ اس کے علاوہ علی(ع) ہمیشہ عام مجالس میں بھی شریک رہتے تھے۔
لوگوں میں سب سے زیادہ نبی(ص) کے نزدیک علی(ع) ہی تھے وہی سب سے زیادہ آپ سے متصل رہتے تھے اور پیدائش کے دن  ہی سے وہ رسول(ص) سے مخصوص تھے، رسول(ص) نے انھیں اپنی آغوش میں پالا  یہاں تک عنفوانِ شباب  آگیا تو علی(ع) آپ کے پیچھے پیچھے ایسے چلتے تھے جیسے اونٹ کا دودھ   پیتا بچہ اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے یہاں تک نزولِ وحی کے ؂وقت غارِ حراء میں بھی آپ کے ہمراہ رہتے تھے انھوں نے گہوارے ہی سے رسالت  کا دودھ  پیا  اور سنت نبوی(ص)  کے معارف سے سیراب ہوئے۔
سنت و حدیثِ رسول(ص) کے سلسلہ میں ان سے بہتر اور کون ہے؟ کیا ان کے علاوہ کوئی اور اس کا دعویدار ہوسکتاہے ۔ انصاف کرنے والے بتائیں؟
یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ علی(ع) اور ان کے شیعہ جو کہ ان کا اتباع کرتے ہیں وہی سنتِ محمدی(ص) کی علامت اور اس پر عمل کرنے والے ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ کسی اور کو سنتِ محمدی(ص) سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے نہ اس کی ہدایت اس طرف ہوئی ہے ہر چند وہ خود کو غفلت و تقلید کی بنا پر “اہل سنت” کہتے ہیں۔
اس چیز کو  ہم انشاء اللہ آیندہ وضاحت کے ساتھ پیش کریںگے۔
” ایمان لانے والو: اللہ سے ڈرو! اور سیدھی سیدھی بات کرو۔
اللہ تمھارے اعمال کی اصلاح کرے گا اور تمھارے گناہوں کو بخش دے گا اور جس نے اللہ اور اس کےرسول(ص) کی اطاعت کی اس نے عظیم کامیابی حاصل کی۔”( احزاب،70،71)

مزید  قرآن مجید کے نزول کی کیفیت

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.