سخت ترين مرحلہ!

0 0

عثمان کے روح فرسا دوران خلافت کے اختتام کے بعد شيعيان علي کے عروج کا زمانہ تھا، لوگوں کي ہجومي اور ازدحامي بيعت نے حضرت علي کو سرير راء سلطنت کيا اور زمام حکومت پ کے سپرد کي، جس کي منظر کشي خود امير المومنين نے يوں کي ہے ”‌لوگوں کا ازدحام مجھ پر ايسے ٹوٹ پڑا جيسے پياسے اونٹ کا غول گھاٹ پر ٹوٹ پڑتا ہے گويا ان کے چرواہے نے ان کو زاد اور بے مہار چھوڑ ديا ہو لگتا تھا کہ يہ بھيڑ مجھے يا ميرے کسي فرزند کو ختم کرڈالے گي-

  عثمان کے روح فرسا دوران خلافت کے اختتام کے بعد شيعيان علي کے عروج کا زمانہ تھا، لوگوں کي ہجومي اور ازدحامي بيعت نے حضرت علي کو سرير راء سلطنت کيا اور زمام حکومت پ کے سپرد کي، جس کي منظر کشي خود امير المومنين نے يوں کي ہے ”‌لوگوں کا ازدحام مجھ پر ايسے ٹوٹ پڑا جيسے پياسے اونٹ کا غول گھاٹ پر ٹوٹ پڑتا ہے گويا ان کے چرواہے نے ان کو زاد اور بے مہار چھوڑ ديا ہو لگتا تھا کہ يہ بھيڑ مجھے يا ميرے کسي فرزند کو ختم کرڈالے گي-

مگر اس محبت کا دکھاوا اس وقت بالکل بدل گيا جب بعض اصحاب نے حضرت علي سے گفتگو کي اور علي نے اپنا ارادہ ظاہر کيا کہ ہم قانون حکومت کو فرمان رسول کے مثل بنانا چاہتے ہيں يعني سب لوگ عطا و بخشش ميں مساوي ہيں اور کسي قسم کا امتياز نہيں رکھتے، اور يہ وہي کيفيت تھي جس کي بنياد عمر نے رکھي تھي اور يکسر بدل ڈالا تھا اور عثمان نے کر من و عن اس کي پيروي کي تھي خاص طور سے عثمان کے وہ اہلکار جو بداخلاقي کے شکار تھے ان کي معزولي (ايک اہم مسئلہ تھا) لہٰذا تنور جنگ بھڑک اٹھا اور حضرت کي خلافت کے خري لمحات تک جو تقريباً پانچ برسوں پر مشتمل تھا شعلہ ور رہا-

اور يہ پيس دينے والي جنگوں کي خليج، جمل و صفين کے دنوں تک باقي رہي اور ان جنگوں نے اکثريت کواپني لپيٹ ميں لے ليا حضرت کے مخلص اور صحيح عقيدے کے شيعہ صرف انگشت شمار ہي رہ گئے، صرف تھوڑے سے افراد کے سوا سب حالات کے تيز دھارے ميں بہہ گئے، اور حالات بہت ہي غير مساعد ہوگئے اور جو بچ گئے ان کي تعداد بہت زيادہ نہيں تھي جو اتباع و پيروي و اخلاص ميں کھرے اتريں، جنگ نے ان سب کو بدبيں کرديا تھا، جس کے سبب جنگ بندي کي پہلي دھوکہ باز واز پر ان لوگوں نے لبيک کہا (اور جنگ بند کردي) جب امير المومنين نے اس سازش کا پردہ چاک کر کے ان کو ان کے ارادوں سے باز رکھنا چاہا، تو ان لوگوں نے مخالفت کي اس حد پر قدم رکھ ديا تھا کہ حضرت علي کے قتل، يا دشمن کے سپرد کرنے کي دھمکي تک دے دي تھي، ان کي نيتوں کے پيش نظر عقب نشيني کے سوا کوئي چارہ نہيں تھا، کيا يہ لوگوں کے روگرداني کي انتہا نہ تھي-

کيونکہ انھوں نے واقعہ تحکيم کے سلسلہ ميں بہت جلد ندامت و خطا کا اظہار کيا تھا اور اکثريت کي بقاء پر اس امر کا علاج سوچا اور اپنے نفسوں سے کيئے وعدہ کي وفا چاہي يعني جنگ ميں واپسي، ان افراد کي گر گٹ کے مانند راء کي تبديلي، اس بات کي غماز ہے کہ يہ لوگ صاحبان بصيرت نہيں تھے اور نہ ہي حضرت علي کے شيعہ تھے بلکہ انھوں نے علي کي شيعيت کا خول چڑھا رکھا تھا اور ان کے عقيدوں ميں کسي قسم کي پختگي نہيں تھي اور ان کي يہ حرکتيں اجتہادي اصحاب کي راہ و روش کي مکمل پيروي تھي، جو اولي الامر حضرات کے حکم کي کھلم کھلا خلاف ورزي کرتے تھے اور اس اجتہادي اسلحہ کي ضرب اتني کاري تھي کہ ذات رسالت کے حکم کا انکار ممکن بنا ڈالا-

اس باغي گروہ کي سرکشي، مزيد پيچيدہ ہوگئي جب خود امير المومنين کواسي دو راہے پر لاکر کھڑا کر ديا کہ پ ان مخالفين سے جنگوں کا سلسلہ شروع کريں جنھوں نے کچھ علاقوں ميں فساد مچا رکھا تھا اور بے گناہوں کو قتل کيا تھا-

اور نتيجہ اس وقت زيادہ ہي جان ليوا ہوگيا کيونکہ اس جنگ نے پ کے چاہنے والوں کي قوت کو مضمحل کرديا اور روز بروز وہ سستي و تساہلي کے شکار ہونے لگے اور جہاد کي جانب امير المومنين کا رغبت دلانا بے سود ہوگيا، جو لوگ پ کے خاص شيعہ بچ رہے تھے ان کے ارادوں کے تجديد کي ضرورت تھي، اوراس وقت تو قيامت کبريٰ ٹوٹ پڑي جب ايک جہنمي نے پ کو عبادت کي حالت ميں محراب ميں شہيد کر ديا-

تاکہ خالص شيعہ کے تربيتي مرکز کو ختم کرسکيں اس سبب پ کے بڑے فرزند حضرت حسن مجتبيٰ کے پاس ان کے دور حکومت ميں قيام کے اس عظيم بوجھ کو اٹھانے کے لئے کوئي سہارا نہيں تھا-

صحيح اور راسخ عقيدوں کے مالک افراد کا بالکل فقدان تھا نيز بچے ہوئے افراد کي اکثريت نے بھي ساتھ چھوڑ دياتھا، لہٰذا حسن مجتبيٰ نے جب يہ درک کرليا کہ اس کيفيت ميں اور ان لوگوں کي ہمراہي ميں جنگ کو طول دينا معقول نہيں تو ان کے پاس معاويہ ابن ابي سفيان سے صلح کرنے کے سوا کوئي چارہ نہيں رہ گيا-

معاويہ کے زمام حکومت سنبھالنے کے سبب تشيع بہت ہي اختناقي دور ميں داخل ہوگئي، اب معاويہ نے شيعوں کو ظلم کي خر ي حدوں سے کچلنے اور انتقام کي صورت شروع کردي، اور شيعوں کے بہت تھوڑے سے افراد کے سوا کوئي نہيں بچا، معاويہ نے حجر بن عدي جيسے اور ان کے ساتھيوں کو تراش ڈالا اور قتل کر ڈالا، اپنے بيس سالہ دور حکومت ميں بقيہ افراد پر عرصہ حيات تنگ کرديا، اور اذيت کي تمام صورتوں کو ان پر روا جانا-

ابن ابي الحديد معتزلي نے مدائني کي ”‌الاحداث“ نامي کتاب سے يوں نقل کيا ہے کہ: معاويہ نے 41 ھ ء ميں اپنے اہلکاروں اور گماشتوں کو يہ لکھ بھيجا کہ ابوتراب اوران کے گھرانے کے جو فضائل ہيں ميں ان سے بَري و منکر ہوں، يہ پيغام پاتے ہي ہر شہر و گوشہ و کنار ميں ہر منبر پر زبان دراز خطيب چڑھ دوڑے اور علي اوران کي ل پاک پر لعن و طعن شروع کرديا، اس دوران سب سے زيادہ روح فرسا حالات سے اہل کوفہ گذر رہے تھے-

کيونکہ يہ پ کے شيعوں کا مرکز تھا، ان پر زياد بن سميہ کو مامور کرديا اور بصرہ کي حکومت کو اس سے ضم کرديا، اس نے شيعوں کي چھان بين شروع کردي يہ علي کے شيعوں سے بخوبي واقف تھا کيونکہ حضرت علي کے دور خلافت ميں ان لوگوں کے ساتھ رہ چکا تھا لہٰذا جس کو جہاں کہيں دشت و جبل ميں پايا موت کے گھاٹ اتار ديا، ان کو ڈرايا دھمکايا، ان کے ہاتھ پير کاٹ ديئے، نکھيں پھوڑ ديں، کھجوروں پر سولي دي، عراق سے نکال باہر کيا، اس وقت کوئي بھي سرشناس افراد ميں سے نہيں بچا-

معاويہ نے اپني حدود مملکت کے چار گوشوں ميں يہ لکھ بھيجا کہ مبادا ل علي اور محبان علي کي گواہي کو قبول کيا جائے، عثمان کے چاہنے والوں اور ان کے فدائيوں کو سرنکھوں پر بٹھاؤ، اور جو لوگ عثمان کے فضائل و مناقب کو بيان کرنے والے ہيں ان کو اپني مجلسوں کي زينت بناؤ ان کواہميت دو، انعام و اکرام سے نوازو، اور ان افراد کي فہرست باپ اور قبيلوں کے نام کے ساتھ ہم تک ارسال کرو يہ دھندا شروع ہوا اور دن ورات عثمان کے فضائل کي تخليق شروع ہوگئي، کيونکہ معاويہ نے اپنے اہلکاروں کو ب و دانہ خيمہ و چادر، خراج (کي معافي) اور عرب ميں اس کو اور اس کے خاندان والوں کو فوقيت کي لالچ دي تھي، لہٰذا ہر نگري ميں يہ بدعت شروع ہوگئي گھر اور گھر کے باہر اس بدعتي ندھي کي مبالغہ رائي شروع ہوگئي، اب کيا تھا معاويہ کے اہلکاروں ميں، جس کسي کا نام عثمان کے قصيدہ خوانوں کي فہرست ميں جاتا اس کي کايا پلٹ جاتي، اس کا نام مصاحبوں ميں شامل، تقرب و شفاعت ميں داخل، اور وہ سب اس ميں داخل ہوگئے-

مزید  اسلام داعی اعتدال و توازن ہے

اس کے بعد معاويہ نے دوسرا پلندہ تيار کيا اور اہلکاروں کو روانہ کيا کہ!، عثمان کے فضائل قرب و جوار شہر و ديہات ميں اٹے پڑے ہيں”‌بس“ جيسے ہي ميرا خط تم لوگوں کو ملے اصحاب اور گذشتہ دونوں خليفہ (ابوبکر و عمر) کے فضائل کے لئے لوگوں کو تيار کردو، اور کسي بھي شخص کو ابوتراب کي فضيلت ميں حديث نہ بيان کرنے دو، بلکہ اس حديث کو اصحاب کي شان ميں مڑھ دو، کيونکہ يہ فعل ميرے نزديک محبوب، ميري نکھوں کي ٹھنڈک، نيز ابوتراب اور ان کے شيعوں کو کچل دينے کا سامان ہے، معاويہ نے عثمان کي فضيلت و منقبت کے لئے ان لوگوں پر بہت زور ديا تھا-

اس کا يہ پلندا لوگوں کے سامنے پڑھا گيا جس کے سبب اصحاب کي فضيلت ميں فوراً سے پيشتر بہت ساري حديثيں تخليق کردي گئيں جن کي کوئي حقيقت نہيں تھي اور لوگوں نے اس ميں بڑھ چڑھ کر حصہ ليا، يہاں تک کہ اس مہم ميں منبروں کا دھڑلے سے استعمال کيا گيا، اور يہ ذمہ داري معلمين کے حوالے کردي گئي، انھوں نے ان کے بچوں اور نوجوانوں کو کافي مقدار ميں سکھايا اور قرن کي مانند اس کي روايت اور تعليم دي، حد يہ کہ ان کي لڑکيوں، عورتوں، خادموں اور ہرکاروں کو اس کي مکمل تعليم دي گئي، اور ان لوگوں نے اس ميں بڑھ چڑھ کر حصہ ليا-

اس کے بعد حدود مملکت کے تمام شہروں کے لئے صرف ايک تحرير لکھي: ”‌ديکھو جس کے بھي خلاف يہ ثبوت مل جائے کہ يہ علي اوراولاد علي کا چاہنے والا ہے اس کا نام دفتر سے کاٹ دو اور وظيفہ بند کردو“

اس کے ساتھ ايک ضميمہ بھي تھا ”‌جس کسي کو بھي ان سے ميل جول رکھتے پاؤ اس کي بيخ کني کردو اور اس کا گھر ڈھا دو“

اب اس سے زيادہ اور مشکل دور عراق ميں نہيں سکتا تھا خاص طور سے کوفہ ميں، حد يہ کہ اگر کسي شخص کے بارے ميں مطمئن ہونا چاہتے تھے کہ يہ علي کا شيعہ ہے يا نہيں؟ تو اس کے گھر ميں جاسوس کو چھوڑ ديتے تھے، وہ شخص اپنے غلام و خادم سے ڈرتا تھا جب تک اس سے مطمئن نہيں ہوجاتا تھا کسي قسم کے راز کي بات نہيں کرتا تھا-

من گڑھت حديثوں کي بھرمار اورالزامات کي بارش ہوگئي اوراس (جرم) ميں فقيہوں، قاضيوں اور اميروں کے ہاتھ رنگين تھے-

سب سے بڑي مصيبت تو يہ تھي کہ جو قاريان قرن اور رواويان حديث تھے اور وہ لوگ جو تقويٰ و زہد کا اظہار کرتے تھے، انھوں نے بھي حديث کي تخليق ميں خاطر خواہ حصہ ليا تاکہ امير شہر کي نگاہوں ميں باوقار اور ان کي نشستوں ميں مقرب، مال دو دولت کے حصہ دار اور مکانوں کے مالک بن جائيں، حد يہ کہ يہ خودساختہ حديثيں جب ان متدين افراد کے ہاتھوں پہنچيں جو جھوٹ اور بہتان کو حرام گردانتے تھے تو انھوں نے بے چوں و چرا ان کو قبول کرليں اوران کو حق اور سچ سمجھتے ہوئے دوسروں سے نقل بھي کيں، اگر وہ يہ جانتے کہ يہ باطل ہيں تو نہ ہي اس کو نقل کرتے اور نہ ہي اس کي حفاظت کرتے-

يہ سلسلہ حضرت حسن مجتبيٰ کي شہادت تک چلتا رہا، ان کے بعد تو فتنہ و بلا ميں اضافہ ہوتا گيا اور علي کے حاميوں ميں سے کوئي ايسا نہيں تھا جواپنے جان و مال اور شہر بدر ہونے سے خائف نہ ہو-

امام حسين کي شہادت کے بعد حالات نے دوسرا رخ اختيار کرليا اورعبد الملک بن مروان امير بنا اس نے شيعوں پر سختي شروع کردي اور حجاج بن يوسف ثقفي کو ان پر مسلط کرديا، بس کيا تھا زہد کے ڈھونگي، اصلاح ودين کے بہروپيئے، علي کے بغض اور دشمنان علي کي محبت، اور عوام ميں جو بھي يہ دعوي کرتا کہ ہم بھي علي کے دشمن ہيں ان سے دوستي کے سبب مقرب بارگاہ ہوگئے، اور شہ کي مصاحبي پر اترانے لگے، اس کے بعد خاندان بني اميہ کے گرگوں کي ثنا خواني، فضائل بياني اور ياد ماضي کي روايتوں ميں اضافہ شروع ہوگيا، دوسري طرف حضرت علي کي ہجو، عيب تراشي اور طعن و تشنيع کا دروازہ کھلا رہا-

ايک شخص حجاج بن يوسف کے سامنے کے کھڑا ہوا، کہا جاتا ہے کہ اصمعي عبد الملک بن قريب کا دادا تھا، وہ چيخا، اے امير! ميرے گھر والوں نے مجھے چھوڑ ديا ہے او رمجھے علي کہہ کر پکارتے ہيں ميں مجبور و لاچار شخص ہوں، ميں امير کي عنايتوں کا محتاج ہوں، حجاج اس پر بہت ہنسا اور بولا کہ: تمہارے اس توسل حاصل کرنے کے لطف ميں تم کو فلاں جگہ کا حاکم بناتا ہوں-

ابن عرفہ جو کہ نقطويہ کے نام سے مشہور ہيں اور بزرگ محدثين ميں ان کا شمار ہوتا ہے اس خبر سے متعلق تاريخ کے حوالے سے کہتے ہيں کہ: اصحاب کي شان ميں گڑھي جانے والي اکثر حديثيں بني اميہ کے دور حکومت کي ہيں ان کي خوشنودي حاصل کرنے کے لئے تخليق کي گئيں ہيں کيونکہ فرزندان اميہ يہ سونچ رہے تھے کہ اس کے سبب بني ہاشم کو ذليل کرديں گے-

جيسا کہ ابن ابي الحديد نے دوسري روايت حضرت امام باقر سے روايت کي ہے: جواسي معني کي ژاسي کرتي ہے، پ نے اپنے کچھ اصحاب کو مخاطب کر کے فرمايا: اے فلاں! قريش نے ہم پر کيا کيا مصيبتيں نہيں ڈھائيں اور ہمارے شيعوں نے کيسے کيسے ظلم نہيں برداشت کئے-

لوگوں سے رسول اللہ نے قبض روح کے وقت فرمايا تھا: ”‌ہم (اہل بيت) لوگوں ميں سب سے برتر ہيں“ قريش نے ہم سے روگرداني کرلي يہاں تک کہ خلافت اپنے محور سے ہٹ گئي اور انصار کے مقابل ہمارے حق و حجت پر احتجاج کيا، اس کے بعد قريش ايک کے بعد دوسرے کي طرف اس کو لڑھ کاتے رہے يہاں تک کہ ايک بار پھر ہم تک واپس ئي پھر ہماري بيعت توڑ دي گئي، ہمارے خلاف علم جنگ بلند کرديا گيا اور اس خلافت کا مالک و پيشوا مشکلات و پريشانيوں ميں گھٹتا رہا يہاں تک کہ شہادت اس کا مقدر بن گئي، پھر ان کے فرزند حسن کي بيعت کي گئي اور عہد و پيمان کئے گئے ليکن ان کے ساتھ عہد شکني کي اور ان کو تسليم کراديا گيا-

اہل عراق نے ان کے خلاف بغاوت کي اور خنجر کا وار کيا، ان کا لشکر تتر بتر ہوگيا، ان کي اولاد کي ماؤوں کے زيورات چھين لئے گئے-

مزید  عالمی استعمار اور عالمی دہشت گردی کے مابین چوہے بلی کا کھیل

جب معاويہ سے صلح کي تو حسن اور ان کے فرزندوں کا خون محفوظ ہوا، ان کي تعداد بہت ہي کم تھي اس کے بعد اہل عراق نے حسين کي بيس ہزار کي تعداد ميں بيعت کي، ليکن اپني بيعتوں سے منحرف ہوگئے اوران کے خلاف نکل پڑے جب کہ ان کي گردنوں ميں حسين کي بيعت کا قلادہ پڑا تھا-

پھر بھي حسين کو شہيد کرڈالا اس کے بعد ہم اہلبيت ہميشہ پستے رہے اور رسوا ہوتے رہے ہم دور، امتحان ميں مبتلا، محروم و مقتول، خوف زدہ، ہمارا اور ہمارے محبوں کا خون محفوظ نہيں رہا، دروغ بافوں اور ملحدوں نے جھوٹ اورالحاد کے سبب اپنے اميروں، شہر کے بدکردار قاضيوں اور بد دين اہلکاروں کي قربت حاصل کي، انھوں نے جھوٹي اور من گڑھت حديثوں کا جال بنا، او رہماري طرف ان چيزوں کي نسبت دي جن کو نہ ہم نے کہا تھا اور نہ ہي انجام ديا تھا يہ سب، صرف لوگوں کو ہمارا دشمن بنانے کے لئے کيا گيا، اور سب سے بڑا اور برا وقت حسن مجتبي کي شہادت کے بعد معاويہ کے دور خلافت ميں يا تھا، ہر شہر ميں ہمارے شيعہ قتل کئے جارہے تھے، صرف گمان کے سبب ان کے ہاتھ پير کاٹ ديئے گئے! جو کوئي بھي ہماري محبت يا تعلقات کا اظہار کرتا اس کو يا قيد کرديتے يا اس کا مال لوٹ ليتے يا اس کا گھر ويران کرديتے، يہ کيفيت روز بروز بڑھتي گئي يہاں تک کہ قاتل حسين، عبيد اللہ بن زياد کا زمانہ يا ، اس کے بعد حجاج يا اس نے ہر طرف موت کا بازار گرم کرديا، ہر گمان و شک کي بنياد پر گرفتار کرا ليتا (زمانہ ايسا تھا کہ) اگر ايک شخص کو زنديق و کافر کہتے تو برداشت کرليتا بجائے اس کے کہ اس کوعلي کا شيعہ کہا جائے، حد يہ کہ وہ شخص جو کہ مستقل ذکر الٰہي کرتا تھا شايد سچا تقويٰ ہو، مگر وہ عجيب و غريب حديثوں کو گذشتہ حاکموں کي فضيلت ميں بيان کرتا تھا جب کہ خدا نے ان ميں سے کسي ايک شيء کو خلق نہيں کيا تھا، اور نہ وجود ميں ئي تھي وہ لوگوں کي کثرت روايت کو سبب حق سمجھتا تھا اور نہ ہي جھوٹ کا گمان تھا اور نہ ہي تقويٰ کي-

يہ دونوں عظيم اور بھروسہ مند عبارتيں بني اميہ کے دوران حکومت ميں شيعوں کي حقيقي کيفيت کي ژاس ہيں، جبکہ اموي حکومت سوا سو سال (125) پر محيط ہے، ليکن عباسي حکام نے ل محمد کي رضا کا ڈھونگ رچايا تھا اور ان کے فرزندوں کے دعويدار بن کر اموي حکومت کا تختہ پلٹ کر انقلاب لانا چاہا تھا ليکن انھوں نے چچازاد بھائي ہونے کے باوجود اہلبيت کے ساتھ غداري کي-

ہر چند کہ اموي عہد کے خري ايام اور عباسي حکومت کے ابتدائي دنوں ميں اہلبيت اور ان کے شيعوں کے لئے تھوڑا سکون کا سانس لينے کا موقع ملا تھا، مگر عباسي خلفاء اس جانب بہت جلد متوجہ ہوگئے، خاص طور سے منصور کے زمانے ميں تشيع کي مقبوليت اہلبيت کے گرد حلقہ بنانے کے سبب تھي اور جب انھوں نے يہ محسوس کيا تو ابتدائي شعار کي خول اتار ديئے اور اموي ظالم و جابر حکومت کہ جس کو ظلم کے سبب ختم کيا تھا اس سے گے نکل گئے اہلبيت اور ان کے شيعوں پر سختي شروع کردي، جس کے سبب گرد و نواح سے انقلاب کي واز اٹھنے لگي جس ميں علوي سادات کرام شريک کار تھے جن ميں سے محمد بن عبد اللہ بن حسن بن علي ملقّب بہ نفس ذکيہ پيش پيش تھے جنھوں نے عباسي خليفہ منصور کے نام ايک خط روانہ کيا تھا جس ميں اس بات کا اشارہ تھا کہ تم لوگوں نے اہلبيت سے قربت ثابت کر کے اموي حکومت کيسے ہتھيايا ہے اور حکومت ہاتھ تے ہي ان کو برطرف کرديا، وہ کہتے ہيں کہ حق يہ ہے کہ يہ ہمارا حق ہے، تم نے اس کو ہمارے واسطہ سے حاصل کيا ہے اور ہمارے شيعوں کي مدد سے تم نے خروج کيا تھا ہماري فضيلت کے سبب اس کے حصہ دار بنے ہو، ہمارے باپ علي (ابن ابي طالب) وصي اور امام تھے ان کي اولادوں کے ہوتے ہوئے تم اس (خلافت) کے وارث کيوں کر بن بيٹھے، تم اس بات کو بخوبي جانتے ہو کہ اس کا حقدار ہمارے سوا کوئي نہيں کيونکہ حسب و نسب اور اجدادي شرف ميں کوئي ايک بھي ہمارے ہم پلہ نہيں-

ہم نہ ہي فرزندان لعنت خوردہ، نہ ہي شہر بدر اور نہ ہي زاد شدہ ہيں، بني ہاشم ميں قرابت داري کے لحاظ سے ہم سے بہتر نہيں جو قرابت سابقہ اسلامي اور فضل ميں بہتر ہو، اللہ نے ہم ميں سے اور ہم کو چنا ہے، محمد ہمارے باپ اور نبيوں ميں سے تھے، اور اسلاف ميں علي اول مسلمين ہيں، نبي کي ازواج ميں سب سے افضل خديجہ طاہرہ تھيں جنھوں نے سب سے پہلے قبلہ رخ ہوکر نماز ادا کي، رسول کي نيک دختر حضرت فاطمہ زہرا تھيں جو خواتين بہشت کي سردار ہيں، اسلام کے دو شريف مولود حسن و حسين جوانان جنت کے سردار ہيں-

جب منصور نفس ذکيہ کو گرفتار نہ کرسکا تو اس نے کينہ کے تيروں کا رخ ان کے خاندان اور اہل قبيلہ کي جانب کردي، منصور نے ان کے ساتھ جو برتاؤ کيا اس کو جاحظ نے يوں نقل کيا ہے:

منصور فرزندان حسن مجتبيٰ کو کوفہ لے گيا اور وہاں لے جا کر قصر ابن ہبيرہ ميں قيد کرديا اور محمد بن ابراہيم بن حسن کو بلاکر کھڑا کيا او ران کے گرد ديوار چنوا دي او راسي حال ميں چھوڑ ديا يہاں تک وہ بھوک و پياس کي شدت کے سبب جان بحق ہوگئے اس کے بعد ان کے ساتھ جو فرزندان حسن تھے ان ميں سے اکثر کو قتل کرديا-

ابراہيم ا لفہر بن حسن بن حسن بن علي ابن ابي طالب کو زنجيروں ميںجکڑ کر مدينہ سے انبار لے جايا گيا، اور وہ اپنے بھائيوں، عبد اللہ اور حسن سے کہہ رہے تھے کہ ہم بني اميہ کے خاتمہ کي تمنا کر رہے تھے اور بني عباس کي مد پر خوش ہو رہے تھے اگر ايسا نہ ہوتا تو ج ہم اس حال ميں نہ ہوتے جس ميں اس وقت ہيں-

نفس ذکيہ کے انقلاب کو کچل دينے کے بعد اور مدينہ ميں ان کے قتل اور ان کے بھائي ابراہيم بن عبداللہ کے قتل کے بعد ”‌جنھوں نے بصرہ ميں قيام کيا تھا اور کوفہ کے نزديک باضري نامي مقام پر جاں بحق ہوئے تھے“ جس کو لوگ بدر صغريٰ بھي کہتے تھے-

عباسي حکام کے خلاف انقلابات بپا ہوتے رہے ، محمد بن جعفر منصور کے زمانے ميں علي بن عباس بن حسن بن حسن بن علي ظھ نے قيام کيا، ليکن اس علوي انقلابي کو دستگير کرنے ميں کامياب ہوگيا، حسن بن علي کي سفارش پر ان کو زاد کرديا ليکن شہد کے شربت ميں زہر ديديا گيا جس نے اپنا کام کرديا، چند دن نہيں بيتے تھے کہ وہ مدينہ کي طرف چل پڑے ليکن ان کے جسم کا گوشت جابجا سے پھٹ گيا تھا اور اعضائے بدن جدا ہوگئے تھے اور مدينہ ميں پہنچ کر تين دن بعد انتقال ہوگيا-

موسي ہادي خليفہ کے زمانے ميں حسين بن علي بن حسن بن حسن بن علي ابن ابي طالب ظھ نے قيام کيا او ران کا يہ قيام فخ نامي مقام پر ان کے قتل کے ساتھ ختم ہوگيا، وہ شہيد فخ کے نام سے مشہور ہيں،ہادي کے بعد جب رشيد حاکم ہوا تو اس نے يحييٰ بن عبد اللہ بن حسن کو گرفتار کراکر زندہ ديوار ميں چنوا ديا-

مزید  ماہ خدا کی آمد ابنا کے قارئین پر مبارک باد

جب مامون نے حکومت سنبھالي تو علويوں سے محبت کا دکھاوا کيا اور علي بن موسيٰ الرضا کو بلاکر جبراً ولي عہدي دي اس کے بعد زہر دے کر شہيد کرا ديا-

عباسي حکمرانوں کي عادات قبيحہ جڑ پکڑ گئيں اور ائمہ عليہم السلام کو اس کا نشانہ بنايا اور زندہ و مردہ سب پر ظلم کيا-

چنانچہ متوکل نے قبر امام حسين پر ہل چلوا ديئے اور پاني بھروا ديا اور لوگوں کو پ کي زيارت سے منع کرديا بلکہ مسلح افراد کے ذريعہ ناکہ بندي کرادي کہ کوئي شخص بھي امام حسين کي زيارت کو نہ جائے اور اگر جائے تو فوراً اس کو گرفتار کر ليا جائے-

متوکل نے اہلبيت کے خلاف قيد و بند کي سياست اختيار کي، عمر بن الفرج کو مکہ و مدينہ کا مختار کل بناديا، اور فرزندان ابوطالب پر کڑا پہرہ بٹھا ديا کہ يہ لوگوں سے ميل جول نہيں رکھ سکتے اور لوگوں پر پابندي لگادي تھي کہ ان کے ساتھ حسن رفتار نہ کريں اور کوئي اس وقت ايک شخص بھي کسي قسم کي معمولي سي بھي ان کي اطاعت نہيں کرسکتا تھا، مگر يہ کہ سختي جھيلے اور نقصان اٹھائے، بلکہ انتہا يہ تھي کہ سيدانيوں کي ايک جماعت کے پاس صرف ايک پيراہن ہوتا تھا جن ميں باري باري نماز ادا کرتي تھيں اس کے بعد اس پر پيوند لگا تي تھيں اور چرخہ کے پاس سر برہنہ بيٹھ جاتي تھيں-

جب مستعين باللہ حاکم ہوا تو اس نے يحييٰ ابن عمر بن حسين کو قتل کرديا، جن کے بارے ميں ابوالفرج اصفہاني نے کہا ہے کہ: وہ بہادر، دلير، قوي الجثہ، نڈر، جواني کي غلطيوں سے پاک شخص تھا اس کا مثل نہيں مل سکتا، جب ان کا سر بغداد ميں لايا گيا تو اہل بغداد مستعين کے خلاف چيخنے لگے، ابوحاتم علي بن عبد اللہ بن طاہر داخل ہوئے اور کہا کہ: اے امير! ميں تجھے اس شخص کي موت پر مبارکباد پيش کرتا ہوں کہ اگر رسول خدا زندہ ہوتے تو ان کو اس حوالے سے تعزيت پيش کرتا، يحييٰ کے دوستوں کو قيدي بنا کر بغداد ميں لايا گيا، اس سے قبل کسي اسير و قيدي کارواں کو اس بدحالي اور بگڑي کيفيت ميں نہيں ديکھا گيا تھا، وہ لوگ ننگے پير زبردستي پھرائے جارہے تھے اگر ان ميں سے کوئي پيچھے رہ جاتا تواس کي گردن اڑادي جاتي تھي-

کئي صدي تک شيعوں نے چين کا سانس نہيں ليا، مگر جب بہائي حکمراں کا دور 320ھء ميں يا اور انھوں نے بعض اسلامي ممالک کي باگ ڈور سنبھالي تو سکون ملا، يہ اخلاق کے بہت اچھے تھے، انھيں کے دور حکومت ميں شيعي ثقافت نے نمو پائي، يہاں تک سلجوقيوں کا دور يا اور وہ 447ھء ميں بغداد کے حکمراں بن گئے ان کا سردار طغرل بيگ تھا اس نے شيعہ کتب خانہ کو نذر تش کا حکم دے ديا اور شيعوں کے مرجع شيخ طوسي جس کرسي پر بيٹھ کر درس ديا کرتے تھے، اس کو بھي جلوايا، اس کتب خانہ کو بھي نذر تش کرديا ،جسے ”‌ابونصر سابور بن اردشير “نے مرتب کيا تھا جو بہاء الدولہ البويھي کے وزير تھے، وہ وقت بغداد ميںعلم کا دور تھا، اس وزير جليل نے کرخ ميں اہل شام کے محلہ ميں 381ھ ء ميں ہارون کے بيت الحکمہ کي مانند اس کتب خانہ کو بنايا تھا يہ بہت اہميت کا حامل کتب خانہ تھا، اس وزير نے اس ميں ايران و عراق کي ساري کتابيں جمع کردي تھيں، اہل ہند، چين، روم کے مولفين کي کتابوں کو جمع کرديا تھا ان کي تعداد تقريباً دس ہزار تھي جو عظيم ثار اور اہم سفر ناموں پر مشتمل تھي، اس ميں موجود اکثر کتابيں مولف کي ہاتھوں کي لکھي ہوئي اصل خط ميں تھيں، ان کتب ميں ابن مقلة کے ہاتھوں کا لکھا مصحف بھي تھا-

ياقوت حموي اس کتاب خانہ کي تعريف ميں کہتا ہے کہ: پوري دنيا ميں اس سے بہتر کتابيں نہيں تھيں اس کي ساري کتابيں معتبر ذمہ داروں کے خط اوراصول تحرير پر مشتمل تھيں-

خلافت عثمانيہ (ترکيہ) کے زمانے ميں بھي شيعوں پر کچھ کم مظالم نہيں ڈھائے گئے، سليم عثماني بادشاہ کے، کان خبر چينوں نے بھر ديئے کہ پ کي رعايا ميں مذہب شيعيت پھيل رہي ہے اور بعض افراد اس سے منسلک ہو رہے ہيں، سليم عثماني نے ان تمام افراد کو قتل کا حکم صادر کرديا جو اس مذہب شيعہ ميں شامل ہو رہے تھے- اس وقت تقريباً چاليس ہزار افراد کا قتل عام کيا گيا-

شيخ الاسلام نے فتوي ديا کہ ان شيعوں کے قتل پر اجرت ملے گي اور شيعوں کے خلاف جو جنگ کو ہوا دے گا اس کو بھي انعام ديا جائے گا

ايک شخص نے شيخ نوح حنفي سے شيعوں کے قتل اور جنگ کے جواز کا مسئلہ پوچھا تھا اس کے جواب کے تحت شہر حلب ميں ہزاروں لوگوں کو قتل کرديا گيا، اس خود باختہ مفتي نے اس کے جواب ميں لکھا کہ: خدا تمہارا بھلا کرے تم جان لو کہ وہ (شيعہ) لوگ کافر، باغي، فاجر ہيں، ايک قسم کے کفار باغي، دشمنان خدا، فاسقين، زنديق و ملحدين جمع ہوگئے ہيں-

جو شخص ان کے کفر و الحاد اور ان کے قتل کے وجوب و جواز ميں ڈانواں ڈول ہو، وہ بھي انھيں کے مثل کافر ہے، گے کہتا ہے کہ: ان اشرار کفار کا قتل واجب ہے، چاہے توبہ کريں يا نہ کريں، ان کے بچوں اور ان کي عورتوں کو کنيز بنانے کا حکم ہے-

يہ تو تاريخ ميں سے بہت کم ہے جس کو شيعيت نے تاريخ کي مشکلات و پريشانيوں کو جھيلا ہے، ہم نے صرف بطور اختصار پيش کيا ہے ان اسباب سے پردہ اٹھانے کے لئے جس کا بعض حکومتيں دفاع کرتي ہيں اور جو لوگ شيعيت کے چہرے کو خاطر خواہ لبادہ ميں لپيٹ کر لوگوں کے سامنے پيش کرنا چاہتے ہيں اس لئے کہ شيعيت ہميشہ تاريخ کے ظالم و جابر بادشاہوں کي نکھوں ميں کانٹے کي طرح کھٹکتي رہي ہے، جيسا کہ انھوں نے ہم کو ايسے فکر ي مقدمات فراہم کئے کہ شيعہ کئي حصوں ميں تقسيم ہو جائيں، ظاہر سي بات ہے ان اقدامات کے تحت بہت سارے لوگ اندھيرے ميں رہ گئے او روہ اقدامات و اسباب جو انحراف کي نشو و نما کے لئے اس ميں داخل کئے گئے تھے تاکہ لوگ اصلي خط شيعيت سے منحرف ہو جائيں، بعض اسباب کے تحت منحرفين اور وسواسي لوگ صفوف شيعہ ميں داخل ہوگئے اور بعض نے فاسد عقائد کا اظہار اور باطل نظريات کواس سے ضم کرديا تاکہ شيعيت کا حقيقي چہرہ لوگوں کے سامنے بدنام ہو جائے-

جو ظالم حکمرانوں کے لئے ايک موقع تھا اور اس اصلي انقلابي اسلامي تحريک کے خلاف ان ظالموں کي مدد تھي، يہ اسلامي خط اس دين کا محافظ تھا جس کو رسول عربي لے کر ئے تھے اور اہل بيت کرام کو ا سکي حفاظت پر مامور کيا تھا جو کہ رسول کے بقول قرن کے ہم پلہ تھے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.