زمین کے حقیقی وارث

0 1

اس مضمون کا مرکزی نقطہ “مہدویت اور انسان کا مستقبل” ہے۔ جیسا کہ واضح ہے کہ ہماری یہ بحث ایک طرف ہستی شناسی اور جہان ۰۰۰۰

“مہدویت اور انسانی مستقبل” کے عنوان سے آیت اللہ جوادی آملی کی تقریر کا ایک حصہ۔ 

اس مضمون کا مرکزی نقطہ “مہدویت اور انسان کا مستقبل” ہے۔ جیسا کہ واضح ہے کہ ہماری یہ بحث ایک طرف ہستی شناسی اور جہان بینی الہی سے مربوط ہے اور دوسری طرف انسان شناسی سے۔ ایسا شخص جو اس کائنات کیلئے کسی آغاز کا قائل نہیں ہے اور “ان ھی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا و ما نحن بمبعوثین” (مومنون/37) [اس دنیوی زندگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، ہم مرتے ہیں اور زندہ ہوتے ہیں، اور ہم مبعوث نہیں کئے جائیں گے] کے تحت سوچتا ہے یا اسکی سوچ کا محور “و قالوا ما ھی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا و ما یھلکنا الا الدھر و ما لہم بذلک من علم ان ھم الا یظنون” (جاثیہ/24) [اس دنیوی زندگی کے علاوہ کچھ نہیں، ہم زندہ 

” وہ شخص جو انسان کے بارے میں ڈاروین کے نظریئے تک پستی کا شکار ہو جاتا ہے معلوم نہیں کہ انسان کے مستقبل کیلئے کس وادی میں سقوط کر جائے۔ نہ وہ ملحد شخص کائنات کے آغاز اور انجام کے بارے میں کہنے کیلئے کچھ رکھتا ہے اور نہ یہ مادہ پرست شخص۔ “

ہوتے ہیں اور مرتے ہیں، زمانے اور دنیا کے علاوہ ہمیں کوئی نہیں مارتا، انہیں اس بارے میں علم نہیں ہے، وہ صرف حدس و گمان رکھتے ہیں] ہے، وہ نہ تو اس کائنات کے آغاز کیلئے ایک واضح اور ٹھوس قانون پیش کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کے سرانجام کیلئے ایک معقول اور قابل قبول نظر دے سکتا ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو انسان کے بارے میں ڈاروین کے نظریئے تک پستی کا شکار ہو جاتا ہے معلوم نہیں کہ انسان کے مستقبل کیلئے کس وادی میں سقوط کر جائے۔ نہ وہ ملحد شخص کائنات کے آغاز اور انجام کے بارے میں کہنے کیلئے کچھ رکھتا ہے اور نہ یہ مادہ پرست شخص۔ 

وحی کے ذریعے حاصل کی گئی معرفت اور علم ہی کامل ترین ہے۔ ایسے افراد جو حواس خمسہ اور تجربے کے ذریعے علم اور معرفت حاصل کرتے ہیں وہ علم و معرفت کی سیڑھی کے پہلے زینہ پر ہیں۔ اس سے اگلا درجہ عقل کے ذریعے حاصل کئے گئے علم کا ہے جو عرفان اور شہود کے ذریعے حاصل کئے گئے علم سے ایک درجہ نیچے ہے۔ سب سے زیادہ درجہ ایسے علم و معرفت کا ہے جو وحی الہی کے ذریعے حاصل ہوا ہو۔ یہ وہ علم و معرفت ہے جو انبیاء علیھم السلام کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔ اگر کوئی شخص وحی سے منہ موڑ لے تو وہ نہ کائنات کے بارے میں کوئی بات کر سکتا ہے اور نہ انسان کے بارے میں۔ لہذا مہدویت اور انسان کے مستقبل کے بارے میں جاننے کا بہترین راستہ بھی وحی کا راستہ ہے۔ وحی کے ذریعے انسان 

مزید  انتسویں پارے کا مختصر جائزه

” وحی کے ذریعے حاصل کی گئی معرفت اور علم ہی کامل ترین ہے۔ “

تک پہنچنے والی تعلیمات میں سے سب سے زیادہ قابل اعتماد اور ہر قسم کی تحریف سے عاری تعلیمات قرآن کریم کی صورت میں موجود ہیں۔ 

قرآن کریم میں کائنات اور انسان کی پیدائش اور حالات کے بارے میں متعدد آیات موجود ہیں۔ ہم ان میں سے ایسی آیات کو چنیں گے جو انسان اور کائنات کے مستقبل سے مربوط ہیں۔ خداوند عالم سورہ مریم کی آیت 40 میں فرماتا ہے “انا نحن نرث الارض و من علیھا و الینا یرجعون” [زمین اور جو کچھ بھی اس پر ہے ہماری میراث ہے اور سب کی بازگشت ہماری طرف ہے]۔ قیامت کے دن عدل الہی ظاہر ہو جائے گا اور ہر چیز اور شخص اپنے خاص مقام تک پہنچا دیا جائے گا۔ کچھ افراد “وامتازوا الیوم ایھا المجرمون” (یس/59) [جدا ہو جاو اے مجرمو] کا مصداق بن جائیں گے اور کچھ افراد “الذین یرثون الفردوس ھم فیھا خالدون” (مومنون/11) [وہ جو بہشت کو وراثت میں پائیں گے اور ہمیشہ وہاں رہیں گے] کے زمرے میں آئیں گے۔ 

یہ تمام 

” وحی کے ذریعے انسان تک پہنچنے والی تعلیمات میں سے سب سے زیادہ قابل اعتماد اور ہر قسم کی تحریف سے عاری تعلیمات قرآن کریم کی صورت میں موجود ہیں۔ “

آیات آخرت کے بارے میں ہیں اور ظاہر کرتی ہیں کہ جنت کے حقیقی وارث مومنین ہیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ زمین کے حقیقی وارث کون لوگ ہیں۔ ورثاء کی ایک قسم ان لوگوں کی ہے جن کے پاس زمین عارضی طور پر ہے۔ وہ اس آیہ کریمہ کے مصداق ہیں جو فرماتی ہے “۔۔۔۔و تلک الایام نداولھا بین الناس و لیعلم اللہ الذین آمنوا و یتخذ منکم شہداء ۔۔۔۔” (آلعمران/140) [اور ہم ان دنوں کو لوگوں کے درمیان چرخاتے رہتے ہیں تاکہ خدا باایمان افراد کو جان لے اور تم میں سے گواہ بنا لے]۔ ورثاء کی دوسری قسم ان افراد کی ہے جو اس آیہ کریمہ میں ذکر ہوئے ہیں۔ “و اورثکم ارضھم و دیارھم و اموالھم و ارضاً لم تطئوھا۔۔۔” (احزاب/27) [ہم نے ان کی زمینیں اور گھر اور اموال تمہارے اختیار میں دے دیئے]۔ 

مزید  باہمي تعلقات پر غصے کے اثرات

ہماری بحث ان افراد کے بارے میں ہے جو اس زمین کے عارضی وارث نہیں ہیں بلکہ حقیقی وارث ہیں۔ یعنی خدا ان کو اس زمین کا ہمیشگی مالک اور وارث بنا دے گا۔ اس زمین پر ان کی حکومت ہمیشہ قائم رہے گی۔ خداوند سبحان فرماتا ہے “۔۔۔ان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ۔۔” (اعراف/128) [زمین خدا کی ہے، اور وہ اپنے بندوں میں سے جس کو 

” خدا کی طرف سے زمین کا عطا کرنا مومنین کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ کفار کو بھی عطا کر سکتا ہے۔ لیکن خدا نے صرف مومنین سے یہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں زمین ورثہ میں دے گا۔ “

چاہے اس کے سپرد کرتا ہے]۔ البتہ خدا کا کسی کو زمین کا عطا کرنا اور ورثہ میں دینے میں فرق ہے۔ خدا کی طرف سے زمین کا عطا کرنا مومنین کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ کفار کو بھی عطا کر سکتا ہے۔ لیکن خدا نے صرف مومنین سے یہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں زمین ورثہ میں دے گا۔ کیونکہ خدا کی عطا عارضی ہے لیکن ورثہ میں دینا ہمیشگی ہے۔ 

ارث میں تعلق کو دیکھا جاتا ہے۔ انسان اور خدا کے درمیان جو تعلق قرآن میں بیان ہوا ہے وہ “خلافت” ہے۔ جو بھی خلیفۃ اللہ کے مقام پر فائز ہو گیا وہ خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں بھی کامیاب ہو جائے گا۔ اگر خداوند انسان کیلئے آزادی کا قائل ہے تو وہ اسکی کرامت کی خاطر ہے اور اگر خداوند انسان کیلئے کرامت کا قائل ہے تو وہ اسکی خلافت کی خاطر ہے۔ یعنی وہ انسان آزاد اور محترم ہے جو کریم ہو اور وہ انسان کریم ہے جو خلیفۃ اللہ کے مقام پر فائز ہو چکا ہو۔ 

مزید  آخری پیغام

خلیفۃ اللہ کے مقام پر فائز ہونے کا راستہ کیا ہے؟۔ ایسا شخص جو اپنی بات کرتا ہے یا مشرق و مغرب کے فلسفے جھاڑتا ہے وہ خلافت الہی کا غاصب ہے نہ وارث۔ ایسا شخص آزاد اور محترم نہیں ہے بلکہ خواہشات نفس کا اسیر ہے۔ خداوند عالم فرماتا ہے “کل نفس بما کسبت رھینہ 

” امام علی ابن ابیطالب علیہ السلام عالم بشریت کی تاریخ میں اہم موڑ کو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور اور وجود کو بیان فرماتے ہیں۔ “

الا اصحاب الیمین” (مدثر/38،39) [ہر کوئی اپنے اعمال کا گروی ہے مگر اصحاب یمین]۔ اصحاب یمین وہ افراد ہیں جو آزاد ہیں اور گروی نہیں ہیں۔ 

اگر کوئی شخص خلیفۃ اللہ کے مقام پر فائز ہو گیا تو وہ خدا کا حقیقی وارث ہے اور زمین کا مالک اور حاکم ہے۔ وہ ایسا شخص ہے جو خدا کی بات، خدا کا دین، خدا کا حکم اور اسکی روش کو زمین پر جاری کرے گا۔ وہ ایسا شخص ہے جس کے بارے میں خداوند عالم فرماتا ہے “الذین ان مکناھم فی الارض اقاموا الصلوۃ و آتوا الزکاۃ و امروا بالمعروف و نھوا عن المنکر۔۔۔” (حج/41) [وہ افراد جنہیں اگر خدا زمین میں حکومت عطا کرے تو وہ نماز کو قائم کریں گے، زکات دیں گے، امر بالمعروف اور نہی از منکر کریں گے۔۔]۔ اگر زمین پر خلیفۃ اللہ حاکم ہو جائے تو وہ خدا کی بات کرے گا نہ اپنی بات۔ وارث جب مورث کی جگہ لے تو وہ اسکے احکامات کو جاری کرتا ہے نہ اپنے احکامات کو۔ 

امام علی ابن ابیطالب علیہ السلام عالم بشریت کی تاریخ میں اہم موڑ کو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور اور وجود کو بیان فرماتے ہیں۔ یہ اہم موڑ پوری انسانیت اور کائنات کی تاریخ کا اہم موڑ ہے۔ کیونکہ یہ خلیفۃ اللہ کے ظہور سے مربوط ہے۔ کائنات کے حقیقی وارث کی حکومت سے مربوط ہے۔ 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.