زمانہ غیبت اورزمانہ ظہور میں شیعوں کی روش ورفتار

0 0

عقیدہ ولایت پر ثابت قدمی:

عن یونس بن عبدالرحمن قال دخلت علی موسی بن جعفر علیھما السلام فقلت لہ یابن رسول اللّٰہ انت القائم بالحق؟فقال أنا القائم بالحق ولکن القائم الذی یطھرا لارض من اعداء اللّٰہ ویملأھا عدلا کما ملئت جورا ھوالخامس من ولدی لہ غیبة یطول أمرھا خوفا علی نفسہ یرتد فیھا اقوام ویثبت فیھا آخرون ثم قال طوبٰی لشیعتنا المتمسکین بحبنافی غیبتہ قائمنا الثابتین علی موالاتنا والبراء ةمن اعدائنا اولئک منا ونحن منھم قد رضوابنا ائمة ورضینا بھم شیعة وطوبیٰ لھم ۔ھم واللّٰہ معنا فی درجتنا یوم القیمة۔

یونس بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت امام موسی کاظمں  کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی اے فرزند رسول! کیا آپ ہی حق کو قائم کرنے والے ہیں ؟آپ نے فرمایا: میں بھی حق کا قائم کرنے والا ہوں لیکن وہ قائم جو زمین کو دشمنان خدا سے پاک کرے گا اور اسے عدل وانصاف سے یوں بھر دے گا جیسے وہ ظلم وجور سے پر ہو چکی ہو گی ۔وہ میری اولاد میں سے پانچواں ہو گا اور اس کی جان کے خوف کی وجہ سے اس کی غیبت کا زمانہ طولانی ہو گا اس زمانہ غیبت میں ایک گروہ مرتد اور بے دین ہو جائے گا جبکہ ایک گروہ صحیح عقیدہ پر ثابت قدم رہے گا پھر آپ نے فرمایا خوشخبری ہے ہمارے ان شیعوں کے لئے جو ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں ہماری محبت سے متمسک رہیں گے اور ہماری دوستی پراور ہمارے دشمنوں سے بیزاری پر ثابت قدم رہیں گے یہ لوگ ہم سے ہیں اور ہم ان سے ہیں وہ ہماری امامت وولایت پر راضی اور خوش ہونگے اور ہم ان کے شیعہ ہونے پر راضی ہونگے ۔خوشاحال ان لوگوں کا۔ یہ لوگ قیامت کے دن ہمارے درجہ میں (ہم آل محمد کے) ساتھ ہوں گے۔

مزید  عقیدئہ مومن

ظہورمھدی  کا انتظار:

عن عبدالعظیم الحسنی قال دخلت علی سیدی محمد بن علی علیھما السلام وانا ارید أن أسألہ عن القائم أھوالمھدی أوغیرہ فابتدأنی فقال یا ابالقاسم ان القائم منا ھوالمھدی الذی یجب أن ینتظر فی غیبتہ ویطاع فی ظہورہ ۔۔۔ثم قال علیہ السلام افضل اعمال شیعتنا انتظار الفرج۔

جناب عبدالعظیم الحسنی بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے آقاومولا حضرت امام محمد تقیں کی خدمت میں گیا میں چاہتا تھا کہ امام ںسے حضرت قائم آل محمد کے بارے میں سوال کروں کہ مھدی وہی ہوں گے یا ان کے علاوہ کوئی اور مھدی ہو گا؟ میرے سوال کرنے سے پہلے ہی امام نے فرمایا : اے ابوالقاسم وہی ہمارا قائم ہی مہدی ہوگا۔ کہ جن کی غیبت کے زمانہ میں ان کا انتظار واجب ہے اور ظہورکے زمانہ میں ان کی اطاعت فرض ہے پھر آپ نے فرمایا ہمارے شیعوں کا افضل ترین عمل امام مہدی کے فرج کا انتظار ہو گا۔(۱)

زمانہ ظہور میںامام  کی اطاعت:

عن ابی بصیر قال قال الصادق جعفر بن محمد علیھما السلام یا ابا بصیر طوبی لشیعة قائمنا المنتظرین لظہورہ فی غیبتہ والمطیعین لہ فی ظہورہ اولئک اولیاء اللّٰہ الّذین لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون 

ابوبصیر کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفرصادق(ع)نے فرمایا اے ابوبصیر خوشاحال ہمارے قائم کے شیعوں کا کہ جو ان کی غیبت کے زمانہ میں ان کے منتظر ہونگے اور ظہور کے زمانہ میں ان کے اطاعت گزار ہونگے۔یہ وہی اولیاء اللہ ہیں کہ جن کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے ”نہ انہیں کوئی خوف ہوگا نہ حزن وملال۔”

مزید  آثار و اولیاء سے تبرک و شفا طلب کرنا

زمانہ امام میں طاقت وجرأت کا مظاہرہ:

عن سعد،عن ابی جعفر علیہ السلام قال فاذاوقع امرنا وجاء مھدینا علیہ السلام کان الرجل من شیعتنا أجری من لیث وامضی من سنان یطأعدونا برجلیہ ویضربہ بکفیہ وذالک عند نزول رحمة اللّٰہ و فرجہ

سعد نے حضرت امام محمد باقر ںسے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جب ہمارا امر واقع ہو گا اور ہمارامہدی آجائے گا تو اس وقت ہماراشیعہ شیر سے زیادہ جری( طاقتور) اور نیزہ سے زیادہ تیز ہو جائے گا وہ ہمارے دشمنوں کو اپنے پیروں سے روند ڈالے گا اور اپنے ہاتھوں سے انہیں مار ڈالے گا یہ اس وقت ہو گا جب خداوندتعالے کی طرف سے رحمت وکشائش نازل ہو گی۔

(۱) قول مترجم

تشریح:  انتظار ایک نفسانی کیفیت ہے جس سے انتظار کرنے والے کے اندر انتظار کی جانے والی چیز کیلئے آمادگی پیدا ہوتی ہے۔

یا ”انتظار ”آنے والی چیز کے ادراک کی طلب سے عبارت ہے۔گویا وہ نگاہیں جمائے ہوئے ہے کہ یہ کب ہو گی یا منتظر کے حصول واثبات کا منتظر ہے اور جو ان کا منتظر ہے اس کو اپنے عمل سے اس کے لئے تیاری کرنا چاہئے امام مہدی کے ظہور کا انتظار کرنے والے مؤمن کو ورع وپرہیزگاری تہذیب نفس محاسن اخلاق فضائل ومعارف اورکمالات نفسانیہ حاصل کرکے پوری طرح تیار رہنا چاہئے تاکہ وہ حضرت امام مہدی کا مخلص منتظر بننے کا ثواب حاصل کر سکے بلکہ بعض احادیث سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر وہ ورع ومحاسن اخلاق سے تہی دامن ہو گا تو آپ اسے اپنے اصحاب میں شمار نہیں کریں گے ۔پس مؤمن منتظر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اطاعات کی پابندی کرے ،گناہوں سے پرہیز کرے کہ یہ انتظار کے عظیم فوائد میں سے ہے۔اس کے دیگر فوائد بھی ہیں مثلا اس سے انسان کیلئے مصائب ومشکلات آسان ہو جاتے ہیں اس کا دل قوی ہوجاتا ہے اور اسے کمال کی طرف بڑھنے ،مصائب اور زندگی کے مشکلات سے جنگ کرنے پر ابھارتا ہے اور اسے آمادہ کرتا ہے کہ وہ اپنے جیسے دیگر لوگوں کو اور ان کے مستقبل کو حب ورضا کی آنکھ سے دیکھے لوگوں کی حاجت روائی کرے اور ان کے امور کی اصلاح کیلئے اقدام کرے کمزور کی اعانت کرے ناداروں پر رحم کرے بیماروں کی عیادت کرے رحمت خدا سے مایوس نہ ہو۔۔۔

مزید  اعتراض چند وجوھات سے مردود اور باطل ھے

انتظار کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کفار واشرار کیلئے راستہ کھلا چھوڑ دیں اورتمام امور ان کے سپرد کر دیں اور ان کی چاپلوسی کریں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو بالائے طاق رکھ دیں اور اصلاحی امور سے چشم پوشی کر لیں کیونکہ طاقت وقدرت کے ہوتے ہوئے شرپسند لوگوں کے اختیار (ہاتھ) میں باگ ڈور دیدینا اور ان سے سازباز کرکے امربالمعروف اورنہی عن المنکر سے دست کش ہوجانا اور ان معصیتوں کو انجام دینا جن کے گناہ ہونے پر عقل ونقل اور مسلمانوں کا اجماع دلالت کرتا ہے جائز نہیں ہے اور کسی عالم نے یہ نہیں کہا ہے کہ آپ کے ظہور سے قبل ساری ذمہ داریاں ختم ہو جائیں گی اور نہ ہی اخبار واحادیث میں اس بات کا کہیں نام ونشان ملتا ہے بلکہ اس کے برعکس بہت سی آیات واحادیث واجبات پر عمل کرنے میں زیادہ اہتمام کرنے پر تاکید کرتی ہیں۔

 (جمال منتظر ص٧٧٨)

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.