روزہ____ ایک طبّی معجزہ

0 0

روزہ ایک عبادت ہے اور فرض ہے ۔ اس کے جسمانی ،ذہنی اور روحانی فائدے مسلم ہیں ۔ میرے نزدیک من جملہ دیگر فوائد وبرکات کے روزے کا مفہوم یہ بھی ہے کہ انسان جسے ہر قسم کی نعمتیں میسرہیں اور انکے خوردونوش پر قدرت رکھتا ہے ، وہ حسبِ حکم خداوندی جب اپنے نفس کو قابو میں رکھتاہے ، خود کواکل واثرب سے محروم کرتاہے اور اس میں جب محرومی کا احساس کرتاہے تو اسکو ضرور ان کا خیال آنا چاہئے جو بے بضاعتی کی بناء پر اشیاء خورد ونوش سے مجبوراً محروم رہتے ہیں ، ان کو اس گرسنگی اور تشنگی کا احساس ہونا چاہئے کہ جو ایک نادار کی قسمت ہوجاتی ہے اور اس پیاس کا ادراک ہونا چاہئے کہ جو کشمکش حیات اور اصول وفرائض کی بناء پر اختیار کی جاتی ہے ، جب ایک مسلمان روزہ رکھتاہے تو وہ خالق کائنات کے حکم کی تعمیل کرتاہے ۔روزے جفا کشی سکھاتے ہیں ، حق پر رہنے کی قوت پیدا کرتے ہیں اور ضبطِ نفس کی تعلیم دیتے ہیں ، جہدزیست میں حصہ لینے کے قابل بناتے ہیں ، بھٹی کی آگ میں تپا کر مِس خام کو کندن بناتے ہیں ۔ روزہ انسان کو دینی ، مادی ،روحانی ، اخلاقی ، نفسیاتی برائیوں اور نقصانات سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ اسلام نے روزہ کو مومن کیلئے شفا قرار دیاہے۔یہ عبادت جہاں تزکیہ نفس اور روحانی طہارت کا بے نظیر ذریعہ ہے ، وہاں یہ انسان کی ظاہری اور جسمانی صحت کیلئے ایک نسخۂ کیمیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے سال میں صرف ایک مبارک ماہ کے روزے فرض کرکے ہمیں اپنی صحت درست رکھنے اور تازہ دَم ہونے کے لئے ایک مجرب اور تیربہدف نسخہ تجویز کرکے ہم انسانوں پر بہت بڑااحسان فرمایاہے ۔سال کے گیارہ مہینوں میں ہم دن بھر صبح سے شام تک کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے رہتے ہیں۔پُرخوری سے ہمارے جسم کے سبھی نظامِ ہا متاثر ہوتے ہیں ۔ ہم ہرساعت بعد چائے، کوفی یادیگر مشروبات سے لطف اندوز ہو کر اپنے نظام ہاضمہ کو ضرر پہنچاتے ہیں۔ کچھ لوگ جنسی افعال سے بھی پرہیز نہیں کرسکتے لیکن جب ہم اپنے خالق کے حکم کے آگے سرجھکاتے ہیں اور اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہیں تو ہم وہ سب کچھ نہیں کرتے جس کی ترغیب ہمیں نفس دیتاہے ، اس طرح روزہ ہمیں خداوند کریم کے قریب لاکر ہر مضر اور غیر ضروری چیز سے دور رکھتاہے۔اور یوں ہم ایک ایسے تطہیری عمل سے گزرتے ہیں جس کی مثال کسی بھی مذہب کی کسی بھی عبادت میں نہیں ملتی ہے جہاں تک روزوں کے طبی فوائد کا تعلق ہے ، اس بارے میں یہ کہنا کافی ہے کہ آج تک کوئی ایسا محقق پیدانہیں ہوا جس نے یہ بات ثابت کی ہو کہ روزے رکھنے سے انسانی جسم پر کوئی مضر اثر پڑتاہو۔ طب اسلام کے علاوہ مغرب کے بلند پایہ معا  لجین بھی روزوں کی طبی اہمیت تسلیم کرتے ہیں ۔ یورپ میں فاقہ کوعلاج کے ایک مستقل طریقہ کی حیثیت حاصل ہے اور کئی ایک امراض کا علاج صرف فاقہ ہی سے کیا جاتاہے ۔ چنانچہ یورپ کے طبی ماہرین عوام کو ہفتہ میں ایک روز فاقہ کی تلقین کرتے ہیں ۔ حکیموں اور ڈاکٹروںکی متفقہ رائے ہے کہ پُرخوری ہمیشہ صحت کے لئے ضرر رساں ہے ۔ بُلند فشار خون، ذیابیطس ، موپاٹا، نظام ہاضمہ کی متعدد بیماریوں کے علاوہ اعصابی تنائو ، دبائو،کھینچائو، اور ذہنی ودماغی کمزوری بھی پُرخوری ہی سے پیدا ہوتی ہے۔دنیا میں کروڑوںلوگ موٹاپا یا اضافی وزن سے چھٹکارہ پانے کے لئے فاقہ کشی کرتے ہیں یا مخصوص غذائی منصوبوں پر عمل پیر اہوتے ہیں ۔ان مخصوص غذائی منصوبوں پر عمل درآمد کرنے سے انسان کی صحت پر زبردست منفی اثرات پڑتے ہیں لیکن جو روزے مسلمانوں پر فرض کئے گئے ہیں وہ عام ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ’’فاقہ کشی‘‘ سے بالکل مختلف ہیں ۔ روزے رکھنے سے کوئی بھی مسلمان دوچارِ سوء تغذیہ نہیں ہوتاہے اور نہ ہی اسکی صحت کے لئے لازم حراروں میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے ۔ اس مبارک ماہ میں مسلمانوں کو کسی خاص قسم کی غذا کھانے کی ہدایت نہیں دی گئی ۔ وہ اپنی مرضی سے ہر قسم کی حلال اور قوی غذا کھاسکتے ہیں ۔ ماہِ رمضان میں ہم صرف نہار(دن کا کھانا) کھانے سے اور آٹھ دس گھنٹے مشروبات پینے سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ اس سے انسانی جسم پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے کارخانہ میں ایسا نظام بنایاہے کہ جسم کم آبی یا کم غذائی کے دوران اپنے ذخائر استعمال کرتاہے ۔

مزید  ہوجاوٴ سچوں کے ساتھ

۴۹۹۱ء میں ’’ماہ رمضان اور ہماری صحت ‘‘ کے موضوع پر کاسابلانکا میں منعقدہ پہلی بین الاقوامی کانفرنس میں پچاس طویل مقالے پیش کئے گئے ۔ ان میں روزوں کی طبی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ۔ جہاں روزوں کو مختلف بیماریوں سے چھٹکارہ پانے کے لئے نسخہ کیمیا قرار دیا گیا ،وہاں کسی بھی طرح یہ بات ثابت نہیں ہوسکی کہ روزوں سے جسم کو کسی طرح کا نقصان پہنچتاہویاکسی بیماری کی پیچیدگی ظاہر ہونے کے امکانات موجود ہوں۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ کچھ ایسی بیماریوں کی نشاندہی کی گئی جن میں مریض کو روزے رکھنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ کرنا لازمی قرار دیا گیا ۔

روزوں کا اعصابی نظام پر ایک مثبت اثر پڑنے سے ، روزہ دار کو ایک خاص قسم کا سکون میسر ہوتاہے۔اس حقیقت کو پوری طرح سمجھ لینا چاہئے کہ روزے کے دوران چند لوگوں میں چڑچڑاپن اور بے دلی کا اعصابی نظام سے کوئی تعلق نہیں ہوتاہے ۔ اس قسم کی صورتحال ان انسانوں کے اندر انانیت یاطبیعت کی سختی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس روزے کے دوران اعصابی نظام مکمل سکون اور آرام کی حالت میں ہوتاہے ۔ روزے ،پریشانی ، افسردگی ، ذہنی دبائو ، تنائو ، کچھائو اور دیگر نفسیاتی امراض سے چھٹکارہ دلانے میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں ۔ انسانی تحت الشعور جو ماہِ رمضان کے دوران عبادت کی مہربانیوں کی بدولت  صاف و شفاف اور تسکین پذیر ہوجاتاہے اور اعصابی نظام سے ہر قسم کے تنائو اور الجھن کو دور کرنے میں مدد دیتاہے ۔روزوں میں ، روزہ رکھنے والوں کا نفسیاتی طور پر سکون رہنے کی وجہ یہ ہے کہ خون میں شکر کی سطح ایک خاص اعتدال میں رہتی ہے ۔ ایسا عام دنوں میں ممکن نہیں ہے ۔

مزید  مسلمانوں کا اتحاد خواب سے حقیقت تک

روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں ۔ ہڈیوں کا گودا حرکت پذیر ہوجاتاہے ۔ اسکے نتیجے میں لوگ روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر خون میں موجود خلیات کی تعداد کو بڑھا سکتے ہیں (جن افراد کو خون کی کوئی خاص بیماری ہو انہیں روزہ رکھنے سے قبل کسی ماہر معالج سے صلاح مشورہ کرنا چاہئے)۔ ایک ماہ روزے رکھنے سے ہمیں اپنے معدے، انتڑیوں ، جگر اور گردوں کو آرام دینے کا سنہری موقع فراہم ہوتاہے ۔ روزے انسانی جسم سے فاسد مواد کے تعتیہ کا باعث ہوتے ہیں ۔ معدہ میں پیدا ہونے والا گیسٹرک جوس خالی رہ کر بدن کی صفائی میں لگ جاتاہے اور ہر قسم کا زہریلا مادہ باہر نکلتاہے۔ روزہ کا اثر طحال اور جگر پر خاص طور پر پڑتاہے ۔ وقت پر اور اعتدال میں غذاکھانے سے معدہ اور جگر کے امراض میں نمایا ں کمی ہوتی ہے۔سانس کی بے اعتدالی ،شدید نزلہ ، زکام میں بھی روزہ بہترین علاج ہے ۔ روزہ رکھنے سے چھوٹے بڑے آنتوں کی صفائی ، معدہ کی اصلاح اور موٹاپے سے نجات حاصل ہوتی ہے۔

جرمنی ، انگلینڈاورامریکہ کے ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم رمضان المبارک میں اس بات کی تحقیق کرنے کے لئے آئی کہ ماہ رمضان میں کان ، ناک اور گلے کے امراض کم ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹروں  کی ٹیم نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ چوںکہ مسلمان نماز پڑھتے ہیںاور خاص طور پر رمضان المبارک میں زیادہ پابندی کرتے ہیں اس لئے وضو کرنے سے کان ناک اور گلے کے امراض کم ہوجاتے ہیں۔محققین نے ثابت کیا ہے کہ ایک ماہ روزے رکھنے سے بلند فشار خون اور ذیابیطس پر قابو پایا جاسکتاہے اور اس ماہ کے دوران اِن امراض میںمبتلا مریضوں کو خاطر خواہ فائدہ ملتا ہے۔

مزید  پیغمبر اسلام (ص) میں دوسرے انبیاء کی بعض خصوصیتیں نہیں پائی جاتی تھیں۔ آپ (ص) حضرت موسی(ع) کے مانند خداوند متعال سے گفتگو نہیں کرتے تھےاور۔ ۔ ۔! اس کے باوجود آنحضرت (ص) کی دوسرے انبیاء(ع) برتری کی دلیل کیا ہے؟

ماہ رمضان میں نماز تراویح پڑھنے کافائدہ یہ ہے کہ جسم میں اضافی حرارے استعمال ہوتے ہیں اورموٹاپے سے نجات مل جاتی ہے ۔ہر رکعت پڑھنے سے دس اضافی حرارے جلتے ہیں اور بار بار اٹھنے جھکنے اور بیٹھنے سے جسم کے جوڑوں پر ایک ہلکی پھلکی ورزش سے مثبت اثرات پڑتے ہیں اور پھرروزوں میں تلاوت قرآن سے نہ صرف دل ودماغ کو سکون ملتاہے بلکہ یا داشت میں بھی نمایاں بہتری آجاتی ہے ۔

ابھی کچھ عرصہ قبل تک یہ سمجھا جاتاتھاکہ روزہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اس سے نظام ہاضمہ کوآرام ملتاہے ۔ جیسے جیسے طبی علم نے ترقی کی اس حقیقت کا بتدریج علم حاصل ہواکہ روزہ تو ایک طبی معجزہ ہے ۔ اس کے ہزاروں فائدے ہیں اور ایک بھی نقصان نہیں۔ اسلئے ہر بالغ ،ہوشمند اور تندرست مسلمان کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس ماہ کے دوران پورے روزے رکھے اوربے شمار طبی فوائد حاصل کرلے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.