روزہ کے بے شمار فوائد

0 0

یہ تو سبھي جانتے ہيں کہ روزہ خرابي معدہ کے مريضوں کےلئے يا بھاري جسم والوں کے لئے بہت مفيد ہے طب يوناني کے علاوہ مغرب کے بلند پايہ ڈاکٹر بھي روزہ کي طبي اہميت کو تسليم کرتے ہيں – غذا کے ہضم ہونے ميں بدن کي جو قوت صرف ہوتي ہے روزہ رکھنے کي صورت ميں يہي قوت بدن سے فاسد اور ردي مادوں کو خارج کرتي ہے جس سے جسم پاک وصاف ہو جاتا ہے پرانے امراض مثلاً دائمي نزلہ ، ذيابيطيس ،ہائي بلڈ پريشر اور معدہ کي خرابي ميں روزہ بہت ہي مفيد اثرات مرتب کرتا ہے اس سے بدن کي قوت مدافعت کو اس قدر طاقت ملتي ہے (قوت مدافعت جسم انساني کو امراض وآلام سے محفوظ رکھتي ہے )کہ سال بھر تک بدن صحت مند رہتا ہے اس کے علاوہ ايسے لوگ جو غير شادي شدہ ہيں روزہ رکھنے سے ان کے اندر ايک ڈسپيلن صبر اور ضبط نفس پيدا ہو جاتا ہے – کيا کھائيں کيا نہ کھائيں ؟

روزہ رکھنے سے نہ صرف روحاني ، پاکيزگي اور تزکيہ نفس ہوتا ہے بلکہ انسان مختلف امراض سے بھي نجات حاصل کرتا ہے روزہ ميں جسم انساني توانائي سے بھر جاتا ہے مگر يہ تمام فوائد صرف اسي صورت ميں حاصل ہو سکتے ہيں جب ہم غذا کے بارے ميں افراط و تفريط کا شکار نہ ہوں اور کھانے پينے ميں اعتدال کي راہ اختيار کريں آج بھي اکثر لوگو ں کو يہ غلط فہمي ہے کہ روزہ رکھنے سے کمزوري آتي ہے يہ سراسر غلط ہے کيونکہ رمضان ميں پروٹين اور کابوہائيڈريٹ اجزاء سے پر غذا عام دنوں کے مقابلے ميں زيادہ استعمال کي جاتي ہے پھر تمام روز سحري ميں بھي غذا استعمال کي جاتي ہے اس طرح روزہ رکھنے سے کسي بھي قسم کي کمزوري لاحق نہيں ہوتي بلکہ اس کا سب سے بڑا فائدہ تو يہ ہوتا ہے کہ اس صورت ميں جسم سے فاسد مواد خارج ہو جاتے ہيں –

مزید  منتظرین کے فرائض

روزہ دار کمزوري کے خيال سے خوب کھاتے ہيں افطاري کے وقت پکوڑے ، سموسے ، مٹھائي ، کھجور اور پھل وغيرہ شوق سے کھاتے ہيں پھر کھانے ميں گھي سے پر مختلف اقسام کے کھانے بڑے مزے سے کھائے جاتے ہيں سحري ميں پر اٹھے انڈے ، گوشت وغيرہ سے کام و دہن کي تواضع کي جاتي ہے جس سے کھٹے ڈکار آتے ہيں طبيعت ميں بوجھل پن ہوتا ہے اور معدہ خراب ہو جاتا ہے اس لئے رمضان المبارک ميں ہلکي غذا استعمال کرنا سب سے عمدہ خيال کيا جاتا ہے خاص طور سے ايسي غذا جس ميں گھي وغيرہ کي مقدار برائے نام ہو- افطار کے وقت کھجور اور کوئي نمکين چيز استعمال کريں نمک پارے يا نمک استعمال کريں کيونکہ انسان تمام دن فاقہ سے ہوتا ہے اس لئے جسم ميں نمک کي کمي ہو جاتي ہے اور جسم نمکين چيز کا طالب ہوتا ہے تاکہ اس کي کمي کو پورا کر سکے – کھجور سے روزہ افطار کرنا سنت ہے کيونکہ يہ دن بھر کي کمزوري کو دور کرديتي ہے ايک چھٹانک کھجور ميں 160 غذائي حرارے قوت ہوتي ہے ايک چھٹانک انگور ميں 26 اور ايک چھٹانک انار ميں 32 حرارے غذائي قوت ہوتي ہے افطار کے وقت چائے اور دودھ بھي استعمال کر سکتے ہيں – آلو ، بينگن ، ماش کي ڈال چنے وغيرہ کھانے سے پرہيز کريں – پلاو  يا کھچڑي کھائيں رات کا کھانا کھانے کے بعد تراويح پڑھيں تاکہ کھانا ہضم ہو جائے صبح سحري ميں ہلکا پھلکا کھانا کھائيں خاص طور پر سبزي اور بکري کے گوشت کا شوربہ اور پيالي بھر چائے نہايت مفيد ہے –

مزید  غدیر کا ھدف امام کا معین کرنا-2

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.