رمضان خودسازی کا مہینہ

0 0

 

خود سازی، خود شناسی (معرفت نفس) سے آغاز ہوتی ہے۔ سب سے پہلے انسان کو اپنی معرفت حاصل کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو پہچاننا چاہیے تاکہ اپنے آپ کو بنا  سکیں۔ اس لیے کہ خود شناسی اور معرفت نفس، خدا شناسی اور معرفت خدا کا سبب بنتی ہے۔ اور اگر خدا کو پہچان لیا گویا اپنے آپ کو بنا لیا۔

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم کیوں پیدا ہوئے ہیں؟ ہماری خلقت کا مقصد کیا ہے؟ خدا وند عالم قرآن کریم میں واضح طور پر بیان کر رہا ہے: وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون۔ میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔

بہت ساری تفاسیر میں لیعبدون کو لیعرفون  کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی خلقت کا مقصد معرفت ہے۔ ورنہ صرف نماز و روزہ اور دعا کا نام عبادت نہیں ہے۔ نماز و روزہ اور خمس و زکاۃ عبادت کا ایک حصہ ہے۔

کیسے اللہ کا خلیفہ بنیں؟

عبادت، سماج میں زندگی گذارنے اور دوسروں کے لیے جینے کا نام ہے۔ یہ جو عبادت کے لیے تاکید کی جاتی ہے  کہ عبادت کو اجتماعی طور پر انجام دینا چاہیےاور مسجد  اور جمعہ جماعت  میں شرکت کرنا چاہیے، اسی وجہ سے ہے کہ انسان کی معرفت اور پہچان اس کی ذات سے منحصر نہ ہو جائے۔ اور اسے دوسروں تک بھی سرایت کرنا چاہیے۔ ہم اس لیے نہیں پیدا ہوئے ہیں کہ صرف  اپنی ہی فکر کریں اور اپنی ہی نجات کے بارے میں  فکر کریں۔ بلکہ سماج اور سوسائٹی کے درمیان زندگی گذاریں۔ معاشرے کو ساتھ لے کر چلیں۔ دوسروں کی فلاح اور بہبود کی بھی فکر کریں ۔بہرحال ہماری بحث معرفت کے بارے میں نہیں کہ جوایک طولانی بحث ہے جس کی یہاں پر گنجائش نہیں ہے۔ یہاں پر ہمیں یہ بیان کرنا ہے کہ کیسے اپنے آپ کو اچھا بنائیں؟ کیسے انسان اپنے آپ کو ایسا بنائے کہ خدا کا خلیفہ کہلائے؟ خود سازی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اخلاق کوا یسا بدلے جیسا خدا چاہتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ہمارا جی تکبر اور خود خواہی کی طرف مائل ہوتا ہے تو اپنے نفس کی ایسی تربیت کریں کہ تکبر اور خود خواہی سے نجات پاجائیں اور تواضع اور انکساری ہمارے اندر پیدا ہو جائے۔ اگر ہمارے اندر بخل اور کنجوسی پائی جاتی ہے تو اس مذموم صفت کو ختم کر کے اس کی جگہ کرامت اور بخشش کی صفت پیدا کریں۔ خلاصہ کلام یہ کہ صفات سلبیہ اور رذیلہ کو اپنے نفس و روح سے دور کر کے صفات ثبوتیہ اور حسنہ کا لباس اپنے وجود کو پہنائیں۔

مزید  فرزند زہرا حضرت امام حسین کی خیموں سے رخصتی اور آپ کی شہادت

کیا کرنا پڑے گا؟

اس کام کے لیے ہمیں کیا کرنا پڑے گا؟

اپنے دل کو ہر اس چیز سے جو اللہ کی نظر میں ناپسندیدہ اور مکروہ ہے پاک اور پاکیزہ بنائیں اور اپنے تمام اعضاء و جوارح کو اس کی رضا اور خشنودی کی راہ میں لگا دیں۔

اپنے اندر حلم اور بردباری کی عادت ڈالیں  اس لیے کہ حلم انسان کے مقام کو بلند و بالا کرتا ہے اور لوگوں کے درمیان باعزت و شرف ہونے کا باعث بنتا ہے۔ اور بزرگوں اور بڑوں کا احترام کریں اور ہر وہ چیز جو پستی، سستی اور کہولت کا سبب ہے سے دور رہیں اور جو چیز خدا سے نزدیک اور اس کا تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اسے اپنے وجود کے اندر پیدا کریں۔ اس چیز کی طرف قدم بڑھائیں جو عاقبت بخیر کا باعث ہو اور جس کا ثمرہ اور پھل میٹھا ہو۔

عفت اور پاکدامنی کی حفاظت کریں اور جو چیز نفرت ، خجالت اور شرمندگی کا باعث ہے اور انسان کی شخصیت پر دھبہ لگاتی ہے  اس سے پرہیز کریں۔ صبر سے کام لیں تاکہ یقین اور رضا کی منزل پر پہنچ سکیں خدا کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم رہیں مشکلات، مصائب، سختیوں اور پریشانیوں کے سامنے گھٹنا نہ ٹیکیں۔

عقل و روح کے تکامل کی طرف بڑھیں۔ اور تقویٰ اور عمل دو پروں کے ساتھ عزت اور عظمت کی بلندیوں کی طرف پرواز کریں۔ دنیا کی محدود لذتوں سے دل نہ لگائیں بلکہ تقویٰ، ورع، پارسائی اور زہد کے اسلحوں سے اپنے آپ کو مسلح کریں۔ تاکہ شیطان کو میدان جنگ میں شکست دے سکیں۔ اس طریقے سے اپنے نفس پر تسلط حاصل کریں اور نفس کی لگام اپنے ہاتھ میں کس کر رکھیں کہ نہ دوسروں کی تعریف اور مدح سرائی ہمارے اوپر اثر کرے اور نہ ان کا برا بلا کہنا اور گالیاں گلوچ دینا۔

اپنے آپ کو خدا کی ہر ناپسند چیز سے محفوظ رکھیں  نہ اس سے جسے ہمارا نفس چاہے۔ مولا کی مرضی کے سامنے اپنی مرضی کوئی معنی نہیں رکھتی۔

آج اور کل کی فکر  کریں اور آج ہی کل کا سرمایہ اگٹھا کریں۔ اور اس ابدی زندگی کے لیے ساز وسامان جمع کریں۔

استقامت اور پائداری کےساتھ تلخ اور ناگوار حوادث سے گزریں اور ہر لمحہ خدا پر بھروسہ رکھیں وہ کل خیر ہے اس کےساتھ وابستہ رہنے سے شر انسان کے قریب نہیں آ سکتا۔ اس کی راہ میں قدم بڑھاتے رہیں اور ہمیشہ اس سے ہدایت کی توفیق طلب کرتے رہیں کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے۔ اھد نا الصراط المستقیم۔

مزید  مشخصات امام زین العابدین علیہ السلام

مہر و محبت، دوستی اور ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا، ایثار اور قربانی اور عفو اور بخشش کو نفرت، بغض ،کینہ، خود خواہی اور خود غرضی کا جانشین قرار دیں۔

دوسروں کی زندگی سے عبر ت حاصل کریں نہ  خود دوسروں کے لیے عبرت بنیں۔

ماہ مبارک رمضان وہ بہترین وقت ہے جس میں انسان کو اپنی فطرت اور سرشت کی طرف رجوع کرنے کا بہترین موقع ملتاہے۔ اور اسے خواب  غفلت سے بیدار کرنے اور گناہوں کے پردوں کے نیچے سے باہر نکالنے کا بہترین مہینہ ہے۔

ماہ مبارک رمضان کے لمحوں کو غنیمت جانیں

بھائیو! اور بہنو! اللہ کا مہینہ آن پہنچا ہے۔ کتنا اچھا ہے  کہ اسے بہترین فائدہ اٹھایا جائے۔ ایک لمحہ بھی اس مہینہ کا بیکار میں ضایع نہ ہو۔ اس ایک مہینہ میں ایک سال کی قسمت بلکہ ایک عمر کی قسمت لکھی جاتی ہے۔

ہوشیار رہیں کہ کہیں یہ مہینہ بھی بے توجہی کے ساتھ گذر جائے اور بروز عید ہم شرمندہ ، شرمسار اور رحمت الٰہی سے محروم ٹہلتے ہوئے نظر آئیں۔روایت میں ہے کہ رسول خدا (ص) نے  ماہ رمضان سے پہلے ایک خطبہ پڑھا  اور اس خطبہ میں فرمایا:

اے لوگو! جبرئیل مجھ پر نازل ہوئے اور کہا: یا محمد! جو آپ کا نام مبارک سنے اور آپ پر درود نہ بھیجے خدا کی رحمت سے دور رہے گا۔ اے محمد! جو شخص ماہ رمضان کو درک کرے اور خدا کی رحمت اور مغفرت کو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور دنیا سے گذر جائے ہمیشہ خدا کی رحمت سے دور رہے گا۔ اے پیغمبر آپ آمین کہیے۔ میں نے بھی آمین کہا۔(۱)

اس ماہ میں بہشت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور جھنم کے دروازے بند ہیں  کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے کہ جس کی وجہ سے بہشت کے دروازے ہمارے اوپر بند ہو جائیں۔

اس مبارک ماہ میں جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتاہے جنت کو مزین کیا جاتا ہے اور نیک کاموں اور عبادتوں  کی جزا دوگنی ہو جاتی ہے۔

رسول خدا نے فرمایا: شهر رمضان شهرالله عز و جل و هو شهر يضاعف الله فيه الحسنات و يمحو فيه السيئات، و هو شهر البركة، و هو شهرالانابة، و هو شهر التوبة، و هو شهرالمغفرة ، و هو شهرالعتق من النار و الفوز بالجنة.

الا فاجتنبوا فيه كل حرام و اكثروا فيه من تلاوة القرآن و سلوا فيه حوائجكم واشتغلوا فيه بذكر ربكم و لا يكونن شهر رمضان عندكم كغيره من الشهور فان له عندالله حرمه و فضلا على سائر الشهور، ولا يكونن شهر رمضان، يوم صومكم كيوم فطركم . (2(

مزید  اولیائے الٰہی کیلئے عزاداری کا فلسفہ کیا ہے؟

ماہ رمضان اللہ کا مہینہ ہے کہ جس میں نیک کاموں کی جزا دوبرابر ہو جاتی ہے اور گناہ محو ہو جاتے ہیں۔ ماہ رمضان رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ ماہ رمضان توبہ اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ ماہ رمضان جہنم سے رہائی اور جنت کے حصول کا مہینہ ہے۔

پس اے لوگو! اس مہینہ میں ہر برے اور حرام کام سے دوری اختیار کرو۔ اور قرآن کی کثرت سے تلاوت کرو۔ اور اس کے تمام اوقات کو اللہ کی یاد میں گزارو۔ مبادا یہ مہینہ بھی تمہارے نزدیک دوسرے مہینوں کی طرح رہے اس لیے کہ یہ دوسرے مہینوں پر برتری اور فوقیت رکھتا ہے۔ حضرت امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں:  “عليكم فى شهر رمضان بكثرة الاستغفار والدعاء، فاما الدعاء فيدفع البلاء عنكم و ام الاستغفار فتمحى به ذنوبكم .” (3)

آپ پر لازم ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں کثرت سے دعا اور استغفار کریں  اس لیے کہ دعا بلاؤں کو ٹال دیتی ہے۔ اور استغفار گناہوں کو محو کر دیتا ہے۔

بہر حال ، ماہ رمضان خودسازی کامہینہ ہے۔ اور خود سازی کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ انسان اپنی خودی کو بھول کر خدا کو اپنا مالک واقعی سمجھے تا کہ خدا کو پہچان سکے اور اس کی عبودیت کا حق ادا کر سکے۔ اور جو چیز رنگ الٰہی کے مخالف ہو اس سے دور رہے۔ خود سازی اور نفسانی ہوی و ہوس سے کنارہ کشی تمام کمالات اور فضائل انسانی کا منشا ہے۔ اگر کوئی اپنے آپ کو مادی تعلقات سے دور رکھنے میں کامیاب ہوگیا اور دنیاکے تجملات  میں غرق نہ ہوا تو یقینا خدا کی طرف متوجہ رہے گا اور تکامل کی طرف گامزن ہو گا۔ اور کامیابی اور کامرانی کے بلند ترین مقام پر فائزہوگا۔

خدا شاہد ہے کہ  دنیا کےتمام مفاسد ، مظالم، فتنہ وفساد  صرف خود پرستی اور ہوس پرستی کی بنا پر ہے۔لہذا قرآن کریم میں ہمیشہ تزکیہ اورتربیت تعلیم اور تعلم پر مقدم ذکر ہوا ہے اور خود سازی یعنی تزکیہ  نفس اور ماہ رمضان تزکیہ اور تطہیر نفس کے لیے ہے۔ پس آئیے اس مبارک مہینہ میں خدا کا قرب حاصل کریں تاکہ روز قیامت سرخرو اس کی بارگا ہ میں حاضر ہوں۔

حوالہ جات

1- المقنعه، ص 308 .

2- فضائل الاشهر الثلاثه،ص 95 .

3- وسائل الشيعه، ج 7، ص 220 .

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.