رسالت پر ایمان لانے کا تقاضا

0 0

ن پاک نے جس خوبصورت اسلوب میں اور بار بار مقام رسالت کو بیان کیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسالت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور قرآن اس حسین اسلوب بیان سے صادق و عاشق اور وفا شعار امت کے دل میں ’’عشق رسول‘‘ پیدا کرنا چاہتا ہے اس لئے کسی سچے اور پکے امتی کے لئے جائز نہیں ہے کہ کلمہ پڑھ لینے کے بعد فارغ بیٹھ جائے اور یہ سمجھنے لگے کہ اب اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، اسے نجات کا پروانہ مل گیا ہے اور اب وہ آزاد ہے جس طرح چاہے زندگی گزارے۔

یہ خیال غلط ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایمان وہ معتبر ہے جو امتی کو اپنے نبی کا عاشق و طالب بنا دے اور وہ اپنے نبی کے لئے پروانے کا روپ دھار لے کہ اس کی دید اور یاد کے بغیر اسے قرار ہی نہ آئے، اٹھتے بیٹھتے، آتے جاتے اور ہر کام کے دوران تصورِ جاناں ہی میں مستغرق رہے۔ اس لئے نبی پر ایمان لانے کے کچھ تقاضے ہیں، امتی کے لئے جن کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ وہ آداب و تقاضے یہ ہیں۔

اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دل و جان سے تعظیم کرے۔

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے مثل جاننا۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کمالات و مراتب عطا فرمائے ہیں، انہیں تسلیم کرے اور ان کے تذکرے سے خوش ہو، جہاں فضائل و معجزات کی تفصیل سنے اس کا دل کنول کی طرح کھل اٹھے۔

دل کی گہرائیوں سے نبی کی تعظیم کرنا

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر ایمان لانے کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان کی تعظیم و تکریم کو اپنا شعار بنائے۔

تعظیم رسالت ایک ایسا مسئلہ ہے جسے قرآن پاک نے بڑی اہمیت دی ہے اور اسے ایسے ایمان افروز اسلوب میں بیان کیا ہے جس سے حسین تر اور معنی خیز اسلوب کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

انسان کی فطرت بھی عجیب ہے، وہ طبعی طور پر علم و حکمت کا رسیا اور فضل و کمال کا قدر دان ہے۔ اسے کسی شخصیت کی خصوصیات اور اس کی ذات میں پائے جانے والے غیر معمولی اور انمول کمالات کا پتہ چل جائے تو وہ بن دیکھے ہی اس پر دل و جاں سے فدا ہو جاتا ہے اور اسی کے تصور میں گم رہنے لگ جاتا ہے اور ہر حال و مجلس میں اس کے ذکر کے سوا اسے کچھ نہیں سوجھتا۔

مزید  اسلامی معاشرے کی تعمیر ضروری

اسی اصول کے مطابق، قرآن پاک نے اہل ایمان کے دلوں میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور عقیدت پیدا کرنے کے لئے سورۃ الفتح کی آیت میں پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کچھ اعلیٰ ترین اور یگانہ و یکتا شانیں بیان کی ہیں کہ وہ گواہ اور شاہد ہیں اور بشیر و نذیر بھی، تاکہ امتی اس حقیقت سے آگاہ ہوکر کہ اس کے رسول بڑے ہی مہربان اور شفیق ہیں جو قیامت کے دن اپنی گناہگار امت کے حق میں گواہی دیں گے اور کسی بھی مرحلہ پر اسے بے یارو مددگار نہیں چھوڑیں گے۔ اس حوالے سے ان کی ذات نہایت ہی قابل قدر، عظیم و جلیل اور محبت کے لائق ہے اس لئے مومنوں کا حق ہے کہ وہ بھی ان سے ٹوٹ کر پیار کریں اور ان کی عقیدت کو دل میں جگہ دیں چنانچہ ارشاد فرمایا:

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًاo لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ.

(الفتح، 48 : 8، 9)

’’اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو شہادت و بشارت اور انذار کے منصب پر فائز کرکے بھیجا ہے، (اے لوگو! یہ اس لئے ہے) تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوب تعظیم و توقیر کرو‘‘۔

قرآن پاک نے دوسری جگہ ٹوٹ کر پیار کرنے اور تعظیم و توقیر کا یہی عمل اختیارکرنے والوں کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی بشارت دی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَالَّذِينَ آمَنُواْ بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُواْ النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَo

(الْأَعْرَاف ، 7 : 157)

’’پس جو لوگ ایمان لائے اور ان کی خوب تعظیم اور مدد کی اور جو نور ان کے ساتھ اتارا گیا ہے، اس کی پیروی کی تو یہی لوگ مسرت و کامیابی حاصل کرنے والے ہونگے‘‘۔

مزید  انقلابی اقدار میں دوام اور تسلّط کے مقابلے میں استقامت

دونوں آیات میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کا حکم دینے کے لئے لفظ ’’تعزیر‘‘ لایا گیا ہے جو اپنی جگہ بڑا معنی خیز ہے۔ یہ لفظ عام قسم کی تعظیم و تکریم کے لئے نہیں بولا جاتا بلکہ تعظیم کی اس حالت پر بولا جاتا ہے جو تعظیم کی انتہائی حدوں کو چھولے۔

مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک وہ بے مثل ذات ہے کہ عام انسانوں کے لئے تو تعظیم میں مبالغہ آ سکتا ہے مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک وہ بے مثل ذات ہے جہاں مبالغہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی لئے قرآن پاک نے یہ لفظ ذکر کیا ہے تاکہ اہل ایمان تعظیم کے لئے جو بھی عمل اور انداز اختیار کرنا چاہیں وہ بلا تکلف اختیار کرلیں اور اپنے پاک نبی کی صفت وثناء بیان کریں، چاہے ان کا بیان کتنا ہی پر شکوہ اور حسنِ عقیدت سے لبریز ہو اور ان کا نیاز مندانہ انداز، خواہ کتنی ہی عاجزی لئے ہوئے ہو پھر بھی اس میں مبالغہ پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نبی اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اتنی ارفع و اعلیٰ ہے اور رب کریم نے ان کو اتنی عظمتیں عطا فرمائی ہیں کہ امتی جو خوبی اور شان بھی بیان کرے گا وہ ان کی ذات اقدس میں موجود ہوگی۔

حسن یوسف، دم عیسیٰ، ید بیضاء داری

آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری

محمد سر بسر حمدِ خدا ہیں

محمد جانِ ہر حمد و ثناء ہیں

محمد ہیں، محمد ہی محمد (ص)

محمدِ مصطفیٰ ہی مصطفیٰ (ص) ہیں

اس حقیقت ثابتہ اور نورانی ضابطہ کے مطابق امام شرف الدین بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے قصیدہ بردہ شریف میں ارشاد فرمایا:

دَعْ مَا اَدَّعَتْهُ النَّصَارٰی فِی نَبِيِّهِم

وَاحْکُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحًا فِيْهِ وَاحْتَکِم

’’نصاری نے اپنے نبی کو خدا کا بیٹا کہا تھا تم یہ مت کہو اس کے علاوہ جس طرح چاہو، ان کی شان بیان کرو (سب کچھ بیان واقعہ ہوگا، مبالغہ نہیں ہوگا)‘‘۔

مزید  بہ کعبہ ولادت با مسجد شہادت

نبی کو خدا کا بیٹا کہنا بے شک مبالغہ اور خلاف واقعہ بات ہے، کفر ہے، اس لئے اس سے منع کیا گیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:

لَا تُطْرُوْنِیْ کَمَا اَطْرَتِ النَّصَارٰی.

جس طرح نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مبالغہ کیا تھا، تم اس سے باز رہو اور میری اس قسم کی تعریف نہ کرو کیونکہ یہ تعریف نہیں، کذب بیانی ہے، خلاف واقعہ، غلط اور جھوٹی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے، کوئی نبی اس کا بیٹا نہیں ہوسکتا، اس لئے جو بھی کسی کو اس کا بیٹا کہے گا وہ جھوٹ بولے گا اور مبالغہ کی حدوں سے بھی آگے بڑھ جائے گا، اس لئے یہ غلط بات کہنے اور اس انداز سے تعریف کرنے کی اجازت نہیں، باقی ہر قسم کی تعریف و ستائش، مدح ونعت اور صفت و ثناء کی اجازت ہے۔

اس حدیث کی آڑ لے کر یہ کہنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تعریف سے منع فرمایا ہے، اس لئے کسی قسم کی مدح و ستائش جائز نہیں اور وہ مبالغہ کی تعریف میں آ جاتی ہے، یہ بالکل غلط ہے۔ اس حدیث پاک میں خدا کا بیٹا کہہ کر مدح کرنے کی ممانعت ہے، باقی رہے وہ اوصاف جو آپ کی ذات اقدس میں حقیقتاً پائے جاتے ہیں ان کے بیان کی ممانعت نہیں بلکہ ان کا ذکر ضروری اور موجب خیرو برکت ہے۔

حضرت حسان رضی اللہ عنہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دعا دیا کرتے تھے۔

اَللّٰهمَّ اَيّدْهُ بِرُوْحِ الْقُدُس.

’’اے اللہ! جبریل امین کو حسان کی تائید و تقویت کے لئے مامور فرما‘‘۔

اس لئے ایمان کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ حکم قرآن کے مطابق دل کھول کر آپ کی تعظیم کی جائے اور مدح و نعت اور درود و سلام کے مہکتے پھول بطور نذرانہ عقیدت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے حضور بصد ادب و احترام پیش کئے جائیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.