رحمٰنیت اور رحیمیت

0 0

لکھنے والے استاد انصاریان

رحمٰنیت و رحیمیت پروردگار کی بحث بہت لمبی چوڑی ہے جس پر مفرقین قر آن اور محققین اسلام کے علامہ حکماءفلاسفہ اور عر فاءکرام نے بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے جن میں صدرالمتالہین ،حاجی سبزواری ملاعلی زنوزی ،ملا علی نوری ، علامہ طباطبائی اور انکے علاوہ بہت سے وہ علماءجنہوں نے در انبیاءخدا اور ائمہ ہدیٰ سے کسب فیض کیا ہے اپنی اپنی شخصیت اور اپنے علمی وقار کے اعتبار سے بہت سی اہم باتیں اورقیمتی نکات بیان کئے ہیں ۔

ان تمام بزرگوں نے اپنی طویل بحث میں جو کچھ بیان کیا اور جو کچھ لکھا اسکا خلاصہ اورنچوڑیہ ہے کہ ۔

رحمانیت پرور دگار کا مظہر کائنات ہے جلوئہ رحمانیت اس عالم مادہ اور اسکے تمام موجودات سے متعلق ہے یعنی تمام موجودات اپنی ظاہری زندگی اور اسکی بقا کے علاوہ اپنی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے میں بھی رحمانیت خالق کی محتاج ہیں وہ تمام چیزیں جو انسان کے لئے اس اعتبار سے ہیں کہ وہ موجودات عالم میں سے ایک موجود ہے رحمانیت حالق سے متعلق ہیں ۔زیادہ واضح لفظوںرحمانیت پروردگار ایک دستر خوان عام ہے جو ہر قسم کی شرط شروط سے خالی ہر قسم کی روک ٹوک سے آزاد ہر کسی کےلئے ہواہے ۔ 

یہاں پر ایک ہی شرط ہے اور وہ ہے ہونا موجود ہونا یعنی بس وہ وجود رکھتا ہو اسکا موجود ہو نا بھی کافی ہے اس دستر خوان پر بیٹھنے کے لئے اب چاہے وہ وجود کیسا بھی کیوں نہ ہوممکن ہے فرعون ہو ممکن کلیمی ہو ممکن ہے نمرودی ہو ممکن ہے ابراہمی ہو ممکن ہے مشرک ہو ممکن ہے کافر ہو ممکن ہے مسلم ہو موحد ہو ہر کسی کے لئے اس دستر خوان پر بیٹھنے کی اجازت ہے ۔

ادیم زمین ، سفرہ عام اوست

چہ دشمن بر یان خوان یغما ، چہ دوست 

اس نے ندائے عام دے رکھی جس کا دل چاہے اسکے دسترخوان رحمٰنیت سے سیر ہو جائے 

وہ نہیں کہتا کہ تم قارون ہو اس لئے تمہارا حقہ پانی بند ہو کیونکہ تم کافر ہو یا مشرک ہو اس لئے تمہارے دانے پانی پر پابندی عائد کی جاتی ہے وہ کسی سے اسکی روزی روٹی نہیں چھینتا کیوں ؟کیونکہ اسکے پاس اسکے علاوہ اور بہت سے راستے ہیں تم کو راستے پر لانے کے لئے ۔جناب موسیٰ نے ۵۲سالہ تبلیغ کے بعد بددعا کی خدایا فرعون میری نہیں سنتا دعوت حق قبو ل نہیں کرتا اس پر عذاب نازل فر مایا خدانے محبت بھرے لہجے میں پوچھا موسیٰ تم ہی بتاﺅ میں اسکے ساتھ کیا کروں؟موسیٰ نے فورا جواب دیا پالنے والے اس کا حقہ پانی بند کر دے آواز آئی موسیٰ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا میں رحمٰن ہوں میری رحمٰنیت کا تکاضا ہے کہ میں اسکو کھانا بھی دوں پانی بھی دوں اور اسکی دوسری مادی ضرورتوں کو پوراکروں۔

تم کہتے ہو میں اسکا رزق بند کردوں یعنی میں اپنی رزاقیت اور رحمٰنیت سے باز آجاوں گویا میں اپنی خدائی چھوڑدوں ۔

یاد رکھو جب تک فر عون میری مخلوق ہے اور اس دنیا میں زندہ ہے اس کو اختیا ر ہے کہ میرے دستر خوان رحمٰنیت پر بیٹھے جتنا چاہے کھائے اور جتنا چاہے لے جائے اس لئے کہ یہ عام دسترخوان ہے یہاں ہر کوئی بیٹھ سکتاہے یہاں ہر کسی کو اجازت ہے مگر جب بات رحمٰنیت تک پہنچے گی تو وہاںشرط وشروط ہیں چشمہ رحمٰنیت سے ہر کس وناکس فیض یاب نہیں ہو سکتا وہ بس خاص لوگو ںکے لئے اور خاص لوگ ہی اس چشمہ پر وارد ہو سکتے ہیں ۔

رحیمیت حق اور انسان کامل :۔

رحیمیت پرور دگار کا منبع اور اسکے خاص لطف و کرم کا حقدار انسان کامل ہے ۔

ہم کو پچھلی تاریخوں سے بحث نہیں لوگ آئے اور چلے گئے مگر ہم جب تک اس دنیا میں زندہ ہیں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم جانیں کہ کیونکر رحیمیت پر ور دگار سے فیض یاب ہوا جاسکتاہے اور اسکے خاص لطف و کرم کا حقدار بنا جاسکتا ہے ۔

آیات قرآنی کی روشنی میں رحیمیت حق تک پہونچنے کےلئے وسیلہ اور واسطہ اہلبیت  ہیں اگر میں چاہوں کہ رحیمیت خدا تک میری رسائی ہو تو خدا کی قسم بغیر اہلبیت  کے یہ ناممکن ہے ۔کیونکہ چشمہ رحیمیت سے آب رحمت لینے والے او ربانٹنے والے اہل بیت  ہیں ان سے جدا ہو کر چشمہءرحیمیت سے فیض یاب یا اس تک پہونچنے کا خیال دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ اہلبیت  تک کیسے پہونچاجائے ؟

اہلبیت  تک پہونچنے کے تین اصول :

رسول خدا  رہنمائی کر تے ہوئے فرماتے ہیں :مجھ تک او رمیرے اہل بیت  تک پہونچنے کے تین اصول ہیں گویا تین دندانوں کی ایک چابھی جس سے تمسک کا تالا کھو لا جاسکتا ہے اور ان تین اصولو ںمیں سے کسی ایک اصل ساتھ بھی برتی گئی لاپر واہی انسا ن کو مایوس لوٹنے پر مجبور کرسکتی ہے ۔

معرفت کی پہلی اصل :

معرفت کی دنیا نہایت قیمتی اور باعظمت دنیا ہے وہ لوگ جو صاحبان معرفت تھے ہزار فرسخ کی دوری طے کرتے تھے بڑے بڑے سفر کے اخراجات اور اسکی مشقتیں برداشت کرتے تھے تاکہ اپنی معرفت میں اضافہ کرسکیں ۔

وہ نبے سالہ بوڑھا : جو آج سے ۱۴۰۰سال قبل بصرے سے مدینے تک کی خطرناک مسافت طے کرتا ہوا سواری کی اذیتوں کو جھیلتاہواراستے کی صعوبتوں کو برداشت کیا ہو ا تھکا ہارا چھٹے امام کی خدمت میں پہونچتا ہے تو سلام کے بعد پہلا سوال جو کرتا ہے وہ کہ میں فلاں مسئلہ میں جاہل چاہتا تھا کہ آپ(ع) سے معلوم کروں آپ(ع) مجھے اسکا حل بتادیجیئے ۔

مجھے نہیں معلوم وہ واپس بصرہ زندہ پہونچا راستے میں ہی اسکا دم نکل گیا مگر مجھے معلوم ہے وہ جس عالم میں بھی دنیا سے گیا عالم دنیا سے گیا ۔

آپ کو معلوم ہے قم سے بخار اکا سفر تقریبا دو ہزار کلو میٹر ہے دوبا ر سفر کرنے کا مطلب آٹھ ہزار کلو میٹر ۔

دوہزار جانا دوہزار آنا کل چار ہزار او رپھر اسی عمل کو دھرانا کل آٹھ ہزار کلو میٹر۔اس زمانے میں یہ بس صاحبان عرفان او رچشمہءمعرفت کے پیاسوں کا جگرا تھا ۔اس طولانی سفر اور اسکی مشکلات کو برداشت کرتے تھے جی ہاں ۔میں شخ صدوق  کی بات کر رہا ہوں جو دو مرتبہ قم سے بخا را گئے او رانکے علاوہ بھی بہت سے علماءاور بہت سے عرفاءجنھوں نے دنیوی او رمادی لذتوںسے اپنے آپ کومحروم کر لیا ظاہری آرام و آسائش سے بے نیاز ہو گئے اپنے وطن خاندان او ررشتہ داروں سے اور عائلی اور پر سکون زندگی ترک کرکے بڑے بڑے خطرناک سفر کرتے رہے تاکہ عرفان کا ایک گھونٹ تشنہ دہان معرفت کے گلوں کو ترک کر دے ۔

جب بھی ہمارے ائمہ  سے پوچھا گیا کہ بہترین عمل کیا ہے فرمایا : معرفت  ۔

اسی لئے کہاجاتا ہے کہ کیمیاکے بدلے معرفت کھرا سودا ہے اگر کیمیا کے بدلے معرفت ملے تو لے لو کیونکہ کیمیا معرفت کے بغیر فقیری اور تنگ دستی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا کہ اہل بیت  کو کیسے پہچانیں ؟ ظاہر سی بات ہے قرآن سے بہتر اہلبیت کو کون پہچنواسکتاہے ارشاد ہوتا ہے ۔

انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس  ۔۔

ہم نے تم اہلبیت  کو تمام فضائل و کمالات کا مرکز اور ہر قسم کی برائی او رعیب و نقص سے دور قرار دیا ہے ۔ 

اس کے بعد ہمیں جاننا چاہیئے کہ ہم کس سے تمسک کریں اور کس کے در سے کسب فیض کریں ۔ اپنی زندگی میں کسکو نمونہ عمل قرار دیں؟ خلاصہ یہ کہ ہمیں پتہ ہو نا چاہیے کہ ہمارا راہنما کون ہے؟ 

رسول خدا نے فرمایا: ان الحسین مصباح الھدیٰ ۔ ۔

حسین ہدایت کے چراغ ہیں ۔۔یعنی حسین چراغ ہیں ۔

رسول یہ بھی فرماسکتے تھے کہ حسین پروفیسر ہیں حسین لکچرار ہیں حسین کسی مدرسے کے استاد یا کسی بڑی یونیورسٹی کے  معلم ہیں ۔

مگر یہ سارے لوگ خود کسی چراغ کے محتاج ہیں ہمیں معلوم ہوناچاہیئے کہ چراغ کون لوگ ہیں ؟

چراغ زندگانی رسول اکرم ہے ۔چراغ زندگی نامہ امیرالمومنین ہے ۔چراغ جناب فاطمہ زہراہیں ۔چراغ امام حسنین ہیں ہم سب پر واجب ہے کہ اس چراغ اپنی زندگی کو نورانی بنائیں اپنے تاریک دماغوںمیں اجالا کریں ۔

 دوسری اصل :محبت:

دوسری اصل محبت ہے جو اہل بیت ہے جو اہل بیت سے تمسک کا ذریعہ بنتی ہے اس راہ میں کوئی پیچ و خم نہیں اس راستے میں کوئی دشواری نہیں اس لئے کہ جب ہم نے انکا عرفان حاصل کر لیا انکو پہچان لیا اور یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ تمام فضائل وکمالات کے حامل ہیں اور ہر نقص و عیب سے پاک ہیں تو ہم خود بخود انکی محبت میں گرفتار ہو جانے لگیں ۔ہماری فطرت یہ ہے کہ جب ہم کسی اچھی چیز کو دیکھتے ہیں یا ہماری نظر کسی حسین چیز پر پڑتی ہے تو ہم اس کے عاشق ہو جا تے ہیں اسکی محبت ہمارے دلوں میں پیدا ہو جا تی ہے ۔

اس لئے محبت اہل بیت فطری چیز ہے مگر اس کے لئے عرفان ضروری ہے ۔

عشق و محبت کے معجزے بہت بلند ہیں عشق کی کیفیت و لذت سے عاشق ہی آشنا ہے ۔

ہم سے پوچھو عشق اہل بیتکا کیا مزہ ہے ہم اس عشق کے مارے ہوئے ہیں اور اسی عشق کے لئے زندہ ہیں ۔

تیسری اور آخری اصل :ولایت ۔لفظ ولایت خود حدیث پیغمبراور آیات قرآنی سے لیا گیا ہے۔ھنالک الولایةللہ الحق  اطیعوااللہ واطیعوالرسول و اولی الامرمنکم ۔ 

ولایت یعنی رام کئے ہوئے گھوڑے کی طرح اپنی مہار اپنے آقااہل بیت کے ہاتھوںمیں دےدینا آپکے ہم غلام آپ جدھرچاہیں ہمیں لے چلیں جس راستے پر چاہیں ہمیں موڑ دیںہم تابع محض اور سراپا تسلیم ہیں ۔

اس دنیا میں ہم ۷۰ستر، ۸۰سال مسافر ہماری دلی آواز یہ ہے کہ ہمیں راستہ بتائیں ہمیں رزق حلال کے راستے دکھائیں ہماری اقتصادی زندگی ،عائلی زندگی ،سماجی زندگی اور زندگی کے دوسرے تمام پہلوﺅںمیں آپ کو اختیار ہے کہ جس طرف چاہیں ہمارا رخ موڑ دیں ۔

ولایت: یعنی ہم نے اپنے آپ کو اپنے آقا اپنے سید وسردار اپنے مولا محمد  ،علی ،فاطمہ، حسن ، وحسین کے حوالہ کر دیا ہے ۔

یہ تین اصول ہیں جنکے ذریعے ہم اہلبیت تک پہونچ سکتے ہیں ۔

اصل اول :معرفت ہے ا س باب میں نور ہی نور ہے ۔

اصل دوم : محبت ہے اس باب میں کیف و سرور او رعشق و مستی ہے ۔

اصل سوم : ولایت اس میں سپردگی ہے اطاعت و پیروی ہے ۔

اس تینوں اصول کے سلسلے میں ارشاد ات پیغمبرپیش خدمت ہیں ۔

اصل اول معرفت :

رسول اکرم نے فرمایا :

“من ما و لم یعرف لا یعرف امام زمانہ مامیتۃ جاھلیۃ” اگر کوئی مر جائے او رامام  کو نہ پہچانے تو وہ ابوجہل اور میرے چچا ابو لہب کی موت مرتا ہے اسکی موت جاہلیت کی موت ہے  ۔ سلیم بن قیس کہتے ہیں کہ  :

 میں نے امیر المومنین  علی ابن ابی طالب  سے سوال کیا ؛ گمراہی کا سب سے پہلا مرحلہ کیا ہے ؟

امام نے فرمایا :ادنیٰ ما یکون بہ الرجل ضالا  ؟ 

امام علی ع فرماتے ہیں : ادنی ٰ ما یکون العبد بہ ضالاً ان لا یعرف حجۃ اللہ و شاھدہ علی عبادہ الذی امر اللہ بطاعتہ و فرض ولایتہ  

گمراہی کا پیلا زینہ ، خدا کی حجت اور بندوں پر اس کے گواہ کو نہ پہچاننا ہے ، جس کی اطاعت اور ولایت حکم اللہ نے دے رکھا ہے ۔

سلیم نے کہا :یا علی میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ کوں ہیں ؟مولا نے جواب دیا : قرآن سے پوچھو۔

سلیم نے پوچھا مولا قرآن میں کس جگہ ؟ مولا  نے پھر اس آیت کی تلاوت کی :یا ایھاالذین اٰمنوا اطیعوا اللہ واطیعو الرسول و اولی الامر منکم  ۔

سلیم کہتے ہیں کہ اسکے بعد مسئلہ میرے لئے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا میرے لئے لازم ہے کہ دامن علی  و فاطمہ  او رانکی اولادوں سے متمسک رہوں۔

اس لئے ہمیں لینن اسٹالین اور یورپ یونیورسٹی کے اساتذہ کے پیچھے دوڑنے کی ضرورت نہیں ہم دین کو بھی اہل بیت  سے لیتے ہیں اور جہنم سے بچنے کا امان نامہ بھی انھیں سے مانگتے ہیں او رجنت انھیں سے چاہتے ہیں اس لئے کہ ہمیں معلوم ہے رحمت حق کا نزول کہاں ہوتا ہے اور رحمت پروردگار کے لئے واسطہ کون لوگ ہیں ۔

امام جعفر صادق فرماتے ہیں : من بات لیلة لا یعرف فیھا امامہ مات میتة جاھلیة 

اگر کوئی صرف ایک رات اہل بیت  کو پہچانے بغیر سو جائے تو گویا وہ اس رات ابولہب کی موت مر گیا ۔

اے جوانوںاور نو جوانوں تم نے ابھی ابھی دینی شعور حاصل کیا ہے خبر دار تمہارے دلوں میں یہ خیال نہ گزرے کہ ائمہ  نے اپنی تعریف میں یہ باتیں بیان کی ہیں۔

ایساہرگز نہیں ہے ان کا مقصدصر ف یہ ہے کہ تم کو رحمت حق کا ایڈریس بتادیں وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ تم راہ نجات پہچان لو ۔

اصل دوم : محبت 

محبت اہلبیت کے سلسلے میںرسول اکرم  فرماتے ہیں : 

خد انے تمام انبیا ءکو خلق کیا مگر وہ ایک درخت کے مانند ایک ہی وجود نہیں ہیں بلکہ انکوالگ الگ صفات و کمالات کے ساتھ خلق کیا گیا ہے مگر میںعلی ایک درخت کے مانند ایک ہی خلقت پر پید اکئے گئے ہیں اور میرے اہل بیت ۔

میں جڑہوں تو علی ؑ تنا فاطمہ  اس درخت کا نمو او رسر سبز و شادابی ہیں یعنی اگر فاطمہ کو الگ کر دیا جائے تو ہم سوکھ جائیں گے ۔

اللہ اکبر پھر رسول  نے ارشاد فرمایا : حسن و حسین  اس درخت کے پھل ہیں۔ 

رسول اکرم  نے پورے درخت کی تعریف کی جڑ تنا سبب نمو اور اسکی سبزی و شادابی پھل مگر ایک چیز رہ گئی وہ یہ کہ درخت میں پتے بھی ہوتے ہیں فرمایا : ہمارے شیعہ اس درخت کے پتے ہیں  ۔

اب ہما ر افریضہ ہے کہ ہم کوشش کرتے رہیں کہ کبھی بھی اس مقدس درخت سے جدا نہ ہونے پائیں ۔

 ریا اس درخت سے پتوں کو جدا کر دیتی ہے ہمیں ریا سے پیچھا چھڑانا ہے تہمت و الزام تراشی اس درخت سے پتو ں کو الگ کر دیتی ہے ہمیں ان سے بچنا ہے گناہ و معصیت اس درخت کے پتوں کو جھاڑ دیتی ہے ہمیں اس سے ہوشیار رہنا ہے ۔

ہما رے شیعہ اس درخت کے پتے ہیں پھر فرماتے ہیں : جو کوئی بھی اس درخت سے کسی بھی حصہ سے متمسک ہو گیا نجات پاگیا ۔

یعنی اگر کسی نے دامن علی کو تھام لیا نجات پائے گا اگر کسی نے دامن حسنین کو پکڑ لیا کامیاب ہو گیا کوئی دامن فاطمہ کے سائے میں آگیا وہ بھی کامیاب ہو گیا کیونکہ اگر تم علی کے دامن کو تھاما حسنین وفاطمہ سے بھی متمسک ہو گئے کیونکہ یہ کوئی الگ الگ اورجداوجود نہیں ہیں بلکہ سارے کے سارے ایک وجود ہیں ایک درخت کے مانند اس لئے ایک سے تمسک سب سے تمسک ہے اور ایک سے انحراف سب سے انحراف ہے ۔

 پھر پیغمبرفرماتے ہیں: اس شخص پر جو ہم سے متمسک نہ ہو سکا ہم سے نہ مل سکا ۔من زاغ ہویٰ ۔ جو ہم سے جدا ہوا وہ بد بخت ہو گیا اس کا مقدر پھوٹ گیا جس کے ہاتھ سے ہمارادامن چھوٹ گیا ۔

ولوان عابداً عبداللہ بین الصفاوالمروتہ الف عام ثم الف عام حتی یصیر کا لشن البالی 

اگر کوئی خداکی ہزاروں سال عبادت کرے یہاں تک کہ اس کا بدن مشک کی طرح سوکھ جائے ۔ 

ثم لم یدرک محبتنا اہل البیت 

مگر وہ محبت اہل بیت  سے دور ہو اور محبت ائمہ  اپنے دل میں پیدا نہ کر پائے تو ۔کبہ اللہ منخریہ فی النار  

تو خدا اس کو جہنم میں چھونک دے گا یعنی خدا کو محبت اہل بیت  سے اس قدر محبت ہے کہ اگر کوئی عابد و زاہد بھی اس کے بغیر آئے تو ہماخدا اس کو جہنم میں ڈال دے گا ۔

خوش نصیب ہیں ہم کہ ہمارے دل عشق اہل بیت  سے سر شار ہیں ہمارے پاس محبت کا وہ سرمایہ ہے جو خداکے نزدیک انتہائی عزیز ہے اور خدا قر آن میں اسی کا حکم دیتاہے ۔قل لا اسئلکم علیہ اجراالاالمودةفی القربیٰ ۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے سوال کیا یہ قر بیٰ کون لوگ ہیں؟ 

فر مایا: علی  فاطمہ اور انکی اولاد یں  ۔

اصل سوم : ولایت 

ولایت: یعنی رنگ پکڑنا اور اسی رنگ میں رنگ جانا۔ امام محمد باقر  فرماتے ہیں :

دین اہ ایمان کی بلندی اورخداکی خوشنودی ہم اہل بیت  کی باتو ں پر کان دھرنے اور اس پر عمل کرنے میں ہے۔اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں ۔میں کافی دوری طے کر چکا تھا۔تکا ن سے میرا براحال تھا یہاں تک کہ میرا تلوار کا بوجھ بھی میرے لئے برداشت سے باہر تھا میں نے اس کو کندھے سے اتار کے پیٹھ پر لاد لیا ۔

امیرالمومنین آگے آگے چل رہے تھے اور ہم سب پیچھے پیچھے چل رہے تھے ہمارے درمیان خاموشی کا پہرہ تھا کہ اچانک امام رکے اور میری طرف رخ کرکے کہا اصبغ میری بات کہاں تک مان سکتے ہو اصبغ نے جواب دیا اگر حکم دیں تو اپنے سے پیچھے شخص کو بغیر دیکھے مار دوں اور اگر بعد میں پتہ بھی چلے کہ وہ میرا جوان لڑا تھا تو مجھے مطلق رنج نہ ہوگا بلکہ میں خوشی محسوس کروںگا کہ میں آپ کا مطیع ہوں ۔

امام نے فرمایا :نجات اسی میں ہے کہ ہماری اطاعت کرو۔ہمارے رنگ میں رنگ جاﺅ حلال وحرام کی رعایت کرو عرفان اہل بیت  محبت اہل بیت اور ولایت اہل بیت کی ہی وجہ سے آدم کی توبہ قبول ہوئی۔

میرے پاس نہ موقع نہ طاقت ورنہ میں بیان کرتاکہ محبان اہل بیت  کا دنیا وآخرت میںکیامرتبہ ہے ۔ اور خدا انکے ساتھ کیا نیکیاںکرتاہے ۔

آٹھویں امام  خراسان جا رہے تھے ابھی نیشاپور کے باہری علاقہ تک پہونچے تھے امام نے کہا قافلہ ٹھہراﺅ امام اترے ایک جنازہ جارہا تھا امام  تشیع جنازہ میں آگئے بڑھے لوگوں نے سونچا کچھ قدم چل کے واپس آجائیں گے مگر امام قبر تک گئے اور خود قبر میں اترے جنازہ کے چہرے کو کھولا اور پیشانی پر بوسہ دیا۔جیسے ہی امام قبر سے باہر آئے لوگو ںنے پوچھا کیا آپ اسکوجانتے ہیں جبکہ نیشاپور کا یہ سفر آپکے لئے پہلا سفر ہے امام نے فرمایا :اسکی اولاد کو بھی جانتا ہوں اور اسکی آنے والی نسلوں سے بھی باخبر ہوں ۔

کسی نے پوچھا آپ کو اس سے اتنی محبت کیوں ہے ؟فرمایا وہ میرا شیعہ تھا ۔

عزیزوسچ بتاﺅ کیا محبت اہل بیتؑ کے بعد بھی انسان گناہوںپہ باقی رہ سکتا ہے ؟کیا اسکی مو ت مشکل ہو سکتی ہے؟ کیا اسکے بعد بھی برزخ ۔معیشةضنکا ہو سکتی ہے ؟کیا اس کے بعد بھی انسان روز محشر رسوا ہو سکتا ہے؟ 

نہیں محبت ان تمام مشکلا ت سے انسان کو نجات دیتی ہے اور انسان خدا کے سامنے سر خرو ہو تا ہے ۔

معرفت کا لازمہ محبت ، محبت کالازمہ ولایت ،اور ولایت بہشت ہے جنت ہے ۔

ہم بھی خدا سے مغفرت اور شفاعت اہل بیت  کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے اور اسکے علاوہ ہے بھی کیا جو ہم چاہیں ۔ایک واقعہ ۔

سب سے پہلے میں یہ واضح کروں کہ جس شخص کے بارے میں بتانے جارہا ہوں اس کو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب میں قم میں طالب علم تھا ایک جمعرات میں شبہائے پشاور نامی کتاب کے مصنف سے ملنے کے لئے تہران آیا ہوا تھا وہ دل کے مریض تھے اور صاحب فراش تھے ۔جب میں انکی خدمت میں پہونچا تو علیک سلیک کے بعد انھوں نے وہاں بیٹھے ایک شخص سے میرا تعارف کرایا اور اس شخص سے کہا یہ بچہ انشاءاللہ آنے والے وقت کا ایک بڑا خطیب ہے تم اپنی زبان سے اپنا واقعہ ان سے کہو ۔اس شخص نے میری طرف دیکھا اور کھڑا ہو گیا اس نے مجھ سے کہا کیا آپ میرے ساتھ پارس ہوسٹیل چل سکتے ہیں؟

میں نے کہا جناب میرے پاس وقت بہت کم ہے میں جمعہ کو مدرسہ واپس چلا جاﺅں گا۔

اس نے کہا بس چاہتا ہوں کہ کچھ سنانے سے پہلے میں آپ کو وہ نسخہ اور ڈاکٹری رپورٹ دکھا دوں تاکہ آپ کو معلوم ہو میںکس حال میں تھا اور ڈاکٹروں کی میرے متعلق کیا رائے تھی ۔لیکن اگر آپ کے پاس وقت نہیں تو میں اصرار نہیں کروں گا آپ انھیں سے پوچھیں اس نے صاحب شبہائے پشاور کی طرف اشارہ کیاکہ میں کس حال میں تھا اور کیا واقعہ میرے ساتھ پیش آیا ۔یہ پورے واقعہ میںمیرے ساتھ تھے اور انکے یہاں میری آمد و رفت تھی اور واقعہ کے جزیات سے انکو آگاہ کرتا رہتا تھا۔اس کے بعد اس نے واقعہ یوں شروع کیا ۔

صبح میری آنکھ کھلی ہمیشہ کی طرح میں نے وضو کے ارادہ سے اٹھنا چاہا مگر نہ اٹھ سکا کافی کوشش کے بعد میںنے اپنی زوجہ کو آواز دی اس نے سہا ر ادیا مگر مجھ سے ممکن نہ ہو سکا کہ اٹھوں میں نے وہیں پر لیٹے لیٹے وضو کیا اور بستر پر ہی لیٹے نماز پڑھی ۔ڈاکٹر کو فون کیا گیا اس نے معائنہ کے بعد میرے مرض کو لا علاج بتایا اس نے میری زوجہ سے کہا کہ ان کا پورا بدن شل ہو گیا ہے میں پارس ہاسپٹیل میں چالیس روز تک گوشت کے ٹکڑے کی طرح بےجان وحرکت پڑارہا میں صرف بول سکتا تھا اور سمجھ سکتا تھا ا س چالیس دن کے عرصہ میں ایک سے ایک ماہر اور حاذق ڈاکٹر آئے اور سب نے میرے معائنہ اور اکسرے وغیرہ کی رپورٹ دیکھنے کے بعد ایک زبان ہو کر یہی کہا یہ مرض لاعلاج ہے اور دنیا کے کسی کونے میںبھی اس کاعلاج نا ممکن ہے ۔

جب میری زوجہ یوری سے مایوس ہوگئی تو رو رو کر مجھے حقیقت حال سے آگاہ کیا ورنہ وہ ہمیشہ مجھے دلاسہ دیتی تھی ۔

مگر اس وقت وہ مایوس ہو چکی تھی اس نے روتے ہوئے کہا تمام ڈاکٹروں کا کہنا ہے یہ مرض لاعلاج ہے اور دنیا کاکوئی ڈاکٹر بھی اس کا علاج نہیں کرسکتا ۔

میں نے اس سے کہا مگر میںایک ایسے ڈاکٹر کو جانتا ہوں جو لاعلاج مرضوں کا بھی علاج جانتاہے اس نے تعجب سے کہا وہ کون ہے ؟ پس کہا ۔ سید الشہداءحضرت امام حسین  ۔

بس تم عراق کا ویزہ مہیا کرو ۔

مگر کسی سے یہ نہ کہنا کہ ہم کربلا جارہے ہیں اگر کوئی پوچھے تو کہہ دینا ہم اسرائیل جا رہے ہیں اس نے تعجب سے پوچھا کیوں ؟ 

میں نے کہا لوگوں کے درمیا ن کمزور عقیدوں کے بھی لوگ ہیں مضبوط عقیدوں کے بھی اگر میںکربلا گیا اور خدا کو میری شفا منظور نہ ہوئی تو انکے عقیدوں کو چونٹ پہونچے گی سونچیں گے حسین شفا نہیں دے سکتے بس اسی لئے کسی سے تذکرہ نہ کرنا ۔

میری شریک حیات نے سامان مہیا کیا اور سب سے یہی کہاکہ ہم اسرائیل جا رہے ہیں اب ٹکٹ کا انتظام کرنا تھا مگر اس سے پہلے یہ سوچنا تھا کہ کربلا ہوائی جہاز سے جائیں یا زمینی سفر کریں استخارہ دیکھا تو ہوائی سفر منع آیا زمینی سفر بھی یا ٹرین سے کرنا تھا یا بس سے ٹرین کا سفر منع آیا میری زوجہ نے بس کے تین ٹکٹ خریدے دو میرے لئے اور ایک خود کے لئے کیو نکہ مجھے دو کرسیوں کی ضرورت تھی لوگ ہم سے رخصت ہو کے جا رہے تھے صبح میری بیوی ویل چئیر کے ذریعے مجھے بس اڈے لے گئی اور وہاں ہم لوگ سوار ہوئے اور ہما ر اسفر شرو ع ہو گیا جب ہم کاظمین پہونچے تو ہم نے دور سے زیارت کی اور میں نے اپنی زوجہ سے کہا کہ میں بیمار ہوں اور تم بھی میری وجہ سے بہت پریشان ہوچکی ہو بہتر ہے ہم کربلا چلیں اس نے بھی ہاں بھر دی اور ہم کربلاپہونچ گئے ۔۔پورا رجب ابی عبد اللہ الحسین  میں گزر گیا میں میری بیماری میں کوئی افاقہ نہ ہوا ۔

ہر روز میری زوجہ مجھے حرم لاتی اور ہر رو ز میں ضریح کی طرف حسرت بھری نظروں سے دیکھتا زبان حال سے کہتا کیا اپنے چاہنے والے کو خالی ہاتھ لوٹا دیجئے گا ۔

پھر اپنے آپ سے کہا مایوس نہ ہو صبر کرو اگر تمہیں شفا نہیں ملتی تو رو ز اسی طرح آتے رہو رو رو کے گڑگڑا کے دعا کرتے رہو ان سے باتیں کرتے رہو یہ ایک دن شفا ضرور دیں گے ۔

رجب جیسے ہی ختم ہوا میں نے اپنی زوجہ سے کہا گاڑی کرو ہم حلہ چلیں گے شعبان میں سید محمد کی زیارت کریں گے پھر سامرا جائیں گے اور پھر دوبارہ کاظمین ہوتے ہوئے واپس وطن چلیں گے وہا ں جب کوئی ہم سے ملنے آئے گا تو ہم کہیں گے کہ اسرائیل کے ڈاکٹروں نے بھی اس مرض کو لاعلاج بتایا ہے 

ہم وہاں سے سید محمد پہنچے پانچ روز کے بعد وہاں سے کاظمین کا ارادہ تھا ہم ایک منی بس پر سوار ہوئے بس بھری ہوئی تھی مگر ڈرائیور کے بغل والی ایک سیٹ خالی تھی بس چل پڑی اور کاظمین کے لئے پھر سے میرا سفر شروع ہو گیا اچانک بیچ راستے میں ڈرائیور نے بریک لگائی اور کاظمین جانے والا آخری مسافر سوار ہو گیا ۔

مسافر جو ایک باوقار اور وجیہ جوا ن تھا اسی ڈرائیور کے بغل والی خالی سیٹ پر بیٹھ گیا اور دلنشین انداز میں قرآن پڑھنے لگا ۔ویطعمون الطعام علیٰ حبہ مسکینا و یتیما و اسیرا ۔  

جوبھی فقیر ہے وہ دراہل بیت پہ جائے جو بھی مسکین ہے وہ اہل بیت  سے مانگے جو بھی اسیر ہے وہ اہلبیت  سے رہائی کا سوال کرے۔

کیونکہ یہ وہ ایام ہیں جن میں اہلبیت  کچھ خاص اندا زمیں اپنے در پر پہونچنے والوں کی حاجت روائی کرتے ہیں ۔

کیونکہ وہ خود یتیم ہوئے تھے جانتے ہیں یتیمی کیا ہے وہ اسیر ہوئے تھے انھیں پتا ہے اسیری کیا ہے ۔

انما نطعمکم لوجہ اللہ لا نرید منکم جزاءولا شکورا ۔  

میں دل میں کہا خدایا یہ کون شخص ہے جو اس طرح قرآن پڑھ رہا ہے وہ قرآن پڑھ رہا تھا اور پوری بس کی ہچکیا ں بندھ گئی تھیں ڈرائیور زارو قطار رو رہا تھا ۔ایک مرتبہ بلیغ و فصیح عربی میں ڈرائیور کو مخاطب کیا اس مرتبہ مشہد جاﺅ گے ؟

اس نے جواب دیا جی ہاں بہت سال کے بعد موقع ملا ہے ۔

اس جوان نے اپنی جیب سے ایک تھیلی نکالی اور کہا یہ امانت رکھ اور جب مشہد جانا تو وہاں حرم کے روبرو ایک شخص فلاں مقام پر اس شکل و صورت کا ملے گا اس کو یہ دینا اور کہنا تمہاری ضرورت کے لحاظ سے کافی ہے ۔

اس کے بعد اس نے میری طرف نگاہ کی اور اس فصیح و بلیغ عربی اور عرب لہجہ کے بعد مجھ سے ٹھیک تہرانی لب و لہجہ میں گفتگو کرنے لگا آقائے حسینی ۔ جنا ب حسینی صاحب ۔ اس نے میرا پورا نام لیا اور حال چال لینے لگا میں نے جواب دیا میرا سارا جسم شل ہو گیا ہے ڈاکٹروں نے اس کو لا علاج بتا یا ہے میں ٹھیک نہیں ہو سکتا میں اسی حالت میں مر جاﺅں گا ۔

وہ جوان اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنا ہاتھ میرے سر کے نیچے لے گیا اور آہستہ سے میرے جسم کے کچھ حصے پر ہاتھ پھیرنے لگا اور پھر اپنی جگہ بیٹھ گیا ۔

اس نے پھر میری طرف دیکھا اور کہا تم بالکل ٹھیک ہو تمہیں کوئی بیماری نہیں ہے ۔

اور ساتھ ہی اس نے بیچ صحرامیں ڈرائیور سے گاڑی روکنے کے لئے کہا ڈرائیور نے کہا اس صحرا میں آپ کہاں جائےںگے نوجوان نے کہا آ ج یہیں ٹھہروںگا لہجہ میں کس قدر تحکم تھا ڈرائیور بھی اس کے احترام میں نیچے اترا اور پوری بس کے تمام مسافر اسکے احترام میں اترے میں بھی بے خودی میں نیچے اتر گیا اور جب مجھے خیال آیا کہ میں تو بیمار تھا ہل بھی نہیں سکتا تھا میرا پورا جسم فالجہ کے زیر اثر تھا آخر میں کیسے اپنے آپ اترا ۔۔۔۔۔۔۔

مجھے یقین ہو گیا کہ اسی جوان نے مجھے شفا دی جلدی سے بھیڑ کو چیڑ کے آگے بڑھا مگر جوان جا چکا تھا ۔

میں نہیں جانتا جناب حسینی اس وقت دنیا میں ہیں یا نہیں ؟

لیکن اگر وہ زندہ ہیں اور ان تک میری یہ تقریر پہونچتی ہے تو میں ان سے کہنا چاہتا ہوں ایک بار پھر سے مجھ سے مل لیں تاکہ میں دنیا کو دکھا سکوں کہ دست اہلبیت  سے شفا پانے والے کیسے ہوتے ہیں ۔

یہ وہی ہاتھ ہے جسکے بارے میں رسول نے فرمایا کہ قیامت میں یہ ہاتھ اپنے تمام چاہنے والوں کی مدد کے لئے بڑھے گا ۔

بس ہماری کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ ہم گناہ کبیرہ نہ کریں صغیرہ پر اصرار نہ کریں اور ہمیشہ ہمیں اس با ت کا خیال رہے کہ ہم اہلبیت  کے شیعہ ہیں ۔

 

مزید  فتح خیبر کی داستان

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.