رحمت ورنہ عذاب

0 0

پرچہ جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوگا تو ماہ مبارک رمضان شروع ہو چکا ہوگا۔ کچھ مسلمان بغیر روزہ کے رمضان کی توہین کریںگے۔ اور کچھ مسلمان روزہ رکھ کر رمضان کا سامنا کریںگے۔ بہت کم ہوںگے بہت ہی کم ہوںگے وہ مسلمان جو ماہ رمضان کا جون کی سخت گرمی میں استقبال کریںگے۔ اگرچہ ہمارے ہادی و رہبر و مولی و آقا جناب امیرالمومنین علی ابن ابی طالب السلام فرماتے تھے مجھے روزہ پسند ہے گرمی کا اور جہاد پسند ہے تلوار کا۔

جناب عیسیٰ نے اپنی مادر گرامی کو زندہ کر کے پوچھا آپ دنیا میں واپس آنا چاہتی ہیں یا نہیں آپ نے فرمایا ضرور واپس آنا چاہتی ہوں لیکن صرف اس لئے کچھ نمازیں سخت ٹھنڈی راتوں میں پڑھ سکوں اور کچھ روزے سخت گرم دنوں میں رکھ سکون۔ جناب مریم سخت روزہ اور مشکل نماز کا استقبال کر رہی ہیں اور مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام سخت گرمی کے شدید روزہ کے لئے پرشوق نظر آتے ہیں۔ کیا حضرت علی اور جناب مریم کے اقوال صرف سن لینے کے قابل ہیں۔ اور یہ کہنا کافی ہے کہ قابل تعریف یہ اقوال یا خوب فرمایا ہے یا ایمان میں میں تازگی اور جلا پیدا ہوتی ہے ان اقوال سے یا یہ تو حضرت ہی فرما سکتے تھے یا اس فقرہ سے آپ کے جذبہ عبادت و راہ خدا میں آپ کی مشکل پسندی واضح ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ تعریفی اقوال اور ریمارک سے ان حضرات سے عقیدت و وابستگی کا حق ادا ہوتا ہے اور نہ ان اقوال ہی کا حق ادا ہوتا ہے۔ حق ادا کرنا ہے تو ان اقوال کا ہمارے اندر فکر پر اور رفتار عمل پر اثر پڑنا چاہئے۔ یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہم کو شکر خدا ادا کرنا چاہئے کہ ہم کو ایک عظیم عبادت کی انجام دہی کا موقع مل گیا اور ہم کو غیر معمولی ثواب حاصل کرنے اور اپنے گناہوں کو معاف کرانے کا موقع مل گیا۔ احکام خدا کی تعمیل سے فرار آج مزاج مسلم بن گیا ہے۔ نماز ہے تو سرپٹ پڑھی جا رہی ہے نہ قرائت درست نہ سانس درست نہ قیام و قعود درست نہ واجبات ادا نہ ارکان کی واقفیت۔ نماز کیا پرھ رہے جیسے کسی دوسرے کی طرف سے پڑھ رہے ہیں۔کہ کسی طرح ختم ہو۔ نماز پڑھتے وقت معلوم ہوتا ہے کوئی پیچھے ڈنڈا لئے دوڑا آتا ہے لہذا جی جان چھوڑ کر تیز سے تیز نماز پڑھی جا رہی ہے۔ سچ ہے شیطان تو ہمات کا ڈنڈا لئے دوڑا رہے ہے تاکہ کہیں جزبہ عبودیت ان کو اپنی گرفت میں نہ لے لے۔ ہم نماز میں بھی شیطان ہی کی اطاعت کر رہے ہیں یہ ہے ہماری بد نصیبی کی حد۔ فطرہ کم سے کم قیمت کا نکلے۔ اور کم سے کم نکلے بلکہنہ نکلے تو بہتر ہے۔ زکوٰۃ کسی نہ کسی طرح واجب نہ ہونے پائے۔ خمس سے بچ نکلیں اور بچ نکلنے کے لئے تاریخ خمس سے پہلے خرچ کر لیں۔ کسی کو قرض دیدیں۔ غرضکہ کچھ کر لیں مگر فطرہ زکوٰۃ ، خمس سے فرزر کا موقع مل جائے۔ یہ اور اسی طرح کی بہت سی مشالیں اس کا ثبوت ہیں کہ احکام خدا سے فرار آج مزاج مسلم بن چکا ہے۔ فرار کی پہلی منزل واجب سے بچ نکلنے کی کوشش ہے اور آخری منزل واجبترک کرنے کی ہے بلکہ بحث کرنے کی ہے کہ آکر اس گرمی میں اس روزہ کا کیا فائدہ۔ اس لئےکہ دنیاوی منفعت ۔ اور مادی فائدہ کے علاوہ تو کوئی فائدہ غین پر ایمان لانے والے مسلمان کی نظر میں ہے نہیں۔ وہ روحانی مذہب کو بھی صرف مادی حد تک مانتا ہے۔ نذر چھکنے میں بڑی عقیدت کا اظہار کرتا ہے۔ نذر کھانے میں سفا ثواب سب ہی کچھ مانتا ہے۔ لیکن روزہ رکھنے میں نہ صرف قانون شکن ہے بلکہ قانون صوم پر بھ پیٹ معترض ہے۔اور قانون شکنی کا پرجوش حامی ہے لیکن جاہل کا جہالت پر مصر رہنا۔ مریض کا بدپرہیزی پر جان دینا بچہ کا ضد کرتے رہنا۔ بری عادتوں کے لتٰیّ افراد کا اپنی عادتوں پر باقی رہنا ہر طرح برا ہے۔ قابل مذمت ہے تو مسلمان کا دین سے جاہل رہنا۔ احکام دین سے اوگروان رہنا۔ بے نمازی کا بےنمازی رہنا ۔ روزہ خوروں کا روزہ خور رہنا۔ مالی واجبات ہڑپ کرنے والوں کا مال خدا اور رسول و امام کو ہڑپ کرتے رہنا بھی ہر طرح برا ہے۔ قابل مذمت ہے ۔ قابل نفرت ہے۔ لہذا تبدیلی آنا چاہئے۔ تبدیلی لانا چاہئے ۔ تبدیلی لانے میں حصہ لینا چاہئے۔

مزید  ماہ صیام کے انیسویں دن کی دعا:تشریح و تفسیر

ماہ رمضان رحمت کا مہینہ ہے۔ افطاری و سحری کی رحمت سے رمضان کی رحمتوں کو نہ پئے۔ بلکہ گناہوں کی معافی مل جانا۔ رکی ہوئی دعاؤں کا قبول ہا جانا۔ نفس میں نافرمانی سے نفرت پیدا ہو جانا۔ قلب و دماغ میں خدا کی اطاعت کا مہینہ قرار دیا گیا۔ اب یہ ہماری توفیق پر پر متحصر ہے کہ ہم ان رحمتوں کو حاصل کرتے ہیں یا رمضان میں روزہ نہ رکھنا اپنے لئے عذاب ہی عذاب مول لیتے ہیں۔

حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں ہر وہ دن عید کا دن ہے جو گناہ کے بغیر بسر کیا جائے اور عید تب ہی عید ہے جب ہمارے اعمال کو خدا قبول کرے۔ لیکن اگر اعمال ہی نہ ہوں بلکہ اعمالیوں ہی بداعمالیاں ہوں تو پھر رحمت کے بجائے عذاب ہی عذاب کو ہم سیٹ رہے ہیں۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جس دن نہ ہلے پناہ عذاب ہمارے سامنے آئےگا اس دن ہمارے لئے نہ طاقت برداشت ہوگی نہ جائے پناہ۔ لہذا آج ہی ہماری روش بدل جانا چاہئے۔ رحمت کے دروازے کھلے ہیں۔ تو بہ کریں اور روزے رکھیں۔ استغفار کریں اور اعمال قبول کرائیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.