دینی اقدارکوزندہ کرنے میں امام عالی مقام کا کردار

0 2

یہ ایاّم محرم کے ایاّم ہيں جی ہاں ایسے تقدیرسازایام جب دلوں میں تاریخ انسانیت کی سب سے عظیم تحریک کی یاد دوبارہ تازہ وزندہ ہوجاتی ہے ۔ جوں ہی محرم کی آمد ہوتی ہے، ہرسال عاشقان اہلبیت اطہار کے دلوں میں ایک عجیب طرح کی حرارت پیداہوجاتی ہے کیونکہ یہ وہ ایاّم ہيں جب سرکارسیدالشہداء نے کربلا کے میدان میں اپنے خون سے ایسی تاریخ رقم کی جورہتی دنیاتک کائنات عالم وآدم کے ہرمکتب فکرسے تعلق رکھنےوالوں  کے لئے عظیم درس اورمشعل راہ بن گئی ۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی محرم کی تاریخیں آتی ہیں امام عالیمقام کے درپرہرباشعوراوربیدارضیمرانسانوں کی پیشانی احترام سے خم ہو جاتی ہے ۔ہم بھی اس موقع پرسیدالشہداء اوران کے باوفااصحاب کے حضورپورے خلوص واحترام  کے ساتھ درودوسلام کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہيں ۔السلام علیک یا اباعبداللہ وعلی الارواح  التی حلت بفنائک علیکم منی جمیعا سلام اللہ ابدامابقیت  وبقی اللیل والنہار ۔سلام ہوآپ پراے حسین اوران پاک ومطہراروح پرجنھوں نے آپ کے قدموں میں جانیں نچھاورکیں ۔ آپ سب پرمیری طرف سے قیامت تک خداکادرود وسلام ہوجب تک میں زندہ ہوں اوریہ شب وروزجب تک باقی ہے ۔۔۔۔خداوندعالم کے حضوریہ دعا ہے کہ ہم سب کوانصاف وصداقت کے علمبردارحضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت اوران کے اعلی مقاصد کی معرفت حاصل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے اورہم سب کوحق کے سیدھے اورروشن راستے پرثابت قدم رکھے ۔آئیے اب امام حسین علیہ السلام کی تاریخ سازتحریک کے چندگوشوں سے آشناہوتے ہیں ۔گویندہ ۔۔ تمام انبیاء اوراولیاء الہی کی سب سے بڑی ذمہ داری ظلم وستم کے خلاف جہاد کرنا تھا اوران سب کا مشترکہ ہدف روئے زمین پردین خداکانفاذ تھا تاکہ انسانوں کی سعادت وفلاح کا راستہ ہموارہوسکے ۔ بلاشبہہ جوچیزکسی بھی تحریک کومحترم اورزندہ جاوید بناتی ہے وہ پاک اورالہی جذبہ ہوتا ہے ۔اورامام حسین علیہ السلام کی تحریک ایسی ہی تحریکوں میں ایک ممتازتحریک کا نام ہے جوراہ خداکے لئے تھی اوردین خدا کے احیاء کے لئے تھی ۔اسی لئے آج چودہ صدیاں گذرجانے کے بعد بھی اس عظیم ولافانی تحریک پرفراموشی اورناآشنائی کی گردنہیں بیٹھ سکی ہے اورآج بھی دنیا کی تمام حریت پسندقوموں اوربیدارضمیرانسانوں کے لئے مشعل فروزان بنی ہوئی ہے ۔ گویندہ ۔۔ امام حسین علیہ السلام کی تحریک ایک بہت ہی گہری اورچندجہتی تحریک ہے جس کے کثیرالجہتی اعلی مقاصد ہيں ۔ تاریخ پرنظررکھنےوالوں کا کہنا ہے کہ امام عالمیقام کی تحریک میں متعدد عوامل ومحرکات کارفرما اورموثرتھے ۔ایک کلیّ نگاہ میں ان تمام علل واسباب کوایک اعلی وارفع مقصدکے تناظرمیں جسے احیاء دین کہا جاتا ہے تلاش کیا جاسکتا ہے ۔ اسلام کی بے مثال تعلیمات سے جوکچھ ہم تک پہنچا ہے وہ سب پیغمبراسلام اوران کے اہل بیت کی وسیع کوششوں کا ہی نتیجہ ہے اسلام ان تحریکوں کا مرہون منت ہے جنھوں نے مختلف اوقات ومراحل میں تحریف وبدعت کے غبارکودین کے چہرے سے صاف کیا اورانسانیت کے سامنے نئے اورروشن افق کھولے ہيں ۔پیغمبراسلام کی رحلت کے بعد ان کے اہلبیت اطہار علیھم السلام نے پوری تاریخ میں دین کوبچانے اوراسے دوبارہ زندہ کرنے اورساتھ ہی دین کے چہرے کوبدعت وخرافات کی گرد سے پا ک وصاف کرنے کی سنگین ذمہ داریاں پوری شجاعت وقوت کے ساتھ نبھائی ہے اوراپنے اپنےدورکے حالات کے مطابق اہل بیت کی سبھی ہستیوں نے اپنے اس الہی فریضہ کومکمل طورانجام دیا ہے ۔گویندہ ۔۔ تاریخی شواہد اس بات کا ثبوت ہيں کہ پیغمبراسلام کی رحلت کے بعد جاہلیت کے اندھیرے دوبارہ معاشرے پرسایہ ڈالنےلگے تھے اورمسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے دین میں تحریف وبدعت کا رواج بڑھتا جارہا تھا ۔ اسلامی احکام وعقائداورشریعت اسلامی کی اس دورکے جاہ طلب اورظالم حکمرانوں کی مرضی اوران کے مفادات کے مطابق تفسیروتشریح کی جانے لگی تھی اوریہ مسئلہ اموی حکام کے دوراستبداد میں اپنے عروج پرپہنچتا جارہا تھا ۔ان حالات میں اہلبیت اطہارعلیھم السلام کوجوپرچمدارہدایت ورہنمائی تھے حاشیہ پرڈال دیا گیا تھا اورانھیں گوشہ نشینی کی زندگی گذارنےپرمجبورکرنے کی کوشش کی جارہی تھی اوریوں معاشرے کا نظم ونسق چلانے میں اسلام کے حقیقی کردارکوفراموش کردیا جارہا تھا ۔جودین کا جزء نہيں تھا اسے دین میں داخل کیا جارہا تھا اورپیغمبراسلام کی اصل تعلیمات کوآہستہ آہستہ ذہنوں سے محوکرنے کی کوشش ہورہی تھی اورعوام بھی بتدریج معاشرے میں رائج کی جانےوالی بدعتوں اورخرافات کے عادی بنتے جارہے تھے اوران کی طرف سے کسی بھی طرح کی مزاحمت کے آثاربھی نظرنہيں آرہے تھے ۔ اس طرح کے حالات میں پیغمبراسلام کے نورانی مکتب کے وارثوں نےاسلام کی اصلی تعلیمات کوزندہ کرنے اورپیغبمراسلام کے پیغامات کودوبارہ لوگوں تک صحیح اندازمیں پہنچانے کا بیڑا اٹھایا تاکہ معاشرے کوخواب غفلت سے بیدارکریں۔ اس مقصدتک پہنچنے کے لئے کبھی تودینی اقدارکوزندہ کرنےوالوں کے سامنے اپنی قربانی دینے کے سوااورکوئی راستہ بھی نہيں بچتا ان کا مقصدتھا کہ دین اوراسلامی تعلیمات صحیح صورت میں لوگوں تک پہنچ جائیں اورمعاشرے سے بدعتوں اورخرافات کی بساط لپیٹ دی جائے ۔گویندہ:  یزید پلید کی حکومت کے زمانے میں دین میں بدعت وانحرافات کا مسئلہ اپنے عروج پرپہنچ گیا تھا اوراس بات کا اندیشہ سراٹھانے لگا تھا کہ اسلام کی صحیح صورت تاریکی کے بادلوں میں نہ چھپ جائے ۔دینی اقدارمتزلزل ہوچکی تھیں اورمعاشرے کے افکارونظریات اورتہذيب وثقافت کوبری طرح سے نقصان پہنچایا جاچکا تھا ۔ قوم پرستی ، ثروت اندوزی ، دینی افکارکوپس پشت ڈالنے کے اقدامات اورظلم وستم وبدعنوانیوں وبرائیوں کورواج دینے کی کوششیں اس دورکے حکام کے ایسے اقدامات تھے جنھوں نے معاشرے کوکھوکھلاکردیاتھا اوران مشکلات نے بہت سی برائیوں کوامت اسلامیہ پرمسلط کردی تھیں ۔ یہ تمام ترحالات اس بات کا باعث بنے تھے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام ایک عظیم تحریک کا آغازکریں اوروقت وحالات کے پیش نظرانھوں نے تاریخی قیام کیا اوریہ نعرہ لگاکراٹھ کھڑے ہوئے کہ میں اپنے نانا کے دین کی اصلاح کے لئے نکل رہا ہوں ۔ امام حسین علیہ السلام کواسلام اوراس کی تعلیمات کے بارے میں سخت تشویش لاحق ہوگئی تھی کیونکہ اموی حکمرانوں نے دین اسلام کی شبیہ مسخ کرکے رکھ دی تھی آپ اس دورکے حالات سے اس قدرآزردہ خاطرہوچکے تھے کہ مسلمانوں کوخطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کیا تم لوگ نہيں دیکھ رہے ہوکہ حق پرعمل نہيں ہورہا ہے اورکوئی  بھی باطل سے روگردانی کے لئے تیارنہيں ہے ؟ ان حالات میں مومن کوچاہئے کہ وہ اپنے پروردگارسے وصال کواس طرح کی زندگی پرترجیح دے ۔امام حسین علیہ السلام نے اس حساس دورمیں بصرے کے اکابرین کوایک خط لکھ کران کو نصیحت کی تھی کہ وہ قرآن وسنت پرتوجہ دیں اوراس میں غوروفکرکریں اورمعاشرے کے حقائق سے غافل نہ ہوں کیونکہ پسندیدہ سنتوں اورروشوں کا خاتمہ کیا جارہا ہے اورجاہل اقدارکوان کی جگہ رائج کیا جارہا ہے حضرت سیدالشہداء علیہ السلام اپنے اس خط ميں مرقوم فرماتے ہیں کہ میں تم لوگوں کتاب خدااورسنت پیغمبرکی اتباع کی دعوت دیتا ہوں کیونکہ اس وقت بدعتوں اورغلط باتوں کورواج دیا جارہا ہے پس اگرتم لوگ اس پیغام پرکان دھروگے اوراس کوقبول کروگے تومیں تم لوگوں کی نجات وفلاح کے راستے کی جانب رہنمائي کروں گا ۔گویندہ : امام حسین علیہ السلام کی تحریک کا مقصدیہ تھا کہ دین اسلام اپنی عظمت رفتہ دوبارہ حاصل کرلے اورحدودالہی کودوبارہ محترم سمجھا جانے لگے ۔ امام حسین علیہ السلام نے دین خداکے احیاء کے عمل میں عوام کے مختلف طبقوں کوبصیرت وآگہی کی دعوت دی کیونکہ یہ اسلامی معاشرے کے رہبرکی ذمہ داریوں ميں سے ہے کہ وہ عوام کي آگہی وبصیرت کی سطح کواوپرلے جانے کے لئے کوشش کرے اورمعاشرے میں ضروری شعور وآگہی وہوشیاری پیداکرے حضرت امام حسین علیہ السلام نے مکہ سے کوفہ کی جانب اپنے سفرکے دوران جب فرزدق نام کے مشہورشاعرکودیکھا جوآپ سے ملنے کے لئے آیا تھا توآپ نے اس وقت کے حالات اس سے کچھ ان لفظوں میں بیان فرمایا : اے فرزدق اس گروہ نے اطاعت خداکوترک کردیا ہے اوراب یہ شیطان کا پیروہوگیا ہے یہ لوگ روئے زمین پرفساد برپاکررہے ہيں حدودواحکام الہی کوپس پشت ڈال دیا ہے شراب نوشی اورغریبوں ومحتاجوں کے مال واسباب ہڑپ کرنےمیں لگ گئے ہيں بنابریں ضروری ہے کہ دین کی نصرت اوراس کودوبارہ زندہ کرنے کے لئے اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے اٹھ  کھڑے ہوں ؛                                                          موزیک فاصلہ دین کے محافظ  اوراس کوزندہ کرنے والی پاک ہستیاں پوری تاریخ میں کبھی کبھی معاشرے میں ایسی برائیوں اوراسلامی اقدارميں پڑنے والی ایسی دراڑوں کا مشاہدہ کرتی تھیں کہ جن کا درک کرلینا سب کے بس کی بات نہيں ہوا کرتی تھی ۔ دین اورمعاشرے میں کبھی کبھی ایسا فاصلہ ہوجایا کرتا تھا کہ لوگ انھيں آسانی سے سمجھ بھی نہيں پاتے تھے کبھی کبھی تومعاشرے کے لوگ ، دین ،اس کی سیاست اوراس کی معیشت کے بارے میں شکوک وشبہات سے دوچارہوجایا کرتے  اورلوگ دین سے فاصلہ اختیارکرنے لگتے تھے ایسے میں دین کوزندہ رکھنے اوراسے بچانے کی منطق کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں عمل اورفکرکے تعلق سے ایک بنیادی تبدیلی لائی جائے ۔چنانچہ ہم امام حسین علیہ السلام کی تحریک اوران کی حکمت عملی میں اس بات کا مشاہدہ کرتے ہيں کہ پہلے سرکارسیدالشہداء موعظہ ونصیحت کی روش کا سہارالیتے ہيں، اس کے ذریعہ حق وباطل کے راستوں کی نشاندہی کرتے ہيں تاکہ افکارمیں تبدیلی پیداہو لیکن جب لوگ آپ کے موعظے اورنصیحت کوبھی ماننے سے انکارکردیتےہیں توآپ ان لوگوں پراپنی حجت تمام کردینے کے بعدپوری قوت کے ساتھ میدان عمل میں اترتے ہیں اورپھر سرانجام کربلا کے میدان میں ظلم وستم کے بانیوں کے خلاف ایک جاودانی تحریک کے لئے تاریخ کی لافانی اوربے مثال قربانی پیش کرتے ہيں جورہتی دنیا کے لئے نمونہ ویادگارہے اس دورمیں جوبدعتیں رائج کی جارہی تھیں امام حسین علیہ السلام نے ان کے مقابلے کے لئے ایک عظیم تحریک کی بنیادڈالنا ضروری سمجھا آپنے اس بات کی کوشش کی کہ ایک دوراندیش اوروقت شناس مصلح کے طورپرسوئے ہوئے ضمیروں کوبیدارکریں ۔ امام عالیمقام کے فرمودات آپ کی رفتاروگفتاراورفیصلوں میں بے مثال ہوشیاری آگہی اورمضبوط قوت  ارادی اورانتہائی پختہ فکروبینش، مجسم شکل میں نظرآتی ہے امام عالیمقام کے پیغامات اورفرمودات میں عزت وکرامت انسانی اور انسانی سربلندی پر خاص تاکید گئی ہے آپ نے اپنے ہرپیغام میں ان باتوں پرپوری توجہ دی ہے اوران اصولوں کوہمیشہ اپنے گلے سے لگائے رکھنے کی تاکید فرمائی ہے ۔امام حسین علیہ السلام نے اپنے لازوال کارنامے میں ایک خوبصورت حقیقت کی  تصویرکشی کی ہے اوروہ یہ کہ جب معاشرے پرظلم وستم اوربرائیوں کی حکمرانی ہوجائے اورنیکی وفضیلت کے چراغ گل ہوا چاہیں توایسے میں اٹھ کھڑا ہونا چاہئے خواہ اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینا پڑے یہی وجہ تھی کہ سرکارسیدالشہداء نے کربلاکے میدان میں اپنی عظیم رزمیہ کارنامےکی تخلیق  کوہی امت اسلامیہ کی نجات کا واحدراستہ سمجھا ۔ سرکارسیدالشہداء نے اس مقصدکے حصول کے لئے اہل حرم بچوں اورخاندان بنی ہاشم کے جوانوں اوراپنے اصحاب کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے سرزمین کربلا کا رخ کیا  تاکہ اس دورکے ساتھ ساتھ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے اسلام کا صحیح اور اصلی چہرہ نمایاں پیش کرسکیں تاکہ بعدمیں پھرکبھی کسی حاکم وقت میں یہ جرات نہ ہو کہ وہ اسلام کے چہرے پربدعت وخرافات کے غبارڈال سکے ۔امام عالیمقام نے اپنے اوراپنے اصحاب کے خون سے اسلا م کے چہرے پرپڑنے والی بدعت وانحرافات کی گرد وغبارکوایسا صاف کیاکہ چودہ صدیاں گذرجانے کے بعد بھی اسلام کا چمکتا ہوا چہرہ انسانوں کی رہنمائی اورنجات وسعادت کا ضامن بناہوا ہے اورقیامت تک اب اس دین پرکوئی بھی اپنی مرضی کے نظریات مسلط نہیں کرسکے گا ۔

مزید  غریب القرآن

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.