دو مختلف نگاہيں مگر دونوں خوبصورت

0 0

مرد، عورت کو ايک خوبصورت، ظريف و لطيف اور نازک و حساس وجود اور ايک آئيڈيل کي حيثيت سے ديکھتا ہے اور اسلام بھي اسي بات کي تائيد کرتا ہے :  عورت ايک نرم و نازک اور حسين پھول ہے، يہ ہے اسلام کي نظر عورت ايک نرم و لطيف اور ملائم طبيعت کي مالک موجود کا نام ہے جو زيبائي اور لطافت کا مظہر ہے۔  مرد، عورت کو ايسي نگاہوں سے ديکھتا ہے اور اپني محبت کو اس قالب ميں مجسم کرتا ہے۔ اِسي طرح مرد بھي عورت کي نگاہوں ميں اس کے اعتماد اور بھروسے کا مظہر اور اس کي مضبوط تکيہ گاہ ہے اور وہ اپني محبت اور دلي جذبات و احساسات کو ايسے مردانہ قالب ميں سموتي اور ڈھالتي ہے۔

زندگي کي اس مشترکہ دوڑ دھوپ ميں مرد و عورت کے يہ ايک دوسرے سے مختلف دو کردار ہيں اور دونوں اپني اپني جگہ صحيح اور لازمي ہيں۔ عورت جب اپنے شوہر کو ديکھتي ہے تو اپني چشمِ محبت و عشق سے اس کے وجود کو ايک مستحکم تکيہ گاہ کي حيثيت سے ديکھتي ہے کہ جو اپني جسماني اور فکري صلاحيتوں اور قوت کو زندگي کي گاڑي کو آگے بڑھانے اور اس کي ترقي ميں استعمال کرتا ہے۔ مرد بھي اپني بيوي کو انس و الفت کے مظہر، ايثار و فدا کاري کي جيتي جاگتي اور زندہ مثال اور آرام و سکون کے مخزن کي حيثيت سے ديکھتا ہے کہ جو شوہر کو آرام و سکون دے سکتي ہے۔ اگر مرد زندگي کے ظاہري مسائل ميں عورت کي تکيہ گاہ اور اس کے اعتماد و بھروسے کا مرکز ہے تو بيوي بھي اپني جگہ روحاني سکون اور معنوي امور کي وادي کي وہ باد نسيم ہے کہ جس کا احساس انسان کي تمام تھکاوٹ و خستگي کو دور کر ديتا ہے۔ گويا وہ انس و محبت، چاہت و رغبت، پيار و الفت اور ايثار و فداکاري کا موجيں مارتا ہوا بحر بيکراں ہے۔  يقينا شوہر، محبت، سچے عشق اور پيار سے سرشار ايسي فضا ميں اپنے تمام غم و اندوہ، ذہني پريشانيوں اور نفسياتي الجھنوں کے بار سنگين کو اتار کر اپني روح کو لطيف و سُبک بنا سکتا ہے۔ يہ ہيں مياں بيوي کي روحي اور باطني قدرت و توانائي۔

مزید  حضرت علی علیہ السلام کے فضائل و کمالات بیان کرنے پر پابندی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.