دوسري قسط۔: قرآن کريم کے بارےميں قرآن کي زباني

0 0

. وَكُـلاًّ نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَـذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَO 

”اور ہم رسولوں کي خبروں ميں سے سب حالات آپ کو سنا رہے ہيں جس سے ہم آپ کے قلبِ (اَطہر) کو تقويت ديتے ہيں، اور آپ کے پاس اس (سورت) ميں حق اور نصيحت آئي ہے اور اہلِ ايمان کے لئے عبرت (و ياد دہاني بھي)O“ 

30. الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِO إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَO نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَـذَا الْقُرْآنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَO 

”الف، لام، را (حقيقي معني اﷲ اور رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ہي بہتر جانتے ہيں)، يہ روشن کتاب کي آيتيں ہيںO بيشک ہم نے اس کتاب کو قرآن کي صورت ميں بزبانِ عربي اتارا تاکہ تم (اسے براہِ راست) سمجھ سکوO (اے حبيب!) ہم آپ سے ايک بہترين قصہ بيان کرتے ہيں اس قرآن کے ذريعہ جسے ہم نے آپ کي طرف وحي کيا ہے، اگرچہ آپ اس سے قبل (اس قصہ سے) بے خبر تھےO“ 

31. أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَى إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ الْأَلْبَابِO 

”بھلا وہ شخص جو يہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ کي طرف آپ کے رب کي جانب سے نازل کيا گيا ہے حق ہے، اس شخص کے مانند ہو سکتا ہے جو اندھا ہے، بات يہي ہے کہ نصيحت عقل مند ہي قبول کرتے ہيںO“ 

32. وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى بَل لِّلّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُواْ أَن لَّوْ يَشَاءُ اللّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا وَلاَ يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُواْ تُصِيبُهُم بِمَا صَنَعُواْ قَارِعَةٌ أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِّن دَارِهِمْ حَتَّى يَأْتِيَ وَعْدُ اللّهِ إِنَّ اللّهَ لاَ يُخْلِفُ الْمِيعَادَO . 

”اور اگر کوئي ايسا قرآن ہوتا جس کے ذريعے پہاڑ چلا ديئے جاتے يا اس سے زمين پھاڑ دي جاتي يا اس کے ذريعے مُردوں سے بات کرا دي جاتي (تب بھي وہ ايمان نہ لاتے)، بلکہ سب کام اﷲ ہي کے اختيار ميں ہيں، تو کيا ايمان والوں کو (يہ) معلوم نہيں کہ اگر اﷲ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدايت فرما ديتا، اور ہميشہ کافر لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے باعث کوئي (نہ کوئي) مصيبت پہنچتي رہے گي يا ان کے گھروں (يعني بستيوں) کے آس پاس اترتي رہے گي يہاں تک کہ اﷲ کا وعدہء (عذاب) آپہنچے، بيشک اﷲ وعدہ خلافي نہيں کرتاO“ 

33. الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُّبِينٍO 

”الف، لام، را (حقيقي معني اﷲ اور رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ہي بہتر جانتے ہيں)، يہ (برگزيدہ) کتاب اور روشن قرآن کي آيتيں ہيںO“ 

34. إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَO 

”بيشک يہ ذکرِ عظيم (قرآن) ہم نے ہي اتارا ہے اور يقيناً ہم ہي اس کي حفاظت کريں گےO“ 

35. وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَO 

”اور بيشک ہم نے آپ کو بار بار دہرائي جانے والي سات آيتيں (يعني سورہء فاتحہ) اور بڑي عظمت والا قرآن عطا فرمايا ہےO“ 

36. وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُO كَمَا أَنزَلْنَا عَلَى المُقْتَسِمِينَO الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَO 

”اور فرما ديجئے کہ بيشک (اب) ميں ہي (عذابِ الٰہي کا) واضح و صريح ڈر سنانے والا ہوںO جيسا (عذاب) کہ ہم نے تقسيم کرنے والوں (يعني يہود و نصارٰي) پر اتارا تھاO جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (کر کے تقسيم) کر ڈالا (يعني موافق آيتوں کو مان ليا اور غير موافق کو نہ مانا)O“ 

37. وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَO . 

”اور (اے نبيِ مکرّم!) ہم نے آپ کي طرف ذکرِ عظيم (قرآن) نازل فرمايا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لئے وہ (پيغام اور احکام) خوب واضح کر ديں جو ان کي طرف اتارے گئے ہيں اور تاکہ وہ غور و فکر کريںO“ 

38. فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِO 

”سو جب آپ قرآن پڑھنے لگيں تو شيطان مردود (کي وسوسہ اندازيوں) سے اللہ کي پناہ مانگ ليا کريںO“ 

مزید  کبیرہ اور صغیرہ کے معنی

39. إِنَّ هَـذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًاO . 

”بيشک يہ قرآن اس (منزل) کي طرف رہنمائي کرتا ہے جو سب سے درست ہے اور ان مومنوں کو جو نيک عمل کرتے ہيں اس بات کي خوشخبري سناتا ہے کہ ان کے لئے بڑا اجر ہےO“ 

40. وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَـذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُواْ وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلاَّ نُفُورًاO 

”اور بيشک ہم نے اس قرآن ميں (حقائق اور نصائح کو) انداز بدل کر بار بار بيان کيا ہے تاکہ لوگ نصيحت حاصل کريں، مگر (منکرين کا عالم يہ ہے کہ) اس سے ان کي نفرت ہي مزيد بڑھتي جاتي ہےO“ 

41. وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًاO 

”اور جب آپ قرآن پڑھتے ہيں (تو) ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درميان جو آخرت پر ايمان نہيں رکھتے ايک پوشيدہ پردہ حائل کر ديتے ہيںO“ 

42. وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلاَّ فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي القُرْآنِ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلاَّ طُغْيَانًا كَبِيرًاO 

”اور (ياد کيجئے) جب ہم نے آپ سے فرمايا کہ بيشک آپ کے رب نے (سب) لوگوں کو (اپنے علم و قدرت کے) احاطہ ميں لے رکھا ہے، اور ہم نے تو (شبِ معراج کے) اس نظّارہ کو جو ہم نے آپ کو دکھايا لوگوں کے لئے صرف ايک آزمائش بنايا ہے (ايمان والے مان گئے اور ظاہر بين الجھ گئے) اور اس درخت (شجرۃ الزقوم) کو بھي جس پر قرآن ميں لعنت کي گئي ہے، اور ہم انہيں ڈراتے ہيں مگر يہ (ڈرانا بھي) ان ميں کوئي اضافہ نہيں کرتا سوائے اور بڑي سرکشي کےO“ 

43. وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلاَ يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلاَّ خَسَارًاO 

”اور ہم قرآن ميں وہ چيز نازل فرما رہے ہيں جو ايمان والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کے لئے تو صرف نقصان ہي ميں اضافہ کر رہا ہےO“ 

44. قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَن يَأْتُواْ بِمِثْلِ هَـذَا الْقُرْآنِ لاَ يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًاO وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِي هَـذَا الْقُرْآنِ مِن كُلِّ مَثَلٍ فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ كُفُورًاO 

”فرما ديجئے : اگر تمام انسان اور جنّات اس بات پر جمع ہو جائيں کہ وہ اس قرآن کے مثل (کوئي دوسرا کلام بنا) لائيں گے تو (بھي) وہ اس کي مثل نہيں لاسکتے اگرچہ وہ ايک دوسرے کے مددگار بن جائيںO اور بيشک ہم نے اس قرآن ميں لوگوں کے لئے ہر طرح کي مثال (مختلف طريقوں سے) بار بار بيان کي ہے مگر اکثر لوگوں نے (اسے) قبول نہ کيا (يہ) سوائے ناشکري کے (اور کچھ نہيں)O“ 

45. وَبِالْحَقِّ أَنزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًاO وَقُرْآناً فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلاًO قُلْ آمِنُواْ بِهِ أَوْ لاَ تُؤْمِنُواْ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًاO وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولاًO وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًاO 

”اور حق کے ساتھ ہي ہم نے اس (قرآن) کو اتارا ہے اور حق ہي کے ساتھ وہ اترا ہے، اور (اے حبيبِ مکرّم!) ہم نے آپ کو خوشخبري سنانے والا اور ڈر سنانے والا ہي بنا کر بھيجا ہےO اور قرآن کو ہم نے جدا جدا کر کے اتارا تاکہ آپ اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھيں اور ہم نے اسے رفتہ رفتہ (حالات اور مصالح کے مطابق) تدريجاً اتارا ہےO فرما ديجئے: تم اس پر ايمان لاؤ يا ايمان نہ لاؤ، بيشک جن لوگوں کو اس سے قبل علمِ (کتاب) عطا کيا گيا تھا جب يہ (قرآن) انہيں پڑھ کر سنايا جاتا ہے وہ ٹھوڑيوں کے بل سجدہ ميں گر پڑتے ہيںO اور کہتے ہيں: ہمارا رب پاک ہے، بيشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر ہي رہنا تھاO اور ٹھوڑيوں کے بل گريہ و زاري کرتے ہوئے گر جاتے ہيں، اور يہ (قرآن) ان کے خشوع و خضوع ميں مزيد اضافہ کرتا چلا جاتا ہےO“ 

مزید  روزہ اور خود اعتمادی

46. وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِن تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَى فَلَن يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًاO 

”اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کي نشانياں ياد دلائي گئيں تو اس نے ان سے رُوگرداني کي اور ان (بداَعماليوں) کو بھول گيا جو اس کے ہاتھ آگے بھيج چکے تھے، بيشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال ديئے ہيں کہ وہ اس حق کو سمجھ (نہ) سکيں اور ان کے کانوں ميں بوجھ پيدا کر ديا ہے (کہ وہ اس حق کو سن نہ سکيں)، اور اگر آپ انہيں ہدايت کي طرف بلائيں تو وہ کبھي بھي قطعًا ہدايت نہيں پائيں گےO“ 

47. قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًاO 

”فرما ديجئے: اگر سمندر ميرے رب کے کلمات کے لئے روشنائي ہوجائے تو وہ سمندر ميرے رب کے کلمات کے ختم ہونے سے پہلے ہي ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس کي مثل اور (سمندر يا روشنائي) مدد کے لئے لے آئيںO“ 

48. أُوْلَئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَن خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّاO 

”يہ وہ لوگ ہيں جن پر اللہ نے انعام فرمايا ہے زمرہء انبياء ميں سے آدم (عليہ السلام) کي اولاد سے ہيں اور ان (مومنوں) ميں سے ہيں جنہيں ہم نے نوح (عليہ السلام) کے ساتھ کشتي ميں (طوفان سے بچا کر) اٹھا ليا تھا، اور ابراہيم (عليہ السلام) کي اور اسرائيل (يعني يعقوب عليہ السلام) کي اولاد سے ہيں اور ان (منتخب) لوگوں ميں سے ہيں جنہيں ہم نے ہدايت بخشي اور برگزيدہ بنايا، جب ان پر (خدائے) رحمان کي آيتوں کي تلاوت کي جاتي ہے وہ سجدہ کرتے ہوئے اور (زار و قطار) روتے ہوئے گر پڑتے ہيںO“ 

49. فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّاO 

”سو بيشک ہم نے اس (قرآن) کو آپ کي زبان ميں ہي آسان کر ديا ہے تاکہ آپ اس کے ذريعہ پرہيزگاروں کو خوشخبري سنا سکيں اور اس کے ذريعہ جھگڑالو قوم کو ڈر سنا سکيںO“ 

50. طهO مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىO 

. ”طا، ہا (حقيقي معني اﷲ اور رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ہي بہتر جانتے ہيں)O (اے محبوبِ مکرّم!) ہم نے آپ پر قرآن (اس لئے) نازل نہيں فرمايا کہ آپ مشقت ميں پڑ جائيںO“ 

51. فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًاO 

پس اللہ بلند شان والا ہے وہي بادشاہِ حقيقي ہے، اور آپ قرآن (کے پڑھنے) ميں جلدي نہ کيا کريں قبل اس کے کہ اس کي وحي آپ پر پوري اتر جائے، اور آپ (رب کے حضور يہ) عرض کيا کريں کہ اے ميرے رب! مجھے علم ميں اور بڑھا دےO“ 

52. تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًاO 

. ”(وہ اللہ) بڑي برکت والا ہے جس نے (حق و باطل ميں فرق اور) فيصلہ کرنے والا (قرآن) اپنے (محبوب و مقرّب) بندہ پر نازل فرمايا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈر سنانے والا ہو جائےO“ 

53. وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًاO 

”اور کافر کہتے ہيں کہ اس (رسول) پر قرآن ايک ہي بار (يک جا کرکے) کيوں نہيں اتارا گيا؟ يوں (تھوڑا تھوڑا کر کے اسے) تدريجاً اس لئے اتارا گيا ہے تاکہ ہم اس سے آپ کے قلبِ (اطہر) کو قوت بخشيں اور (اسي وجہ سے) ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا ہے (تاکہ آپ کو ہمارے پيغام کے ذريعے بار بار سکونِ قلب ملتا رہے)O“ 

مزید  امام حسین علیہ السلام کا اپنے چاهنے والوں کے پاس آخری وقت حاضر هونا

54. وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًاO 

”اور (يہ) وہ لوگ ہيں کہ جب انہيں ان کے رب کي آيتوں کے ذريعے نصيحت کي جاتي ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہيں گر پڑتے (بلکہ غور و فکر بھي کرتے ہيں)O“ 

55. وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍO 

. ”اور بيشک آپ کو (يہ) قرآن بڑے حکمت والے، علم والے (رب) کي طرف سے سکھايا جا رہا ہےO“ 

56. إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَO 

”بيشک يہ قرآن بني اسرائيل کے سامنے وہ بيشتر چيزيں بيان کرتا ہے جن ميں وہ اختلاف کرتے ہيںO“ 

57. إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَO وَأَنْ أَتْلُوَاْ الْقُرْآنَ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنذِرِينَO . 

”(آپ ان سے فرما ديجئے کہ) مجھے تو يہي حکم ديا گيا ہے کہ اس شہرِ (مکّہ) کے رب کي عبادت کروں جس نے اسے عزت و حُرمت والا بنايا ہے اور ہر چيز اُسي کي (مِلک) ہے اور مجھے (يہ) حکم (بھي) ديا گيا ہے کہ ميں (اللہ کے) فرمانبرداروں ميں رہوںO نيز يہ کہ ميں قرآن پڑھ کر سناتا رہوں سو جس شخص نے ہدايت قبول کي تو اس نے اپنے ہي فائدہ کے لئے راہِ راست اختيار کي، اور جو بہکا رہا تو آپ فرما ديں کہ ميں تو صِرف ڈر سنانے والوں ميں سے ہوںO“ 

58. وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِي أُمِّهَا رَسُولًا يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَى إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَالِمُونَO 

”اور آپ کا رب بستيوں کو تباہ کرنے والا نہيں ہے يہاں تک کہ وہ اس کے بڑے مرکزي شہر (capital) ميں پيغمبر بھيج دے جو ان پر ہماري آيتيں تلاوت کرے، اور ہم بستيوں کو ہلاک کرنے والے نہيں ہيں مگر اس حال ميں کہ وہاں کے مکين ظالم ہوںO“ 

59. إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ قُل رَّبِّي أَعْلَمُ مَن جَاءَ بِالْهُدَى وَمَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍO 

. ”بيشک جس (رب) نے آپ پر قرآن (کي تبليغ و اقامت کو) فرض کيا ہے يقيناً وہ آپ کو (آپ کي چاہت کے مطابق) لوٹنے کي جگہ (مکہ يا آخرت) کي طرف (فتح و کاميابي کے ساتھ) واپس لے جانے والا ہے ۔ فرما ديجئے : ميرا رب اسے خوب جانتا ہے جو ہدايت لے کر آيا اور اسے (بھي) جو صريح گمراہي ميں ہےO“ 

 

60. وَمَا كُنتَ تَتْلُواْ مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ إِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَO بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَO 

. ”اور (اے حبيب!) اس سے پہلے آپ کوئي کتاب نہيں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہي آپ اسے اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ورنہ اہلِ باطل اسي وقت ضرور شک ميں پڑ جاتےO بلکہ وہ (قرآن ہي کي) واضح آيتيں ہيں جو ان لوگوں کے سينوں ميں (محفوظ) ہيں جنہيں (صحيح) علم عطا کيا گيا ہے، اور ظالموں کے سوا ہماري آيتوں کا کوئي انکار نہيں کرتاO“ 

61. وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِن كُلِّ مَثَلٍ وَلَئِن جِئْتَهُم بِآيَةٍ لَّيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَO 

”اور درحقيقت ہم نے لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے اس قرآن ميں ہر طرح کي مثال بيان کر دي ہے، اور اگر آپ ان کے پاس کوئي (ظاہري) نشاني لے آئيں تب بھي يہ کافر لوگ ضرور (يہي) کہہ ديں گے کہ آپ محض باطل و فريب کار ہيںO“ 

62. إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَO 

. ”پس ہماري آيتوں پر وہي لوگ ايمان لاتے ہيں جنہيں اُن (آيتوں) کے ذريعے نصيحت کي جاتي ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہيں اور اپنے رب کي حمد کے ساتھ تسبيح کرتے ہيں اور وہ تکبّر نہيں کرتےO“ 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.