دنیاميں ماه مبار ک رمضان کا جلوه

0 0

رمضان المبارک کا مہینہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے اللہ رب العزت کی طرف سے ایک بیش بہا نعمت ہے۔

پورے ایک سال بعد پھر جب مخصوص سائرن کی آواز کان میں پڑی تو لوگوں نے کھانا پینا بند کردیااور پہلے روزے کی نیت کرنے لگے اورجیسے ہی محلے کی مسجد سے مؤذن نے فجر کی اذان دی لوگ جوق در جوق والہانہ انداز میں مسجد کی طرف چل پڑے ۔چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنے والد کی انگلیاں پکڑ کر مسجد میں آئے ہیں ۔گھر کے سارے لوگوں کے ساتھ آج وہ بھی معمول سے چار گھنٹے پہلے ہی اٹھ گئے تھے۔امی نے لاکھ سمجھایا کہ ابھی چھوٹے ہو بڑے ہوکر روزہ رکھنا لیکن منے میاں نے ایک نہ سنی اور سب کے ساتھ سحری کھاکر پہلے روزے کی نیت کرہی لی۔

رمضان المبارک کا مہینہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے اللہ رب العزت کی طرف سے ایک بیش بہا نعمت ہے ۔صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لے کر صبح تک جو روحانی اور نورانی ماحول رہتا ہے اس میں نیکیوں کو بڑھانے اور ایمان کو پروان چڑھانے کے خوب مواقع ہوتے ہیں۔

حدیث کے مطابق اس مہینے میں شیطان قید کردیا جاتا ہے اور فرض کا ثواب بڑھاکر ستر گنا اور سنت کا ثواب فرض کے برابر کر دیا جاتاہے۔ مسلم محلوں میں گھروں سے تلاوت قرآن کی آوازیں ،نمازیوںسے بھری مساجد،دن بھر بند چائے اور کھانے کے ہوٹل اور شام میں افطاری کا بازار۔۔۔۔ سب ایک عجیب سا سماں پیدا کرتا ہے۔

ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں سائرن کی آواز ہوتی ہے جسے سن کر لوگ افطار کرتے ہیں ۔ کہیں کہیں گولے بھی داغے جاتے ہیں اور بعض مقامات پر اذان کی آواز ہی وقت ہونے کا اعلان ہوتی ہے۔ پرانی دہلی اور جامع مسجد کے علاقے میں یہ سماں کچھ زیادہ ہی رہتاہے جو مسلمانوں کی عظمت رفتہ کا پتہ دیتا ہے۔

80 سالہ بزرگ اور ریٹائرڈ ٹیچر ماسٹرمحمد انیس صدیقی اپنی یادداشت پر زور ڈالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ دہلی میں وہ 1955سے مسلسل سائرن کی آواز سنتے آرہے ہیں ۔اس سے پہلے وہ اترپردیش کے ایک ضلع میں رہتے تھے۔یہ سائرن افطار اور سحری دونوں وقت بجایا جاتاہے۔لیکن پھر بھی سحری میں کبھی کبھی لوگ نیند کی شدت سے نہیں اٹھ پاتے اس کیلئے دہلی ہی نہیں پورے ملک میں عرصہ دراز سے مختلف طریقے رائج ہیں ۔

بعض جگہوں میں مساجد سے مسلسل اعلان ہوتا ہے کہ سحری کا وقت ہوگیا ہے یا وقت ختم ہونے میں صرف اتنی دیر باقی ہے۔ بعض مقامات پر مسجد کے ہی لاوڈاسپیکر سے نعت اورحمد کا سلسلہ سحری کے اوقات میںمسلسل جاری رہتاہے لہذٰا جولوگ اعلان سے نہیں جاگ پاتے اس کو غنیمت سمجھتے ہیں۔ لیکن ایک طریقہ جو اب صرف دیہاتوں اور قصبوں تک محدود رہ گیاہے اور لاوڈاسپیکر کی ایجاد سے پہلے ہی سے معروف ہے وہ یہ کہ گاؤں یا محلے کے چند افراد کی ایک ٹیم سحری کے مقررہ وقت سے پہلے گھروں پر جاکر لوگوں کو جگاتی ہے اور راستے بھر نعت حمد اور ترانے گاتی جاتی ہے۔

بعض علاقوں میں یہ خدمت گاؤں یا آس پاس کے علاقے کے غرباانجام دیتے ہیں ۔سحری کے روحانی وقت میں عموماان کی حمدو نعت دلوں میں اترتی محسوس ہوتی ہے اور ’’اٹھو روزے دارو! سحری کھالو ‘‘کا نعرہ بڑا ہی زوردار معلوم ہوتا ہے جس سے نیند یکلخت غائب ہوجاتی ہے ۔دن کو مائیں جب بچوں کو بتاتی ہیں کہ آج جگانے والے نے کتنی اچھی نعت پڑھی تو بچے ماؤں سے ضد کرکے اس وقت اٹھانے کے لئے کہتے ہیں تاکہ وہ بھی اس کو سن سکیں۔رمضان کے آخری ایام میں اس ٹیم کا ’’الوداع ماہ رمضان۔۔‘‘ کا پرسوزترانہ عموما ہر خاص وعام کے لئے ایک کسک چھوڑ جاتاہے۔

ہندوستان کاپھیلاو شمالا جنوبا زیادہ ہے لیکن مشرق تا مغرب بھی اس کا فاصلہ کم نہیں ہے لہذا سحر و افطار کے اوقات میں یہاں کافی فرق ہے۔مغربی بنگال اور آسام کے مشرقی حصے کے سحر وافطار کے اوقات سے راجستھان ،گجرات اورمہاراشٹر کے مغربی اضلاع کے اوقات میں تقریبا ایک گھنٹے سے زائد کا فرق پایا جاتاہے۔

ماضی میں دہلی سمیت پورے ہندوستان میں گھر کی بنائی ہوئی موٹی موٹی سوئیاں گڑ میں ڈال کر کھانے کا عام رواج تھا لیکن اب یہ روایت ختم ہوگئی اب نہ تو گھریلو سوئیاں ہی ہیں اور نہ گڑ آسانی سے دستیاب ہے۔اس کی جگہ اب کھجلا ،فینی وغیرہ نے لے لی ہے۔دودھ کے علاوہ سبزی بھی سحری کے وقت ہندوستان میں کھانے کا عام رواج ہے۔رات میں زیادہ دیر تک جاگنے کی لت تو شہر کے لوگوں میں پہلے ہی سے ہے لیکن رمضان میں اس میں کچھ اور اضافہ ہو جاتا ہے اس لئے بعض بد نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جو سحری کی برکتوں سے محروم رہتے ہیں اور وہ رات ہی میں کھا کر سوجاتے ہیں گویا انھیں امت مسلمہ پر بنی اسرائیل کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ کا خاص کرم راس نہیں آرہاہے۔

شمالی ہند کے دیگر علاقوں مثلا اعظم گڑھ الہ آباد وغیرہ میں ناریل کی گری ،کاجو،بادام اور دگر میوہ جات سے تیار شدہ مسالا پینے کا عام رواج ہے ۔بعض مقامات پر چپاتی اور پاو سے اس کو کھاتے بھی ہیں۔لیکن مہاراشٹر کے کچھ علاقوں میں دودھ اور کیلا بھی سحری میں کھایا جاتاہے۔جب کہ جنوبی ہند کی ریاست کیرلہ اور تمل ناڈو میں چاول اور کھجور زیادہ کھائی جاتی ہیں ۔اکثر جگہوں میں رمضان میں پاو کی مانگ بڑھ جاتی ہے لیکن اترپردیش کے کچھ علاقوں میں دودھ پاو ہی سحری کی مرغوب غذا ہے۔لہذا بیکریاں نت نئی ڈیزائن اور سائز کے پاو بنانے میں ایک دوسے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتی ہیں ۔

رمضان میں مسلمانوں کے زیر انتظام اسکولوں،کالجوں اور اداروں میں نظام الاوقات تبدیل ہوجاتاہے ۔بعد نماز فجر مسلم محلوں میں خاموشی اور سناٹے کا راج ہوتاہے اور صبح دیر سے ہوتی ہے لیکن طلبا اور محنت کش طبقے کو پھر بھی جلدی اٹھنا پڑتاہے۔دوپہر تک بازار اور سڑکیں پھیکی پھیکی سی محسوس ہوتی ہیں ۔

اور پھر دن ڈھلنے کے آغازہی سے رونق لوٹ آتی ہی ،ٹریفک جام ہونے کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔افطاری بازارمیں رنگ برنگ کی کھانے پینے کی چیزیں پھل اور نہ جانے کیا کیا۔۔۔۔۔ایسا لگتاہے کہ گویا رمضان روزہ رکھنے کا نہیں بلکہ کھانے پینے ہی کا مہینہ ہو ۔پہلے بھی افطارہوتی تھی اور افطار کی دعوتیں بھی ۔۔لیکن نہ توکھانے کی اتنی قسمیں نہیں ہوتی تھیںاور نہ ہی اتنی افطار پارٹیاں۔اب تو افطار پارٹیوں کا چلن اتنا بڑھ گیا ہے کہ بعض لوگ تو ایک ہی دن میں کئی کئی جگہ مدعو ہوتے ہیں۔

مزید  وضو ، غسل اور تیمم کا فلسفہ کیا ہے؟

شاید اہل سیاست بھی اس مہینے میں اپنے ظرف کے مطابق استفادہ کرنے میں پیچھے نہیں ہٹنے کی قسم کھاچکے ہیں۔سحری کے بر خلاف ہر طرح کے کھانے کی چیز تھوڑی سی مشقت پر ملک میں کہیں بھی مل سکتی ہے۔ہمارے ایک دوست جو پیشے سے ڈاکٹر ہیں مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ کئی پھل جو سال بھر عام آدمی کو سونگھنے کو نہیں ملتے رمضان میں روز کھائے جاتے ہیں۔اور بعض دفعہ آدمی اوسطا اس مہینے میں دوسرے مہینے کی بہ نسبت زیادہ وٹامن حاصل کرلیتاہے۔

مساجد میں بھی افطار کا معقول نظم ہوتاہے۔محلے کے لوگ آپس میں بھی پکی ہوئی خاص چیزوں کا لین دین کرتے ہیں لیکن مساجد میں بھی افطاری بھیجنا نہیں بھولتے تاکہ مسافر ،فقراء اور مساکین افطار کرسکیں۔جنوبی ہند کی ریاست کیرلہ اور تمل ناڈو میں اکثر مقامات پر مقامی لوگ بھی مسجدہی میں افطار کرتے ہیں ۔اس کا نظم باری باری محلے ہی کے اصحاب خیر کرتے ہیں کیرلہ کے رہنے والے عبد الجلیل بتاتے ہیں کہ لوگ انتظا ر کرتے ہیں کہ کب ان کی باری آئے لیکن یہ سعادت کم ہی لوگوں کو مل پاتی ہے۔

کیوں کہ رمضان کے روزے صرف 29یا30دن ہی ہوتے ہیں ۔ افطار کے وقت اگر کوئی مسلم شکل وشباہت والا آدمی نظر آجائے تو لوگ اس کو فوراً آواز دیتے ہیں اور افطارکرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ایسا تو عموما ہر جگہ ہی ہوتاہے لیکن ممبئی ،کولکاتہ،حیدرآباداور پرانی دہلی میں یہ منظر کچھ زیادہ ہی دیکھنے کو ملتاہے۔لیکن نو آباد محلے اور کالونیاں اس تہذیبی ورثے سے عاری نظر آتی ہیں۔

یہاں تراویح کا بھی خاص اہتمام ہوتاہے۔گذشتہ ایک دہائی سے حفاظ قرآن کی تعدا د میں کافی اضافہ ہواہے۔لہذا تراویح میں مکمل قرآن سننے کا اہتما م بھی قابل دید ہے۔لیکن حالیہ چند برسوں سے یہ بدعت ایجاد ہوئی ہے کہ دین کی بنیادی تعلیمات سے عاری ایک طبقہ تسلسل کے ساتھ تراویح میں قرآن کو سننے کوہی کافی سمجھ بیٹھا ہے نتیجے کے طورپر وہ ایک بارقرآن پورا سننے کے بعد تراویح کے وجوب کو اپنے اوپر سے ساقط سمجھنے لگتاہے۔ابوظفر عادل اعظمی.

پاکستان(pakistan)میں ماہ رمضان:

پاکستان میں ماہ مبارک رمضان کی آمد پر گانا، باجا اور تمام لہو و لعب بند ہو جاتا ہے دکانوں، گاڑیوں اور گھروں سے صرف تلاوت قرآن اور نعتوں قوالیوں کی آوازیں آتی ہیں۔ مساجد سے تفسیر قرآن اور مذہبی تقاریر کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ نمازیوں کا مساجد میں ازدحام آغاز ہو جاتا ہے مساجد کے قریب کی سڑکوں پر بھی نمازیوں کی صفیں لگتیں ہیں۔ پاکستان کے مسلمانوں میں مرسوم ہے کہ نماز مغرب مسجد میں ادا کرتے ہیں اس کے فورا بعد مساجد میں افطاری کی جاتی ہے۔ آخری سالوں میں بعض مساجد میں حتی سحری کے پروگرام بھی نظر آنے لگے ہیں۔ پاکستان کی سڑکوں میں ظہر کے وقت نماز کے بعد پیاز اور گوشت فراواں بکتا ہے اسی طریقے سے ماہ رمضان کے آخری دنوں میں حلوا اور میٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں عید کے دنوں میں پاکستان کے بازار ۲۴ گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔تاکہ لوگوں کی ضروریات پورا کی جا سکیں۔

چین (china)میں ماہ مبارک:

  چین میں ماہ رمضان کی آمد پر تمام مذہبی مقامات پر مسلمانوں کو دینی احکام سے آشنائی دلانے کے لیے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ چین کے مسلمان اس مہینہ میں اپنے دینی فرائض کو انجام دینے پر نہایت درجہ پابندی کرتے ہیں۔ اور مفصل طریقے سے تراویاں ادا کرتے ہیں۔ یہ تراویاں بیس رکعات پر مشتمل ہے کہ جو جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ اور ہر رکعت کے بعد دعائے ” یا مقلب القلوب” پڑھی جاتی ہے۔ تلاوت قرآن اور شب قدر میں شب بیداری خاص حائز اہمیت ہے۔

افطار کے وقت چائے ، شیرینی اور خرما زیادہ تر استعمال کیا جاتا ہے جو چین کے مسلمانوں کی  منجملہ غذائوں میں شامل ہے۔

جرمنی(Germany) میں ماہ مبارک:

جرمنی میں ماہ مبارک رمضان تمام دیگر ممالک سے مختلف نظر آتا ہے۔ لوگوں کی سماجی زندگی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ زندگی اسی تیزی اور سرعت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہوتی ہے۔ جرمنی میں زندگی کی تیز رفتار وہ چیز ہے جو ماہ رمضان کے مراسم کو دوسرے ممالک سے جدا کرتی ہے۔ جرمنی میں دن گرمیوں کے موسم میں بہت لمبے اور سردیوں میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ عصر کے ۴ بجے دن ختم ہو جاتا ہے۔

جرمنی میں تقریبا ساڑھے تین سو میلین مسلمان زندگی گزار رہے ہیں۔ اور کثیر تعداد میں مسلمان کمپنیوں اور اداروں میں مشغول کار ہیں۔ ماہ مبارک میں مسلمانوں کے ساتھ خصوصی رعایت برتی جاتی ہے انہیں دو شفٹوں میں کام کرنے کی سہولت اور نماز اور افطار کے وقت رخصت فراہم کی جاتی ہے۔ چونکہ جرمنی میں بہت سارے مسلمان مہاجر ہیں اس وجہ سے کوشش کرتے ہیں کہ ان ایام میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے جائیں تاکہ انہیں تنہائی کا احساس نہ ہو۔

تنزانیہ(Tanzania) میں ماہ مبارک:

 تنزانیہ کے مسلمان جو حد درجہ ماہ مبارک رمضان کی اہمیت کے قائل ہیں پندرہ شعبان سے ہی ماہ مبارک کے استقبال میں تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ سڑکوں کو چراغاں اور مزین کرتے ہیں مساجد کو زینت دیتے ہیں اور اپنے اپنے رشتہ داروں کو ہدایا اور تحائف عطا کرتے ہیں۔

ماہ مبارک رمضان کے لیے آمادہ ہونے کی خاطر تنزانیہ کے لوگ پندرہ شعبان کے بعد ہر پیر اور بدھ کو روزہ رکھتے ہیں۔ وہ روزہ رکھنے کو بارہ سال کی عمر سے واجب جانتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ کی عبادت نہیں کرتا ان کے ہاں کافر اور ملحد ہے۔ عمومی جگہوں اور مجمع عام میں روزہ توڑنا اور روزہ نہ رکھنے کی صورت میں کھانا پینا ان کے ہاں سخت سزا کا باعث ہے۔ تمام ہوٹل، ٹی سٹال دن میں بند ہوتے ہیں اور افطار کے وقت کھلتے ہیں۔ اور ماہ مبارک میں ایسی فضا بن جاتی ہے کہ غیر مسلمان بھی دن میں کھلے عام کھانے پینے سے پرہیز کرتے ہیں۔

مزید  امام زین العابدین علیہ السلام اخلاق کی دنیامیں

شربت، قہوہ، چاول، مچھلی اور سبزیاں افطار میں ان کی اصلی غذائیں ہیں۔

افغانستان (Afganistan)میں ماہ مبارک:

ماہ رمضان اس وقت افغانستان میں شروع ہوتا ہے جب ان کا کوئی پڑوسی ملک رویت ہلال کا اعلان کرتا ہے۔ اس لیے کہ وہاں کی جغرافیائی موقعیت ایسی ہے کہ چاند کا دیکھنا مشکل یا بعض اوقات ناممکن ہوتا ہے۔

وہ ماہ رمضان سے پہلے کھانے پینے کی چیزوں کو مہیا کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ماہ رمضان میں باہمی طور پر افطار ان کی جملہ رسومات میں سے ہے۔ انواع و اقسام کی سرگرمیاں عمومی جگہوں اور مساجد میں ان کا معمول ہے۔ اور لوگ اپنے روزمرہ امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اللہ کی عبادت اور قرآن کی تلاوت بھی انجام دیتے ہیں۔ دینی کلاسیں اور کنفرانسیں اس مہینہ میں معمولا تراویوں کے بعد منعقد ہوتی ہیں۔

ان کی افطار میں غذائیں چاول، گوشت، دودھ اور عرق انار وغیرہ ہے۔ کھیتی باڑی کا کام ماہ رمضان میں عام طور پر معطل ہو جاتا ہے لیکن کارخانے اور دفاتر معمول کے مطابق کھلے رہتے ہیں۔ البتہ کاموں میں تھوڑی تخفیف ہو جاتی ہے۔

ترکی(Turky) میں ماہ مبارک:

ترکی کی ثقافت میں اس کے باوجود کہ کافی تبدیلی واقع ہو چکی ہے لیکن ماہ رمضان اپنی شان و شوکت کے ساتھ کما کان باقی ہے۔ وہ ماہ رمضان کا مساجد کے مناروں کو چراغاں کر کے اور جشن و سرود کی محفلیں منعقد کر کے ، استقبال کرتے  ہیں۔

ترکی کی مذہبی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ۷۷ ہزار مساجد اس ملک میں موجود ہیں۔ تلاوت قرآن اور آنکارا کی جامع مسجد اور سلطان احمد کی مسجد میں دینی کتابوں کی نمائش لگا کر ماہ رمضان کی آمد کی علامتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

اس مہینہ میں وہ بچے کہ جو مذہبی مراسم میں شرکت کرتے ہیں ان کو کافی دین کی طرف رجحان کا شوق دلایا جاتا ہے۔ اور ماہ رمضان کی مناسبت سے ٹی وی پروگراموں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

امریکہ(USA) میں ماہ مبارک رمضان:

ریاست ہائے متحدہ امریکہ [USA] شمالی امریکہ میں واقع ہیں جن کی راجدھانی واشنگٹن ہے۔ امریکہ آبادی کے لحاظ سے تیسرا ملک اور وسعت زمینی کے اعتبار سے دنیا کا چوتھا ملک ہے۔

امریکہ میں تقریبا ۳ میلین مسلمان زندگی گزار رہے ہیں البتہ کچھ غیر رسمی ذرایع ابلاغ کے مطابق ۷ میلین کی تعداد بھی بتائی جاتی ہے۔ ان میں سے ۹۰۰ ہزار شیعہ ہیں ۔

ماہ رمضان میں امریکہ کے لوگوں کا طرز عمل

ماہ مبارک کا استقبال

ماہ مبارک امریکہ میں بھی ایک خاص رنگ و روپ اختیار کرتا  ہے۔ اس ملک کے مسلمان اس مہینہ میں جشن مناتے ہیں اور اس کو قابل احترام سمجھتے ہیں۔

مختلف افق

امریکہ میں زمینی وسعت کی وجہ سے مختلف شہروں میں مختلف افق پائے جاتے ہیں۔ لہذا افطار اور سحر کے وقت کی تشخیص ایک معضل ہے۔ کچھ سال پہلے ایک ایرانی عالم دین نے امریکہ میں ایک ٹی وی چینل قائم کیا جو صرف ہر شہر کے شرعی اوقات بیان کرتا تھا اس نے کافی تعداد میں ناظرین کو اپنی طرف جذب کیا۔ لیکن اب مختلف طرح کی ویب سائٹیں ، مساجد اور دینی مراکز کے قیام سے یہ مشکل کافی حد تک آسان ہو چکی ہے۔

غذائیت

امریکہ کے متدین مسلمانوں کی سب سے بڑی مشکل حلال گوشت کی عدم دستیابی ہے۔ لہذا وہ لوگ حلال گوشت حاصل کرنے کے لیے مجبور ہیں کافی طولانی سفر کریں۔ اور زحمت اٹھائیں اگر چہ مسلمانوں کی تعداد میں کثرت سے اضافہ ہونے کی وجہ سے اسلامی ریسٹورینٹ کی تعداد میں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن ابھی بھی شرعی قوانین کے پابند مسلمانوں کی مشکلات فراواں ہیں۔

نیویارک کا اسلامی مرکز

یہ مرکز جملہ اسلامی مراکز میں سے ایک ہے جو نیویارک کے مسلمانوں کے لیے افطاری کا انتظام کرتا ہے حال حاضر میں ہر رات دو ہزار سے زیادہ روزہ دار نماز جماعت ادا کرنے کے بعد افطاری کے پروگرام میں شرکت کرتے ہیں۔

امریکہ کی زندگی

دنیا کے دیگر مسلمان چاہے وہ کسی بھی خطہ ارض میں زندگی بسر کر رہے ہوں اپنے رسم و رسومات کو پورا کرنے اور مذہبی مراسم کو انجام دینے میں آزاد ہیں۔ در حالانکہ امریکہ کے لوگ امریکی طرز و طور سے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔

مساجد میں اطعام

وہ لوگ جو مجبور ہیں غروب کے وقت اپنی ڈیوٹیوں پر رہیں ان کے لیے مساجد میں افطار ایک بڑی نعمت ہے۔ وہ لوگ افطار کے وقت فورا اپنے آپ کو اپنے کام سے نزدیک مسجد میں پہنچاتے ہیں اور افطار کر کے اپنے کاموں پر واپس لوٹ جاتے ہیں۔

رمضان کی امریکہ پر تاثیر، مسلمانوں کا احترام

اس مہیںہ سے امریکہ والوں پر یہ اثر پڑتا ہے وہ مسلمانوں کے ذریعے اسلام سے زیادہ آشنا ہوتے ہیں یعنی امریکہ میں مسلمانوں کو بے شمار مشکلات لاحق ہونے کے باجود وہ اس مہینہ میں امریکائیوں پر اپنا گہرا اثر ڈالتے ہیں جس کی بنا پر وہ مسلمانوں سے اپنے روابط برقرار کرتے ہیں۔ اور اسلام سے آشنا ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان مسلمانوں کو دیکھ کر جو اپنے خدا کی خاطر ایک پورا مہیںہ اپنے نفس کے ساتھ معرکہ آرائی کرتے ہیں اور اسے تمام خواہشات سے دور رکھتے ہیں امریکہ والے اسلام سے کافی متاثر ہوتے ہیں۔اور مسلمانوں کا احترام کرتے ہیں۔

۱۱ ستمبر کےبعد

۱۱ ستمبر کے تعجب خیز حادثہ کے بعد اسلام کی نسبت جستجو امریکہ میں کافی حد تک زیادہ ہو گئی۔ بہت سارے امریکہ کے مسلمان ماہ رمضان کو اسلام شناسی کا بہترین موقع سمجھتے ہیں۔ بعض مسلمان اپنے پڑوسیوں کو افطار پر دعوت کرتے ہیں افطار، افکار کو رد وبدل کرنے کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔ ” اسلام اور امریکہ روابطی کمیٹی ” اپنی سالانہ کارکردگی میں ایک اہم کار نامہ جو انجام دیتی ہے وہ یہی ہے کہ ماہ رمضان میں مسلمانوں کی افطاری کے پروگراموں میں غیر مسلمانوں کو بھی دعوت دیتے ہیں۔ ان کا یہ عمل اسلام کا مسیحیت کے درمیان تعارف کروانے میں نہایت درجہ موثر ثابت ہوتا ہے۔ فرانسسکو کے مسلمان بھی چھ سال سے شہر کے مرکزی علاقوں میں افطاری کے پروگرام رکھتے ہیں اور مسلمانوں، یہودیوں ، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ان پروگراموں میں دعوت دیتے ہیں۔

مزید  اصول ابلاغ قرآن

پولیس کے اقدامات

نیویارک کے پولیس افسر بھی ماہ مبارک کا احترام برقرار رکھنے کی خاطر ہر سال ماہ رمضان کے آستانہ میں اسلامی انجمنوں کےسربراہان سے ملاقات کر کے ماہ مبارک کی فضا کو پر امن بنانے کے لیے لازم اقدامات کرنے کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہیں۔

مسلمان افسروں کے اسلام سے آشنائی کے ذارایع، اسلامی پروگراموں میں شرکت اور اسلامی ویڈیو کیسٹس اور سی ڈیز ہیں۔

الیکٹرانک آلات

ریاست ہائے متحدہ کے مسلمان ماہ رمضان میں الیکٹرانک آلات اور ذرایع سے استفادہ کرتے ہیں۔ سائٹیں اور ویب لاگز اسلامی مطالب کو منتقل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ یہ سائٹیں اور ویب لاگز ہیں جو ماہ رمضان سے متعلق دعاوں، مقالات، سحر و افطار کے اوقات سے امریکہ کے مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہیں۔

ماہ رمضان منشیات کو ترک کرنے کی بہترین فرصت

امریکہ کے اسلامی ادارے جوانوں کو تنباکو نوشی اور دیگر منشیات اور مست کنندہ مواد سے نجات دلانے کے لیے ماہ رمضان کو بہترین فرصت سمجھتے ہیں اور اس مہینہ میں اس بری عادت کو ترک کرنے میں جوانوں کی مدد کرتے ہیں۔ ان اداروں کے سربراہان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ منشیات کے عادی جوان ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کی وجہ سے اس عادت کو ترک کر دیں۔ ماہ رمضان کم سے کم بری عادات کو ترک کرنے میں آدھا راستہ طے کرنے کا کام کرتا ہے۔ اور باقی آدھا راستہ خود جوان کے عزم راسخ سے طے کیا جا سکتا ہے دین ناپسندیدہ عادات کو چھوڑانے میں واقعا ایک معجزہ ہے”۔

فرانس(France) میں ماہ رمضان:

فرانس مغربی یورپ میں سب سے بڑا ملک ہے۔ اس ملک کی راجدھانی پیرس ہے اور یہ ملک جرمنی، اٹلی، سپین وغیرہ کا ہمسایہ ہے۔

اس ملک کا رقبہ ۵۵۰۰۰۰ کیلومیٹر مربع ہے اور تقریبا ۶۴ میلین آبادی اس ملک میں پائی جاتی ہے۔

۶ میلین سے زیادہ فرانس میں مسلمان ہیں اور ۹۴ فی صد فرانس کے مسلمانوں میں نوجوان ہیں جو ماہ مبارک میں روزہ رکھتے ہیں ماہ مبارک رمضان کی نسبت فرانس کے مسلمانوں کا لگاو کیسا ہے؟ اس کو ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

ماہ مبارک کا استقبال

۶ میلین سے زیادہ فرانس کے مسلمانوں دنیا کے دیگر مسلمانوں کی طرح ماہ مبارک  کی آمد پر میٹھایاں تقسیم کرتے ہیں مساجد کو چراغاں کرتے ہیں اور انہیں آباد کرتے ہیں۔ فرانس کے مسلمان مخصوصا نوجوان شدت کے ساتھ ماہ مبارک کا انتظار کرتے ہیں اس لیے کہ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ۹۴ فی صد فرانس کے روزہ دار ۳۰ سال سے نیچے کے جوان ہیں۔

رویت ہلال

فرانس میں ماہ مبارک کا چانددیکھنے کی اطلاع تین طریقوں سے ملتی ہے:

۱: ترکی حکومت کی طرف سے چاند دکھنے کا اعلان۔

۲: سعودی عرب اور مصر کی طرف سے چاند دکھنے کا اعلان۔

۳: پیرس فرانسوی اسلامی کمیٹی کی طرف سے اعلان۔

غذائیت

ماہ مبارک کے شروع ہوتے ہیں مسلمان نشین بازاروں میں ایک نئی لہر پیدا ہو جاتی ہے۔ مخصوص طرح کا خرما اور شیرینیاں بکنے لگتی ہیں دکانوں سے تلاوت قرآن اور اسلامی ترانوں کی آوازیں گھونجنے لگتی ہیں۔ اور بازار ایک نیا رنگ و روپ اختیار کر لیتا ہے۔

فرانس  کے مسلمان اس مہینے میں کباب اور خرما چنے سے بنا ایک مخصوص قسم کا حلوا کھانے میں خاص لذت کا احساس کرتے ہیں۔ پودینا کی چائے، شوربا اور ” کاسکی” [گندم اور گوشت سے بنی ایک خاص قسم کی مغربی غذا] ان کی ماہ مبارک سے مخصوص غذائیں ہیں۔

مساجد

ایک ہزار چھ سو پچاسی سے زیادہ مساجد اور نماز خانے فرانس کے اندر مسلمان نشین علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور تقریبا دو تہائی مراکز میں روزانہ ۱۵۰ افراد سے زائد مسلمان جمع ہوتے ہیں اور ان مراکز میں سے ۲۰ مساجد ہزار افراد تک کو اپنےاندر جگہ دے سکتی ہیں۔

مسجد میں افطار

پیرس اور فرانس کے دیگر علاقوں کی مساجد ماہ مبارک میں ایک نیا رنگ و روپ اختیار کر لیتی ہیں۔اس مہینہ میں محلہ کے اکثر لوگ محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں اور افطار کے وقت مساجد میں پانی، چائے، شیرینی،خرما اور دیگر چیزوں سے غریبوں اور فقیروں کو افطاری کرواتے ہیں۔ بعض روزہ دار افطاری کے بعد حقہ کے ٹھیلوں میں حقہ پینے والوں کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ البتہ مساجد میں افطار صرف مسلمانوں سے مخصوص نہیں ہے ہر کوئی افطار کے پروگرام میں شامل ہو سکتا ہے۔

قرآن کریم

فرانس میں ماہ مبارک رمضان کے اہم پروگراموں میں سے ایک مساجد میں ختم قرآن کرنا اور مستحبی نمازیں ادا کرنا ہے۔

مذہبی نشستیں

مذہبی نشستوں کی تشکیل، تفسیر قرآن، شرح احادیث، اخلاق اور تاریخ اسلام کے جلسات مختلف مراکز میں اس مہینہ سے مخصوص ہیں۔

ملٹی میڈیا

فرانس کے مسلمانوں کے ریڈیو پروگرام جیسے مشرقی ریڈیو، بور ریڈیو اس مہینہ میں مخصوص پروگرام اپنے سامعین کے  لیے پیش کرتے ہیں۔ تلاوت قرآن، اس مہینہ کی خبریں ، نصیحتیں اور مواعظ، اپنے فرانسیسی مسلمانوں کے لیے اس ریڈیو سے نشر کئے جاتے ہیں۔

امور خیر

فرانس کے مسلمانوں نے نماز و روزہ کے علاوہ اپنی معاشی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کی غرض سے کچھ اسلامی فنڈز قائم کر رکھے ہیں جن کے ذریعے وہ محتاج اور مستحق مسلمانوں کی مالی ضروریات کو پورا کرتے ہیں حتی بعض اوقات غیر مسلمانوں کی بھی مدد کرتے ہیں ان کا یہ عمل غیر مسلمانوں کے درمیان قابل تحسین ہے۔ اس مہینہ میں انفاق کرنے اور مساجد میں افطاری دینے کا بجٹ مشترکہ طور پر جمع کیا جاتا ہے ایسے کام انجام دینے کے لیے کچھ انجمنیں اور کمیٹیاں موجود ہیں جو لوگوں سے چندہ کرکے بجٹ مہیا کرتی ہیں۔

اسلامی ہنر کی نمائش اور تبلیغ

فرانس کے مسلمان بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح اس مہینہ کو اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے بہترین فرصت سمجھتے ہیں۔ اس حوالہ سے پیرس کی جامع مسجد میں اسلامی کتابوں اور دیگر اسلامی آثار کی نمایش لگائی جاتی ہے۔ کتابوں، جانماز،سجدگاہ و تسبیح وغیرہ اور اسلامی سیڈیوں کا بازار کافی کینسیشن کے ساتھ اس مسجد کے اطراف  میں لگایا جاتا ہے۔ جس سے کافی تعداد میں غیر مسلمان اسلام کو پہچاننے کی طرف مجذوب ہوتے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.