دعا،اُمید اور عمل

ہدف سے میں نے ہٹائی نہیں نگاہ کبھی            نہیں کچھ اور تری راہ کے سوا معلوم

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نوجوان کے پاس تشریف لے گئے جب کہ وہ مرنے کے قریب تھا۔آپۖ نے پوچھا ”اس حالت میں تم اپنے آپ کو کس حال میں پاتے ہو؟”اُس نے کہا”یارسول اللہ ۖ میں اللہ کی رحمت کی امید رکھتا ہوں اوراسی کے ساتھ اپنے گناہوں کا ڈر بھی لگا ہوا ہے ”آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ”اس طرح کے موقع پر(یعنی جان کنی کے وقت) جس شخص کے دل میں یہ دونوں طرح کے خیالات ہوں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی توقع پورا کرے گا،اور جس چیز سے ڈر رہا ہے اس سے محفوظ رکھے گا(یعنی جہنم کے عذاب سے بچائے گا اور اپنی رحمت کے گھر میں داخل کرے گا)۔

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مومن اللہ کی رحمت سے نہ مایوس ہوتا ہے نہ گناہوں کے نتائج سے بے پروا۔شاید یہی مفہوم ان الفاظ کا بھی ہے کہ ”ایمان ،خوف اور امید کے درمیان ہے۔”رحمت کی امید عمل صالح پر ابھارتی ہے اور گناہوں کے نتائج کا خوف نافرمانیوں سے بچا کر توبتہ النصوح کی طرف مائل کرتا  رہتا ہے۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم طول امل میں گرفتار ہوجائیں۔لمبی لمبی امیدیں باندھنا اور پاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا ہرگز اس کا مقصود نہیں۔ جب دل میں امید کا چراغ روشن ہواور گہری تاریکی کے باوجودسُرنگ کے دوسرے سرے پر روشنی نظر آرہی ہو تو بیٹھے رہنے سے منز ل نہیں ملا کرتی۔

دعا اور امید دونوں کا فلسفہ ایک ہے۔دعا مومن کا ہتھیار ہے لیکن یہ ہتھیار اسی وقت کام آتا ہے جب اس کا عملی استعمال کیا جائے۔ہم یہ دعا مانگیں کہ اللہم اشبع کل جائع…پالنے والے !ہر بھوکے کا پیٹ بھردے۔اللہم اغن کل فقیر…اے اللہ !ہر فقیر کو غنی کردے۔اللہم اکس کل عریان …بارالٰہا!ہر برہنہ کی ستر پوشی فرما۔اللہم اقض دین کل مدین … اے میرے مالک !ہرمقروض کو اس کے قرض سے نجات دلا دے۔اللہم فک کل اسیر اللہم فرج عن کل ہم وغم اللہم رد کل غریب الٰی وطن اللہم اصلح کل فاسد من امور المسلمین… اے اللہ !ظلم وجور کے ہر قیدی کو رہائی نصیب فرما۔ ہررنجور اور گرفتار محن کو اس کے رنج وغم سے نجات دلا دے۔اے اللہ !ہر غریب الوطن کو اس کے گھر پہنچا دے اور بارالٰہا!مسلمانوں کا ہر بگڑ ہوا کام بنا دے اور ہر فساد کو اصلاح سے اور ہر ظلم کو عدل سے تبدیل کر دے۔اگر یہ دعائیں مانگنے  کے باوجود راہ عمل میں ہم ایک قدم بھی آگے نہ بڑھائیں۔اصلاح حال کی عملی کوششو ںمیں اپنا حصہ نہ ڈالیں توہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ

خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہوجس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

یہ ‘خیال ‘کا لفظ تو ضرورت شعری کے لحاظ سے ہے ورنہ قرآن تو کہہ رہا ہے کہ ان اللہ لایغیر مابقوم حتیٰ یغیر واما بانفسکم …اللہ اس وقت تک کسی قوم کی حالت تبدیل نہیں کرتا جب تک اس کے افراد خود اپنے آپ کو نہیںبدلتے۔

جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی

راہِ اُمم کی حیات کشمکش انقلاب

زندہ قومیں اپنی تقدیر خود بناتی ہیں۔کاتب تقدیر ان  سے املا لیتا ہے :بتا تیری رضا کیا ہے ؟جو عوامی نمائندے ‘مفاد پرست لوگ’ سامراج کے نوکر اور صہیونیت کے چاکر عوام کی گردنوں پر سوار ہوں اور نیچے اترنے سے انکار کردیں تو اس کیفیت کو لادینیت قومیت،اشتراکیت اور سامراجیت کہتے ہیں اور جب مقہور ومغلوب ومظلوم عوام اپنی گردن پر سوار ہونے والوں کو نیچے پٹک دیں تو وہ عمل انقلاب کہلاتا ہے۔

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا ؟

حالانکہ جو بندگان خدا لاالہ کی عملی مشکلیں جانتے ہیںوہ خودکو مسلمان کہتے ہوئے لرزتے ہیں۔

چومی گویم مسلما نم بلرزم    کہ دانم مشکلات لاالٰہ را

رہی مسلم معاشروں کی اسلامی نظام سے دوری۔تو اس کے مختلف اسباب ہیں۔کچھ قومی ،کچھ بین الاقوامی اور کچھ آفاقی۔تینوں کا تعلق داخل سے بھی ہے اور خارج سے بھی۔لیکن مایوسی بھلا کیوں ہو؟

بقول مرحوم سید اسعد گیلانی …’چشمہ ‘بیم ورجاء سے اپنے رشتے کوکبھی کمزور نہیں ہونے دینا چاہئے۔کیاہم نہیںجانتے کہ ہم جس راہ کے راہی ہیں وہاںاگر رخ اورنیت درست ہو تو یہ حساب کتاب نہیں کیا جاتا کہ کب چلے اور کتناچلے اورکہاں تک پہنچے۔دیکھایہ جاتا ہے کہ جس راستے پر جانا ہے وہ راستہ موجود ہے یا نہیں اوراللہ کی دی ہوئی قوت اور پاؤں اوررب کریم کا عطا کردہ عزم وحوصلہ موجود ہے یانہیں؟پاؤں نہ رہے تو گھٹنوں کے بل چلیں گے ،پیٹ کے بل گھسٹیں گے اور اس سے بھی گذر گئے تو آنکھیں تونشان منزل کو دیکھنے کے لئے موجود ہیں،وہ کبھی مایوس نہ لوٹیں گی۔

ہم جس راہ کے راہی ہیں اس پر تو ایسے ایسے راہ روگذر چکے ہیں جنہیں نونو سوسال  تک سرگرم رہنے کے باوجود کامیابی نہیںملی لیکن کیا وہ مایوس ہوئے؟نہیں ۔اس لئے کہ زمین کے مالک نے جیسی زمین دی تھی ہل چلانے والے کو اسی میں ہل چلانا تھا۔ زمین بنجر نکلی توکیا ہوا،مالک تو جانتا ہے کہ غلام نے محنت کی ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام برسوں سے بیمار تھے او رتکلیفوں پر تکلیفیں اٹھا رہے تھے،جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے مالک سے اپنی صحت کے لئے دعا کیوں نہیںکرتے توجانتے ہیں انہوں نے کیا جواب دیا ؟انہوںنے فرمایا کہ مجھے اپنے مالک سے شرم آتی ہے جس نے عمر بھر توخوش و خرم اور صحت مند رکھا۔اب ابتلاء کے تھوڑے دنوں پر بے صبر ہو کر اس کے احسانات کیسے بھول جاؤں؟ہمارا مالک وآقا خوب جانتاہے کہ اس کا بندہ کس حال میں ہے اور وہ اپنے بندے کے لئے کافی ہے۔

رحیم وکریم مالک کا لاکھ لاکھ شکرو احسان کہ اس نے ”کامیابی” کو اجر کا مدا رنہیں قراردیا۔ بلکہ اجر کی ابتداء ‘نیت سے کی اور دل شکستگی پر مومن کو دوہرے اجر کی خوش خبری بھی سنائی۔

سید گیلانی مرحوم نے لکھا ہے کہ اہل ویت نام تو اپنے اللہ سے کسی اجر کی توقع رکھتے نہیں تھے پھربھی اپنے گھر بار زمین جنگلوں اورکارخانوں کیلئے فرعون وقت امریکہ سے برسہا برس لڑنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔تواللہ کا ایک بندہ نتیجے سے بے پروا ہو کر اپنے مالک کے لئے باطل کے خلاف زندگی بھر لڑنے کا عزم اور کبھی نہ جھکنے کا ولولہ کیوں نہیں رکھ سکتا؟نہیں ہم ہر گز ہر گز مایوس نہیںہوسکتے۔ہمیں بندہ مومن کی پوشیدہ قوتوں کا شعور نہیں ہے اور اپنے مالک کی عطا کردہ کتاب حکمت پر اور اس کے بتائے ہوئے طریقہ کار پرویسا ایمان نہیں ہے۔ جوایمان کا حق ہے۔جس روز ہم ان دونوں شرطوں کو پورا کردیں گے اسی دن انشا ء اللہ دنیا کے اندھیرے رو پوش ہو جائیں گے۔اس دن ہم نہ بھی رہے تو کیاہوا۔اگر ہم نے اپنے حصے کے چراغ جلانے کا کام پوری ایمانداری ،ذمہ داری اور تن دہی سے کیا ہے تو بے حساب عطا کرنے والا مالک اس روشنی کے اجر میں ہمار ا حصہ بھی ضرور رکھے گا۔انشاء اللہ

صحرا میں ہم آن بسے تا کہ اُگائیں باغ            اب دودن کے جیون میں دھول ملے یا پھول

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.