خواتين کے حقوق کے بارے ميں اسلامي روش اور احکام

0 0

مذکورہ بالا روش اسلامي روش نہيں ہے۔ خواتين کے حقوق کے دفاع کيلئے اسلام کا ہدف يہ ہے کہ عورت ، ظلم و ستم کا شکار نہ ہو اور مرد خود کو عورت کا حاکم نہ سمجھے کيونکہ گھر و گھرانے ميں اسلام نے مرد وعورت دونوں کيلئے حدود وحقوق کو معين و مشخص کيا ہے۔ مرد کے اپنے حقوق ہيں اور عورت کے اپنے حقوق، اور ان تمام حقوق و حدود کو ايک سخت عادلانہ مگر متوازن نظام کے زير نظر ترتيب ديا گيا ہے۔ وہ چيزيں جو اسلام کے نام سے مشہور ہوگئي ہيں اور غلط ہيں ہم نہ اُ ن کو بيان کرتے ہيں اور نا ہي اُن کا دفاع کرتے ہيں۔ ليکن جو چيز اسلام سے تعلق رکھتي ہے وہ اسلام کے بيّن ، واضح اور مسلّم اصول ہيں اوريہ وہ امور ہيں جو گھر کے ماحول ميں مرد و عورت دونوں کيلئے حقوق ميں توازن کے قائل ہيں۔

شوہر اور بيوي کا آرام و سکون بخش وجود

آپ اس آيہ مبارکہ کي طرف توجہ فرمائيے کہ جو مرد و عورت خصوصاً گھر کے ماحول ميں ايک اہم امر کي طرف اشارہ کررہي ہے۔ ’’ومِن آيَاتِہِ اَن خَلَقَ لَکُم مِن اَنفُسِکُم اَزوَاجاً‘‘ ١ ۔خداوند عالم کي نشانيوں ميں سے ايک نشاني يہ ہے کہ اُس نے تم انسانوں کيلئے خود تم ميں اور تمہاري جنس (انسان) سے ہي تمہارے جوڑے (ہمسر) بنائے ہيں۔ آپ مردوں کيلئے خواتين اور آپ خواتين کيلئے مردوں کو خلق کيا ہے۔ يہ آپ ہي سے ہيں، ’’مِن اَنفُسِکُم‘‘ کسي اور جنس سے نہيں ہیں،کوئي الگ انساني وجود نہيں ہے بلک ايک ہي حقيقت اور ايک ہي جوہر اور ايک ہي ذات ہے(جو انسان ہونے سے عبارت ہے)۔ البتہ يہ بات مشخص ہے کہ يہ دونوں اپني بعض صفات و خصوصيات ميں ايک دوسرے سے مختلف ہيںچونکہ ان کے وظائف اور ذمے دارياں مختلف ہيں۔ اِس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ’’لِتَسکُنُوا اِلَيھَا‘‘ ١ ( تاکہ تم اُن سے سکون حاصل کرو) ۔ طبيعت بشري ميں زوجيت (جوڑے کا بننا) اور دو جنس (مرد وعورت) ہونا ايک بہت بڑا ہدف ہے اور وہ ہدف، آرام وسکون سے عبارت ہے تاکہ آپ انسان اپني جنس مخالف سے اپنے گھر ميں ، شوہر ، بيوي سے اور بيوي، شوہر کے ساتھ زندگي بسر کرنے ميں آرام و سکون پائے۔ مرد کيلئے گھر ميں آنا ، گھر کے پرسکون ماحول ميں سانس لينا، مہربان،دوست اورامين بيوي کے ساتھ زندگي بسر کرنا آرام و سکون کا وسيلہ ہے۔ اِسي طرح بيوي کيلئے بھي شوہر کا وجود ايک ايسي مضبوط پناہ گاہ ہے کہ جس سے وہ محبت کرتي ہے اور اس کا شوہر اس کي خوشبختي اور سعادت کا باعث بنتا ہے۔ يہ تمام چيزيں گھر ہي دونوں کيلئے فراہم کرتا ہے۔ مرد کو آرام و سکون حاصل کرنے کيلئے گھر کے پر فضا ماحول ميں بيوي جيسے ايک انيس و محبوب کي ضرورت ہوتي ہے اور عورت بھي اپنے راحت و آرام کيلئے گھر کي چار ديواري ميں ايک مضبوط و مستحکم شوہر کي محتاج ہے۔ ’’لِتَسکُنُوا اِلَيھَا‘‘ ۔ دونوں کو سکون و آرام کيلئے ايک دوسرے کے ضرورت مند اور محتاج ہيں۔

مزید  پیام کربلا:قیام واصلاح

١ سورئہ روم/٢١

سب سے اہم ترين چيز کہ بشر جس کامحتاج ہے، وہ آرام و سکون ہے۔ ايک انسان کي (دنياوي) سعادت يہ ہے کہ وہ روحي طور پر تلاطم و اضطراب سے امان ميں ہو اور اس کي روح مکمل سکون ميں ہو اور يہ روحاني آرام وسکون ايک گھرانہ ہي انسان کو خواہ مرد ہو يا عورت ہو، عطا کرتاہے۔ اس آيت کا اگلا جملہ بہت دلچسپ اورخوبصورت ہے کہ جہاں ارشاد رب العزت ہوتا ہے کہ ’’وَجَعَلَ بَينَکُم مَوَدَّۃً وَّرَحمَۃً ‘‘۔ ( اس نے تمہارے درميان مودت و رحمت کو قرار ديا ہے)۔ مياں بيوي کے درميان صحيح رابطہ، مودت و رحمت اور دوستي و مہرباني کا رابطہ ہے ،تاکہ وہ ايک دوسرے کے قريبي اور سچے دوست بنيں، ايک دوسرے پر مہربان ہوں اور ايک دوسرے سے عشق کرنے والے ہوں ۔ عشق کرنا،غصے، برہمي اور تند و تيز لب و لہجے کے ساتھ قابل قبول نہيں ہے اِسي طرح محبت کے بغير مہرباني بھي قبول نہيں ۔

عورت پر ہونے والے ظلم کي مختلف شکليں

ايک گھرانے کي فضا ميں شوہر اوربيوي کو عطا کي گئي خدائي فطرت اورطبيعت ومزاج يہ ہے کہ وہ دو جيون ساتھيوں کے درميان عشق محبت اورمہرباني کا رابطہ برقرارکرے۔ يہ ہے ’’موَدَّۃً رَحمَۃً‘‘ کا معني۔ اگر پيار و محبت اور تعاون کا يہ رابطہ بدل جائے اور مرد گھر ميں صرف اپني مالکيت کا حق جتانے لگے اور بيوي کو ايک کام کرنے والے موجود اوربيوي اور اُس کي استعدادوتوانائي کو اپنے ليے قابل استفاہ بنانے کي حيثيت سے ديکھنے لگے تو يہ ظلم ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت زيادلوگ يہ ظلم کرتے ہيں۔ گھرسے باہر کي فضا و ماحول ميں بھي ايسا ہي ہے۔ اگر عورت تحصيل علم يا کام اورکسبِ معاش اوراپنے استراحت وآرام کيلئے امن وآمان کا ماحول نہ پائے تو يہ بھي اُس پر ظلم وستم ہے۔ جو بھي اس ظلم کو انجام دے تواُسے اسلامي قانون اوراسلامي تعليمات کے مقابلہ اورمواخذہ کا سامنا کرناہوگا۔

مزید  عورت اورحجاب

١ حوالہ سابق

اگر عورت کوتحصيل علم اورمعرفت حاصل کرنے کا موقع نہ ديا جائے تو اُس پر ظلم ہے يا اگر زندگي ميں خواہ ميکا ہو يا سسرال ، حالات اس طرح کے ہوں کہ وہ زيادہ کام کاج اور مختلف گھريلو ذمے داريوں کي وجہ سے اپنے اخلاق ، دين اور معرفت کي صحيح اصلاح نہ کرسکے تو يہ اموربھي ظلم ميں شامل ہيں۔ اسي طرح عورت کااپنے ہي مال و دولت کو(خواہ اُسے کہيں سے بطور تحفہ ملے يا ميراث وتنخواہ سے اُس کے پاس آئے) اپنے ارادے اوراختيار سے استعمال نہ کرنابھي ظلم ہي کے زمرے ميں آتا ہے۔ شادي اورجيون ساتھي کے انتخاب کے موقع پر اگرکوئي مرد شوہر کے عنوان سے اُس کے سر پرتھونپ دياجائے يعني وہ اپنے شوپر کے انتخاب ميں شامل نہ ہو اور اس کا رشتہ اُس کے اپنے ارادے، ميل اور پسند کے مطابق نہ ہو تويہ بھي عورت پر ظلم ہي تصور کيا جائے گا۔ اگر اپني اولاد کي تربيت کيلئے خواہ وہ اپنے شوہر کے گھر ميں سکونت پذير يا ہو اپنے شوہر سے جدائي ( اور طلاق) کے بعد الگ رہ رہي ہو،اپنے فرزند کواپني ممتا کي ٹھنڈي چھاوں فراہم نہ کرسکے اور نہ ہي اپنے جگر گوشے کے معصوم وجود سے استفادہ کرسکے تو يہ بھي ظلم ہي کي ايک شکل ہے ۔ اگر عورت علمي ميدان ميں پيشرفت،اختراع اورتحقيق وريسرچ اورسياسي و اجتماعي فعاليت کي استعدادوصلاحيت کي مالک ہے ليکن اسے ان صلاحيتوں سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم نہ کياجائے اوراُس کي يہ صلاحيتيں پروان نہ چڑھيں تو يہ بھي ظلم ميں شامل ہے۔

مزید  راستگوئي

ممکن ہے ايک معاشرے ميں انواع واقسام کے ظلم موجود ہوں چنانچہ ان سب ظلم و ستم کو عورت سے ختم کرنا چاہيے۔ ليکن اس کے ساتھ ساتھ مرد و عورت دونوں کي ذمے داريوں اوروظائف کو کہ يہ دونوں خاندان کي تشکيل ميں ايک دوسرے کي نسبت وظائف رکھتے ہيں ، اہميت کي نگاہ سے ديکھنا چاہيے کيونکہ مرد و عورت دونوں کي سعادت اسي ميں ہي ہے۔ بعض افراد يہ خيال کرتے ہيں کہ مردوں کي بہ نسبت عورتوں کي مجموعي فعاليت ميں کمي کامطلب يہ ہے کہ وہ بڑے اور پرجنجال قسم کے مشاغل اورکام نہيں رکھتي ہیں۔ نہيں جناب ! عورت کي مشکل يہ نہيں ہے ۔ حتيٰ وہ عورت کہ جو بڑے مشاغل اورکام وغيرہ ميں مصروف ہے وہي عورت، گھر کے پرسکون ماحول،ايک مہربان، محبت کرنے والے ، ايک مطمئن اورہمدردتکيے گاہ کي شکل ميں اپنے شوہر کي محتاج ہے ۔ خواتين کي روحي اور احساساتي ضرورت اور اُن کي طبيعت و مزاج يہ ہے اور اُن کي اِس ضرورت کو پوراکرنا چاہيے۔ 

مشاغل اورملازمت کامسئلہ بالکل جدا ہے ليکن يہ عورت کا پہلے درجے کا مسئلہ نہيں ہے۔ اگرچہ کہ اسلام خواتين کے مشاغل اورديگر وظائف اورفعاليت کي راہ ميں مانع نہيں ہے مگر چند استثنائي مقامات پر کہ جن ميں سے بعض پر فقہا متفق القول ہيں اور بعض کے بارے ميں اُن کے درميان علمي اختلاف موجود ہے کہ ان تمام مسائل کے بارے ميں تحقيق کي اشدضرورت ہے۔ ليکن عورت کااصلي مسئلہ يہ نہيں ہے کہ وہ کوئي ملازمت ياکام کرتي ہے يا نہيں بلکہ اُس کے اصلي اوربنيادي مسائل يہ ہيں جنہيں آج مغرب ميں يکسر فراموش کرديا گيا ہے، جو مغرب ميں دم توڑ گئے ہيں اوروہ اُس کے آرام وسکون ،امن و امان کے احساس ، اُس کي صلاحيتوں کے پروان چڑھنے کے امکانات کي فراہمي ، اپنے باپ او رشوہر کے گھر سميت معاشرے ميں اس پر ظلم نہ ہونے وغيرہ جيسے اہم ترين مسائل ہيں لہٰذا جو افراد خواتين کے سلسلے ميں کام کررہے ہيں انہيںچاہيے کہ ان تمام مسائل کے حل کيلئے بھي اقدامات کريں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.