خطرناک مثلث اسلام کے تین دشمن

0 0

 

جس وقت پیغمبر اکرم (ص)نے دنیا سے رحلت فرمائی تو اسلام کے اس نوجوان وجود کو باہر اور اندر سے تین طرح کے دشمن گھیر ے ہوئے تھے اور ہر لمحہ اس کو خطرہ تھا کہ یہ تینوں طاقتیں باہم ایک ہو کرایک مثلث بنائیں اور اسلام پر حملہ آور ہوں ۔

پہلا دشمن :

داخلی دشمن یعنی مدینہ اور اس کے آس پاس کے منافقین تھے جنھوں نے کئی بار پیغمبر اکرم (ص) کی جان لینے کی کوشش کی تھیں اور جنگ تبوک سے واپسی کے وقت ایک خاص منصوبہ کے تحت جو پورے طورسے تاریخ میںذکرہوہے،پیغمبرکرم(ص) کے اونٹ کو بھڑکاکر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان لینا چاہتے تھے۔

پیغمبر اکرم (ص) نے ان لوگوں کی سازش سے آگاہ ہو کر وہ تدبیر اپنائی کہ ان کا منصوبہ نا کام ہو گیا ۔ ساتھ ہی اسلام کی عمومی مصلحتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آنحضرت (ص) نے اپنی زندگی میں ہی ان کے نام بعض خاص افراد مثلا ”حذیفہ یمانی“ کو بتا دیئے تھے۔

اسلام کے یہ دشمن جو بظاہر مسلمانوں کے لباس میں چھپے ہوئے تھے،آنحضرت (ص) کی موت کا انتظار کر رہے تھے اور در حقیقت اس آیت کو اپنے دل میں دہرا رہے تھے جسے قرآن پیغمبر (ص) کی حیات میں کافروں کی زبانی نقل کرتاہے:”انما نتربص بہ ریب المنون“ (۱) یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ فوت ہوجائے اور اس کی شہرت ختم ہوجائے۔ 

یہ لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ پیغمبر اسلام (ص)کی رحلت کے ساتھ ہی اسلام کی رونق ختم ہوجائے گی،اس کا پھیلاوٴ رک جائے گا۔ کچھ لوگ یہ بھی سوچتے تھے کہ اسلام آنحضرت (ص) کے بعد کمزور پڑجائے گا اور وہ دوبارہ زمانہ ٴجاہلیت کے عقائد کی طرف پلٹ جائیں گے۔

آنحضرت (ص) کی رحلت کے بعد ”ابوسفیان “ نے چاہا کہ قریش اور بنی ہاشم کے درمیان اختلاف پیدا کردے اور جنگ بھڑکاکر اسلامی اتحاد کے اوپر کاری ضرب لگائے اس مقصد کے پیش نظر وہ بڑے ہمدردانہ انداز میں حضرت علی علیہ السلام کے گھر میں داخل ہوا اور ان سے بولا :اپنا ہاتھ بڑھایئے کہ میں آپ کی بیعت کروں تاکہ تمیم اور عدی قبیلوںکے لوگ آپ کی مخالفت کی جراٴت نہ کریں۔ امام نے پوری ہوشیاری کے ساتھ صف اسلام میںاختلاف پیدا کرنے اور مسلمانوں کو آپس میں ٹکرانے کی اس کی شازش کو سمجھ لیا لہٰذا فورا ًٹکا سا جواب دیا اور خود پیغمبر اکرم (ص) کی تجہیز و تکفین میں مشغول ہو گئے۔ (۲)

مزید  دینِ میں “محبت“ کی اہمیت

مسجد ضرار جو نویں ہجری میں بنائی گئی تھی اور پیغمبر اسلام (ص)کے حکم سے عمار یاسر کے ہاتھوں منہدم کی گئی تھی پیغمبر اسلام (ص) کی حیات کے آخر ی دنوں میں منافقوں کی خفیہ سازشوں کا ایک نمونہ تھی اور دشمن خدا (ابن عامر) سے ان کے تعلقات کو ظاہر کرتی تھی ابن عامر وہ شخص ہے جو فتح مکہ کے بعد روم بھاگ گیا اور وہاں سے اپنے گروہ کی ہدایت و رہنمائی کیا کرتا تھا۔

ہجرت کے نویں سال جب پیغمبر اکرم (ص) جنگ تبوک پر جانے کے لئے مدینہ سے نکلے تو داخلی سطح پر منافقوں کے ممکنہ فساد و سازش کے خطرہ سے بہت زیادہ پریشان تھے ۔اسی لئے آپ (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا تھا اور آپ (ص) کے لئے وہ تاریخی جملہ فرمایا تھا ” انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ “ (۳) یعنی اے علی (ع) تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ (ع) سے تھی۔اس کے بعد آپ (ص) نے ان سے تاکید کی کہ داخلی سطح پر مدینہ میں سکون و آرام برقرار رکھنے اور فتنہ و فسد کی روک تھام کے لئے مدینہ میں ہی رہو ۔

منافقوں اور ان کی خطرناک سازشوں سے متعلق بہت سی آیتیں قرآن کریم کے مختلف سوروں میں موجود ہیں اور سب کی سب اسلام سے ان کی دیرینہ عداوت کو بیان کرتی ہیں ۔ اور ابھی یہ فسادی مدینہ میں موجود ہی تھے کہ آنحضرت (ص) نے دنیا سے رحلت فرمائی۔

پیغمبر اسلام (ص) کی رحلت کے بعد قبائل عرب میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو آپ (ص) کے بعد کفر و شرک کی طرف پلٹ گئے اور ماموران زکوٰۃ کو باہر نکال کر انھوں نے اسلام کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا ۔یہ لوگ اگرچہ منافق نہیں تھے ،لیکن ایمان کے اعتبار سے اتنے کمزور تھے جو پت جھڑ کے پتوں کی طرح ہر رخ کی ہوا پر ادھرادھر ہی اڑنے لگتے تھے ۔اگر انھیں کفر و شرک کا ماحول مناسب لگتا تو اسلام کو چھوڑ کر کفر کی راہ اختیار کر لیتے تھے۔

مزید  کن چیزوں سے روزہ باطل ہو جاتا ہے؟

ایسے خونخوار دشمنوں کے ہوتے ہوئے جو اسلام کی کمین میں بیٹھے تھے اور اسلام کے خلاف سازش و شورش میں مشغول تھے کیا یہ ممکن تھا کہ ایسے عاقل ،سمجھدار اور دور اندیش پیغمبر اسلام (ص) ان ناگوار حوادث کی روک تھام کے لئے اپنا کوئی جانشین مقرر نہ کریں اور امت واسلام کو دشمنوں کے درمیان اس طرح حیران و سر گردان چھوڑ جائیں کہ ہر گروہ یہ کہتا نظر آئے کہ ”منا امیر منا امیر“ یعنی یہ کہے کہ امیر ہم میں سے ہونا چاہئے اور وہ کہے کہ امیر ہم میں سے ہونا چاہئے ؟!

باقی دو دشمن

اس مثلث کے بقیہ دو دشمن اس وقت کی ایران و روم کی دو بڑی طاقتیں تھیں ۔ روم کی فوج سے اسلام کی پہلی جنگ ہجرت کے آٹھویں سال فلسطین میں ہوئی جو لشکر اسلام کے بڑے بڑے سردار وں ”جعفر طیار“ ، ”زید بن حارث“اور ”عبداللہ بن رواحہ “ کے قتل اور لشکر اسلام کی انتہائی سخت شکست پر تمام ہوئی اور لشکر اسلام خالد بن ولید کی سرداری میں مدینہ واپس آیا ۔کفر کی فوج سے لشکر اسلام کی اتنی سخت شکست سے قیصر روم کے حوصلے بلند تھے اور ہر لمحہ یہ خطرہ تھا کہ کہیں وہ لوگ مرکز اسلام پر حملہ نہ کریں اسی وجہ سے آنحضرت (ص) ہجرت کے نویں سال ایک بڑا لشکر جس کی تعداد تیس ہزار تھی لیکر شام کی طرف روانہ ہوئے تاکہ فوجی مشق کے علاوہ دشمن کے ممکنہ حملہ کو روک سکیں اور راہ کے بعض قبائل سے تعاون یا غیر جانبداری کا عہد و پیمان لے سکیں ۔ اس سفر میں جس میں آنحضرت (ص) کو مسلسل رنج و زحمت اٹھانا پڑی آپ (ص) رومیوں سے لڑے بغیر مدینہ واپس آگئے۔

اس کامیابی نے پیغمبر اکرم (ص)کو مطمئن نہیں کیا آپ(ص) لشکر اسلام کی شکست کے جبران کی کوشش میں لگے رہے ۔اس کے لئے آپ (ص) نے اپنی بیماری سے چند روز پہلے ”اسامہ بن زید “ کو لشکر اسلام کا علم دے کر اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اسامہ کی سرداری میں شام کی طرف روانہ ہوں اور اس سے پہلے کہ دشمن ان پر حملہ کرے وہ جنگ کے لئے تیار رہیں۔

مزید  ورثہ علوم انبیاء

یہ تمام واقعات اس بات کی حکایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص)شمال یعنی روم کی طرف سے بہت نگراں تھے اور کہا کرتے تھے کہ ممکن ہے قیصر روم کی طرف سے اسلام کو سخت حملہ کا سامنا کرنا پڑے ۔

تیسرا دشمن ایران کی ساسانی شہنشاہی تھی ۔یہاں تک کہ خسرو پرویز نے پیغمبر اکرم (ص) کا خط پھاڑ ڈالا تھا ،سفیر کو قتل کر دیا تھا اور یمن کے گونر کو لکھا تھا کہ (معاذ اللہ ) پیغمبر اکرم (ص) کو قتل کرکے ان کا سر میرے پاس مدائن روانہ کرے ۔

حجازاور یمن عرصہ سے حکومت ایران کا حصہ شمار ہوتے تھے لیکن اسلام کے آنے کے بعد حجاج نہ صرف آزاد ہو گیا تھا بلکہ خود مختار ہو گیا تھا اور یہ امکانات بھی پیدا ہو گئے تھے کہ یہ محروم اور کچلی ہوئی قوم اسلام کے سایہ میں پورے ایران پر مسلط ہو جائے۔

اگر چہ خسرو پرویز پیغمبر اکرم (ص)کی حیات میں گزر گیا تھا لیکن ساسانیوں کی حکومت سے یمن اور حجازکا جدا ہو جانا ان لوگوں کے لئے اتنا بڑا دھکا تھا جو خسرو کے جانشینوں کے ذہن سے دور نہیں ہو ا تھا ۔ساتھ ہی یہ بڑھتی ہوئی نئی طاقت جو ایمان و اخلاص اور فداکاری سے آراستہ تھی ان کے لئے ناقابل برداشت تھی۔

ایسے طاقتور دشمنوں کے ہوتے ہوئے کیا یہ درست تھا کہ پیغمبر اکرم (ص) اس دنیا سے چلے جائیں اور امت اسلام کے لئے اپنا کوئی فکری و سیاسی جانشین معین نہ کریں؟ ظاہر ہے کہ عقل ، ضمیر اور سماجی محاسبات ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتے کہ پیغمبر اکرم (ص) سے اس طرح کی بھول ہوئی ہوگی ۔ اور انھوں نے ان تمام حادثات و مسائل کو نادیدہ قرار دیتے ہوئے اسلام کے گرد کوئی دفاعی حصار نہ بنایا ہوگا اور اپنے بعد کے لئے ایک آگاہ ،مدیر و مدبر اور جہاندیدہ رہبر معین نہ کیا ہوگا۔

۱۔سورہ طور/۳۰
۲۔ الدرجات الرفیعہ ص/۷۷ حضرت علی (ع) نے اس موقع پر ابو سفیان سے اپنا وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: ” ما زلت علی و الاسلام و اہلہ “ تو ہمیشہ اسلام اور اہل اسلام کا دشمن رہا ہے ۔ الاستیعاب ،ج/۲ص/۶۹۰
۳۔ یہ حدیث شیعہ و سنی دونوں ماخذ میں تواتر کے ساتھ آئی ہے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.